Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 24
از قلم انعم رئیس

‘اور تم لوگوں میں سے کون کون ہے جو منگل ہوگیا ہے’ لالی نے ساری ینگ پارٹی کو ایک نظر دیکھ کر کہا
سب لوگ سیکنڈ فلور پر تھے میر اور علی باہر تھے باقی سب بڑے نیچے تھے
‘میں بتاتا ہوں’ عمر کھڑا ہوا ‘روح آپی اور حمدان بھائی دوسرے سحرش اور ریان بھائی تیسرے وجدان بھائی اور فاطمہ اور آخر میں فریہا اور سفیان بھائی ان سب کا نکاح بھی ہوچکا ہے’ عمر نے گہری سانس لی بتانے کے بعد
‘کیا تم لوگوں کا نکاح بھی ہوگیا یار ہمارا تو انتظار کر لیتے ہم نے تو دیکھا ہی نہیں’ لالی نے منہ بنا کر کہا
‘اوہو آپ شادی دیتھ لینا’ آیت نے کہا (یہ ایک سال کی ہے) جو لالی کی گود میں بیٹھی تھی
‘ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو یار’ لالی خوش ہوئی تھی ‘ویسے صرف تم دونوں ہی ویلے رہ گئے ہو’ لالی نے بہروز اور عمر کی طرف اشارہ کیا جس پر دونوں نے منہ بنایا
‘بس اس گھر میں تم ہی ہو جنہیں ہم دونوں کی فکر ہے ورنہ ان لوگوں نے تو جھوٹے منہ نہیں پوچھا’ عمر نے تو دل پر ہی لے لیا تھا
‘نہ ہمارے پتر دکھ نہیں کرنا زرا بھی ابھی ہم زندہ ہے تم دونوں کی شادی ہم کرائیں گے’ لالی بھی اموشنل ہوگئی تھی ‘بتاؤ ہمیں کیسی لڑکی چاہئے تمہیں’ لالی رشتہ والی خالہ بن چکی تھی
‘مجھے ایسی لڑکی چائیے جو انجینئرنگ پڑھ رہی ہو’ عمر انجینئرنگ پڑھ رہا تھا اسلئے اسے لڑکی بھی ایسی ہی چائیے تھی
‘تو سیدھا سیدھا کہو میکینک چائیے’ لالی نے سوچنے والے انداز میں کہا
‘ارے میکینک نہیں’ عمر پریشان ہوگیا تھا
‘تو کیا الیکٹریشن چائیے’ لالی نے حیرت سے اسے دیکھا ‘اچھا اچھا ہم سمجھ گئے’ لالی نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا
‘ہاں وہی تو’ عمر نے بتیسی نکالی
‘پلمبر چائیے تمہیں ہیں’ لالی نے کہتے کے ساتھ اسے چھیڑا بھی
‘ہاہاہاہا’ لالی کے ساتھ سب ہنسے تھے اور پھر سب نے عمر کو چھیڑا بھی

💖💖

‘تو تم دولت کے پیچھے ہو’
‘نہیں میرا مقصد یہ نہیں ہے بلکہ میں کچھ اور حاصل کرنا چاہتی ہوں’ رابی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی
‘کیا حاصل کرنا چاہتی ہو تم’ ماہین نے پوچھا (رابیعہ کی بہترین دوست)
‘وہی جس کیلئے میں نے یہ سب کیا’ رابی نے آنکھیں بند کر کے کہا
‘اس میں بہت خطرہ ہے’ ماہین نے پریشانی ظاہر کی
‘اور تمہیں تو پتا ہے مجھے خطروں سے کھیلنا کتنا پسند ہے’ رابی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بولی
‘تم نے لالہ رخ کو ان سب میں کیوں پھنسایا’ ماہین نے پوچھا
‘میں نے نہیں پھنسایا اسے وہ خود پھنسی ہے’ رابی نے ماننے سے انکار کیا
‘کیسے؟’
‘وہ وہاں آتی ہی نہیں تو پھنستی بھی نہیں’ رابی نے لاپرواہی سے کہا
‘اسکا وہاں آنا اسے نہیں پھنسا سکتا بات کچھ اور ہے’ ماہین نے اسکا رخ اپنی طرف کیا
‘ہاں بات کچھ اور ہے کیونکہ پہلی بار کسی نے مجھے ہرایا تھا اور بھی اتنے لوگوں کے سامنے’ وہ چلائی تھی
‘تو اسکا مطلب ہے تم اس پر الزام لگاؤ گی اسکے ماں باپ کے سامنے اس کا بھرم توڑو گی’ ماہین نے بے یقینی سے اسے دیکھا
‘نہیں میں نے صرف اسے پھنسایا تھا قتل کے الزام میں باقی یہ چیپ حرکتیں میں نہیں کرتی’ اسکے لہجے میں سچائی بول رہی تھی
‘تو پھر یہ سب کچھ ایک ساتھ کیسے ہوسکتا ہے’ ماہین ابھی بھی حیرت میں تھی
‘وہی تو کوئی اور بھی ہے جو سب جانتا ہے لیکن کون’ رابیعہ پریشانی تھی
‘تمہیں کیسے پتا کہ کوئی اور بھی ہے جو یہ سب جانتا ہے’ ماہین نے الجھتے ہوئے اس سے پوچھا
‘کیونکہ جب لالہ رخ کو پولیس اسٹیشن بولایا تھا تب کسی نے لالہ رخ کے خلاف ثبوت بھیجے تھے’ وہ پریشان تھی کیونکہ وہ اس انسان کو نہیں جانتی تھی
‘خیر جو کوئی بھی ہے وہ تو تمہاری مدد کررہا ہے تو اس سے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے’ ماہین نے ایک اور سوال کیا
‘بات ڈرنے کی نہیں ہے مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ سب جانتا ہے تو مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کررہا پولیس والوں کو اس نے سب سچ کیوں نہیں بتایا’ واقعی اسکی پریشانی صحیح تھی
‘کیا پتا وہ شخص تم سے کچھ چاہتا ہو جس کی وجہ سے تمہاری مدد کررہا ہو’ ماہین کو صرف یہی سمجھ آیا تھا
‘لیکن اگر اسکو کچھ چاہیے تھا تو وہ مجھ سے رابطہ تو کرتا’ رابیعہ آئینہ کے سامنے کھڑی تھی اب
‘خیر چھوڑو یہ ساری باتیں چلو کچھ کھاتے ہیں’ ماہین نے اسکا دھیان ہٹایا

💖💖

لالی کو ایک ہفتہ ہوگیا تھا اس گھر میں رہتے ہوئے وہ بہت مطمئن تھی میر نے بھی لالی کو پل پل خوب بے عزت کیا تھا لیکن وہ لالی ہی کیا جو میر کو جواب نہ دے وہ جو اس کو عزتاً ایس ایس پی صاحب کہتی تھی اب تو وہ بھی کہنا چھوڑ دیا تھا سیدھا سیدھا منہ پر دو ٹکے کا پولیس والا کہتی تھی یا کبھی رشوت خور پولیس والا کہتی تھی
میر ابھی پولیس اسٹیشن کے لئے نکل رہا تھا لالی کچن سے نکل کر بھاگنے کے انداز میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی باقی سب ناشتہ کر رہے تھے
لالی جو اوپر جا رہی تھی میر کو نہ دیکھ سکی اور دونوں کا زبردست تسادم ہوا کہ وہ جو گرنے لگے تھے افراتفری میں دونوں نے ایک دوسرے کو سنبھالا تو کون کس کی بانہوں میں آیا پتا ہی نہیں چکا
سب لوگ منہ کھولے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے کیونکہ سچویشن بہت عجیب ہوگئی تھی میر لالی کی باہوں میں تھا اور لالی نے ہینڈل کو پکڑا ہوا تھا
‘یہ رومینٹک سچویشن ہے کیا’ لالی نے میر سے پوچھا تو میر نے بے ساختہ کندھے اچکائے
‘نہیں یہ رومینٹک سچویشن نہیں ہے’ آواز ریان کی تھی دونوں نے اسکی طرف دیکھا اور ہم آواز بولے
‘پھر؟’ دونوں ابھی تک اسی پوزیشن میں تھے
‘پہلی بار دیکھا ہے ہیرو کو ہیروئین کی بانہوں میں’ عمر نے بہروز کو آنکھ ماری
عمر نے ساجدہ بیگم کا دوپٹہ اٹھایا اور سر پر اوڑھا بہروز آگے آیا اور عمر کی بانہوں میں گرا
‘صنم دیکھ لو مٹ گئی دوریاں میں یہاں ہوں میں یہاں ہوں’ بہروز نے اپنی خوبصورت آواز کے ہنر دکھائے تو لالی اور میر کو ہوش آیا
لالی نے میر کو جلدی سے چھوڑا تو وہ سیڑھیوں پر گرا
‘لگتی تو نہیں دو ٹکے کے پولیس والے’ لالی نے میر سے پوچھا تو اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا
‘نہیں’ وہ لٹھ مار انداز میں کہتا ہوا باہر نکل گیا

💖💖

پری اور دانیال بیٹھے ناشتہ کررہے تھے اب تو گھر میں خاموشی سی رہنے لگی تھی
شبانہ بیگم کچن میں کھڑیں ناشتہ بنا رہی تھیں اور اب ان دونوں کے ساتھ بیٹھی تھیں ناشتہ کرنے زمان صاحب بھی آگئے تھے
‘کل ہی برابر سے کچھ عورتیں آئی تھیں اور مجھے لالی کے نام پر باتیں سنا کر گئیں ہیں’ شبانہ بیگم نے بات شروع کی ‘کہہ رہی تھیں کیوں کسی کا گند پالا’ وہ کہہ کر خاموش ہوئیں
‘تو سنانی تھیں نہ دو باتیں’ پری کو سخت تاؤ آیا تھا
‘تاکہ وہ اور باتیں بنائیں’ شبانہ بیگم کی بات بھی سہی تھی
‘تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم خاموشی سے لوگوں کی بکواس سنتے رہیں’ دانیال کو بھی سخت ناگوار گزرے تھے ان عورتوں کے الفاظ
‘کیا کہتی میں’ شبانہ بیگم کی آنکھ سے آنسُو گرا
‘صاف صاف کہتیں نہ کہ ہم نے تو اسکا نکاح کیا ہے تمہارا اپنی بیٹی کے بارے میں کیا خیال ہے جو لڑکوں کے ساتھ پکڑی گئی تھی’ پری میں اب تھوڑی تھوڑی لالی نظر آتی تھی
‘صحیح کہہ رہے ہیں یہ دونوں بیگم لالہ رخ اب زمان شاہ نہیں رہی تو کیا ہوا رہے گی تو ہماری ہی بیٹی نا’ زمان صاحب نے دلیل دی
‘اسی لئے تو ان عورتوں کو گھر سے نکال دیا تھا’ شبانہ بیگم مسکرائیں تو دانیال اور پری نے انہیں گھورا
‘اتنی بھی اچھی ایکٹر نہیں ہیں آپ’ پری نے ناک سکیڑ کر کہا
‘چلو ناشتہ کرو اب سب جانا نہیں ہے’ زمان صاحب نے سب کو کہا

💖💖

میرے ماہی صنم جانم کی وے کریا نہ می دانم
شب گزری تے جگ سویا نی میں جگیا نہ می دانم
نی میں کملی کملی نی میں کملی کملی نی میں کملی کملی
میرے یار دی

فصیحہ چہک چہک کر گارہی تھی وہ یونی کے گراؤنڈ میں بیٹھی تھی اس بات سے بے خبر کے دانیال اسکے پیچھے بیٹھا ہے
دانیال اس سے ملنے آیا تھا لیکن وہ تو کہیں اور ہی گم تھی
آنکھیاں دے محلے میں ہر شام تیرا عالم
شب گزری تے جگ سویا نی میں جگیا نہ می دانم
میرا ماہی صنم جانم……
وہ گاہی رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے
‘ہئی کون ہے پیچھے ہٹو’ فصیحہ نے اسے پیچھے کرنا چاہا
‘پہچانو’ دانیال کی گھمبیر آواز کانوں میں پڑی
‘ددددانیال’ فصیحہ پہچان گئی تھی
دانیال نے ہاتھ ہٹائے تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
صاف شفاف رنگت مضبوط جسامت کھڑی ناک گرے آنکھیں چہرے کہ بائیں طرف پڑتا ڈمپل جو صرف ہنستے وقت ہی نہیں باتیں کرتے وقت بھی اٹکلیاں کرتا تھا چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی بھاری آواز وہ ایک وجیہہ مرد تھا
‘جی میں چلوگی میرے ساتھ’ دانیال اسکے برابر میں بیٹھا
‘کہاں’ فصیحہ تو بس اسے دیکھے جارہی تھی اسکی حالت پر دانیال نے لب دبائے
‘سوچ رہا ہوں بھگا کر لے جاؤں رخصتی تو ہو نہیں رہی’ دانیال نے اسکی طرف جھک کر گھمبیر آواز میں کہا اور اسکے کانوں کی لو چوم گیا
فصیحہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی اسکے گال لال ہوگئے تھے
دانیال نے پیچھے ہوکر اسکا چہرہ دیکھا اسکا چہرہ ابھی بھی اسکے بہت قریب تھا
‘ددد…دانیال کک کوئی ددیکھ لے گا’ وہ اٹک اٹک کر بولی
‘اچھا ریلیکس کچھ نہیں کررہا ابھی میرے ساتھ چلو لنچ کرتے ہیں’ دانیال نے کھڑے ہوکر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اس نے کچھ بھی سوچے بغیر تھام لیا تھا
اور پھر یونی سے باہر نکل گئے

💖💖

میر اپنے آفس میں بیٹھا تھا وہاں موجود سارے پولیس والوں کا اسکو دیکھ کر موڈ خراب ہوا تھا کیونکہ وہ اصولوں کا بہت پکا تھا چھوڑتا نہیں تھا کسی کو بھی
پولیس کی وردی کندھوں پر لگے ستارے سر پر پولیس کیپ بائیں طرف میر لکھا تھا جبڑے بھینچے ہوئے مضبوط ہاتھ آنکھوں میں سرد مہری واضح تھی وہ ایک روعبدار اور بہترین پرسنلٹی کا مالک تھا
‘سر’ کونسٹیبل نے اندر آکر سیلیوٹ کیا
‘کہو’ میر کی مصروف سی آواز گونجی
‘سر کل جن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی وہ لوگ پولیس اسٹیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ کررہے ہیں ہمارے دو چار پولیس والوں کو زخمی کر کے ہیں’ اسنے جلدی سے ساری کارروائی بیان کی
‘تو یہاں کیوں کھڑے ہو چلو جلدی’ وہ باہر نکلا میر نے اپنا کیپ اتارا گھڑی اتاری اور اپنی آستینوں کو اوپر چڑھایا
وہ باہر نکلا تو چھ گنڈے تھے ان میں سے ایک لیڈی آفسر کا گریبان پکڑے کھڑا تھا جب کے باقی سب اسکے پیچھے کھڑے تھے
‘کیا ہورہا ہے یہاں’ میر دھاڑا
‘تو کون ہے’ ان میں سے ایک نے میر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میر کی آنکھیں آگ اگل رہیں تھیں
‘تو کون ہے’ میر نے سرسراتے لہجے میں پوچھا
‘جو ایف آئی آر کل درج ہوئی تھی بس اسے ہی پھاڑنے آئے ہیں’ اسنے بڑے سکون سے کہا تھا
‘یہ رہی ایف آئی آر’ ان میں سے ایک گنڈے نے ڈھونڈ لی تھی وہ اور اب وہ اپنے باس کے ہاتھ میں لاکر رکھ رہا تھا جو میر کے پاس کھڑا تھا
‘چل سائن کر اسے اتنی ساری فائلیں ہیں ایک یہ بھی بند ہو جائے گی تو کوئی فرق تھوڑی پڑے گا’ اسکی بات پر اسکے سارے چیلوں نے قہقہ لگایا تھا
‘میں اس پر سائن نہیں کروں گا جو کرنا ہے کرلو’ وہی سرسراتا لہجہ دونوں ہاتھ پینٹ کی پوکٹ میں تھے
‘بہت چربی چڑھی ہے کیا تیرے اندر ابھی ایک آواز پر میرے سارے آدمی تیری ہڈیاں توڑ دیں گے’ اسکی آواز میں خباثت تھی
پیچھے سے ایک آدمی بھاگ کر اسکی طرف آیا میر سائڈ پر ہوا اور اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا تو وہ اسکے کندھے سے لگا میر نے اسی ہاتھ سے اسے زمین پر پٹخا جبکہ دوسرا ہاتھ ابھی بھی جیب میں تھا
دوسرا آدمی آگے بڑھا جسکے ہاتھ میں ڈنڈا تھا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور میر کو مارنے کی کوشش کی لیکن میر نیچے جھک گیا تھا جسکی وجہ سے وہ زمین پر گرا میر نے جھک کر اسکے تیسرے بندے کے پیٹ میں ایک پنچ مار کر اسے زمین کی دھول چٹائی
چوتھا آدمی بھی آگے آیا جسکے ہاتھ میں لوہے کی روڈ تھی میر جھکے اور اسکے پیٹ میں اپنا ہاتھ مارا وہ پیچھے ٹیبل سے لگا میر نے اسے دوبارہ پکڑا اور ناک کی ہڈی پر اتنی زور سے پنچ مارا کہ ناک سے خون رسنا شروع ہوگیا تھا
چھٹا آدمی آگے بڑھا میر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور گردن پکڑی ہاتھ کو سیدھا کرکے گردن نیچے کی طرف جھکائی اور اسے ایک شیشے کے کبرڈ پر مارا تو وہ اس سے ٹکرایا کانچ اسکے سر میں گھسے تھے
وہ آدمی جو انکا باس تھا آگے آیا اور میر کو ایک پانچ مارا میر نے اسکا ہاتھ بیچ میں ہی پکڑ لیا اور اتنی زور سے مروڑا کہ ٹک آواز آئی اور ہڈی ٹوٹی ہاتھ میر کے ہاتھ میں تھا وہ جھکا اور چلایا میر نے ایک ٹانگ اسکے پیٹ میں ماری وہ دور جا گرا
لیکن پھر وہ دوبارہ چلتا ہوا میر کے قریب آیا میر نے ایک ہاتھ سے اسکی گریبان پکڑا اور اسے ٹیبل پر پٹخا اور پھر اسکی طرف جھکا
‘طاقتور لوگوں کو کمزوروں کو ڈرانے کا شوق ہوتا ہے لیکن کیونکہ اب بدلاؤ آیا ہے اسلئے کمزور لوگوں کے پیچھے طاقتور لوگ کھڑے ہیں’ میر غرایا تھا ‘پہلے تو سوچا تھا کہ اٹھا کر لایا جائے تجھے لیکن تو تو خود چل کر آیا ہے تھانے ڈالو ان سب کو اندر’ میر دھاڑا تو سب ادھر ادھر ہوئے

جاری ہے…………