Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 32 (2nd last)
از قلم انعم رئیس

آج گھر میں سب کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی ایک ہفتے بعد گیلانی ہاؤس میں مہندی کی رسم تھی ان سب کے نکاح کو سال ہوگیا تھا تو دانیال اور فصیحہ کے بھی نکاح کو سال ہوگیا تھا جہاں لالی کو اس گھر میں آئے نو مہینے ہوئے تھے وہیں روشنی کی پریگنینسی کو آٹھ مہینے ہوگئے تھے آہستہ آہستہ بہت کمزور ہوتی ہورہیں تھیں وہ لالی نے شادی پر روشنی اور آئمہ اکرم دونوں کو بلایا تھا
علی کے پاس بھی انویٹیٹیشن پہنچ گیا تھا اور موصوف اپنی فیملی کے ساتھ آج ہی روانہ ہوئے تھے لاہور کے لئے
چونکہ گیلانی بزنس مین بھی تھے اسلئے بزنس کی دنیا کے بڑے بڑے ناموں کو بھی بلایا گیا تھا شادی میں جن میں رابیعہ خان اور اسابیل عثمانی بھی شامل تھے اسلئے روشنی اور اسابیل دونوں ساتھ نے والے تھے آئمہ اکرم اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ شامل ہونے والی تھیں لالی ابھی تک ان سب باتوں سے انجان تھی راز ابھی بھی راز ہی تھے
لالی اور میر کی اینیورسری بھی آنے والی تھی میر چھپکے چھپکے بہت کچھ پلین کررہا تھا اور لالی جس کو کبھی اپنی برتھڈے ڈیٹ یاد نہیں رہی اسکو اپنی اینیورسری ڈیٹ کیا خاک یاد ہوگی اسکو تو یہ بھی نہیں یاد تھا کہ اسے اس گھر میں آئے ایک سال ہونے والا ہے
لالی کو شبانہ بیگم نے گھر میں قدم رکھنے سے منع کیا تھا لیکن وہ لالی تھی اپنے گھر والوں کی خبر تو رکھنی ہی تھی وہ ڈائریکٹ فصیحہ سے بھی کانٹیکٹ نہیں کرسکتی تھی اسکے پیٹ میں بات رکتی جو نہیں تھی ڈھنڈورا پیٹ کر بتاتی تھی وہ سب کو چلو دانیال کو تو بتادیتی اور پھر وہ شبانہ بیگم کو بتادیتا اینڈ دین سو آن اسلئے لالی نے اپنے گھر کے برابر میں رہنے والی اسکی فیورٹ آنٹی سے کانٹیکٹ کیا تھا جنکا انکے گھر میں کافی آنا جانا تھا اور وہ آنٹی وہ کافی رحم دل عورت تھیں لالی انہیں روز کال کرتی تھی انکا بھی حال احوال پوچھتی تھی اور گھر کا بھی
❤️انعم رئیس: ایک بات ایسی ہے جو آپ لوگوں کو نہیں پتا اسابیل عثمانی اسماعیل آفندی (علی کے بابا) زمان شاہ اور طارق خان چاروں یونیورسٹی کے بہترین دوست تھے لیکن اسابیل اور طارق دونوں ہی رنگین مزاج کے تھے جب کے زمان اور اسماعیل شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان ہی کے یونیورسٹی میں کوثر نواب اور آئمہ اکرم پڑھتی تھیں
وہ دو نفوس یاد ہیں آپکو ریسٹورنٹ والے جو شرمندہ تھے وہ اسابیل تھا جو معافی مانگ رہا تھا اور دوسرے اسماعیل تھے جو اسے حقیقت بتا رہے تھے رابیعہ کا ذکر اس میں اسلئے تھا کیونکہ اس دن کوثر نواب کی عزت پر ہاتھ ڈالنے میں یہ اپنے دوست کے ساتھ قدم قدم پر شریک تھے اور رابیعہ کو اسابیل کے بارے میں بتانے والا اسکا باپ ہی تھا ورنہ کہاں سے پتا چلتا رابیعہ کو اسابیل کے بارے میں
طارق خان کا مرنا اسابیل کےلئے گولڈن چانس تھا جرم کی دنیا میں جس کسی کو بھی کسی کی بھی سچائی کا علم ہوتا ہے پھر مرنا ہی اسکا مقدر ہوتا ہے اگر میر اسے نہ مارتا تو اسابیل ختم کردیتا اسے اور صرف یہی نہیں وہ دو لڑکیاں جنکو طارق خان نے جلا کر مارا تھا جسکی سزا میر نے اسے دی تھی اس میں طارق خان کا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ ان دو لڑکیوں کے ساتھ زیادتی بھی اسابیل نے کی تھی اور وہ دو لوگ جو انکے باپ ہونے کا ڈھونگ رچا رہے تھے سب پلین تھا طارق خان کو مارنے کا وہ سچائی بتانا چاہتا تھا لیکن میر ثبوتوں کا قائل تھا اسلئے مارا گیا وہ کیونکہ ڈی این اے رپورٹس چینج کروائی گئیں تھیں اور پتا ہے کس نے سنینا نے اسابیل کی منظورِ نظر نے اسابیل کو جب یہ پتا چلا کہ اسکی بیٹی زندہ ہے اور اسکی اُس وقت سب سے بڑی دشمن رابیعہ خان تھی اور رابیعہ طارق خان کی بیٹی تھی مطلب سہی شکار ہاتھ لگا تھا سنینا کو رابیعہ کے پیچھے لگا دیا تھا لالی کو پھنسایا کس نے سنینا نے لالی کو بے گھر کیا سنینا نے رابیعہ کے لئے اینجل بن کر آئی تھی وہ اور کون جسے شیطانوں کی ملکہ کہتے ہیں لیکن لالی کو بھی لیڈی ڈیول کہتے ہیں
لیکن بات ابھی یہیں ختم نہیں ہوئی ابھی تو جنید کی موت سے ایک ایسا پردہ اٹھنا ہے جس نے سب کو ہلا کر رکھ دینا ہے

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں🖤
💜💜

علی لاؤنج میں اکیلا بیٹھا تھا میر پولیس اسٹیشن گیا تھا تو اس نے آس پاس دیکھا جیسے کوئی ہے تو نہیں اور پھر اپنا موبائل نکالا اور پریشے کی تصویر نکالی یہی تو تھا اسکا کام بس اسکے نقش کو آنکھوں میں بسانا ہر روز دیکھتا تھا اور روز ایسا لگتا تھا جیسے آج کچھ الگ ہے اور اسے ہی کھوجنے وہ اتنے محویت سے دیکھتا تھا کہ آس پاس کے لوگوں کو یکسر فراموش کردیتا تھا جیسے وہ جلد بازی میں دائیں بائیں ہی دیکھ سکا آگے پیچھے نہیں کیونکہ اسکے بلکل عین پیچھے مطلب صوفے کے پیچھے چھپ کر لالہ رخ بیٹھی آملی کھا رہی تھی کیونکہ قرۃ بیگم نے اگر اسے دیکھ لیا تو پٹائی پکی گھر کو لائیٹوں سے سجانے کا کام جاری تھا تو کہیں دولہوں کے کمروں میں رینوریشن کا کام ہورہا تھا
لالی نے اچھے سے چسکے لے لے کر املی کھائی صوفے سے اٹھنے سے پہلے ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو علی نظر آیا جو اپنے موبائل میں کسی کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا لالی نے آنکھوں کو ترچھا کرکے اسے دیکھا اور پھر ہلکا سا سر اٹھا کر موبائل میں دکھنے والی اس ہستی کو دیکھا تو ہقہ بقہ رہ گئی یہ تو پری تھی پھر دبے پاؤں صوفے کے پیچھے سے نکل کر سامنے والے صوفے کے بیک ہر آئی پھر سر نکال کر علی کی آنکھوں کو غور سے دیکھا ان میں چھپا مفہوم پڑھا تو چہرے پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی اسکو بتانے کے لیے گے بڑھی لیکن پھر رک گئی پھر دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ یہ سب نجمہ آنٹی کو بتائے اور ان سے اپنی بہن کے بارے میں ساری باتیں کرے تو علی کیلئے بہترین سرپرائز ہوگا آخر بھائی جو ہے اسکا اور پھر اپنے گھر کے حالات سے بھی واقف تھی کہ پری کو اسکی وجہ سے کیسی کیسی باتیں سننے پڑ رہی ہیں بس پھر طے ہوا اب تو علی کی برات نکلنی ہی تھی اور وہ بھی پری کیلئے لالی کا دل کیا یہیں بھنگڑا ڈالنا شروع کردے لیکن کنٹرول ہنسی دباتی ہوئی بھاگی اپنے کمرے کی طرف
پیچھے بیٹھا بچارا علی گڑبڑاگیا موبائل جلدی سے بند کیا اور ادھر ادھر دیکھا تو لالی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور ہولے سے منہ میں بڑبڑایا ‘بیوقوف لڑکی دیکھا تو نہیں نہ کچھ اس نے نہیں اگر دیکھ ہی لیا ہوتا تو ابھی کلاس لینا شروع کر دیتی میری کہ بتایا کیوں نہیں ہمیں’

💜💜

‘اوہ آللہ جی آپ نے ہماری دعا قبول کرلی ہم نے جو جو مانگا آپ نے دیا ہم نے اپنی بہن کیلئے خوشیاں مانگیں آپ نے علی بھائی کو بھیج دیا ہم نے جیل میں کہا تھا آپ سے کہ ہمیں فیملی چائیے آپ نے ہمیں اتنی پیاری فیملی بھی دی اور ایس ایس پی صاحب بھی دیے’ وہ بیڈ پر کھڑے ہوکر اچھل اچھل کر بول رہی تھی خوشی کا یہ عالم تھا کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے
‘اوہ میرے یار کی آئے گی بارات رنگینی ہوگی رات’ اور اب لالی بیڈ پر کھڑے ہوکر پاؤں سے تکیے نیچے پھینکتی بھنگڑے ڈال رہی تھی

بدلے سے دن ہیں میری بدلی سی راتیں
کئی دنوں سے میری بہکی ہیں سانسیں
پہلی دفعہ ہے کہ یہ مجھ میں تو جھلکا ہے
میرے رنگوں میں کچھ رنگ ہیں تیرے جیسے بھی
کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی
کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

ایک ہاتھ سے گلے میں جھولتا دوپٹہ ہٹاکر دور پھینکا اور پاس پڑے گلدان میں سے ایک پھول نکالا اور منہ میں ڈالا آدھا اندر اور آدھا باہر پھر میر کا تکیہ اٹھایا

ان چھوئے تھے سپنے میرے تو نے چھو لیے
چھپکے چھپکے دل میں آیا تو جادو لیے
تیری ہوگئی ہوں تجھ کو پتا بھی تو ہو
میرے پیار میں تیری رضا بھی تو ہے
پہلی دفعہ ہے کہ یہ مجھ میں تو جھلکا ہے
میرے رنگوں میں کچھ رنگ ہیں تیرے جیسے بھی
کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی
کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

وہ اسکے تکیے کو سینے سے لگائے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی کہ منظر بدلا وہ بھی وہی تھی لیکن ریڈ میکسی میں کمرہ بھی وہی تھا لیکن وہ پھولوں سے سجا تھا اور لالی کے ہاتھ سے تکیہ غائب تھا کیونکہ اب اسکی جگہ میر تھا بلیک تھری پیس میں میر نے اسکو کمر سے پکڑا ہوا تھا وہ دونوں بہت قریب تھے پھر کہیں سے گانے کے بول سنائی دیے

میری دنیا میں تھا میں اپنے ہی دھیان میں تھا
کچھ تو بدل گیا ہے میرے آسمان میں
ایسا کیوں کیسے کیوں کیا ہوگیا
کچھ خوبصورت سا دل کو ہوگیا
پہلی دفعہ ہے کہ یہ مجھ میں تو جھلکا ہے
میرے رنگوں میں کچھ رنگ ہیں تیرے جیسے بھی
کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی
کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

وہ اپنے خواب میں اس کے ساتھ ڈانس کررہی تھی وہ بےحد خوش تھی اسے خوش رہنا تھا وہ خوش رہنا جانتی تھی کہ تبھی پاؤں کارپیٹ میں الجھا اور وہ سیدھا بیڈ پر گری تبھی ہڑبڑا کر اٹھی
‘ہم خواب دیکھ رہے تھے ہائے خواب ہی ہوسکتا ہے ورنہ وہ کھڑوس کہاں ہمارے ساتھ ڈانس کریں گے اللّٰہ پاک آپ تھوڑا سا انہیں رومینٹک ہی بنا دیتے’ وہ منہ بناتے ہوئے بولی

💜💜

اگلے مہینے کی تاریخ رکھی گئی تھی رخصتی کی دانیال کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی ہی رخصتی کرا لے تو کہیں فصیحہ بھی بہت خوش تھی ہاں بھئی نکاح میں بڑی طاقت ہوتی ہے دونوں فریقوں میں محبت کراہی دیتی ہے یہ بات فصیحہ بھی مان گئی تھی بلکہ وہ تو اب دانیال کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی اور کہیں اسکی زومعنی باتیں بھی نہیں سن سکتی تھی
‘کہاں چلیں گئیں تم لالہ رخ مجھے اتنی بڑی خوشی دے کر’ وہ تصور لالی سے محو گفتگو تھی
‘میں ہی پاگل تھی جو تمہیں اپنا دشمن سمجھ بیٹھی اور پتا نہیں وہ شخص بھی کہاں چلا گیا ہے کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے جیسے اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہے کیونکہ یونی میں سب کہہ رہے تھے کہ سر ارمان کا مرڈر ہوا ہے اور پھر تمہیں میں نے اس دن پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے بھی دیکھا تھا تم کہیں نہ کہیں کچھ تو چھپا رہی ہو…’ وہ انہی باتوں کو سوچ رہی تھی کہ تبھی پری اندر آئی
‘ہیولو بھابھی جی’ وہ شرارت سے بولی تو فصیحہ اداس سا مسکرائی لالی کے بعد یہی تو تھی جو اسکی دوست تھی ورنہ یونی میں تو اس نے ابھی تک کسی کو گھاس نہیں ڈالی تھی
‘کیا ہوا لالی یاد آرہی ہے’ وہ اسکی اداس شکل دیکھ کر بولی تو فصیحہ اثبات میں سر ہلاگئی
‘تمہیں پتا ہے جب وہ یہاں تھی تب اسکا افئیر چل رہا تھا’ فصیحہ اسکے کان کے پاس جھک کر بولی تو پری نے مسکراہٹ دبائی
‘کتںی بار بتائیں گی یار آپ’ وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی
‘تمہیں یہ بات پتا ہے؟ (پری نے ہاں میں سر ہلایا) لیکن یہ نہیں پتا ہوگا کہ کس سے چل رہا تھا’ اب وہ اترائی
‘ارمان ملک سے ہیں نا’ پری نے اپنی بات پر زور دیا تو فصیحہ نے اپنی آنکھیں گھمائیں
‘تمہیں آج میں ایک بات بتاتی ہوں تم وہ بات کسی کو مت بتانا’ وہ سنجیدہ ہوئی تو پری بھی سنجیدہ ہوگئی تھی اسکی بات پر اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ‘لالی کو میں نے پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے دیکھا تھا’ فصیحہ نے اپنی طرف سے تو پری کے سر پر تو دھماکا کیا تھا لیکن پری کو صرف حیرت ہوئی تھی
‘مطلب آپ کو بھی پتا ہے کہ وہ پولیس اسٹیشن گئیا تھی’ پری نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا
‘تمہیں کس نے بتایا’ فصیحہ نے جلدی سے سوال داغا جسکے جواب میں پری نے اسے پوری بات بتائی اور وہ تو دم سادھے بیٹھی تھی
‘آپ نے مجھےایک دفعہ بتایا تھا کہ آپکے سر ارمان ملک کو لاسٹ ٹائم آپ نے 4 تاریخ کو دیکھا تھا اسی دن رات میں لالی کو کسی کا فون آیا تھا تقریباً 11 بجے جس کے بعد وہ جلد بازی میں گھر سے نکل گئی تھی اور اس کے بعد وہ تین بجے گھر آئی تھی لیکن وہ اکیلی نہیں تھی اسکے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی اور پتا ہے اس لڑکی کے پاس گن بھی تھی اور پھر اسکے بعد لالی پولیس اسٹیشن گئی اور یہ سب ہوا’ پری نے اس کو دھماکہ خیز خبر بتائی تھی وہ تو اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی
‘اللّٰہ اکبر لالی کیا کرتی پھر رہی تھی اور مجھے خبر بھی نہیں ہوئی’ فصیحہ جانتی تھی وہ اگر کچھ اس سے پوچھ بھی لیتی تو وہ اسے کچھ نہ بتاتی

💜💜

انہی دنوں میں ماہین اور عارف کی منگنی کی تاریخ بھی رکھی جاچکی تھی وہ دونوں بھی خوش تھے لیکن ماہی بس اپنی دوست کیلئے پریشان تھی جسکا کچھ اتا پتا نہیں تھا
اور دوسری طرف انسپیکٹر حارث نے بھی کونسٹیبل ماریہ کو پٹا ہی لیا تھا دونوں کی شادی ہوچکی تھی لیکن حارث لالی کو نہیں بھولا تھا بھئی بھولتا بھی کیسے آخر کار اسی کے بتائے ہوئے حربوں سے ہی ماریہ کو پٹایا تھا جو وہ جیل میں بیٹھ کر اسے روز نئی نئی ٹیکنیکس بتاتی تھی ہاہاہاہا ہئے لالی

💜💜

شادی کی شوپنگ کرنے گیلانی ہاؤس کی ساری لڑکیاں جارہی تھیں لیکن لالی کو تو شوپنگ سے خار کھاتی تھی لیکن پھر بھی رواحہ اسے میر کے پیارے پیارے خواب دکھا کر لے گئی تھی اب وہ سارے برائیڈل ڈریسز لے رہے تھے اور لالی میر کے لئے شیروانی دیکھ رہی تھی برات کیلئے کریم کلر کی شیروانی جس پر بلیک اسٹونز کا کام تھا اور اسکے ساتھ بلک کلر کے کھسے تھے اور آج تو وہ کھل کر شوپنگ بھی کرسکتی تھی کیونکہ انصار صاحب نے اسے اپنا کریڈیٹ کارڈ دیا تھا لالی نے تو صاف منع کردیا تھا لینے سے لیکن انہوں نے اسے اموشنل بلیک میل کیا تو وہ مان گئی تھی
‘ایکسکیوز می آپ یہ پیک کروا دیں پلزززز’ اسنے ایک سیلز مین کو کہا وہ آج خود سے کچھ لے رہی تھی ورنہ اسکی شوپنگ تو ہمیشہ شبانہ بیگم کرتی تھیں
‘میم یہ آپکا آڈر اور بل وہاں ہے کردیں آپ’ وہ لڑکا اسے بیگ پکڑا کر جاچکا تھا پھر اس نے بل پے کیا تھوڑا اور آگے چلی تو ایک جگہ نظریں ٹھر گئیں وہ روئیل بلو تھری پیس تھا میر کے پاس ایسے کلر کا کوئی بھی سوٹ نہیں تھا وہ تھری پیس ولیمے کے لیے اسے بیسٹ لگا تھا اس نے وہ بھی پیک کروایا اسی شاہ پر اسے دو چار شلوار قمیض پسند آئے تو وہ بھی لے لیے پھر شوز بھی کیے وہ میر کے سائز سے واقف تھی اتنے سارے بیگز وہ ہاتھ میں پکڑے گھوم رہی تھی یہ وہ لالی تھی جسے شوپنگ سے سخت نفرت تھی لیکن ابھی وہ میر کے لئے ہر چیز بہترین سے بہترین لے رہی تھی
روح سحرش فری اور فاطمہ تو پارلر چلیں گئیں تھیں انہوں نے لالی کو بھی کہا تھا ساتھ چلنے کو لیکن اس نے منع کردیا تھا یہ کہہ کر کہ اسکی شادی تھوڑی ہے جو وہ تین دن پہلے سے ہی پارلر میں دھرنا دے کر بیٹھ جائے پارلر چونکہ مال میں ہی تھا اسلئے انہیں زیادہ پرابلم نہیں ہوئی تھی
لالی ابھی میر کے لئے ہی ایک بریسلیٹ دیکھ رہی تھی جب اسکی نظر ایک کپل بریسلیٹ پر گئی ایک بریسلیٹ تھا جبکہ دوسرا لوکیٹ بریسلیٹ ہر دل بنا تھا اور اس میں ایک لوک بنا تھا ڈائمنڈ لگے تھے اس میں جبکہ لوکیٹ میں اسکی چابی لگی تھی لیکن وہ ڈائمنڈ کا نہیں تھا لالی نے سوچ لیا تھا یہ بریسلیٹ وہ میر کو دے گی جب کہ لوکیٹ وہ خود پہنے گی وہ بھی پیک کرایا اتنے میں ڈرائیور بابا آگئے تھے اور وہ کچھ پریشان سے لگے تھے
‘کیس ہوا ڈرائیور انکل کوئی پروبلم ہے کیا’ لالی انکا پریشان چہرہ دیکھ کر بولی
‘بیٹا میری بیوی کی حالت بہت خراب ہے مجھے ہسپتال جانا ہے میری بیٹی اکیلی ہے وہ سب کیسے کرے گی’ انہوں نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو لالی سے رہا نہ گیا انہیں کچھ پیسے دیے اور انہیں جانے دیا چونکہ اسپتال قریب تھا اسلئے وہ گاڑی کو چھوڑ کر خود جاچکے تھے انہوں نے کہا بھی تھا کہ وہ گھر سے کسی کو بلا لیں لیکن
According to lali when lali is here no problem Is there
اس نے سوچا آخر اسکی ڈرائیونگ سکیلز آخر کب کام آئیں گی لگتا ہے آج گیالانی خاندان کی لڑکیاں گھر کے علاؤہ کہیں اور پہونچنے والی تھیں
وہ ساری پارلر سے باہر آئیں تو لالی ہاتھ میں ڈھیر سارے شوپنگ بیگز لیے کھڑی انہی کا انتظار کررہی تھی
‘ارے انہیں ایک سائیڈ پر رکھ دیتیں یا پھر کہیں بیٹھ جاتیں’ فاطمہ نے اس سے شوپنگ بیگ لینا چاہے لیکن اس نے ہاتھ پیچھے کرلیا کہیں رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا میر کی چیزیں تھیں اس میں اپنے لئے اس نے کچھ نہیں لیا تھا بس وہ ایک لوکیٹ تھا جو وہ اپنے لئے لے چکی تھی
‘بیٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر ہم کہیں ادھر ادھر ہوجاتے تو تم لوگ ہمیں ڈھونڈتے رہتے اور یہ ہمیں ہی پکڑے رہنے دو تم نے ابھی ہی مینیکیور اور پیڈیکیور کروایا ہوگا خراب ہوجائے گا اور ویسے بھی یہ بہت ہلکے ہیں’ لالی نے اسے اپنی طرف سے اچھے سے مطمئن کیا تھا
‘اچھا ایک کام کرتے ہیں ڈرائیور انکل کو بلا لیتے ہیں وہ کچھ بیگز پکڑنے میں ہیلپ کردیں گے تمہاری’ سحرش نے فون نکالا وہ چاروں اپنا سامان پہلے ہی گاڑی میں رکھوا چکی تھیں بس لالی شوپنگ میں مصروف تھی اسلئے اسکا سامان رہ گیا تھا
‘ارے نہیں انکل جاچکے ہیں انکے گھر پر ایمرجنسی ہوگئی تھی تو ہم نے انہیں بھیج دیا تھا’ لالی نے رواحہ سے اسکا بھی وہ چھوٹا سا بیگ لے لیا تھا جس میں جیولری تھی
‘تو پھر ہم کیسے جائیں گے’ فری محترمہ پریشان ہوئیں کیونکہ ان چاروں میں سے تو کسی کو بھی ڈرائیونگ نہیں آتی تھی
‘ارے ہم ہیں نہ ہمیں ڈرائیونگ آتی ہے ہم کے کر چکیں گے تم لوگوں کو’ لالی نے خدمات آگے رکھیں تو سب لوگ مطمئن ہوگئے تھے جو نو وقتی مطمئن
💜💜
گ
آج پولیس اسٹیشن میں قیامت خیز منظر تھا میر کی آنکھیں آگ اگل رہیں تھیں وہ کرسی پر بیٹھا تھا دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھے اور دونوں ہاتھ ایک دوسرے کی انگلیوں میں پھنسے تھے اسکے سامنے دو پولیس والے زمین پر بیٹھے میر سے معافی مانگ رہے تھے دونوں کے دونوں رشوت لیتے پکڑے گئے تھے نئے اہلکار تھے اسلئے میر کے غصے کو جانتے نہیں تھے
‘میں نے پوچھا پیسے لیے تھے یا نہیں’ وہ دھاڑا تو دونوں اہلکاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
‘ننن…نہیں ہم نے نہیں ل۔لی’ ان میں سے ایک کانپتا ہوا بولا تو ان دونوں کے پیچھے کھڑے انسپیکٹر نے ایک ڈنڈا گھما کر دونوں کو مارا تو ان میں سے ایک چیخ پڑا
‘آہ۔ہ۔ہ ہاں ہم نے لی تھی رررر۔۔رشوووت رشوت’ دوسرا زیادہ نہ سہہ سکا اور بول پڑا بس اسکا یہی بولنا تھا میر جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور انکے سامنے دو زانو بیٹھا ان دونوں کا سیدھا ہاتھ پکڑا اپنے دونوں ہاتھوں میں اور اتنی زور سے مروڑا کے کلائیوں میں تین کریک پڑے تھے پولیس اسٹیشن انکی چیخوں سے گونج اٹھا تھا
‘جس قانون کی وردی پہنی ہے اسی کا ہی پاس رکھ لیتے یہ جو ہڈی ٹوٹی ہے نہ چھوٹی سی سزا ہے میری طرف سے آگلی بار یاد رکھوگے’ وہ پراسرار لہجے میں بولتا اپنے آفس کی طرف بڑھا تھا کہ تبھی اسکا فون رنگ ہوا تھا وہ آفس میں پہنچا اپنا فون نکالا اور کان سے لگایا اور جو کہا جارہا تھا اس سے اسکی آنکھیں مزید لال ہوئیں تھیں

💜💜

‘لالی ہمیں مرنا نہیں ہے گھر جانا ہے’ سحرش کا تو چہرہ لٹھے کی مانند سفید تھا لالی دو سو کی اسپیڈ سے گاڑی بھگا رہی تھی وہ سحرش کی بات پر کھل کر مسکرائی
‘میں اس عمر میں نہیں مرنا چاہتی’ فاطمہ نے اپنی سیٹ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا لالی کا سارا دھیان سڑک پر تھا ورنہ ان لوگوں کی حالت ضرور انجوائے کرتی وہ گاڑی آرام سے چلانا چاہتی تھی لیکن سڑک سنسان تھی اسلئے وہ مجبور تھی کیونکہ وہ ان سب لڑکیوں کے ساتھ تھی اسلئے خطرہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی اور خاص طور پر فری ہو تب تو بلکل بھی نہیں
‘اور میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ہے’ روح سیٹ بیلٹ کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھی تھی
‘اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ میاں آج بچالیں اگلی بار میر بھائی سے کوئی شکایت نہیں لگاؤں گی اپنے بھائیوں کی لاحولا ولا وقوت استغفر اللہ سے اللّٰہ میرے گناہ معاف کردے’ فریہا کو لگ رہا تھا کہ وہ مرنے والی ہے
‘یار ریلیکس رہو کیا ہوگیا ہے دیکھ نہیں رہے کتنی سنسان سڑک ہے اسی لئے بھگا رہے ہیں گاڑی تاکہ کہیں کوئی چور چھکا نہ ہو’ لالی نے انہیں اپنی طرف سے ریلیکس کرنا چاہا تھا لیکن وہ لوگ تو سنسان سڑک دیکھ کر اور ڈر گئے تھے
‘گھر فون کرووو’ سحرش چیخی
‘ارے پولیس والے کی بہنیں ہو کر ڈر رہے ہو تم لوگ شرم کرو’ لالی نے انہیں شرم دلانی چاہی ان میں سے کوئی ابھی کچھ کہتا کہ گاڑی کے سامنے کسی کی گاڑی آکر رکی تھی لالی نے بروقت بریک مارا ورنہ جتنی اسپیڈ سے گاڑی چل رہی تھی اس اسپیڈ سے گاڑی پلٹ سکتی تھی لیکن پھر بھی گاڑی سامنے والے کی گاڑی میں گھسی تھی کہ اسکا لیفٹ ڈور تقریباً ہل گیا تھا اپنی جگہ سے
گاڑی میں زور سے بریک لگنے کی وجہ سے پیچھے بیٹھی فری سحرش اور فاطمہ اپنی جگہ سے ہل گئیں تھیں فری اور فاطمہ اپنے آگے والی سیٹس سے ٹکرائیں جبکہ سحرش اچھلتی ہوئی لالی اور رواحہ کہ بیچ میں آگری تھی اور یہاں لالی کا قہقہ گونجا تھا
‘ہاہاہاہا اللّٰہ سحری تم مری ہوئی چھپکلی لگ رہی ہو’ لالی کی تو ہنسی بند نہیں ہورہی تھی اور وہ اس سب میں سامنے والی گاڑی کو بھول گئے تھے جن میں سے چار لڑکے اترے تھے اور اب ہنستی ہوئی لالی کی ونڈو کے گلاس پر نوک کررہے تھے
وہ چاروں لڑکے ان لڑکیوں کو دیکھ چکے تھے انکی نظر پیچھے بیٹھی معصوم سی فری اور سحرش پر پڑی تھی بس تب سے اس گاڑی کا پیچھا ہورہا تھا لیکن اب تو گاڑی میں بیٹھی حوروں پر نظریں خراب ہوگئیں تھیں
لالی جو کہ ہنس رہی تھی چونکی اور ونڈو کی طرف دیکھا اور پھر شیشہ نیچے کیا اندر بیٹھی وہ چاروں ان گھٹیا اور گندی نظروں والے لڑکوں کو دیکھ کر ڈر گئیں تھیں جبکہ لالی مطمئن تھی اور انکی نظروں کا مفہوم بھی اچھے سے پڑھ رہی تھی
‘کیا مصیبت ہے پنک پینٹر کی شکل والے’ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھے ان میں سے ایک تو اسکے مسکرانے پر ہی فدا ہوگیا تھا اسلئے ہاتھ دل پر رکھ کر اسکی طرف جھکا
‘بس آپکی قربت کا کچھ وقت چائیے سرکار’ وہ شاید عاشق مزاج تھا تو لالی کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی جبکہ وہ چاروں دم سادھے لالی کو دیکھ رہیں رہیں تھیں
‘کتنا وقت چائیے’ لالی دلفریب لہجے میں بولتی اپنا سر سیٹ سے ٹکا گئی تھی
‘ایک رات رنگین کردو بس’ اسکی نظریں صرف لالی ہر ہی نہیں بلکہ ساری لڑکیوں پر تھیں
‘ہاہاہاہا بس ایک رات تم تو بہت ہی بھکاری نکلے’ اب لالی کی نظریں ان چاروں کا ایکسرے کررہیں تھیں تبھی اسی لڑکے نے لالی کے چہرے کو چھونا چاہا لیکن لالی اپنا چہرہ پیچھے کرگئی
‘کیا ہوا ڈر گئیں یا پھر قیمت لیتی ہو رات گزارنے کی ہاہاہا’ ان میں سے ایک نے قہقہ لگایا تو لالی نے گاڑی کی چابی نکالی
‘باہر تو آنے دو تبھی اپنی قیمت بتائیں گے’ لالی نے آنکھ مارتے ہوئے کار کا دروازہ کھولا جبکہ وہ چاروں لڑکے پہلی بار ایسی لڑکی دیکھ رہےتھے جو خود انکی طرف قدم بڑھا رہی تھی اسلئے اور مزید فری ہوئے تھے
‘یہ پولیس والے کی بیوی ہے پولیس والی نہیں اسے کوئی بتاؤ’ روح کہ تو ہاتھ پیر پھول گئے تھے
لالی اب ان چاروں کے سامنے کھڑی تھی ان میں سے ایک کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی جو وہ وقفے وقفے سے چڑھا رہا تھا کچھ کچھ حد تک نشے میں ٹُن ہورہا تھا وہ
‘تو تم میں سے کون ہے جو پہلے ہمارے ساتھ رات گزارنے کا خواہش مند ہے’ لالی کا انداز ہئے ان میں سے ایک آگے بڑھا تو لالی کی آنکھوں نے اسے ترچھی نظروں سے گھور کر دیکھا تھا اب اس انسان کا ہاتھ لالی کے اسکارف پر گیا تھا لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے آنکھوں سے منع کیا
‘لیکن اسکے بغیر کیسے’ وہ کمینگی کی حدیں پار کرنا چاہ رہا تھا تو لالی نے اپنے ہاتھ میں موجود وہ ریڈ اسٹون والی انگوٹھی گھمائی تھی جو اسے فصیحہ نے دی تھی
‘تمہیں نہیں پتا کیسے’ لالی نے اسکی عقل پر ماتم کیا تو اس نے اسے واقعی ناسمجھی سے دیکھا ‘ایسے’ لالی نے کہتے ساتھ ہی اسکا منہ کان کے سائیڈ سے اپنے سیدھے ہاتھ میں پکڑا اور اسے اپنی گاڑی کے بونٹ پر مارا تھا افف کتنی زور سے مارا تھا اسکی شریان پھٹ گئی تھی کانوں سے خون نکلنا شروع ہوا تھا
‘آہہہ’ اندر بیٹھی فری اور فاطمہ کی چیخ بلند ہوئی تھی جبکہ باقی سب آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے تھے
پیچھے کھڑے تین لالی کو دیکھ کر چونکے پھر سنبھلے اور ان میں سے ایک نے دوسرے والے کو اشارہ کیا تو وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا رواحہ کی نظر اس پر پڑی تو چیخی تھی
‘لالی’ رواحہ کی پکار پر لالی نے گاڑی کی طرف دیکھا اور جھٹ سے گاڑی کی چابی اٹھاکر اسکی کی چین میں لگا بٹن دبایا تو گاڑی لوک ہوگئی تھی گاڑی کے شیشے تو وہ پہلے ہی بند کرچکی تھی جب وہ ان سے بات کررہی تھی
لالی رواحہ کی طرف متوجہ ہوئی تو پیچھے کھڑا لڑکا اس پر چھپٹا تھا لالی چند قدم پیچھے ہوئی اپنے پاؤں میں پہنی ہل اسکے گھٹنے میں ماری اور اپنی کہنی اسکے پیٹ میں ماری وہ ایک پل تو سمجھ نہ سکا کہ پیٹ میں زیادہ زور سے لگی ہے یا پھر گھٹنے میں وہ رقوع میں جھکا تو لالی نے اپنی کہنی اسکی کمر میں ماری تھی وہ بلبلاتا ہوا گاڑی سے جالگا ان میں سے ایک اور آگے آیا لالی کے ہاتھ سے چابی چھیننے کے لئے جو اسکے بائیں ہاتھ میں تھی لالی کا منہ دوسری طرف تھا وہ تھوڑا سا چکی کہ اسی لڑکے نہ اسکے پاؤں میں اپنی ٹانگ اڑائی تو لالی زمین بوس ہوئی اور ہاتھ سے چابی نکل کر دور گری تھی دوسرے لڑکے نے چابی اٹھائی اور گاڑی کو ان لوک کرکے ان میں سے ان چاروں کو کھینچ کر باہر نکالا جو لالی کو آواز دے رہیں تھیں لالی جھٹکے سے اٹھی تھی اور اسکی نظر اب اس بندے کے ہاتھ پر تھیں جس نے فری کا ہاتھ جکڑا ہوا تھا وہ یہ وعدہ خود سے کرچکی تھی کہ ان تینوں پر حرف نہیں آنے دے گی اسلئے شیرنی کی طرح آگے بڑھی اور اس نشے میں دھت انسان سے اسکی شراب کی بوتل چھینی اور اس انسان کے سر پر ماری جس نے فری کا ہاتھ پکڑا تھا سر خون سے نہا گیا تھا اسکا اس نے فری کو چھوڑ کر اپنا سر تھاما لیکن لالی کی نظر تو اسکے ہاتھ پر تھی لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے کار کے دروازے میں دے کر اتنی زور سے دروازہ مارا کہ وہ اپنا سر کا درد بھول کر ہاتھ کی فکر میں بڑھا تھا وہ چاروں کار سے ٹیک لگائے کھڑیں تھیں سکون تھا اب انکے چہروں پر کہا تھا نہ جہاں لالی ہو وہاں پریشانی نہیں ہوتی
انکے سامنے اب وہ تین تھے اور ان تین کے سامنے صرف ایک لالی تھی ان میں سے وہی نشے میں ٹُن انسان آگے بڑھا تو لالی کے ہاتھ میں اس شیشے کی بوتل کا صرف کیپ رہ گیا تھا وہی اسکی کمر میں گھسایا تھا وہ کراہتا ہوا بےہوش ہوگیا تھا
وہی آگے آیا جس نے لالی کو گرایا تھا اس نے لالی کے پیٹ میں پنچ مارنا چاہا لیکن لالی ہوا میں اچھلتی اسکے منہ پر فلائنگ کیک رسید کر چکی تھی وہ زمین بوس ہوا تھا وہ دوبارہ اٹھا اور لالی کے چہرے پر تھپڑ مارنے لگا تھا کہ لالہ رخ نے اسکا سر پکڑ کر اسی کی گاڑی کے شیشے میں مارا تھا چھن کی آواز سے پورا شیشہ ٹوٹا تھا اور ساتھ میں کہیں اسکا سر بھی دوسرے کھڑے لڑکے نے لالی کے منہ پر زور سے پنچ مارا تھا یہ پہلا کامیاب وار تھا جو لالی کا جبڑا ہلا گیا تھا اسکا ہونٹ پھٹ چکا تھا لیکن یہاں پرواہ کسے تھی لالی نے اپنے منہ کو تھوڑا ادھر ادھر کرکے ٹھیک کیا
‘آہ بیٹا بڑا اچھل رہا ہے تو تیری ہڈیوں کو مصالا چائیے اور وہ بھی ہمارے ہاتھ کا’ لالی نے اس کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا
“چٹاخ”
نرم ہاتھوں کا جان نکال دینے والا تھپڑ ہوتا تھا لالی کا اسکا منہ دوسری طرف ہوا لالی نے ایک اور تھپڑ رسید کیا
“چٹاخ”
اب کی بار وہ زمین پر گرا تھا لالی نے اسکا سر اٹھایا اور گاڑی کی ہیڈ لائٹ پر دے مارا تھا چاروں کے چاروں ڈھیر ہوئے تھے اسکے آگے لالی کی سانس پھول گئی تھی وہ گاڑی سے ٹیک لگا کر بیٹھی اور ان چاروں کو دیکھ رہی تھی پھر سڑک پر نظر ماری تو گاڑی کی چابی نظر آئی سحرش نے اسکی نظروں کے۔م تعاقب میں دیکھا تو خود جاکر چابی اٹھائی اور اسکے پاس آکر بیٹھی رات ہورہی تھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی گاڑی کی لائیٹس سے روشنی تھی بس
‘اب گاڑی کون چلائے گا’ وہ فکرمند تھی تو لالی نے اسے گھورا
‘نہ ہماری ٹانگ ٹوٹی ہے نہ ہمارا منہ ٹوٹا اور نہ ہی ہاتھ اور تو اور ہم مرے بھی نہیں ہیں’ لالی نے تنز’ کیا تھا یا مزاق وہ سمجھ نہ سکی
‘مطلب’ اسکے پوچھنے پر لالی مسکرائی
‘چابی دو ہمیں جب ہم زندہ ہیں تو ہم ہی چلائیں گے نہ’ لالی چابی اٹھاتی ہوئی آگے بڑھی تو نظر سامنے کھڑی اس گاڑی پر پڑی تھی پھر سب سے پہلے اس گاڑی کو سائڈ میں کیا جبکہ وہ چار بھاڑ میں جائیں اب وہ سب گاڑی میں بیٹھے تھے فری بھائی کی لاڈلی نے بھائی کو کال کردی تھی اور یہاں ہوئی ہر کہانی بتا چکی تھی وہ گاڑی کی حالت اچھی خاصی خراب ہوگئی تھی اور لالی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی سر پر زمین سے لگنے کی وجہ سے کٹ لگا تھا جبکہ ہونٹ سے بہتے خون نے ایک لکیر بنائی تھی ہاتھ بھی چھل گئے تھے جبکہ ایک کانچ کا ٹکڑا ہاتھ میں لگا تھا جسکا اسے علم ہی نہیں تھا ڈرائیونگ کرتے وقت اسے پتا چلا تھا کہ اسکے ہاتھ سے خون آرہا ہے اس نے ٹریفک سگنل پر گاڑی روکی اور گاڑی کی لائٹس آف کیں اور پھر ہاتھ سے کانچ نکال کر باہر پھینکا دو چار ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کیا اور انہیں باہر پھینکا اور اس کانچ کے ٹکڑے کو جیب میں ڈالا سڑک پر پھینکتی اور کسی کے چبھ جاتا تو کتنا گناہ ملتا اسے

💜💜

انصار صاحب فہیم صاحب شیراز صاحب علی میر غرض کہ سارے لوگ موجود تھے سوائے بی جان قرۃ بیگم ساجدہ بیگم اور مہمانوں کے علاؤہ میر ساری سچویشن انہیں بتا چکا تھا وہ سب لان میں کھڑے انکا انتظار کررہے تھے تبھی ایک خستہ حال سی گاڑی گھر میں داخل ہوئی گھر کی لائیٹس گاڑی پر پڑیں تو گاڑی پر خون کی چھینٹیں نمایا ہوئیں فری جلدی سے گاڑی سے نکلی اور میر کے پاس بھاگی حالانکہ جانا اسے سیفی کے پاس چاہیے تھا (بدتمیز) رواحہ سحرش اور فاطمہ بھی باہر آئیں ان تینوں پر ایک خراش تک نہیں آئی تھی لالی نے اپنا وعدہ نبھایا تھا سب کی جہاں اٹکی ہوئی سانسیں بحال ہوئیں تھیں لالی نے گاڑی کو بند کیا چابی نکالی اور پھر گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلی میر اور علی کی نظریں ایک ساتھ لالی ہر پڑی تھیں باقی سب بھی لالی کی طرف متوجہ ہوئے تو انکی بحال ہوئی سانسیں اٹکیں وہ ان لوگوں کی نظروں سے شاید بچتی ہوئی نکل رہی تھی جب علی کی آواز نے اسکے قدم روکے تھے
‘لالی’ علی نے پوچھا تو وہ کچھ بولنے کے بجائے انکی طرف بڑھی اور پھر روح اور سحری کے زبانی انہیں سب پتا چلا تھا لالی ایک طرف کھڑی ان چاروں کو دیکھ رہی تھی جو اپنے بابا اور بھائیوں کے ساتھ کھڑیں تھیں آج اسے پتا چلا تھا کہ خون کے رشتوں کی کیا ویلیو ہوتی ہے ادھر ہی کھڑا میر اسے دیکھ رہا تھا اسکی آنکھوں میں حسرت دیکھی تو علی کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور لالی کی طرف اشارہ کیا تو وہ سمجھتا ہوا اسکی طرف آیا جسکی آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی
‘آں آں ایس ایس پی کی بیوی روتی بھی ہے’ علی اسکے کان کے قریب جھک کر ہلکی آواز میں بولا تو اس نے مسکراتے ہوئے پلکیں جھپک کر آنسو اندر اتارے ‘اسٹرونگ گرل’ علی نے اسے سراہا
‘تم تو پوری گنڈی نکلیں تبھی میں اس دن حیران تھا کہ تم میر بھائی سے کیسے جیت گئیں پش اپس میں’ عمر کی آنکھوں میں ستائش تھی لالی کیلئے لالی نے سر خم کرکے تعریف وصول کی تھی اسکے اس شاہانہ انداز پر میر مسکرایا تھا
‘بی جان صحیح کہتی تھیں آپ کیلئے آپکی جیسی ہی کوئی آئے گی بہترین چیز چوس کی ہے’ حمدان وجدان ریان انصار صاحب میر کے پاس کھڑے تھے اور لالی کو دیکھ رہے تھے جو ان سب کے ساتھ اندر جارہی تھی
‘وہ میری جیسی نہیں ہے’ میر نے تصحیح کی تھی
‘کافی چوٹ لگ گئی ہے اسے اور ان لوگوں کو بھی دیکھو زرا کتنی لگی ہے ان لوگوں کو جنہیں لالی مار کر آئی ہے’ انصار صاحب کے لہجے میں غرور تھا میر نے جیب سے فون نکالا اور پولیس اسٹیشن کال کرکے متعلقہ جگہ پر بھیجا وہ لالی سے پوچھ چکا تھا جگہ کے بارے میں

جاری ہے…………