Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

محبت عشق دھوکا اور فریب
از قلم انعم رئیس
قسط 11

لالی یونی میں بیٹھی ارمان کا ویٹ کررہی تھی کیونکہ ارمان نے کچھ ضروری بات کرنی تھی لالی سے
‘کیوں پیچھے پڑ گیا ہے ہمارے یہ دوغلا انسان بھئی جس سے محبت ہے اس کے پاس جاؤ ایک منٹ کہیں یہ وقت گزاری تو نہیں کرتا لیکن اگر وقت گزاری کرتا تو اس لڑکی کو اپنے دوست کی بھابھی بنانے کا تو نہیں کہتا نہ آخر چل کیا رہا ہے یہ یا تو یہ انسان بیوقوف ہے یا تو ہم سب کو دھوکا دے رہا ہے کیونکہ شکل اور حرکتوں سے تو شریف انسان لگتا ہے ہم نے آج تک اسکو کسی لڑکی سے بدتمیزی کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی غلط حرکت کی کہیں نشا تو نہیں کرتا ہاں اور پھر یونی آتے وقت میک اپ کرتا ہوگا’ لالی ادھر سے ادھر چکر کاٹتے ہوئے بڑبڑائے جارہی تھی
‘لالی رخ کیا بول رہی ہیں آپ’ آنکھوں میں ڈھیروں پیار سمایا اور لالی کو دیکھا
‘وووو…وہ وہ ہاں وہ ہم وہ آپکی راہ تک رہے تھے’ لالی نے اپنے لہجے میں مٹھاس لائی
‘جی لالہ رخ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں’ (کاش تم واقعی اتنی معصوم ہوتیں کاش تم نے رابیعہ کے ساتھ ایسا نہیں کیا ہوتا)
‘جی سر کریں’ (کاش تم بھی معصوم ہوتے یہ سب کرنے سے پہلے اپنی ماں کا ہی سوچ لیتے ایک عورت کے بیٹے ہوتے ہوئے ایک عورت کو دھوکا دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تمہیں)
‘میں چاہتا ہوں کہ’ (رابی آج تمہارے علاؤہ کسی اور کو یہ جملے بولنے پڑ رہے ہیں)
‘کہ سر’ (ہاں ہاں انہی کو جاکر کہیں ہمیں کیوں کہہ رہے ہیں ہم بھی مرے نہیں جارہے)
‘میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو اپنے دل کی فیلینگس شئیر کروں’ وہ ایک ہی سانس میں کہہ گیا کیونکہ اس نے پیچھے سے آتی ہوئی فصیحہ کو دیکھ لیا تھا
‘کونسی فیلینگس سر’ ڈرامہ ہنوز جاری تھا (ڈرامہ تو اچھا کررہا ہے یہ)
‘لالہ رخ میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھی ہے اور جب سے دیکھی ہے تب سے میرے دل میں بھی تمہارے لئے محبت پیدا ہوگئی ہے’ وہ آپ سے تم پر آیا اور اسنے لالی کا ہاتھ تھاما لالی کو کرنٹ لگا تھا کسی مرد کی ہمت نہیں تھی اسے چھونے کی
فصیحہ جو یہ سب دیکھ رہی تھی اب آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو ہوئیں تھیں آہستہ آہستہ دماغ میں لالی اور اسکی ساری باتیں گھومیں
(وہ اچھا انسان نہیں ہے، تمہیں اس سے اچھا کوئی اور مل جائے گا، پاگل مت بنو تم سچ سے واقف نہیں ہو، تمہیں ہماری دوستی کی قسم، بھائی کے رشتے کیلئے ہاں کردو، ہم تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں، وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے، بھائی کے رشتے کیلئے ہاں کردو، تمہیں ہماری دوستی کی قسم، وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے)
‘لالی ارمان سے محبت کرتی ہے لالی نے مجھے کچھ کیوں نہیں بتایا اسکو ارمان چائیے تھا اسلئے اس نے میرا رشتہ اپنے بھائی سے کروادیا’ فصیحہ کے ہونٹ ہلے تھے اس نے خالی نظروں سے لالی کی طرف دیکھا جس کے چہرے کی خوشی نے اسکی سوچ کو سچ ثابت کیا
‘تو یہ ہے تمہاری سچائی لالہ رخ تم پہلے ایسی نہیں تھیں تم تم واقعی اسکی محبت میں اپنی دوست کو ہرانے چلی تھیں کیا کر رہی ہو تم لالی لیکن شاید اس میں تمہاری کوئی غلطی ہی نہ ہو مجھے تو یہ ارمان جھوٹا لگتا ہے اسنے تمہیں اپنی محبت میں پھنسایا ہوگا نہ’ فصیحہ کی سمجھ سے باہر تھا کہ ہو کیا رہا ہے وہ وہیں سے واپس پلٹ گئی لیکن وہ لالی کے ہاتھ میں اپنی دی ہوئی رِنگ نہیں دیکھ سکی
‘لالہ رخ آج تم سے بات کرکے واقعی دل ہلکا ہوگیا ورنہ کب سے سوچ رہا تھا کہ کیسے کہوں گا دراصل تجربہ جو نہیں ہے ہاہاہا’ (نہیں ایک تجربہ ہے بلکہ اب دو ہوگئے)
(تو تجربے کہو نہ)
‘جی سر اماں ہم جائیں گے کلاس کا وقت ہوگیا ہے’ (اففف اسکو تو ایک نہیں بلکہ بہت سارے کؤے کاٹیں گے جھوٹا کہیں کا)
(تمہیں تو کؤوں کی ٹولی کاٹے گی لیکن پہلے اپنی دوست کو تو سنبھال لو) جنید نے ایک لمبی سانس خارج کی نا جانے کتنا لمبا چلنا تھا یہ کھیل لیکن لالہ رخ اب شاید اس کھیل کو اختتام پر لانے کا سوچ رہی تھی یہ جانے بغیر کہ اس اختتام کے بعد قسمت کے کھیل کا آغاز ہوگا
💜💜

‘لالی کیسی ہو’ فصیحہ کی کال تھی
‘ہم بلکل ٹھیک ہیں تم بتاؤ آج دو لیکچرز لینے کے بعد تم گھر چلی گئیں تھیں کیوں’
‘ہاں وہ بس طبیعت تھوڑی ڈم لگی تھی’
‘اچھا اب کیسی ہے طبیعت’
‘ہاں میں اب ٹھیک ہوں اور لالی مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے’ فصیحہ نے کال کی وجہ بیان کی
‘ہاں پوچھو’ لالی کی مصروف سی آواز گونجی
‘تم آج کل کچھ چھپا رہی ہو کیا مجھ سے اگر ایسی کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ’ فصیحہ کو لگا وہ سب سچ بتادے گی لیکن وہ یہ کیوں بھول رہی تھی کہ سامنے لالی ہے اپنے آپ میں بند رہنے والی اپنے اوپر خول در خول چڑھائی ہوئی آج تک کوئی لالی کے بارے میں کچھ نہیں جان پایا تھا وہ ایک بند کتاب تھی
‘چھاپانے کی وجہ ہونی چاہیے جو فلوقت ہمارے پاس نہیں ہے اور نہ ہی چھپانے کیلئے کچھ ہے اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ ہم تم سے کچھ چھپا رہے ہیں تو غلط بھی نہیں لگتا سب سبھی سے کچھ کچھ چھپاتے ہیں جیسے تم کچھ چھپا رہی ہو ہم سے’ لالی نے اسکا جھوٹ پکڑ لیا تھا
‘نہیں میں کچھ نہیں چھپا رہی اور تم بات مت بدلو’ فصیحہ کا لہجہ قائل کرنے والا تھا لیکن سامنے
‘خیر چھوڑو جو چھپا ہے اسے چھپا ہی رہنے دو ابھی تو چھپن چھپائی کا کھیل شروع ہوا ہے’ لالی نے اسے اپنی بات کچھ ڈھکے چھپے لفظوں میں بیان کردی تھی لیکن وہ سمجھتی تب نہ ‘اور ہاں ایک بات بتاؤ تمہارے نکاح کا ڈریس ہم فائنل کریں یا تم اور دانیال بھائی جاکر کرو گے بلکہ ہم تو کہتے ہیں تم دونوں خود ہی چلے جانا بھائی کیلئے بھی کوئی اچھا سا کرتا شلوار لے لینا اچھا امی بلا رہی ہیں اللہ حافظ’ فصیحہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن لالی نے فون بند کردیا تھا
‘تمہیں کیا لگتا ہے ہم اتنے پاگل ہیں کہ یونی میں اپنے پیچھے تمہیں نہیں دیکھ پائیں گے ہم نے تو ارمان کی آنکھوں میں دیکھ کر ہی پتا لگا لیا تھا کہ پیچھے کوئی ہے اور پھر تمہیں ہم پہچان نہ پائیں ایسا کبھی ہوا ہے لیکن فصیحہ جو ہوا برا ہوا کیونکہ تم پھر بدگمان ہوئیں’ لالہ رخ پر سوچ سی سامنے دیکھ رہی تھی پھر آزان کی آواز آئی سر پر دوپٹہ لیا اور وضو کرنے چلی گئی
💜💜

‘دانیال بھائی آگئے’ لالی نے کچن میں جھانکتے ہوئے شبانہ بیگم سے پوچھا
‘ہاں آگیا ہے کمرے میں ہے اپنے ویسے آج کل تو اسکی چھاپ ہی نرالی ہے’ شبانہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا
‘ہائے امی مجنو کو لیلی مل گئی ہے اور کیا چاہئے ہوگا’ وہ شرارت سے کہتی ہوئی دانیال کے کمرے کی طرف بھاگی
‘بھائی ہم آجائیں کیا’ اسنے دروازے سے سر نکال کر پوچھا
‘تم نے کب سے پوچھ کر آنا شروع کردیا ہے’ اس نے فائل سے سر نکال کر کہا اور پھر فائل بند کی
‘دل کررہا تھا کہ تمیز سے جا کر دیکھتے ہیں کہ کیسا لگتا ہے لیکن بلکل بھی اچھا نہیں لگا فیلینگ ہی نہیں آئی’ لالی نے منہ بسورا اور دانیال کے پاس آکر بیٹھ گئی
‘تو میری گڑیا دروازہ بجانے کی ضرورت ہی کیا ہے دل کرے تو توڑ دیا کرو’ دانیال نے اسے سینے سے لگایا وہ اپنی بہنوں کے معاملے میں ایسا ہی تھا ٹچی ٹچی سا
‘وہ آپ کو کچھ امپورٹنٹ بات بتانی ہے فصیحہ کے بارے میں’ وہ سنجیدہ ہوئی
‘ہاں ہاں بتاؤ’ دانیال کا چہرہ تو آج کل رنگ برنگا ہوگیا تھا فصیحہ سے نکاح کا سن کر
لالی نے دانیال کو سب کچھ بتایا ارمان کے بارے میں اور فصیحہ کے جزبات کے بارے میں بھی لیکن کچھ باتیں اسنے اپنے علاؤہ کسی کو نہیں بتائی تھیں
دانیال کو دکھ ہوا تھا فصیحہ کا سن کر وہ کوئی ٹیپیکل مرد نہیں تھا وہ تو محبت جیسے پاک جزبے کی قدر کرتا تھا شبانہ بیگم اور زمان شاہ نے اپنے بچوں کو آج میں جینا سکھایا تھا جس میں لالی پیش پیش تھی
‘بس بھائی آپ نے اس کے دل سے اس ارمان کی محبت کو نکال باہر کرنا ہے اور اسکے دل میں اپنی محبت کے جذبات پیدا کرنے ہیں اور ہاں اس سب میں آپکو بے تحاشہ صبر کرنا ہے باقی آپ اور فصیحہ بہتر جانتے ہیں ویسے…… خوش کا تو ہم آپ سے بلکل نہیں پوچھیں گے کیونکہ خوشی تو آپکے چہرے سے جھلک رہی ہو اوہو شرما رہا ہے لڑکا ہمارا ہاہاہاہا’ دانیال جو فصیحہ کی بات غور سے سن رہا تھا اور دل میں پختہ ارادہ کررہا تھا فصیحہ کو منانے کیلئے اسکی آخری بات پر بے ساختہ مسکرایا اور تھوڑا سا شرمایا بھی
💜💜

جنید رابی کے گھر میں موجود تھا اسکے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اسکی آواز نے اسکے قدم جکڑے
‘میں کھیل کھیلنا جانتی ہوں اور کھلاڑی کسے کہتے ہیں اسکی ڈیفینیشن پر اگر کوئی ہمارا عکس کھڑا کردے تو سمجھ جانا اس نے دنیا کی بہترین اگزیمپل دی ہے’ وہ شاید کسی سے بات کررہی تھی تبھی جنید کے بھاری بوٹوں کی آواز نہیں سن سکی
‘ارے اب تم جنید کو ہی لے لو اسے بیوقوف بنانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے لیکن جہاں میں ہوں وہاں پر کچھ مشکل نہیں ہوتا’ وہ کچھ زیادہ ہی خوش فہم تھی
جنید اپنا نام سن کر روکا کیونکہ وہ اسے بیوقوف کہہ رہی تھی
‘یو نو نہ لالہ رخ ہماری یونی کی دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز اس نے روہن کو مارا تھا بے چارہ روتے ہوئے میرے پاس آیا تھا کہ تم اس سے بدلہ لو میں نے بات ٹال دی تھی لیکن جب اس نے میری انسلٹ کی تو میرا تو خون خول گیا تھا بس پھر جنید کے سامنے ڈرامہ رچایا اور وہ مان بھی گیا اب دیکھنا لالہ رخ……’ وہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی لیکن جنید خاموشی سے واپس چلا گیا تھا
💜💜

‘امی اگر ہم کسی کا دل دکھائیں یا کسی کو دھوکا دیں تو کیا معافی مل سکتی ہے کیا اللہ ہمیں معاف کر دیتا ہے’ جنید اپنی امی کی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا
‘وہ خدا تو بہت رحیم ہے بیٹا اپنے بندے کی اتنی سی پکار پر ہی اسکی بات سننے چلا آتا ہے وہ کہتا ہے تم میرے پاس آؤ چل کر آرہے ہو تو میں بھاگ کر آتا ہوں تم تھوڑا مانگ رہے ہو وہ جھولیاں بھر کر دیتا ہے لیکن بس اسے ایک چیز نہیں پسند اسے کہ کوئی اسکے بندوں کا دل دکھائے اور پھر ہم تو مسلمان ہوکر مسلمان کا دل دکھاتے ہیں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ یہ سب کل کو ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے’ فوزیہ بیگم (جنید کی امی) نے کہا
‘امی میں نے بھی کسی کا دل دکھایا ہے وہ واقعی معصوم ہے لیکن میں نے اسکو دھوکا دیا امی اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا’ جنید اپنی امی کے سامنے بلکل بچہ بن جاتا تھا
‘تو بیٹا اس سے معافی مانگ لو اگر اس بندۂ بشر نے معاف کردیا تو وہ خدا تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے کیسے نہیں معاف کرے گاا میرے بیٹے کو جاؤ اٹھو اور جاکر اپنے رب سے معافی مانگو نماز ادا کرو’ فوزیہ بیگم نے اسے اٹھایا آج کل ویسے ہی انکے دل میں ڈر بیٹھتا جارہا تھا اپنے بیٹے کیلئے وہ کہیں جاتا تو گھنٹوں بیٹھ کر اسکی راہ تکتی تھیں
💜💜

جنید نے نماز ادا کی تو اسکو لگا جیسے دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر گئی ہو دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور پہلے درودشریف پڑھا
‘آج میں معافی مانگنے آیا ہوں آپ سے میں جو ہر نماز کے بعد آپ سے کچھ مانگنے آتا تھا آج آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرے گی تب تک آپ بھی مجھے معاف نہیں کریں گے ایک موقع دے دیں مجھے اپنی غلطی سدھارنے کا تجھے تیرے رسول کا واسطہ تو تو ناراض نہ ہوں نہ اپنی رحمتوں کے در ہمیشہ کھلے رکھنا میرے گھر پر ہمیشہ میرے بعد بھی مجھ سے منہ مت پھیرنا اور میری ماں کا ہمیشہ خیال رکھنا میرے بعد بھی’ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا کچھ تو غلط تھا جس کی گواہی اسکو اسکا دل دیتا تھا لیکن کیا اور آخری بات اسکی زبان سے خود بہ خود نکلی تھی
نماز پڑھنے کے بعد وہ کچھ ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا سکون ملا تھا
💜💜

‘فصیحہ کیا مصلہ ہے کیوں منہ پھیر کر بیٹھ گئی ہو ایسا بھی کیا کردیا ہم نے اور اگر یہ تمہارے ڈرامے ہیں تو پلز انہیں بند کردو ہم سخت جھنجھلا گئے ہیں ہم سے نہیں برداشت تمہاری ناراضگی’ لالی اسکے آگے ہاتھ پیر جوڑ رہی تھی
‘میں نہیں ہوں ناراض تم سے بس مجھے اکیلا چھوڑدو’ فصیحہ نے کتابوں میں منہ دیا
‘اف بند کرو یہ نیوٹن کی بہن نہ ہو تو ویسے تو پڑھنے کا دل نہیں کرتا لیکن اب ہم سامنے ہیں تو ساری پڑھائی یاد آگئی’ وہ چیخی تو پیچھے گروپ میں بیٹھی ہوئی لڑکیاں جنہوں نے لالی کے بارے میں سنا ہوا تھا اٹھ کر اسکی طرف آئیں
‘تمہیں بولنے کی تمیز نہیں ہے کیا شکل سے تو مڈل کلاس گھرانے کی لگتی ہو اٹ لیسٹ حرکتیں تو مڈل کلاس نہ کرو’ ایک ہائی کلاس کی لڑکی نے اپنا سٹیٹس کا روعب جھاڑا
لالی کو تو خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا لیکن فصیحہ اسکو لگا جیسے کسی نے اسکی بے عزتی کی ہو
‘کیوں تمہیں کوئی مصلہ ہے مرضی ہماری جیسے بھی بولیں یوز لیس پلاسٹک’ فصیحہ نے لٹھ مار انداز میں اسکی بے عزتی کی
‘تمہیں کسی نے بولنا نہیں سکھایا کیا اوہ ہاں اب ماں باپ بھی تو جاہل ہوں گے کیسے تم لوگوں کو کچھ سکھاتے اور کچھ سیکھنے کیلئے بھی تم لوگوں کو تھرڈ کلاس اسکول میں ڈالا ہوگا ہاہاہا’ اسکی بات پر ساری گرلز نے قہقہ لگایا لالی کو غصہ تو بہت چڑھا لیکن وہ جان گئی تھی کہ وہ لوگ اسکی ویڈیو بنا رہے ہیں ورنہ کون مکھیوں کے چھتے میں گھسنے کی غلطی کرے گا
فصیحہ جو اپنی آستین اوپر چڑھا رہی تھی انکو مارنے کیلئے کیونکہ اسکو لگا لالی انکو دھونے والی ہے لیکن جب لالی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا تو اس نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا لالی نے اسکو موبائل کی طرف متوجہ کروایا جو سامنے والی لڑکی کے ہاتھ میں تھا، موبائل دیکھ کر فصیحہ کے ہونٹ گول ہوئے ‘اوہ’ تو لالی نے فصیحہ کو آنکھ ماری
‘ہمارے ماں باپ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے لیکن سب سے زیادہ صحیح کے ساتھ صحیح اور غلط کے ساتھ بھی صحیح کرنا سکھایا ہے’ لالی نے بول کر انکی طرف دیکھا پھر بولی ‘سمجھے’
‘نہیں’ ان میں سے ایک بولی
‘کوئی بات نہیں’ بولتے کے ساتھ لالی نے اس لڑکی کے پیر پر پیر مارا جو وڈیو بنا رہی تھی موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹا نازک موبائل تھا گرتے کے ساتھ ہی کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
‘اوہ انا للّٰہ ہی وانا الیہ راجعون افسوس ہوا باجی اب جانے والے کو کون روک سکتا ہے’ فصیحہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر افسوس سے کہا
‘یو گوار باجی کسے کہہ رہی ہو’ اسنے فصیحہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن ایک بار پھر افسوس ہاتھ لالی کے ہاتھ میں آگیا اور لالی نے ایک جھٹکے سے ہاتھ مروڑ کر اسکی کمر پر لگایا آس پاس کافی اسٹوڈنٹس جمع ہوگئے تھے
‘اگلی بار ہماری دوست کو کچھ کہا نہ تو اچھا نہیں ہوگا’ وہ اسکے کان میں پھنکاری اسی کے گروپ کی لڑکی لالی کی طرف بڑھی تو فصیحہ جو پانی پی رہی تھی اس لڑکی پر اس نے کلّی کردی تو سب نے قہقہ لگایا
‘اوپس سوری سوری دکھا ہی نہیں’ فصیحہ نے دنیا جہاں کی معصومیت اپنے لہجے میں سموئی لالی نے بھی اسکا ہاتھ جھٹکا فصیحہ ابھی ہنس ہی رہی تھی کہ سامنے سے آتا ہوا ارمان دکھا

جاری ہے…………