Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 20
از قلم انعم رئیس

راستہ نہ جانے کیوں لمبا ہوگیا تھا لالی سوچتے سوچتے سوگئی تھی صبح سے لڑ لڑ کر جواب دے دے کر تھک گئی تھی سر میں بے تحاشہ درد تھا وہ قسمت کے جال میں پھنسی تھی اس بار ابھی تو اسے بہت لڑنا تھا
میر نے ایک نظر اسکے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی اور گہرا سا مسکرا کر یوٹرن لیا اب گاڑی پولیس اسٹیشن کے راستے پر گامزن تھی
اس وقت پولیس اسٹیشن میں ڈیوٹیز چینج ہوچکی تھیں اور اب دوسرے آفیسرز آگئے تھے جیسے ہی سب کو میر کے آنے کی اطلاع ملی سب کے سب الرٹ ہوگئے تھے
میر کی گاڑی پولیس اسٹیشن کے باہر روکی اپنی گاڑی سے اترا پھر لالی کی طرف آیا اسکا بیگ کندھے پر لٹکایا اور لالی کو بازؤوں میں اٹھاکر پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا
‘سر’ سب نے اسے دیکھ کر سیلیوٹ کیا میر کے بازوؤں میں ایک لڑکی کو دیکھ کر سب لوگ حیران ہوئے تھے لیکن کسی میں پوچھنے کی ہمت نہیں تھی
میر روکا اور چار لیڈیز کونسٹیبلز اور اسپیکٹر ابراہیم کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا وہ سب اسکے پیچھے چل دیے
میر لالی کو لے کر ٹارچر سیل کی طرف بڑھا تھا دروازے کے سامنے روکا تو اسپیکٹر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا میر نے آگے بڑھ کر لالی کو ایک کرسی پر بٹھایا
‘اسکے ہاتھ پاؤں باندھو منہ پر بھی ٹیپ لگاؤ’ میر نے حکم جاری کیا
‘پر سر اسکی کیا ضرورت ہے لڑکی ہے صفتِ نازک ہمارا کیا بگاڑے گی’ ابراہیم کو وہ لڑکی معصوم لگی تھی سوئی سوئی سی بلکل گڑیا لگ رہی تھی
‘ابھی سو رہی ہے جب اٹھے گی تب خود دیکھ لینا’ میر نے اسکی بات کو ہوا میں اڑایا
‘اور آپ دونوں’ میر نے دو لیڈیز کونسٹیبلز کی طرف اشارہ کیا ‘یہ کوئی معصوم لڑکی نہیں ہے قتل کیا ہے اس نے اس لئے کڑی سے کڑی نظر رکھی جائے اس پر جسم ریمانڈ بھی کرنا پڑے تو اجازت ہے اس حد تک ٹارچر کرو کہ اپنا جرم قبول کرلے اور آپ دونوں باہر رات بھر اسکی نگرانی کریں گی ابھی اسے سونے ہی دیں’ میر نے دوسری دو لیڈیز کونسٹیبلز کو بھی آرڈر دیا اور باہر نکل گیا پیچھے ابراہیم بھی تھا
‘سر کس کا قتل کیا ہے انہوں نے’ ابراہیم نے میر کو دیکھ کر پوچھا
‘اُسکا قتل کیا ہے جو میرے لئے سب سے زیادہ خاص تھا’ میر کی آنکھوں میں دکھ تھا
‘مطلب کسی لڑکی کا کیا ہے’ ابراہیم نے پرسوچ انداز میں کہا
باہر کھڑی ایک کونسٹیبل کی ہنسی نکل گئی مطلب میر اور ایک لڑکی امپوسیبل
میر نے دونوں کو خونخوار نظروں سے گھورا ابراہیم گڑبڑا گیا
‘وہ نن…نہیں سر مم…مطلب اااچھا ٹھیک ہے نہیں پوچھوں گا’ وہ میر کے غصے سے ڈر گیا تھا کہیں ایک آت لگا ہی نہ دے
میر لالی کو وہاں چھوڑ کر اب اپنے فلیٹ چلا گیا

💜💜

پری اپنے کمرے میں بیٹھی لالی کو یاد کرررہی تھی اسے دو ہفتے پہلے کی وہ کال یاد آئی جو لالی کے پاس آئی تھی رات کے وقت وہ لالی کے کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی جب کال کی آواز آئی لالی نے کسی کا نام لیا تھا وہ کچھ ارمان ملک کہہ رہی تھی پھر نہ جانے کیا ہوا اتھا کہ وہ دوڑتی ہوئی باہر نکلی تھی اسکے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں پری اسکے پیچھے گئی لیکن جب تک وہ نکل چکی تھی
پھر رات کے ایک بجے کوئی گھر میں داخل بھی ہوا تھا پری جگی ہوئی تھی لالی کے انتظار میں لیکن کسی انجان لڑکی کا گھر میں گھسنا اسکو ٹھٹکا تھا لیکن اسکے ساتھ لالی بھی تھی وہ دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی اسلئے رابی کو دکھی نہیں تھی
وہ دیکھنا چاہتی تھی پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا ہوا ہے اور یہ لڑکی کون ہے پری کو نہ جانے کیوں لگ رہا تھا کہ اس نے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے وہ اس سے پہلے کچھ پوچھتی پری کی نظر اسکے جوتوں پر پڑی جس میں ایک اسمول سائز گن تھی 9mm بلٹ والی وہ ڈر گئی تھی اسلئے خاموش کھڑی رہی ایک طرف لالی کی فکر کھائی جارہی تھی اور دوسری طرف ڈر تھا وہ لالی نہیں تھی پری تھی ایک سیدھی سی لڑکی جہاں ہلکی سی فائز کی آواز آتی اسکا ننھا سا دل کانپ جاتا اور یہاں تو گن تھی
پری کو اب یاد آیا کہ وہ لڑکی وہی تھی جس سے لالی کی لڑائی ہوئی تھی
‘لالی تم میری ہی بہن ہو امی غصّے میں کچھ بھی بول دیتی ہیں اور تمہیں پتا ہے بھائی وہاں سے واپس آکر بہت روئے تھے میں نے دیکھا تھا انہیں روتے ہوئے اور تمہیں پتا ہے جس سے تمہارا نکاح کیا ہے بھائی انہیں جانتے ہیں تبھی انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بہت اچھے ہیں’ پری لالی کی تصویر سے باتیں کررہی تھی
‘لالی امّی جب سے وہاں سے آئی ہیں کمرے سے نہیں نکلیں بابا بھی گھر نہیں لوٹے ابھی تک آفس میں ہیں تمہیں پتا ہے اگر انہوں نے تم سے اپنی سرپرستی واپس لی ہے تو تمہیں اسکے بدلے ایک محافظ تو دیا ہے مجھے امی نے سب بتا دیا ہے میں انتظار کروں گی کہ کب آؤ گی تم واپس یہاں’
پریشے کو آج پتا چلا تھا کہ وہ اسکی بہن نہیں ہے اسکے تو ماں باپ بھی نہیں تھے اور تو اور اس کو یہ بات بچپن سے معلوم تھی لیکن نہ شبانہ بیگم اور زمان صاحب نے اسے کوئی کمی ہونے دی تھی اور نہ ہی لالی نے کبھی کوئی شکوہ کیا تھا
💜💜

‘بس بہو ابھی آئی نہیں ہے بیٹے کو پہلے بھوک جائیں آپ’ علی نے خفگی سے انہیں دیکھا
‘بیٹا میں پہلے ہی کہہ رہی ہوں ایک دفعہ میری بہو آگئی نہ میں تمہاری طرف تو دیکھوں گی بھی نہیں’ نجمہ بیگم نے علی پہلے سے ہی باور کروایا
‘تبھی میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا’ علی تو اب باقاعدہ منہ پھلا کر بیٹھ گیا تھا
‘اچھا بات مت بدلو تم جعلی ڈاکٹر…’ وہ کہہ رہی تھیں کہ علی نے بات کاٹی
‘واٹ میں جعلی ڈاکٹر’ علی کو اپنی ڈگری یاد گئی تھی کیسے اسنے دن رات محنت کرکے حاصل کی تھی
‘ہاں تم زرا اپنا کھانا پینا بند کرو ورنہ میں کچن میں تالے لگوادوں گی’ نجمہ بیگم نے اسے گھرکا
‘یار جتنا کھاتا ہوں اس سے زیادہ تو کما لیتا ہوں پھر بھی’ علی نے صدمے سے انہیں دیکھا
‘احسان کرتے ہو ہم پر’
‘نہیں’
‘تو اس بکواس کا مطلب’ انہوں نے آئیبرو اچکا کر پوچھا
‘لڑکیوں سے جتنا امپوسیبل ہوتا ہے آج میں مان گیا’ علی نے سر کو خم دے کر کہا
‘اچھا ہے مستقبل کے لیے بہتر رہے گا’ انہوں نے آنکھ دبا کر کہا
پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وہ چلی گئیں تھیں علی کے بھی سر میں درد تھا اسلئے دوائی کی اور سو گیا
💜💜

صبح کے دس بج رہے تھے لالی ابھی تک سو رہی تھی میر اسکے بلکل سامنے بیٹھا تھا بیچ میں ایک ٹیبل رکھی تھی سورج کی روشنی کا رخ میر کے چہرے کی طرف تھا اسکی آنکھیں چمک رہی تھیں میر نے ایک کونسٹیبل کو اشارہ کیا تو اسنے ایک گلاس بھر کر اسکے منہ پر ڈالا
ڈیوٹیز چینج ہوگئیں تھیں پھر سے وہی سارا پرانا اسٹاف تھا اس بار میر کے پیچھے حارث کھڑا تھا
لالی کی آنکھ منہ پر پانی پڑنے کی وجہ سے کھلی تھی ہلکی ہلکی آنکھیں کھولنی چاہیں لیکن سامنے کچھ چیز بہت چمک رہی تھی اسنے صحیح سے دیکھنا چاہا لیکن ساری رات ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے گردن اکڑ گئی تھی درد کی ایک ٹیس اٹھی تھی
میر اسکی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا تھا سمجھ گیا تھا اسکی گردن اکڑ گئی ہے لیکن پھر بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا
لالی نے اپنی آنکھوں کو کس کے میچ کر کھولا تو سامنے میر تھا نظریں اٹھاکر ادھر ادھر دیکھنا چاہا لیکن درد بے تحاشہ تھا
گردن کو پہلے نیچے کیا پھر دائیں طرف موڑا اسکے بعد جھٹکے سے بائیں طرف موڑا ایک ٹک سی آواز آئی اور گردن سیدھی ہوئی پھر گردن کو دائیں بائیں کیا تو گردن کا درد ختم ہوگیا تھا
میر کے ہونٹ کے کونے میں ہلکی سی مسکراہٹ ابھری حارث اور کونسٹیبل نے حیرت سے لالی کو دیکھا اسکو درد نہیں ہوتا کیا
اب لالی نے آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا تو میر کے پیچھے حارث تھا اور اسکے برابر میں وہی لیڈی کونسٹیبل ماریہ کھڑی تھی لالی ان دونوں کو دیکھ کر مسکرائی ہاتھ اٹھانا چاہا لیکن ہاتھ تو بندھے ہوئے تھے اس نے حیرت سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا
‘ہمارے ہاتھ کیوں باندھے ہیں اور ہم کہاں ہیں’ آواز میں ہلکا سا خمار تھا
‘پولیس اسٹیشن میں’ میر کی آواز گونجی
‘آپ پولیس اسٹیشن میں رہتے ہیں’ لالی کی حیرت کی وجہ سے نیند اور ساری خماری اڑن چھو ہوئی
‘نہیں لیکن اب تم یہیں رہو گی
You are under arrested’
میر کی بات پر لالی کی آنکھیں حیرت سے کھلیں
‘کیا بکواس ہے یہ کس خوشی میں ہمیں گرفتار کیا ہے’ لالی غررائی
‘مس لالہ رخ اپنی آواز کو زرا ہلکا رکھو نہیں تو تمہاری سزا میں اضافہ ہوسکتا ہے’ میر پھنکارا
‘کونسی سزا میر گیلانی ہم نے جب کوئی قتل کیا ہی نہیں تو کیسی سزا اور کونسی قید’ لالی چیخی
‘وہی قید اور وہی سزا جو تم نے قبول کیا ہے’ میر دھاڑا
‘تو تم نے بھی زبردستی ہم سے قبول کروایا تھا تمہیں کیا لگتا ہے ہم پاگل ہیں یا بیوقوف ہیں جو تمہاری چالوں کو سمجھ نہیں پائیں گے’ لالی کی بات پر میر کا دماغ گھوما اس نے حارث اور ماریہ کو باہر بھیجا اور ایک جھٹکے سے اپنے اور اسکے درمیان رکھی ہوئی ٹیبل کو پٹخا
‘واہ ڈرانا چاہتے ہو ہمیں تو یاد رکھو ہم لالہ رخ ہیں بندھے ہاتھوں سے بھی سامنے والے کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں’ وہ استہزائیہ ہنسی بس میر کا ضبط یہیں تک تھا ایک ہاتھ اٹھا اور لالہ رخ کا منہ بند ہوا
ٹارچر سیل میں ایک آواز گونجی
‘چٹاخ’
تھپڑ شدید تھا میر کا ہاتھ کانپ گیا تھا لالہ رخ کی آنکھ سے ایک آنسو گرا ہونٹ پھٹ گیا تھا لیکن وہ بھی کہاں چپ ہونے والی تھی
‘شرم نہیں آتی تمہیں اپنی مردانگی دکھاتے ہوئے لگتا ہے تمہاری ماں نہیں ہے تبھی تمہیں عورتوں کی عزت کرنا نہیں آتی’ لالی جانتی تھی اسکی ماں نہیں ہے علی نے بتایا تھا اسے
‘خاموش’ وہ دھاڑا ‘اپنی اس غلیظ زبان سے میری ماں کا نام لیا تو تمہاری زبان کھینچ لوں گا’ غصّے کی وجہ سے دماغ کی رگیں واضح ہوئیں تھیں
لالی مسکرائی
‘رائٹ مسٹر ایس ایس پی جس طرح تمہیں دکھ ہوا نہ اس طرح ہمیں بھی دکھ ہوا تھا جب تم نے ہماری ماں کو غلط کہا تھا ہمارے نزدیک ہماری ماں نے صحیح کیا محبت کی تھی انہوں نے ایک پاک رشتہ بنایا تھا ڈیڈ سے تو کیسے ہم گندا خون ہوئے’ اس کی آواز میں اب نرمی تھی اسکی بات سے میر کو اپنے سخت لفظوں کا احساس ہوا تھا لیکن معافی تو اس نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں مانگی تھی
وہ ابھی اسکو اور کچھ کہتا کہ حارث بھاگتا ہوا اندر آیا وہ جس طرح بھاگ رہا تھا لالی اسکو دیکھ کر گہرا سا مسکرائی تھی
‘سر’ حارث نے اسے اپنی طرف متوجہ کروایا ‘سر یہ دیکھیں’ حارث نے موبائل پر کوئی وڈیو لگائی ہوئی تھی جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی میر کے سر پر بمب پھٹ رہے تھے اس نے ایک نظر لالی کو دیکھا جو اپنی اطمینان سے مسکرارہی تھی
❤️

لالی جو کل رات اکیلے نکلی تھی دراصل وہ تو میر کی عزت خاک میں ملانے نکلی تھی اسنے اس پر الزام لگایا تھا تو اب باری اسکی تھی
اپنے اسکارف سے پہلے نقاب کیا اسکے بعد موبائل نکالا اور وڈیو سٹارٹ کی اور رونے کا بہترین ڈرامہ کیا
“ہم آپ سب کو آج ایس ایس پی میر کے بارے میں کچھ سچ بتانا چاہتے ہیں میر گیلانی نے ہم سے زبردستی نکاح کیا ہے ہمارے ماں باپ کو دھمکایا اس نے اور اور وہ ہر لڑکی کو اسی طرح بدنام کرتا ہے پولیس کی وردی تو صرف ایک ڈھونگ ہے اسکے پیچھے اسکا ایک غلیظ چہرہ چھپا ہے میں نے دیکھا ہے وہ ہمیں روز مارتا ہے آج ہم آپ لوگوں سے مدد مانگنے آئے ہیں ورنہ کیا پتا وہ یہ وڈیو دیکھ کر ہی ہمیں جان سے ماردے ہم اپنا نکاح نامہ آپ سب لوگوں کو دکھائیں گے” کچھ ہی دیر میں وڈیو کے ساتھ نکاح نامے کی تصویر بھی اپلوڈ کردی تھی سوشل میڈیا پر نکاح نامے کی تصویر لالی نے علی سے لے لی تھی

لالہ رخ نے اسی روڈ پر ایک زوردار قہقہہ لگایا تھا اور بولی
“اب یہ تو اب یہی سہی ہاہاہا سرپرائز ایس ایس پی میر گیلانی”
❤️
‘کیا بکواس ہے یہ’ میر لالی کے سامنے کھڑا تھا
‘ہم کیا بولیں ڈارلنگ یہ سب سچ ہی تو ہے’ لالی نے اسکی بات اسی کو لوٹائی
‘تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی’ میر دھاڑا
‘ہمت کی بات تو کرنا مت ہم کوئی عام لڑکی نہیں ہیں اگر تم بکواس کرسکتے ہو تو ہم بھی کرسکتے ہیں’ لالی نے اسے جتایا
‘ماریہ’ میر چیخا
‘سر’ ماریہ بھاگتی ہوئی اندر آئی
‘دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس اسکو اتنا مارو کے اسے پتا چلے کہ اسنے کس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے’ وہ کہتا ہوا باہر نکلا کیونکہ اب میڈیا آنا شروع ہوگیا تھا ڈی ایس پی اور کمیشنر صاحب بھی آگئے تھے
‘اوہ جسم ریمانڈ’ لالی بڑبڑائی اطمینان میں زرا بھی فرق نہیں آیا تھا
💜💜

بی جان اور باقی سب نیوز چینل کے سامنے بیٹھے تھے ناقابلِ یقین تھی یہ باتیں پہلی تو یہ میر نے شادی کرلی دوسرا ایک لڑکی پر بےجا تشدد اور تیسرا اسکی وردی پر الزام
سب خاموش بیٹھے میر کو دیکھ رہے تھے جس کے بائیں جانب علی کھڑا تھا اور دائیں جانب حارث
‘سر کیا یہ سب سچ ہے’ ایک رپورٹر نے سوال کیا
‘دیکھیں مس میں اس لڑکی کو نہیں جانتا اور یہ جو کوئی بھی ہے یقیناً یہ کوئی مجرم ہے یا میرا کوئی دشمن ہے جو میری وردی کے پیچھے پڑا ہے’ میر نے تحمل سے بات مکمل کی ورنہ جتنے غصّے میں وہ تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لالہ رخ کو آگ لگا دیتا
‘سر لیکن کوئی لڑکی اپنی عزت پر بات کیوں آنے دے گی’ ایک اور سوال
‘دیکھیں ایسی لڑکیوں کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی انہیں صرف پیسوں کا لالچ ہوتا ہے’ میر نے ایک دفعہ پھر صبر کا مظاہرہ کیا
‘سر لیکن اس نے نکاح نامے کی تصویر بھی شائع کی ہے اسکے بارے میں آپکا کیا خیال ہے’ ایک اور سوال
‘غیر قانونی کام میں ایسے لوگ ایکسپرٹ ہوتے ہیں اور ویسے ابھی تک میں نے اس نکاح نامے کی تصویر نہیں دیکھی’ میر نے آنجان بننے کی کوشش کی
‘سر کیا آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں’ ایک اور سوال
‘جی نہیں میں اس لڑکی کو نہیں جانتا’ میر نے سب کو دیکھ کر کہا
‘ہوسکتا ہے سر آپ جھوٹ بول رہے ہوں اور وہ لڑکی سچ کہہ رہی ہو’ جس نے بھی کہا تھا بڑا جگرے والا تھا میر کے سامنے ایسی بات علی تو بس سوچ کر رہ گیا
‘میں یہ بات بہت جلد کلئیر کردوں گا کہ یہ سب جھوٹ ہے’ میر کے غصّے میں تیز رفتاری آرہی تھی
‘لیکن سر اگر وہ لڑکی سچی نکلی تو’ ایک اور سوال
‘میں نے کہا نہ بہت جلد یہ معاملہ سورٹ آؤٹ ہوجائے گا اب برائے مہربانی ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں’ میر دھاڑا کب سے بکواس برداشت کررہا تھا وہ ان لوگوں کو اور یہ لوگ تھے کہ سر پر چڑھے جارہے تھے
❤️❤️

‘افف کتنی بار کہا ہے اسے اپنے غصّے پر کنٹرول رکھا کرے لیکن وہی گدھے کی ایک ٹانگ’ انصار صاحب بھی غصّے میں آگئے تھے
‘صحیح کیا اس نے ارے شیر ہے وہ ہمارا ایسا غلط کام نہیں کرے گا’ بی جان نے میر کی طرف داری کی
‘میر کی ریپوٹیشن خراب ہورہی ہے اس طرح’ فہیم صاحب نے تہمل سے بات کی
‘یہی تو میں کہہ رہا ہوں لیکن اس کو غصّے کے علاؤہ کچھ نہیں آتا گدھا کہیں کا’ انصار صاحب اب کسی کو فون ملانے لگے تھے
پیچھے بیٹھی ینگ پارٹی ہونکوں کی طرح ٹی وی دیکھ رہی تھے
‘سنسنی خیز خبر’ وجدان بولا
‘میر بھائی کی شادی’ ریان بولا
‘وہ بھی ایک لڑکی سے’ عمر بھی بولا
‘لڑکی پر تشدد’ حمدان بھی بولا
‘پولیس کی وردی بھی خطرے میں’ سفیان بھی آگے آیا
‘لڑکی کے ماں باپ کو بھی دھمکایا’ بہروز بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا
‘نکاح بھی زبردستی’ سحرش محترمہ بھی بولیں
‘وردی کے پیچھے چھپا غلیظ چہرہ’ رواحہ محترمہ بھی ہیں
‘جان سے جانے کا خطرہ وہ بھی میر بھائی سے’ فاطمہ تو ابھی تک حیران تھی
‘میر بھائی نے سارے غیر قانونی کام ایک ہی دن میں کر لیے’ فریہا کو تو بس اپنے بھائی کی فکر ہوگئی تھی
‘ویسے داد دینی پرے گی اس لڑکی کو کتنی ہمت والی ہے سیدھا سیدھا میر بھائی کی پہلی بیوی کو طلاق دینے نکلی ہے’ حمدان کی آنکھوں میں ستائش ابھری
‘ویسے کہیں یہ واقعی میر بھائی کی دوسری بیوی تو نہیں ہے سوکن والی حرکتیں اچھے سے انجام دے رہی ہے’ ریان نے پرسوچ انداز میں کہا
‘اسکا مطلب میر بھائی نے شادی کرلی ہئے’ بہروز کو تو دوری پڑگیا تھا
‘بی جاااان’ عمر چیخا بی جان اور فہیم صاحب کے ساتھ سب نے اسکی طرف دیکھا ‘بی جان دیکھ دیکھ آپکا بیٹا بگڑا جائے اوہو اوہو بی جان کا بیٹا بگڑا جائے’ عمر نے دو ڈھمکے لگائے
بی جان نے کھینچ کر اسے جوتی ماری جو اسکے سر پر لگی
‘ہمارے تو سارے ہی بچے بگڑے ہوئے ہیں تو کیا ہم بھی ڈھمکے لگائیں’ بی جان نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا
‘لے بیٹا ہوگئی تیری تو’ وجدان نے اسکے کان میں بولا عمر نے اسکو خون خوار نظروں سے گھورا تو سب کا قہقہ گونجا
💜💜

ماریہ کے ساتھ رات والی کونسٹیبلز بھی آگئیں تھیں
لالی کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی ہاتھ ابھی بھی بندھے تھے
‘کیسے مارا تھا جنید کو’ ایک نے اسکے بال جکڑے
‘پہلے گولی ماری تھی اسکے بعد آگ لگاکر مارا تھا’ لالی نے سچ بولا اندھیرے سے جھنجھلا رہی تھی وہ
‘کیسی بےغیرت ہو مارکر اقرار کررہی ہو’ ایک چیخی اور ساتھ ہی اسکو دو تھپڑ جڑے
‘اوہ ہیلو آنٹی ہم نے کسی کو نہیں مارا’ لالی چیخی تو ایک نہ اسکے منہ پر پنج مارا
(ابے یار یہ لوگ تو بلکل بچے کی طرح ماررہے ہیں ایسے کوئی مارتا ہے بھلا) لالی جھنجھلائی
‘یار تم لوگوں کو تو مارنا بھی نہیں آتا ایسے لیتے ہیں ریمانڈ’ لالی نے ان سے پوچھا
‘تجھے بڑا پتا ہے کیا پہلے بھی کسی کو مار کر بھاگی تھی’ ایک نے اسکا منہ جکڑا
‘دور ہٹو ایک منٹ’ وہ دونوں پیچھے ہٹیں ایک باہر نکل گئی تھی قدموں کی آواز سے پتا چلا تھا
لالی نے کرسی کو ہلکا سا ہلا کر ہاتھ آگے پیچھے کیے کہ رسیاں ڈھیلی پڑیں وہ مسکرائی
‘سنو پانی لانا’ اس نے ایک کو کہا تو وہ پانی لینے چل دی بس اتنی سی دیر میں اسنے اپنی رسیاں کھولیں اتنے میں دونوں کی دونوں لوٹیں ایک کے ہاتھ میں بیلٹ تھا اور دوسرے کے ہاتھ میں گلاس لالی نے پھرتی سے اپنی پٹی ہٹائی
تو دونوں الرٹ ہوئیں اور اسکی طرف بڑھیں
‘اب آؤ’ لالی نے قریب آنے کا اشارہ کیا
ایک نے اسکو پنچ مارنا چاہا لیکن لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور جھٹکا وہ چیخی حالانکہ اسکا ہاتھ نہیں ٹوٹا تھا لیکن درد ایسا تھا کہ آنکھوں سے آنسو آگئے
‘ہم نہ عورتوں اور بچوّں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ کمزور ہوتے ہیں’ لالی ایسے بولی جیسے خود وہ کوئی مرد ہو
وہ بول رہی تھی کہ ایک مکا اسکی ناک پر پڑھا نظر گھما کر دیکھا تو وہ دوسری لڑکی تھی جسکے ہاتھ میں بیلٹ تھا اس نے بیلٹ گھما کر اسکی ٹانگ پر مارا وہ لڑکھڑا گئی وہ ابھی سنبھلتی کہ اسنے اسے بیلٹ سے مارنا شروع کیا افف پولیس والی تھی اچھی خاصی ٹرینینگ تھی اسکی
لالی کی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہورہی تھیں وہ ایک بھی بار نہیں چیخی تھی اسکو یہ درد سہنا تھا لالی نے خود کو ہمت دلائی تھی
اسنے ایک اور دفعہ بیلٹ مارا لیکن لالی نے اس بار بیلٹ پکڑ لیا تھا اور کھینچا یہ سب اچانک تھا اسلئے وہ کونسٹیبل زمین پر گری لالی میں ہمت نہیں تھی اور برداشت کرنے کی اسنے اسکی ایک مخصوص رگ دبا کر بے ہوش کیا
دوسری کونسٹیبل اسکی طرف بڑھی لالی نے ساری ہمت جمع کی اور کھڑی ہوئی اسنے لالی کے منہ پر پھر سے ایک مکا مارا اب کی بار خون بہہ نکلا لالی نے انگوٹھے سے ناک صاف کی اور اسکی طرف انگوٹھا کیا
‘یہ کیا ہے؟’ لالی نے اسے ایسے گھورا وہ بیچاری گھبراگئ
‘وہ غلطی سے لگ گیا’ لالی اسکی طرف بڑھتی کہ باہر کی طرف میر کو بلانے کیلئے بھاگی
بھئی لڑکی پاگل تھی کچھ بھی کرسکتی تھی
لالی زمین پر بیٹھ گئی تھی ہاتھ بڑھا کر ٹیبل پر سے گلاس اٹھایا اور سارا کا سارا پانی ایک ہی سانس میں چڑھا گئی کمر میں بےتحاشہ درد ہورہا تھا
💜💜

‘سر وہ لڑکی سر’ ماریہ ہانپتی ہوئی میر کے پاس آئی
‘کون لڑکی’ میر بھول گیا تھا
‘سر وہ لالہ رخ…’ ماریہ بولتی کہ علی نے بات کاٹی
‘واٹ لالہ رخ یہاں ہے وہ یہاں کیا کررہی ہے’ اس کے سوالیہ نظروں سے میر کو دیکھا
‘سر پلز آپ چلیں’ اسنے میر سے کہا
‘چلو’ علی بھی انکے پیچھے گیا
❤️

میر تو ٹھٹھک گیا تھا اندر کی صورتحال دیکھ کر علی کے اوپر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے
ایک کونسٹیبل بے ہوش پڑی تھی اور لالی دیوار سے سر ٹکا کر آنکھیں موندیں بیٹھی تھی کپڑے جگہ جگہ سے پھٹنے ہوئے تھے
‘لالہ رخ’ علی بھاگتا ہوا اسکے پاس پہنچا
لالی نے آنکھیں کھولیں

جاری ہے…………