Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 22
از قلم انعم رئیس

صبح کے سات بج رہے تھے ان لوگوں کو بائے روڈ لاہور جانا تھا علی بھی پہنچنے والا تھا لیکن لالی محترمہ ابھی تک سو رہی تھیں میر نے پوری رات لاؤنج میں سو کر گزاری تھی
میر جانتا تھا وہ نہیں اٹھے گی اسے اٹھانا پڑے گا لیکن اسے عجیب لگ رہا تھا کہ وہ کیسے
میر نے پہلے تو ڈور نوک کیا ایک بار دو بار تین بار یہاں تک کہ اس نے لگاتار ڈور نوک کرنا شروع کردیا تھا لیکن وہ نہیں اٹھی پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو دیکھا وہ بیڈ کے بلکل بیچ میں کمفرٹر میں گھس کر سو رہی تھی اور ہاتھ پیر چلا رہی تھی بلکل بچے کی طرح شاید وہ خواب میں بھی لڑ رہی تھی
میر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکے پاس پہنچا ایک گھٹنا فولڈ کرکے بیڈ پر رکھا اور ہاتھ بڑھا کر اسکا کمفرٹر ہٹایا تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی
‘لالہ رخ’ میر نے پکارا
لالی جو خواب میں بہت سارے بلّی کے بچوں کے ساتھ بھاگ دوڑ کررہی تھی کبھی انہیں پکڑ رہی تھی کبھی انہیں پیار کررہی تھی اچانک اسے اپنے نام کی آواز آئی
‘ارے بلّی کے بچے تم نے بولنا کب سے شروع کیا’ وہ معصوم سا چہرہ بنا کر نیند میں بولنے لگی
میر کو لگ رہا تھا وہ شاید خواب میں کسی کو مار رہی ہے لیکن یہ تو بلی کے بچے تھے اسنے تاصف سے سر جھٹکا اور پھر بلایا
‘لالہ رخ اٹھ جاؤ’ میر اب تھوڑا سا اونچا بولا تو لالی نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
‘بلی یہ تم کھڑوس انسان میں کب سے ملنے لگیں’ وہ ابھی بھی خواب کے زیرِ اثر تھی
‘کھڑوس’ وہ زیرِ لب بڑبڑایا اور پاس پڑے جگ سے گلاس میں پانی ڈالا اور سارا پانی اسکے منہ پر ڈالا
‘آہ…افف پری کیا مصیبت ہےےے’ لالی چیخی
‘لالہ رخ’ میر بھی چیخا
لالی نے جلدی سے آنکھیں کھولیں اور سامنے دیکھا اور پھر چاروں طرف نظریں دوڑائیں اور منہ سے بے ساختہ نکلا
‘یہ کہاں آگئے ہم’ لالی نے میر کو دیکھا جو اب اسکے برابر میں بیٹھ گیا تھا لالی تھوڑا پرے کھسکی
‘میرا گھر ہے یہ’ میر نے اسکو کھسکتا دیکھ کیا تھا
‘تو ہم کیا کریں’ لالی نے اسکی طرف دیکھا
‘تمہارا بیگ وہ رہا کپڑے نکالو اور جاکر ریڈی ہو تم میرے ساتھ جا رہی ہو’ میر نے اس کے سر پر دھماکہ کیا
‘کک…کیا ہم کہیں نہیں جائیں گے’ لالی کے لہجے اور آنکھوں میں خوف ابھرا میر نے پہلی بار اسکا سہما ہوا انداز دیکھا تھا
میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے اوپر آگری میر نے اپنے ہاتھ سے اسکی کمر مضبوطی سے تھامی
‘تمہیں پتا ہے رات کو تمہیں کون لایا تھا یہاں’ میر نے سرسراتے لہجے میں کہا
لالہ رخ ٹھٹکی کل رات ہاں کل رات تو وہ جیل سے بھاگ رہی تھی پھر کوئی اس سے ٹکرایا تھا لیکن کون
‘میں لایا تھا اور پتا ہے رات کو میں تمہارے ساتھ سویا تھا’ میر کے ہاتھ اسکی کمر سہلا رہے تھے وہ ڈرگئی تھی کل رات کا کوئی لمحا اسے یاد نہیں تھا کیا ہوا تھا
‘جج…جھوٹ بول رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا’ لالی خوف زدہ سی بولی وہ یہ تک بھول گئی تھی کہ اسکے سر پر اسکارف ہے اسکے ارد گرد اسکی چادر موجود ہے
‘اور مجھے جھوٹ بولنے سے کیا ملے گا اور اب تو میں کچھ اور بھی سوچ رہا ہوں’ میر نے اسکو اور قریب کرکے پراسرار لہجہ میں کہا
لالی بلکل بے یقین تھی اپنی عزت جسکی حفاظت اس نے بچپن سے کی تھی جسکی وجہ سے اس نے اپنے دادا سے مارشل آرٹ سیکھا تھا کیا وہ سب رائیگاں گیا بچپن میں جب گلی کے ایک بزرگ سے انسان نے اسکے ساتھ درندوں جیسا سلوک کرنا چاہا تھا کیسے اس نے اسکا سر پھاڑا تھا بلکہ اسے جہنم رسید کیا تھا لیکن اب وہ اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرپائی اسکو یہی سوچ کر رونا آرہا تھا لیکن میر کی بات سے وہ ٹھٹھک گئی تھی وہ آگے کیا کہنے والا تھا
‘کک…کیا’ لالی کا لہجہ لڑکھڑایا
‘تم سے جتنا کام لینا تھا میں نے کل رات کو لے لیا اب تم میرے کسی کام کی نہیں ہو تو سوچ رہا ہوں کچھ شراب اور شباب ہوجائے’ میر بےباک ہوا
‘تم گھٹیا انسان شرم نہیں آئے گی تمہیں اپنی ہی بیوی کو دوسروں کے آگے پیش کرتے ہوئے’ لالہ رخ دھاڑی
‘میں تمہیں بیوی نہیں مانتا’ میر استہزائیہ ہنسا اور اسے پیچھے کی طرف دھکّا دے کر باہر نکل گیا
لالی وہیں بیٹھی اپنی قسمت پر روئی اور اپنی ماں کے وہ الفاظ یاد آئے خدا کرے تمہیں کبھی کوئی خوشی نہ ملے وہ تلخی سے مسکرائی اور اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آئی تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ تو اسکارف میں تھی اور اسکے ایک کندھے پر شال تھی مطلب وہ جھوٹ بول رہا تھا وہ خوشی سے چہکی
‘وہ جھوٹ بول رہے تھے اللّٰہ میاں وہ وہ ہمیں پریشان کررہے تھے ہیں نہ ایسا کچھ نہیں ہوا’ وہ وہیں گر گئی تھی اور ایک شکرانے کا سجدہ کیا میر نے اسکی یہ حرکت دیکھی تو دل میں ٹھنڈک سی ہوئی
“وہ ایسی لڑکی نہیں ہے”
💜💜

علی تقریباً 7:30 بجے میر کے گھر پہنچا تھا اور اسکا ڈور نوک کررہا تھا لیکن اندر سے بلکل ہلکی لیکن بارعب سی آواز آئی جو کسی لڑکی کی تھی
‘میر کے گھر میں لڑکی’ علی کو حیرت ہوئی وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ لالی میر کے گھر میں موجود ہے
اسنے دروازہ کھٹکھٹایا جو پانچ منٹ بعد کھول دیا گیا
‘کیا کررہا تھا اندر جو اتنی دیر سے دروازہ کھولا’ علی نے اسکو مشکوک نظروں سے دیکھا جب سے لالی کو بہن بولا تھا تب سے میر پر نظر رکھ رہا تھا
‘کیوں تجھے کیا مصلا ہے’ میر نے الٹا اس سے سوال کیا
‘گھر میں اور کون ہے’ علی نے ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا
‘کیوں’
‘میں نے کسی لڑکی کی آواز سنی’ علی نے سینے پر ہاتھ باندھے
لالی جو علی کی آواز سن چکی تھی دوڑ کر اسکے پاس پہنچی ایک یہی تو اسے اپنا لگتا تھا
‘بھائی’ لالی اسکے پاس پہنچ گئی تھی
‘لالہ رخ تم ہو یہاں’ علی بھی اب پرسکون ہوگیا تھا
لالی روتی ہوئی اسکے سینے سے لگی علی گڑبڑایا میر نے چبھتی ہوئی نظروں سے لالی کو دیکھا
‘کیا ہوا ہے لالی’ علی نے اسکا چہرہ اوپر کیا
‘علی بھائی ایس ایس پی صاحب نے ہمیں……’ اور پھر سب کچھ بتاتی گئی
‘مجھے تو سمجھ نہیں آتا میر تم کیوں اسکے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ گئے ہو’ علی بھی اب سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا لالی بھی اسی کے ساتھ بیٹھی تھی
‘اس سب کو چھوڑو اور اسے مین بات بتاؤ’ میر نے اسکا دھیان ہٹایا تو علی نے اسے گھور کر دیکھا پھر لالی کی طرف متوجہ ہوا
‘لالی تمہیں ایک بات بتانی ہے’ علی نے آرام سے بات شروع کی
‘ایک منٹ پہلے اس شخص سے کہیں کہ یہ ہم سے معافی مانگے نہیں تو ہم نے اسے تنگی کا ناچ نچانا ہے’ لالی نے دانت کچکچائے
علی نے پھر میر کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو مانگتا ہے معافی یا ملاؤں حکومت (بی جان) کو فون میر نے لالی کو کھجانے والی نظروں سے دیکھا
‘سوری’ انتہائی ہلکی آواز جو شاید میر کو خود بھی سنائی نہ دی ہو
‘یہ بولتے وقت تو اتنا دھاڑتے ہیں ابھی کیا آواز کو لکوا ہوگیا ہے’ لالی نے بھرپور تنز کیا
‘میر’ علی کی آواز میں تنبیہہ تھی
‘سوری’ میر لٹھ مار انداز میں بولا
‘سوری مائی فٹ ہونہہ…’ لالی نے چبا کر کہا
‘تم…’ میر کچھ کہتا کہ علی بول پڑا
‘تم چپ رہو اور جاکر ناشتہ بناؤ میری بہن کیلئے’ علی نے میر کو ڈپٹا
‘نہیں ہمیں ان پر زرا بھروسہ نہیں ہے انہوں نے زہر ملادیا تو’ لالی نے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے کہا
‘تو میں کونسا مرا جارہا ہوں تمہارے لئے ناشتہ بنانے کیلئے’ میر استہزائیہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھا
‘میر تو جارہا ہے یا…’ علی نے بات ادھوری چھوڑ کر اپنا فون اٹھایا میر تو دانت کچکچا کر رہ گیا اور کچن میں چلا گیا
‘لالی تمہیں ابھی ریڈی ہونا ہوگا کیونکہ ہم لوگوں کو لاہور کے لئے نکلنا ہے’ علی نے بات شروع کی
‘کیوں’ لالی نے علی کو دیکھا
‘کیونکہ تمہیں میں نے بتایا تھا نہ کہ میر کا گھر لاہور میں ہے’ علی نے اسکی طرف دیکھا
‘تو’ وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی
‘تو یہ کہ وہاں سب کو تمہارے اور میر کے نکاح کے بارے میں پتا چل گیا ہے تو اب وہ اپنی بہو کو سسرال بلانا چاہتے ہیں’ علی نے لالی کو دیکھا
‘تو ہمیں کیوں بلارہے ہیں’ اسکی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی
‘کیونکہ تم ہی تو انکی بہو ہو’ علی نے اسکی کم عقلی پر افسوس کیا
‘بہو ہم انکی بہو ہیں’ لالی نے علی سے ایک بر اہھر پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
‘واؤ یار ہم بہو کتنا مزا آئے گا ساس نندیں دیورانیاں جٹھانیاں کتنے سارے لوگ ہوں گے لڑنے کیلئے کتنا مزا آئے گا’ لالی کی تو خوشی دیکھنے والی تھی علی تو بس اسے دیکھ کر رہ گیا یہ لڑکی واقعی سب سے الگ تھی
تھوڑی دیر میں اسنے ناشتہ کیا اور فریش ہونے چلی گئی
💜💜

اب وہ تینوں لاہور کے سفر کے لیے روانہ ہوگئے تھے میر کی جیپ تھی جسے وہ لمبے راستوں کیلئے استعمال کرتا تھا ڈرائیونگ سیٹ پر میر تھا فرنٹ سیٹ پر علی جب کے پیسنجر سیٹ پر لالہ رخ بیٹھی تھی
لالی افسردہ تھی اپنے گھر والوں سے دور جارہی تھی نہ لیکن وہ ایسی لڑکی نہیں تھی کہ غم کی دیوی بنی رہتی وہ تو وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلتی تھی اسلئے خود کو سنبھال لیا تھا
وہ دوڑتے نظاروں کو دیکھ رہی تھی اور آگے کی زندگی کا سوچ رہی تھی کہ اگر میر کے گھر والوں نے اسے نا پسند کیا تو کہاں جائے گی وہ کون پناہ دے گا اسے لیکن پھر سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا علی بھی تو ہے اسکے ساتھ اور اسکا خدا وہ تو ہمیشہ اسکے ساتھ ہی رہتا ہے
‘علی بھائی آپکا دوست تو ماشاءاللہ سے لیکن اب آپ بھی’ لالی نے افسوس سے علی کو دیکھا
‘کیوں کیا ہوا’ علی نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا
‘اتنی بوریت ہورہی ہے کوئی میوزک ہی لگا دیں’ انکو سفر کرتے ہوئے چھ گھنٹے گزر چکے تھے 2 بج رہے تھے دوپہر کے
‘وہ میر کو پسند نہیں ہے’ علی نے میر کی طرف اشارہ کیا
‘ایک بات بتائیں آپکے دوست کو آخر پسند ہی کیا ہے یہ نہیں پسند وہ نہیں پسند مریخ سے تو نہیں آئے کہیں’ لالی جی بھر کر بدمزا ہوئی تھی
‘تم سے مطلب’ میر نے سنجیدگی سے جواب دیا تو لالہ رخ بھی خاموش ہوگئی تھی
تین گھنٹے اسی طرح خاموشی سے گزرے علی موبائل میں لگا تھا میر ڈرائیونگ کررہا تھا اور لالی اونگ رہی تھی اب تو اسے بھوک لگنے لگی تھی
‘علی بھائی بھوک…’ وہ کہتی کہ
‘مجھے بھی لگ رہی ہے میر کہیں روکو یار کھانا کھانا ہے میں نے’ علی کو اپنی بھوک کی فکر ہوئی
پندرہ منٹ بعد میر نے ایک جگہ گاڑی روکی
💜💜

علی لالی اور میر ڈھابے کی ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے تھے
‘جی کیا لاؤں’ ایک لڑکے نے آکر لالی سے پوچھا
‘پہلے ایک کام کرو ان صاحب کیلئے زہر لادو’ لالی نے میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آہستہ سے کہا جو صرف اس لڑکے نے سنی تھی
‘جی’ وہ حیران و پریشاں ہوا جو میر اور علی نے بھی دیکھا تھا
‘کیا ہوا’ میر نے نظریں ترچھی کرکے دیکھا
‘ارے کچھ نہیں علی بھائی چلیں کچھ کھانے کے لیے منگواتے ہیں’ لالی نے گڑبڑا کر علی کی طرف دیکھا
‘ہاں ایک کام کرو جو بھی ہے نہ کھانے میں سب لے آؤ’ علی نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا
‘سب’ اس لڑکے نے سب کو لمبا کھینچا
‘ہاں سب اب جلدی جاؤ شاباش اور میٹھے کا بھی بندوبست کرو’ لالی تھوڑا پھیل کر بیٹھی جیسے یہ اسکا ہی تو ہوٹل ہے
شام کے 6 بج رہے تھے میر گھر والوں کو انفارم کرنے گیا تھا جب اسکی نظر کچھ لڑکوں پر پڑی جو مستقل لالی کو گھور رہے تھے انکی نظروں کا مفہوم میر کو اچھے سے معلوم ہورہا تھا لیکن پھر بھی خاموش تھا فیملیز تھیں یہاں اس لیے خاموشی سے آیا اور لالی کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا جسکی وجہ سے لالی انکی آنکھوں سے چھپ گئی تھی یہ نہیں تھا کہ میر لڑنا نہیں جانتا تھا بس وہ ہر بات کو آرام سے ہینڈل کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن اسکا غصّہ…
‘ارے اوو راجو لے بھی آ یار’ لالی نے پھر آواز لگائی بھوک برداشت نہیں ہورہی تھی
‘راجو کون ہے’ علی نے لالی سے پوچھا
‘پتا نہیں’ لالی مسکرائی
‘تو تم نے راجو کیوں کہا’ علی کو سمجھ نہیں آیا تھا
‘نام نہیں پتا تھا نہ اسکا اسلئے راجو بول دیا’ لالی کی الگ ہی منطق تھی اتنے میں کھانا لگا دیا گیا ٹیبل پر کھانا زیادہ تھا اسلئے دو ٹیبلز کو جوڑا گیا تھا
اور لالی نے پھر اپنی آستینیں اوپر چڑھائیں جیسے کسی کو مارنے دوڑ رہی ہو علی نے بھی انگلیاں چٹخائیں اور پھر کھانے پر ٹوٹ پڑے میر نے تو پہلے ہی کھانا شروع کردیا تھا
آتے جاتے لوگ ان لوگوں کو ایسے گھور رہے تھے جیسے وہ لوگ نمونہ ہوں لالی تو سب بھلائے بس کھانا کھا رہی تھی علی کبھی ایک چیز ڈالتا اپنی پلیٹ میں کبھی دوسری لالی نے کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ راجو کو بھی خوب دوڑایا کبھی یہ موجود نہیں ہے کبھی یہ نہیں ہے ایک عجیب شور شرابا مچا تھا ہوٹل پر
‘راجو’ وہ ایک بار پھر چیخی
‘جی’ وہ اسکے پیچھے ہی کھڑا تھا
‘ارے کچھ میٹھا ہوتا ہے وہ کہاں ہے’ لالی نے اسکی طرف دیکھا
‘ابھی لاتا ہوں’ وہ دوڑ کر میٹھا لے آیا
اور صرف دس منٹ میں میٹھا بھی ختم ہوچکا تھا بلکہ علی تو اب راستے کیلئے بھی کچھ سامان پیک کروا رہا تھا میر اور علی اب ایک سائیڈ پر ہوگئے تھے ایسے میں لالہ رخ اکیلی بیٹھی تھی جب وہ چار پانچ ہٹّے کٹّے گینڈے نما گنڈے لالی کے اردگرد بیٹھے
لالی جو اردگرد لوگوں کو دیکھ رہی تھی اچانک کوئی اسکے قریب آکر بیٹھا اس نے نظروں کا فوکس سامنے کیا تو چاروں اسے گھٹیا لگے تھے
(ٹھرکی سالے) دل میں بول کر اٹھی اور جیپ کی طرف قدم بڑھائے تو ایک نے اسکا ہاتھ جکڑا
‘ارے کہاں چل دی شیلا کی جوانی’ وہ انتہائی لوفر انداز میں بولا
لالی پیچھے نہیں مڑی تھی بلکہ میر کو دیکھ رہی تھی جو گاڑی میں آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا
‘ایس ایس پی صاحب’ لالی چیخی تو میر نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا تو آنکھوں میں خون اترا جس نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ایس ایس پی صاحب سن کر چھوڑ دیا
علی بھی آگیا تھا اور میر کو غصّے میں دیکھ چکا تھا پہلے کھانا لے جاکر گاڑی میں رکھا (کھانا فرسٹ ہاں) اور پھر لالی کی طرف بڑھا
میر ان چاروں کے سر پر پہنچ چکا تھا اور ان میں سے ایک غنڈے کا گریبان پکڑ کر اپنے روبرو کیا اور ایک کھینچ کر اسے مارا
‘چٹاخ’
لالی جو آستین چڑھا رہی تھی انہیں مارنے کیلئے علی اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گیا اور اپنے ساتھ ایک جگہ کھڑا کرلیا تھا وہ مستقل اپنا ہاتھ چھڑاںے کی کوشش کررہی تھی
اسکے باقی ساتھی بھی میر کی طرف بڑھے ان میں سے ایک نے اسے پنچ مارا لیکن میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر مروڑا اور ایک سائیڈ اتنی زور سے جھٹکا کہ وہ ٹیبل پر جا گرا دوسرے والے نے چاقو نکالا اور میر کی طرف وار کرنے لگا لیکن ہر وار خالی گیا میر نے اپنی ٹانگ گھما کر اسکے ہاتھ پر ماری ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی اور چاقو دور گرا اسکی درد ناک چیخ گونجی وہاں موجود ہر بندہ یہ فائیٹنگ سین دیکھ رہا تھا چوتھا بندہ جو میر سے ڈر کر بھاگ رہا تھا اسے بھی میر نے ایک ہاتھ سے جالیا
لالی علی سے ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئی تھی مار کٹائی ہورہی ہو کہیں اور لالی ایک جگہ کھڑی رہے نا ممکن
‘ایس ایس پی صاحب’ لالی چیختی ہوئی اسکی طرف آئی ‘اس نے ہمارا ہاتھ پکڑا تھا’ لالی نے شکایت لگانے والے انداز میں کہا
‘نہیں باجی مجھے معاف کر دیں میں اگلی بار کسی لڑکی کا ہاتھ نہیں پکڑوں گا’ وہ منتوں پر اتر آیا تھا لیکن میر نے اسکو پہلے ایک تھپڑ مارا پھر دوسرا اسی طرح لگاتار چار تھپڑ مارے تھے وہ اسی میں ڈھیر ہوگیا تھا
منٹوں میں میر نے دھنک کر رکھ دیا تھا چاروں کو میر گیلانی تھا وہ لالہ رخ سے زیادہ پاور فل سب کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے وہاں ہوٹل میں جتنے بھی غلیظ لوگ بیٹھے تھے سب اس جنونی انسان کو دیکھ کر رفو چکر ہوئے تھے
میر انہیں ایسے ہی چھوڑ کر لالی کی طرف بڑھا اسکا ہاتھ پکڑا اور جیپ کی طرف لایا اسکو جیپ سے پن کیا اور اسکے دائیں بائیں بازو رکھے
‘تم خود بھی لڑ سکتی تھیں نہ پھر’ میر اسکے بہت نزدیک تھا آنکھیں اب بھی لال تھیں
‘جب آپ ہوں تو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اب ہمارے سر کا سائیں ہمارا مجازی خدا ہمیں مل گیا ہے تو اب ہم بلکل نہیں لڑیں گے’ لالی نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہاتوں سے چہرے کو چھپایا
‘یہ کیا کررہی ہو تم’ میر نے اچھنبے سے پوچھا کیونکہ اس طرح کرنے سے وہ نمونی لگ رہی تھی
علی بھی آگیا تھا اب وہاں میر اسکے قدموں کی آواز سے ہی لالی سے دور ہوگیا تھا
‘اب چلیں سات بج رہے ہیں’ علی نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھ کر کہا
‘ہمم چلو’
‘اس بار ہم آگے بیٹھیں گے’ لالی نے دوٹوک انداز میں کہنے کے ساتھ ہی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی
💜💜

‘یہ لڑکی کون تھی’ اسی ہوٹل میں بیٹھے ایک آدمی نے اپنے بندے سے پوچھا
‘پتا نہیں سائیں لیکن دیکھنے سے لگتا ہے اس ایس ایس پی کی بیوی تھی’ اسنے میر کی طرف اشارہ کیا
‘لیکن ہوا کیا ہے سائیں’ اس آدمی نے اپنے مالک سے پوچھا
‘پتا کرو اسکے بارے میں چاہئے مجھے وہ’ اسکی آنکھوں میں عجیب چمک در آئی تھی
‘جی سائیں’ وہ ادب سے کہتا ہوا آگے پیچھے ہوا
💜💜

صبح کے نو بج رہے تھے وہ لوگ پہنچ چکے تھے لاہور لالی ابھی سو کر اٹھی تھی علی بھی اٹھ چکا تھا البتہ میر ڈرائیور کررہا تھا اس لئے وہ نہیں سویا تھا
لالی نے ایک ہاتھ بڑھا کر ڈیش بورڈ پر مارا تو ریڈیو آن ہوا اور حیرت انگیز طور پر ریڈیو پر سچوئیشن کے حصاب سے سونگ لگا ہوا تھا

تینوں لیکے میں جاوونگا دل دے کہ میں جاوونگا

اور پھر اسکی وہ والی لائین

کردیا ہے تو نے مجھکو یوں بے قرار ماہی
کہہ دیا دنیا سے میں تیری…میں تیری ہوگئی رے

تیرے نال میں آوونگی سسرال میں جاوونگی

اور اس والی لائین پر لالی نے اپنی مسکراہٹ دبائی میر گڑبڑایا علی نے اچھنبے سے میر کو دیکھا
میر نے جلدی سے ریڈیو بند کیا ریڈیو بند کیا تو کیا ہوا ارے بھئی ہمارے پاس تو چلتا پھرتا ریڈیو ہو
‘تیرے نال میں آوونگی سسرال میں جاوونگی’ لالی نے سُر کے ساتھ سُر جوڑا اب علی نے مسکراہٹ دبائی میر نے گھور کر لالی کو دیکھا لیکن بھئی یہاں فکر کسے تھی میر کا دل کیا اسکے منہ پر ٹیپ لگادے
آگے جاکر ایک سگنل پر گاڑی رکی میر نے گاڑی سائیڈ پر لگائی لالی سب آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی کراچی کے رہنے والوں کو صاف ستھرے روڈ دیکھنے کی کہاں عادت ہوتی ہے
اتنے میں ایک خواجہ سرا انکی گاڑی کے پاس آیا
‘اللّٰہ خوشیاں دکھائے تو صدا سہاگن رہے تیرے دس بچے ہوں سارے فرمانبردار ہوں’ وہ بولے ہی جارہا تھا اور میر گڑبڑائے جارہا تھا
‘یہ اک پر راضی نہیں ہورہے تم دس کی باتیں کرلو’ لالی نے منہ بنا کر کہا علی کو تو اچھو لگ گیا تھا وہ خواجہ سرا بھی گڑبڑاگیا تھا
لالی نے اپنے بیگ سے پانچ سو کا نوٹ نکالا اور اسکی طرف بڑھایا وہ تو خوشی سے چہک گیا تھا دعائیں دیتا ہوا آگے چلا گیا سگنل کھلا تو میر نے بھی گاڑی آگے بڑھائی
💜💜

بیس پچیس منٹ لگے تھے انہیں گیلانی مینشن پہنچنے میں اب لالی تھوڑی نروس ہوئی تھی ناجانے کیسے لوگ ہوں گے میر نے گاڑی پورچ میں روکی اور ہارن دیا اندر سے انصار صاحب شیراز صاحب اور فہیم صاحب باہر آئے اپنی بہو کو رسیو کرنے میر اور علی اترے جیپ سے لیکن لالی نروس سی اس حویلی نما بینگلو کو دیکھ رہی تھی تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آئی دیکھا تو علی کھڑا تھا
‘ہمیں ڈر لگ رہا ہے’ لالی نروس سی بولی علی کے ساتھ میر نے بھی اسکو دیکھا
‘کچھ نہیں ہوتا میں اور میر ہیں نہ سب بہت اچھے ہیں بلکہ کچھ تو تمہارے جیسے ہیں’ علی نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا لالی نے ایک نظر میر کو دیکھا جو لاپرواہ سا کھڑا تھا پھر علی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
وہ جیپ سے اتری نروسنیس کی وجہ سے ہاتھ کانپ رہے تھے علی نے اسکو جیپ سے اتارنے کے بعد اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا وہ تینوں مین گیٹ کی طرف بڑھے تو میر انصار صاحب سے ملا اسکے بعد شیراز صاحب سے پھر فہیم صاحب سے علی بھی ملا سب سے
‘ارے بیٹا آپ وہاں کیوں کھڑی ہیں ادھر آئیں’ دھیما لیکن بارعب لہجہ انصار صاحب نے لالی کو اپنی طرف بلایا لالی جھجھکتی ان کے پاس گئی اور تینوں کو دیکھا
‘اسلام و علیکم’ لالی نے آنکھوں کے ساتھ سر بھی جھکایا انصار صاحب کی مسکراہٹ گہری ہوئی سامنے کھڑی لڑکی ادب و آداب کے طور طریقوں سے واقف تھی ان تینوں نے لالی کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعائیں دیں علی تعارف بھی کروارہا تھا لالی کو
اب وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو لالی علی کے پیچھے چھپ سی گئی تھی
‘بہو کو یہاں لے آؤ بھئی’ فہیم صاحب نے ڈرائینگ روم کی طرف اشارہ کیا تو سب اسکی طرف بڑھ گئے


آج پورا گیلانی ہاؤس بھابھی کے آنے کی خوشی میں صبح ہی جاگ گیا تھا یہاں تک کے سارے گدھے(بقول بی جان کے) وہ بھی جاگ گئے تھے اور اب سارے ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے ایک ساتھ ہی بھابھی سے ملنے کیلئے نازش بھی آگئی تھی اپنے بچوں کے ساتھ
سب کی نظریں دروازے پر جمی تھیں جہاں سے انصار صاحب وغیرہ داخل ہورہے سب سے آخر میں علی داخل ہوا جسکے پیچھے لالہ رخ تھی
‘بھابھی کہاں ہیں’ عمر نے بےتابی سے کہا تو علی اسکے سامنے سے ہٹ گیا تھا اب لالہ رخ سب کے سامنے تھی لالی نے ایک پوری نظر ڈرائینگ روم پر ڈالی اچھے خاصے لوگ تھے
انصار صاحب فہیم صاحب شیراز صاحب میر اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے علی ابھی لالی کے ساتھ کھڑا تھا
بی جان نے ایک ہی نظر میں لالہ رخ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا لالی سب کی نظروں سے کنفیوژ ہورہی تھی
‘لالی وہ بی جان ہیں میر کی دادی’ علی نے لالی سے کہا تو لالی آگے بڑھی اور انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی
‘اسلام و علیکم’ بی جان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر عقیدت سے بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی میر بھی مطمئن بیٹھا تھا
‘وعلیکم اسلام ماشاءاللہ چشمِ بددور’ بی جان نے لالی کا ماتھا چوما لالی کے دل نے شبانہ بیگم کو زور سے یاد کیا ‘فری بھابھی کو بھائی کے ساتھ بٹھاؤ’ بی جان نے فری کو کہا
‘جی بی جان’ فری نے لالی کو میر کے ساتھ بٹھایا جو ان سب سے جھنجھلایا ہوا تھا
بی جان کے دائیں ساجدہ اور بائیں قرۃ العین بیٹھی تھیں دائیں طرف کے دو سیٹر صوفے پر فہیم صاحب اور شیراز صاحب بیٹھے تھے جب کے بائیں طرف سنگل صوفے پر انصار صاحب ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھے تھے اور دو سیٹر صوفے پر نازش اور رواحہ بیٹھے تھے جب کہ دوسرے دو سیٹر صوفے پر میر اور لالی بیٹھے تھے اور انکے بائیں جانب سنگل صوفے پر علی بیٹھا تھا باقی گھر کی ینگ پارٹی کچھ صوفوں کے ہینڈل پر بیٹھے تھے جب کے کچھ زمین پر صوفوں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے
لالی نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر پیچھے ٹیک لگائی بس صرف دس منٹ چائیے تھے اسے خود کو تیار کرنے میں جو وہ کرچکی تھی
‘بیٹا آپکی میر سے شادی کب ہوئی’ یہ سوال ساجدہ بیگم کی طرف سے تھا جس پر علی اور میر نے پہلو بدلا لیکن لالی پرسکون تھی
‘پانچ دن پہلے’ لالی نے ٹہر ٹہر کر جواب دیا
‘تب تک آپ کہاں تھی مطلب میر کے ساتھ تھیں’ دوسرا سوال قرۃ بیگم نے کیا
‘اپنے گھر پر تھے’ لالی نے کہا
‘اور آپکے گھر میں کون کون ہے’ ساجدہ بیگم نے پھر سے سوال کیا یہ سوال لالی کو دل میں چبھتا ہوا محسوس ہوا تھا
‘کک…کوئی نہیں ماں باپ بچپن میں ہی مرچکے تھے اسکے بعد جنہوں نے پالا انہوں نے بھی چھوڑ دیا’ لالی بے تاثر لہجے میں میر کو دیکھتے ہوئے بولی
‘اوہ…بیٹا افسوس ہوا’ بی جان نے غمگین لہجے میں کہا
‘بیٹا آپ کون ہیں کیا کرتی ہیں’ فہیم صاحب نے دھیمے لہجے میں پوچھا
‘ہم لالہ رخ ہیں اور پڑھتے ہیں’ لالی نے مسکراتے لہجے میں کہا
‘اور آپ کیا پڑھتی ہیں’ یہ سوال نازش کی طرف سے تھا
‘ہم قانون پڑھتے ہیں اور وکالت کے شعبے سے منسلک ہیں’ لالی نے نازش کو دیکھ کر کہا تو سب کے چہرے دیکھنے والے ہوگئے تھے مطلب قانون والے کی بیوی بھی قانونی
‘آآ…آپ کو قانون سے محبت تو نہیں ہے نہ’ یہ پوچھنے والی محترمہ رواحہ تھیں
‘استغفراللہ بلکل نہیں ہمیں سخت نفرت ہے قانون سے اور کچھ قانون والوں سے بھی’ آخری بات اس نے میر کو دیکھ کر کہی جس کو اپنی پہلی بیوی کے بارے میں ایسا سن کر کچھ ہونے لگ گیا تھا
‘بیٹا آپکی میر سے شادی کیسے ہوئی’ یہ سوال انصار صاحب کی طرف سے تھا جس کی وجہ سے میر لالی اور علی کے چہروں سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور یہ بات بی جان کی نظروں سے چھپی نہیں رہی تھی
لالی کا دل کیا چیخ چیخ کر بتائے کہ انکے بیٹے نے کیا کیا ہے اسکے ساتھ
‘وہ اس لڑکی کی وڈیو تو آپ سب نے دیکھی ہوگی بس اسی وجہ سے ہمیں نکاح کرنا پڑا’ لالی نے دلیل دی
‘لیکن وہ وڈیو تو پانچ دن پہلے آئی تھی جب کے آپکے مطابق آپکا نکاح چھ دن پہلے ہوا ہے کیسے’ بی جان کے سوال پر میر نے لالی کو غصّے سے گھورا
‘اس لڑکی نے پہلے ایس ایس پی صاحب کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان سے شادی کرلے نہیں تو وہ انہیں بدنام کردے گی یقیناً وہ لڑکی ایس ایس پی صاحب سے زیادہ تیز ہے بلکہ عقل مند ہے کیونکہ انہیں تو صرف غصّہ آتا ہے اور اسی غصّے میں آکر انہوں نے اسے چیلینج دیا جو کرنا ہے کرلو میں نہیں ڈرتا’ لالی نے نہ صرف بات کی وضاحت کی بلکہ میر کو بھی بےعزت کیا اور خود کو عقل مند بھی کہا علی نے لب دبا کر مسکراہٹ روکی میر تو بس صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا اور انصار صاحب نے بھی میر کو دل میں نہ جانے کون کونسے القابات سے نوازا
‘لیکن بیٹا بات تو وہی ہے کہ آپ سے نکاح کیوں ہوا’ قرۃ بیگم نے دوبارہ سوال کیا
‘جی وہ اسلئے تاکہ اس لڑکی کو بتا سکیں کہ انکی شادی ہوچکی ہے اور اب ایس ایس پی صاحب کسی اور سے شادی نہیں کر سکتے لیکن وہ لڑکی تو جیسے عشق کے دریا میں بہہ گئی تھی…ہمارا مطلب ہے کہ اسے ایس ایس پی صاحب سے دھواں دھار محبت ہوگئی تھی اسے اسلئے اس نے ان سے اپنا بدلہ لیا’ لالی نے میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
‘تو بیٹا تم نے اس سے شادی کیوں نہیں کی؟’ سوال پوچھنے والے شیراز صاحب تھے
‘جی کیونکہ یہ ہم سے محبت کرتے تھے’ لالی جلد بازی میں بول گئی میر اور علی نے جھٹکے سے لالی کو دیکھا جو اب ہونٹ چبا رہی تھی
اور اب سب انہیں ایسی نظروں سے گھور رہے تھے کہ وہ دونوں شرم سے پانی ہوگئے تھے
‘اوہ’ ینگ پارٹی نے ہم آواز کہا
‘شٹ آپ’ میر نے لفظ چبا کر کہا تو سب خاموش ہوگئے تھے
‘اچھا بس آج سے بلکہ ابھی سے لالہ رخ اب اس گھر کی بڑی بہو ہیں اب ہم زرا آرام کریں گے’ بی جان لالی کے سر پر ہاتھ رکھ کر آگے بڑھ گئیں جبکہ لالی کے دل میں ایک ٹھنڈک سی پڑ گئی تھی
بی جان کے ساتھ میر علی اور سب بڑے بھی چلےے گئے تھے ساجدہ بیگم اور قرۃ بیگم کو ناشتہ بنانا تھا اسلئے وہ کیچن میں چلے گئے تھیں
اب ساری ینگ پارٹی تھی اور انکی بھابھی تھیں سفیان اور حمدان کی گود میں نازش کے دونوں بچے آیت اور ارمغان چڑ کر بیٹھے تھے
‘بھابھی’ حمدان کی شوخی سی آواز گونجی
سب کے سب ابھی بھی زمین پر بیٹھے تھے بس رواحہ اور نازش اٹھ کر اب لالہ رخ کے دائیں بائیں بیٹھے تھے
‘پتا نہیں کیوں ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ ہم سے بڑے ہیں’ لالی کو انکا بھابھی کہنا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا
‘جی آپ ہم سب سے چھوٹی ہیں ان تینوں کو ہٹا کر’ عمر نے آیت ارمغان اور فری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
‘تو آپ سب ہمیں لالی ہی کہیں’ لالی نے مسکرا کر کہا
‘ہم تا تہیں مامی’ ارمغان نے اپنا چہرہ ہاتھوں پر ٹکا کر اپنی توتلی زبان میں کہا وہ ابھی دو سال کا تھا
‘لالی ہی کہو یار اور اب آپ بھی نہ کہے کوئی’ لالی نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر کرلی تھیں اب وہ ریلیکس ہو کر بیٹھی تھی
‘ویسے تم نے میر بھائی سے شادی کیلئے ہاں کیسے کہہ دی’ ریان نے اپنے دل کا سوال پوچھا
‘بس اب کون انہیں لڑکی دیتا بوڑھے ہوگئے ہیں نہ تو بس ہم مان گئے’ لالی نے لمبی چھوڑی تھی
‘مطلب تم میر بھائی سے محبت نہیں کرتیں’ سحرش نے پوچھا
‘یار اب ہم محبت کا اقرار کرتے ہوئے اچھے لگیں گے کیا’ لالی نے آئیبرو اچکا کر پوچھا تو سب نے سمجھنے والے انداز میں گردن ہلائیں
‘اور تم میر بھائی سے کہاں ملی تھیں’ یہ فریہا تھی
‘پولیس اسٹیشن میں’ لالی نے دانت دکھائے
‘اور تم وہاں کیا کررہیں تھیں’ یہ سوال سحرش کی طرف سے تھا
‘وہ وہ ہاں ہم وہاں ایس ایس پی صاحب سے ملنے گئے تھے بہت مشہور ہیں وہ کراچی میں تو ہم ان کا اوٹوگراف لینے گئے تھے’ لالی نے مسکرا کر جواب دیا

جاری ہے…………