No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 10
از قلم انعم رئیس
‘میرے لئے جیسے لالہ رخ ہے ویسے ہی فصیحہ ہے میں چاہتی ہوں آپ اسے اب میری بیٹی بنا دیں میرے دانیال کے بارے میں آپ سب جانتی ہیں’ شبانہ بیگم نے آسیہ(فصیحہ کی امی) سے کہا
‘ارے دانیال کو تو ہم بہت اچھے سے جانتے ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ ہماری بیٹی کو خوش رکھے گا لیکن ہمیں کل صبح تک کا وقت دیں ہم آپکا کل صبح تک جواب دیں گے’ آفاق صاحب (فصیحہ کے بابا) نے کہا
‘جی بھائی صاحب بس ہم بہت امید سے آئے ہیں’ زمان صاحب نے کہا
اتنے میں فصیحہ نے لالی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئی
‘لگتا ہے شرما گئی ہے’ آسیہ بیگم نے بات سنبھالی (ایک تو یہ لڑکی ہر جگہ میری عزت خراب کرتی ہے) آسیہ بیگم سوچ کر رہ گئیں
💜💜
‘تو سب جانتی ہے لالی کہ میں ارمان سے محبت کرتی ہوں پھر اس سب کی وجہ’ فصیحہ کے سنجیدہ لہجہ سے لالی تھوڑا ڈگمگائی
‘کیونکہ ہم تجھے خوش دیکھنا چاہتے ہیں’ لالی منمنائی
‘خوش تم مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو اگر خوش دیکھنا چاہتی نہ تو تم اپنے بھائی کا رشتہ لے کر نہیں آتیں’ فصیحہ ہلکی آواز میں غرائی ‘سب جانتے ہوئے بھی تم نے یہ سب کیا مجھے صرف وجہ بتاؤ’
‘فصیحہ تم جس کے پیچھے بھاگ رہی ہو وہ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے کیوں نہیں سمجھتی ہو یہ بات’ لالی نے سمجھایا
‘تمہیں کیسے پتہ کہ وہ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے’ فصیحہ کو اسکی بات عجیب لگی وہ لڑکی جو اس کے لیے سب کچھ چھوڑ دے وہ آج اسکا ساتھ دینے کہ بجائے منہ موڑ رہی تھی
‘و…وہ…ہ بس پپپ…پتہ ہے’ لالی کو اس سوال کی امید نہیں تھی
‘تم کچھ چھپا رہی ہو مجھ سے’ فصیحہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکا
‘پاگل ہوگئی ہو پوری بھلا ہم تم سے کچھ کیوں چھپائیں گے کہ ہم کچھ چھپا رہے ہیں’ لالی ٹینشن میں الٹا بول گئی اور سامنے کھڑی ہوئی اسکی دوست پہچان گئی تھی کہ وہ کچھ چھپا رہی ہے یا جھوٹ بول رہی ہے
‘لالی میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو تم نے کب سے آنکھیں جھکا کر بات کرنا شروع کیا’ فصیحہ نے ڈپٹا
‘ہا…ہاں دیکھ تو رہے ہیں’ لالی نے خود کو کمپوز کیا تو دماغ نے چلنا شروع کیا ‘فصو تیرے لیے ہماری دوستی امپورٹنٹ ہے نہ’
‘اپنی جان سے بھی زیادہ’ اسکی بات پر لالی نے ایک لمبی سانس کھینچی
‘تجھے قسم ہے اس دوستی کی کہ تو ہاں کرے گی بھائی کہ رشتے کیلئے’ لالی ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی
‘لالہ رخ’ فصیحہ چیخی ‘ تجھے شرم نہیں آئی ہماری دوستی کو بیچ میں لاتے ہوئے’
‘بات تو نے آگے بڑھائی ہے اگر تو پہلے ہی مان جاتی تو ہم کچھ نہیں کہتے’ لالی نے اطمینان سے جواب دیا
‘تیرے لئے ہماری دوستی کوئی معنی ننن۔۔نہیں رکھتی کیا’ فصیحہ بے یقینی کے ساتھ بولی
‘ہے لیکن ہمیں لگتا ہے تیرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ورنہ تو اب تک ہاں کر چکی ہوتی’ لالی نے اس بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
‘اگر یہی بات ہے تو ہمیں یہ رشتہ منظور ہے لیکن یاد رکھنا دوستی کو بیچ میں لاکر اچھا نہیں کیا تم نے’ اسکی آنکھ سے آنسو ٹپکا لیکن شاید سامنے کھڑی ہوئی لڑکی بےحس ہوگئی تھی
‘تمہاری امی نے کل تک کا کہا ہے جواب ہاں میں ملنا چاہیے اور رہی بات تمہاری محبت کی تو اسکا بھوت بھی بہت جلد اتر جائے گا تمہارے سر سے’ لالی نے پھر سے آنکھیں چرائیں اور کمرے سے نکل گئی
فصیحہ جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھ گئی اسکو اب تک یقین نہیں ہوا تھا کہ اسکی دوست نے یہ سب کیا ہاں وہ شاید اپنے بھائی کی محبت میں اندھی ہوگئی تھی کیونکہ یہ بات تو فصیحہ بھی جانتی تھی کہ دانیال کی نظریں کیا بولتی ہیں
💜💜
(سوری فصو ہم جانتے ہیں آج پہلی بار تم ہم سے بد گمان ہوئی ہو لیکن یہ سب ضروری تھا اور اس کی وجہ تم بہت جلد جان جاؤ گی کیونکہ جو تمہیں دکھ رہا ہے یا ہمیں دکھایا جارہا ہے سب ڈرامہ ہے لالہ رخ کو ٹریپ کرنے کی کوشش ہے اور یہی ضروری تھا کہ جو چل رہا ہے وہ چلتا رہے لیکن ایسے میں تمہارا ارمان سے محبت ہو جانا یہ کوئی قسمت نہیں بلکہ سوچا سمجھا کھیل ہے جس میں تمہیں پھسانا مطلب صاف ہمارا دھیان بھٹکانا اور ہم نہیں چاہتے کہ تم اس جھوٹے انسان کی محبت میں پھنسو اسلئے بھائی سے تمہیں منسلک کردیا ہمیں تو ارمان خود چلتی پھرتی سازش لگتا ہے) لالی کے دماغ میں ایک الگ ہی سوچ تھی ایک پلینینگ تھی ایک ڈرامہ تھا اگر سامنے رابیعہ خان تھی تو یہاں بھی لالہ رخ تھی
“تم جو کوئی بھی ہو اپنے بنائے ہوئے کھیل میں خود ہی پھنسو گے” لالی کے چہرے پر تنزیہ مسکراہٹ ابھری
💜💜
ارمان جب یونی سے باہر آرہا تھا تو اسکے پیچھے لالہ رخ بھی تھی وہ اسے فصیحہ سے دور رہنے کا کہنے آئی تھی لیکن جیسے ہی وہ قریب آئی تو ٹھٹھک کر رکی اور پلر کے پیچھے چھپی
ارمان جو اپنی دھن میں چلتا آرہا تھا سامنے سے علی کی گاڑی کو دیکھ کر رکا اور جلدی سے اپنے لینس اور نقلی مونچھیں ہٹائیں تو صورت واضح ہوئی
علی یہاں اپنے کسی دوست سے ملنے آیا تھا جو آج کل اس یونیورسٹی میں پروفیسر تھا لیکن سامنے جنید کو دیکھ کر رکا
‘جنید’ علی بھاگتا ہوا اسکے قریب آیا
‘اسلام و علیکم یار کیسے ہو اور یہاں کیا کررہے ہو’ علی نے ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ ڈالے
‘ارے ارے آرام سے پہلے وعلیکم السلام میں بلکل ٹھیک ہوں اور میں بس تیری بھابھی کے کسی کام سے آیا ہوا تھا’ وہ شرارت سے بولا اور آخری بات سچ میں جھوٹ ملا کر بتائی
‘کیاااااا……بھابھی’ علی نے حیران ہو کر پوچھا تو اسنے اثبات میں گردن ہلائی ‘بھابھی اس یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں تو ملوا تو صحیح’ علی کی تو حیرانی ختم نہیں ہورہی تھی
‘نہیں وہ تو گھر جا چکی ہے’ جنید نے اسکے آف ہونے کا بتایا اور یہیں لالی حیران ہوئی ابھی تو لاسٹ کلاس لی تھی ارمان نے کیا وہ کسی اور کی بات کررہا ہے لیکن بھابھی…
‘اچھا نام ہی بتادے انکا’ علی نے پھر پوچھا
‘ہاں اسکا نام رابیعہ خان میری مسز ٹو بی’ اسنے شرارت سے کہا اور یہیں لالی کو ایک جھٹکا لگا آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا
فصیحہ کو تو لالی نے سنبھال لیا تھا لیکن یہاں اسے کون سنبھالے گا یہ تو شکر تھا کہ وہ محبت کہ ایک ایسے مقام پر تھی جہاں سے واپس لوٹ جانا آسان تھا اسنے دوبارہ اوپر دیکھا لیکن اب وہاں کوئی نہیں تھا
لالی مسکرائی اور سر جھٹک کر آگے بڑھی وہ ماتم کرنے والوں میں سے تھی اب اسے یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ ایسا کر کیوں رہا ہے
‘ہوگیا گزر گیا اب نئی امید کا ہاتھ تھامو اس سے پہلے وہ بھی گزر جائے’
دوسرے دن جب لالی یونیورسٹی آرہی تھی تو اسنے علی کو دیکھا دماغ نے چلنا شروع کیا اور لائحہ عمل تیار کیا تو پہلے اس نے علی پر نظر رکھی تو اسے اسکے ہوسپٹل جانے کے اوقات معلوم ہوئے اور راستے بھی زہن نشین کیا جہاں سے وہ گزرتا تھا اس سب کیلئے اسنے اپنی جوب سے ایک ہفتے کی چھٹی لینی پڑی تھی کیونکہ کہیں نہ کہیں ان سب میں فصیحہ آرہی تھی جو اسے کسی صورت منظور نہیں تھا
لالہ رخ کی سالگرہ کے دن جب اسکا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا تو وہ کوئی غلطی نہیں بلکہ جان بوجھ کر وہ گاڑی کے سامنے آئی تھی
وہ علی سے ہیلو ہائی کرنا چاہتی تھی تبھی اسنے ایک نظر فصیحہ کو دیکھا اور دوسری نظر علی کی گاڑی کو جا ابھی دور تھی اس معلوم تھا فصیحہ اسے بچالے گی نہیں بھی بچی تو کوئی مصلہ نہیں ایک آت ہڈی ہی ٹوٹے گی اسنے سوچ لیا تھا اور تو اور علی کی کمزوری (کھانا) بھی جان گئی تھی اسلئے اب وہ علی کے ہوسپٹل میں موجود تھی شبانہ بیگم کے ساتھ کچھ وجہ انکا ہائی بلڈ پریشر تھا اور کچھ ارمان عرف جنید کے بارے میں معلوم کرنا تھا اسلئے اس نے شبانہ بیگم سے بریانی بھی بنوالی تھی
‘اسلام و علیکم علی بھائی ارے آج تو آپ پہلے سے بھی زیادہ اچھے لگ رہے ہیں’ لالی نے اپنی ڈھائی گز زبان کے جوہر دکھائے ‘ اور بھول تو نہیں گئے ہمیں اور اگر بھول گئے ہیں تو بھی کوئی مصلہ نہیں ہم بتا دیتے ہیں ہم وہی جو آپکی گاڑی سے ٹکرانے……’ وہ بول ہی رہی تھی کہ علی نے بریک پر پاؤں رکھا
‘ہاں لڑکی جانتا ہوں میں تمہیں اور بتاؤ ڈسکاؤنٹ لینے آئی ہو کیا’ علی نے شبانہ بیگم کو دیکھا
‘نہیں ہم اپنی امی کو لے کر آئے تھے انکو…ہا۔ہائی بلڈ پریشر ہے ایک دو ہفتے سے آپ چیک کرلیں’ لالی بول رہی تھی کہ اچانک اسکی نظر وہاں رکھے ہوئے ایک فریم پر پڑی جسمیں علی اور ارمان کور تیسرا کوئی اور(میر سرسری سی ملاقات ہوئی تھی اس لئے یاد نہیں تھا) پھر نظریں پھیریں
‘اچھا میں چیک کرلیتا ہوں’ علی پھر شبانہ بیگم سے سوال جواب کرنے لگا لالی مسکرائی پری کی یاد آئی تھی علی کو دیکھ کر ناجانے کیوں
کچھ دیر بعد علی نے دوائیوں کا پیپر لالی کی طرف بڑھایا اور ساتھ ہی کچھ ضروری ہدایات دیں
‘علی بھائی آپ کیلئے ہم ایک گفٹ لائے ہیں ہمیں پتا ہے آپ اتنے سارے مریضوں کو دیکھ کر تھک جاتے ہونگے’ لالی نے اسکی کمزوری کو ہاتھ میں تھاما
‘ بتا بھی دو لڑکی کیا لائی ہو’ علی بے صبرا ہوا کافی دیر سے اسے ویسے ہی بریانی کی خوشبو آرہی تھی
‘لڑکی نہیں لالہ رخ آپ ہمیں لالی کہہ سکتے ہیں اور ہم آپکے لیے اپنی امی کے ہاتھ کی بریانی لائیں ہیں’ لالی نے ٹفن آگے بڑھایا
‘ارے میری پیاری بہن کتنا خیال رکھتی ہے میرا بریانی لائی ہے میرے لئے’ اسکی بات پر تو شبانہ بیگم بھی مسکرائیں
علی نے جلدی سے ٹفن کھولا اور کھانے لگا
‘واہ آنٹی کیا بات ہے واہ واہ بہت خوش نصیب ہونگے انکل جنہیں آپ جیسی بریانی بنانے والی بیوی والی بیوی ملی بھئی لالی جب بھی بنے میرے لئے لے آیا کرو’ علی کھاتے ہوئے بولا
‘ہاں بیٹا کیوں نہیں لالی لے آیا کرے گی ویسے بھی لالی کی یونی کے راستے میں ہی تمہارا ہوسپٹل ہے’ شبانہ بیگم نے ٹفن پیک کیا
‘ویسے بھائی یہ کون ہیں برابر والے ہم نے انہیں کہیں دیکھا ہے’ لالی اپنے مدّعے کی بات پر آئی
‘اوہ یہ…یہ جنید ہے میرا بھائی جیسا دوست اس ……کمپنی کا ڈی ایم ہے اور کل دیکھا ہوگا اسے تم نے اپنی یونی میں’ علی نے اسکے شک کو تصدیق میں بدلا تھا
پھر لالہ رخ اور شبانہ بیگم نے گھر کی راہ لی
لالہ رخ مسکرائی تھی علی کی بات پر کمپنی کا ڈی ایم یونی میں پروفیسر بات کچھ سمجھ نہیں آئی
💜💜
‘ہیلو سر’ انسپیکٹر حارث کی کال تھی
‘ہاں بولو انسپیکٹر’ میر کی بھاری آواز ابھری
‘سر ……ہوسپٹل سے کال آئی ہے کہ وہاں پر تین لوگوں کو بری طرح پیٹ کر بھیجا گیا ہے اور ایمبولینس والے نے بھی کچھ نہیں بتایا ہوسپٹل والے ایڈمیٹ نہیں کر رہے کہ پولیس کیس ہے اس لیے ہمارے پاس کال کی ہے’ انسپیکٹر نے سارا معاملہ بتایا
‘ٹھیک ہے تم کسی کونسٹیبل کو لے کر پہنچو وہاں میں بھی وہی آتا ہوں’ میر نے فون بند کیا
تھوڑی دیر میں میر ہوسپٹل میں موجود تھا سامنے حارث کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا
ہالف سلیوز۔ والی وائٹ شرٹ اور نیچے بلو جینس بائیں ہاتھ میں بندھی قیمتی گھڑی بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے وہ وجیہ شخص آس پاس کی لڑکیوں کیلیے امتحان تھا
‘سر’ حارث نے سیلیوٹ کیا
‘کہاں ہے وہ تینوں’
‘اس سائٹ سر انکی حالت واقعی خراب ہے ایک کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ایک کا سر پھٹا ہوا ہے ایک کا جبڑا ہلا ہوا ہے’ حارث بتاتے ہوئے وارڈ میں داخل ہو چکا تھا
‘سسٹر آپ باہر جائیں ہمیں ان سے بات کرنی ہے’ حارث بولا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی میر کی پرسنیلٹی ہی ایسی ہی تھی بھئی
‘سسٹر’ حارث نے اسکو میر کو دیکھتے ہوئے دیکھا تو اسنے ہنسی دبائی اور کڑخت لہجے میں کہا
‘جج…جی’ سسٹر آگے پیچھے ہوئی
‘دکھنے سے ہی لفنگے لگتے ہیں اوہ اٹھو باپ کا گھر نہیں ہے یہ تمہارے جو پھیل کر سو رہے ہو’ میر کی ایک ہی آواز نے چاروں کو جگایا اسنے سختی سے اسلئے کہا کیونکہ وہ انکو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ کسی لڑکی کے بھائی سے پٹ کر آئے ہیں لیکن یہاں تو معاملہ ہی الگ تھا
‘سسسس.……سر’ ایک لڑکھڑایا
‘کس کے بھائی سے پٹ کر آرہے ہو’ میر نے سیدھا سیدھا سوال کیا
‘ببببب۔۔۔بھائی نننن۔نہیں بہن’ ایک نے اٹک کر کہا تو میر نے اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا اور پھر حارث کی طرف دیکھا اسنے بھی ہاں میں سر ہلایا اور آئسکریم پارلر کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی جسمیں یہ لڑکے ان لڑکیوں کو چھیڑ رہے تھے اسکے بعد ان میں سے ایک لڑکی نے ان سب کی دھلائی کی لیکن جب اس لڑکی نے اس لڑکے کا ہاتھ توڑا تو میر کا دل زور سے دھڑکا سامنے کھڑی ہوئی لڑکی میں اسے اس دن والی لڑکی کی جھلک دکھی تھی وہ بے ساختہ مسکرایا
‘اور چھیڑو لڑکیوں کو کرو آوارہ گردی حارث یہ لوگ یہاں سے ڈسچارج ہوجائیں تو مجھے پولیس اسٹیشن میں چائیے سمجھے’ میر بولتا ہوا باہر نکلا اور حارث کو گھر جانے کیلئے کہا
💜💜
فصیحہ کے گھر کی طرف سے ہاں کہہ دی گئی تھی لالی نے چونکہ شبانہ بیگم کو کچھ کچھ اشارہ کردیا تھا فصیحہ کی طرف سے اسلئے انہوں نے نکاح کی بات چھیڑ دی تھی اور رخصتی فصیحہ کی پڑھائی کے بعد رکھی گئی تھی
دس دن بعد فصیحہ اور دانیال کا نکاح رکھا تھا شبانہ بیگم نے فصیحہ کو انگوٹھی پہنا کر منگنی کی رسم ادا کردی تھی
جاری ہے…………
