No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 15
از قلم انعم رئیس
ایمبولینس پہنچ گئی تھی لیکن وہاں پر کوئی موجود نہیں تھا انہی میں سے ایک لڑکے نے فیکٹری کا گیٹ کھلا دیکھا تو اندر اشارہ کیا سب اندر گئے ہاتھوں میں لائٹس تھامیں ہوئیں تھیں اندر کا منظر دیکھ کر ان سب کے اوسان خطا ہوئے جلدی سے پولیس اسٹیشن کال کی تو اسپیکٹر حارث نے فون اٹھایا
اسپیکٹر حارث نے میر کو فون کیا اور ساری بات اسکے گوش گزاری وہ ابھی جنید کے گھر کے راستے میں تھے علی بھی ساتھ تھا میر نے راستے میں ہی گاڑی موڑی اور فیکٹری کا رخ کیا علی بھی حارث کی کال دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ کچھ ہوا ہے پولیس اسٹیشن سے دو نفریاں نکلی تھیں میر کے آرڈرز کے مطابق
💜💜
تھوڑی دیر میں میر پہنچ گیا تھا تو ایمبولینس سروس میں سے ایک آدمی آگے آیا اور اندر کی طرف اشارہ کیا
‘کسی نے باڈی کو ہاتھ تو نہیں لگایا’ میر نے سوال کیا اتنے میں پولیس موبائل آکر رکی
‘سر’ سب نے میر کو سیلیوٹ کیا
‘اندر چلو سب’ میر اور علی بھی اندر آگئے تھے
جنید اوندھے منہ پڑا تھا اور وہاں پر کوئی نہیں تھا ہر طرف روشنی ہی روشنی ہوگئی تھی میر نے لائٹس کا بندوبست کروالیا تھا باڈی بری طرح سے جلی تھی نیچے کے حصے سے میر دو زانوں ہوکر بیٹھا اور باڈی کا رخ موڑا تو میر کے پیروں تلے سے زمین کھسکی تو علی کے اوپر ساتوں آسمانوں آگرے میر زور سے زمین پر گرا ہاتھ میں پکڑی لائٹ چھوٹی علی نے چہرہ دیکھا تو بے ساختہ قدم پیچھے کیا پلر سے ٹکرایا اور بے یقینی سے جنید کو دیکھتا بیٹھتا چلا گیا
‘جنییییید’ علی زور سے چیخا میر کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرا بے یقینی ہی بے یقینی
‘شششش خاموش ہو جاؤ علی اسے کچھ نہیں ہوااا… یہ بلکل ٹھیک ہے سسس…سسو…سو رہا ہے ہے نہ جنید اٹھ نہ یار’ میر نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا اور اسکی کھلی ہوئی آنکھوں کو دیکھا علی بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا اور اسکا جلا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
‘جنید اٹھو یار آنٹی گھر پر انتظار کررہی ہیں تیرا انکی طبیعت خراب ہیں نہ’ علی نے اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگایا اور ہچکیوں سے رویا یہ دو وہ مرد تھے جو شاید ہی کبھی روئے ہوں
میر نے اسے روتا دیکھا تو علی کو اس سے دور کیا
‘کیوں رو رہے ہو وہ سو رہا ہے’ میر پاگلوں کی طرح اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ تھک جاتا تھا تو جنید اسی طرح اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا تھا اسکے گھر آکر
وہاں کھڑا ہر فرد سمجھ گیا تھا کہ کیا ہوا ہے انسپیکٹر اور کونسٹیبلز تعجب سے میر کو دیکھ رہے تھے کسی میں ہمت نہیں ہورہی تھی آگے بڑھنے کی حارث آگے بڑھا اور میر کے پاس بیٹھا
‘سر ہی از نو……’ وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ میر نے زور سے ایک تھپڑ رسید کیا اسے
‘دفع ہوجاؤ یہاں سے حارث کچھ نہیں ہوا ہے اسے’ میر دھاڑا تو علی کو ہوش آیا اسنے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور میر کو گلے لگایا میر اسکے گلے لگ کر بے تحاشہ رویا
‘میر بس اسکی زندگی اتنی ہی تھی یار گھر چل آنٹی کو بھی سنبھالنا ہے’ علی نے اسے بڑی مشکل سے سنبھالا
بوڈی کو سرد خانے بھجوانے سے پہلے پوسٹ مارٹم کیلئے بھجوایا علی ہوسپٹل میں تھا میر نے سب انتظام کروادیے تھے
حارث اور باقی کی ٹیم چھان بین کررہی تھی ناٹ الاؤڈ کا ٹیگ لگ گیا تھا وہاں پر
💜💜
لالی جب بے ہوش ہوئی تو رابیعہ واپس اندر آگئی تھی اسکے ہاتھ میں پہلے رابی نے گن پکڑائی پھر نکالی اسکے بعد گن کو وہیں پھینکا اور اپنا بیگ اٹھایا لالی کو اٹھایا اور باہر نکل گئی لالی کے گھر کا پتہ تھا اسے جس دن وہ یہاں آئی تھی اسنے لالی کو ایک گھر میں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہاں پہنچ کر اس نے لالی کا بیگ کھولا
لالی کے بیگ سے چابی نکالی تو فرنٹ ڈور نہیں کھلا اس نے گھر کو آگے پیچھے سے دیکھا تو ایک بیگ ڈور بھی تھا اسنے وہ دروازہ ان لوک کیا تو وہ کھل گیا لالی کو وہیں سے اندر لے کر گئی اور لالی کو لاؤنج میں لٹایا اور ایک پیپر نکالا اپنے بیگ سے اور اس پر کچھ لکھا اور اسکے ہاتھ میں تھما کر مٹّھی کَس کے بند کی اور پھر وہاں سے نکلتی چلی گئی
💜💜
باڈی کے پوسٹ مارٹم کیا تو پتا چلا ایک گولی اسکی کمر میں بھی لگی تھی علی کو وہ خون یاد آیا جو زمین پر گرا ہوا تھا اگر جلایا نہ جاتا تو بھی اسکے زندہ رہنے کے چانسز کم تھے کتنی بے رحمی سے مارا تھا اسے
ادھر حارث کو جو ملا وہ حیرت انگیز تھا کیونکہ وہاں پر جو بھی سامان تھا سب کسی لڑکی کا تھا مطلب کسی لڑکی نے قتل کیا تھا ایویڈینس میں ایک لیڈیز شال تھی جو جلی ہوئی تھی یونی کا آئی ڈی کارڈ ملا تھا دو ٹوٹے ہوئے موبائل تھے ایک ٹھیک کیا جاسکتا تھا اور دوسرے کی حالت خراب تھی کیونکہ وہ بھی جل گیا تھا اور ایک گن تھی حارث نے اچھے سے دیکھا تو کسی کے فنگر پرنٹس بھی تھے اس پر حارث نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ایک سی سی ٹی وی کیمرا بھی تھا
تھوڑی دیر میں فیکٹری کا مالک بھی آچکا تھا جسے حارث نے بلایا تھا
‘تمہاری فیکٹری میں کیا ہورہا ہے کچھ اندازا بھی ہے تمہیں’ حارث نے غصے سے پوچھا وہ اسے کچھ نشے میں لگا
‘کیا سر مجھے کیا پتا اچھا خاصا سو رہا تھا میں’ اس نے جمائی لیتے ہوئے کہا تو اس کے منہ سے شراب کی سمیل آئی
‘چٹاخ’
حارث کا ہاتھ اٹھا اور اسکا گال لال کرگیا تو سامنے کھڑے ہوئے آدمی کا نشہ بھک سے اُڑا
‘شراب پیتا ہے’ حارث نے اسکو گُدی سے پکڑا
‘قانون کے کتے جانتا نہیں ہے تو مجھے میں کون ہوں’ اس آدمی نے حارث کو گالی دی
‘اٹھاؤ اسے لگتا ہے اسکا نشہ نہیں اترا پولیس اسٹیشن میں لے جاکر اتارا اسکا نشہ دو لاکھ جرمانہ لگاؤ اس پر اون ڈیوٹی پولیس والے کو گالی دینے پر’ اسکی بات پر تو حارث کا دل کیا اسکو آگ لگادے
💜💜
میر اور علی جنید کے گھر کے باہر کھڑے تھے صبح ہورہی تھی دونوں میں ہمت نہیں ہورہی تھی اندر جانے کی کل شام کو ہی تو وہ دونوں جنید سے ملنے آئے تھے اور آج… میر کی آنکھیں لال ہوچکیں تھیں علی کے آنسو نہیں رک رہے تھے دونوں نے ہمت باندھی اور اندر کی طرف چل پڑے سامنے ہی فوزیہ بیگم صوفے پر سو رہی تھیں جنید کا انتظار کرتے کرتے سو گئیں تھیں انکو دیکھ کر میر کی سسکی نکلی خود پر قابو پاتے وہ انکی طرف بڑھا
‘آنٹی…ی’ میر نے جگایا تو وہ نہیں جاگیں
‘آنٹیی’ میر نے ہلایا تو انکی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی علی بھاگ کر ان کے پاس آیا اور انکا ہاتھ پکڑ کر نبض چیک کی تو وہ بلکل بند ہوچکی تھی فوزیہ بیگم نے اپنے ہاتھ میں کوئی شیشی پکڑ رکھی تھی علی نے چیک کیا تو وہ نیند کی گولیاں تھیں وہ بہت ساری گولیاں کھا چکی تھیں شاید نہیں یقیناً وہ اپنے بیٹے کی موت سے واقف تھیں کیسا رشتہ تھا ماں بیٹے میں آج یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی تھی کوئی کسی کیلئے مرتا نہیں ہے جو محبت میں کچھ کر گزرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ پھر وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتے
میر نے سر جھٹکا اور فون کرکے ایمبولینس بلائی کل ہی تو اپنے ایک دوست کی باڈی کو سرد خانے پہنچایا تھا آج ایک اور موت اس سب نے اسے اندر تک ہلایا تھا اور ایک درندے کو ہلایا تھا جو بہت بری موت دیتا تھا اسمیں یہی تو خاصیت تھی کہ وہ ایسے مارتا تھا کہ اگلا شکاری اپنے ہاتھوں سے اپنی خود جان لیتا ورنہ میر صرف مارتا نہیں تھا بلکہ عبرت کا نشان بناتا تھا
💜💜
لالہ رخ کی آنکھ صبح فجر کی آذان کے وقت کھلی تھی اسکا سر درد سے پھٹنے کو ہو رہا تھا رات کا سارا واقعہ آنکھوں میں گھوما تو پھوٹ پھوٹ کر روئی آنسو صاف کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ میں ایک کاغذ تھا وہ بے تحاشہ چونکی پھر یاد آیا کہ وہ تو وہاں تھی یہاں کیسے آئی پھر کاغذ کھولا اور پڑھا
“رات ہونے والے واقعے کا کسی سے ذکر بھی کیا نہ تو اگلی باری تمہاری دوست کی ہوگی پھر اسی طرح رونا اسکی موت پر جس طرح کل رات روئیں تھیں”
نام نہیں لکھا تھا لیکن پھر بھی وہ جان گئی تھی کہ یہ کس کی مہربانی ہے رابیعہ خان وہ ایک بار پھر اپنی بے بسی پر روئی
پھر کچھ سوچ کر اٹھی اور تیار ہونے چل دی درد حد سے سوا تھا سر میں لیکن سب کچھ بھولی یاد تھا تو صرف ارمان اور ارمان کی بات اسکی ماں وہ شبانہ بیگم کو بتا کر یونی کیلئے نکل گئی تھی
یونی پہنچ کر ایک پیون کو کچھ پیسے دے کر ارمان کی فائل نکلوائی اور اسکے گھر کا ایڈریس پتا کیا اور نکل گئی فصیحہ کو میسج کیا کہ وہ آج نہیں آئے گی
جنید کے گھر پہنچی تو پہلے چہرہ اچھے سے ڈھانپا اور اندر بڑھ گئی علی بھی وہیں موجود تھا علی کو دیکھ کر اسکا ضبط کا دامن ٹوٹا اور بھاگ کر اسکے پاس گئی
‘علی بھائی’ لالی نے چہرے سے پردہ ہٹایا
‘لالی تم یہاں’ علی اسے دیکھ کر حیران ہوا
‘وہ استاد رہ چکے ہیں ہمارے اسلئے احترام میں بڑے ہیں ہم یہاں نہیں آتے تو ہمیں لگتا ہم نے انکی عزت نہیں کی ہم انکی ماں سے ملنا چاہتے ہیں’ اس نے نظریں جھکائیں میر بھی وہیں تھا لیکن کسی گہری سوچ میں تھا اسلئے لالی کو دیکھ نہیں پایا
‘لالی جب ہم صبح آنٹی کو جنید کا بتانے آئے تو وہ بھی جنید کے ساتھ جا چکیں تھیں اس دنیا سے’ علی کی آنکھ پھر آنسو ٹپکا
‘کیاااااا’ لالی بے یقینی سے دیکھے گئی کانوں میں جنید کے الفاظ سنائی دے رہے تھے……ماں کا خیال رکھنا
(ہم کیسے رکھتے خیال ارمان وہ تمہاری ماں تھیں جو تمہیں دیکھ کر جیتی تھیں تمہیں دیکھ کر ہنستی تھیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی تمہارے لیے سرف کردی وہ کیسے خوش رہ لیتیں تمہارے بغیر تم نے اس دنیا سے کیا رخ موڑا تمہاری ماں بھی تمہارے پیچھے ہی چل پڑی ہم دعا کریں گے خدا آگے کا سفر آسان کرے بہت خوش قسمت ہیں آپ دونوں جو آگے کا سفر ساتھ طے کریں گے اور رہی بات رابیعہ خان کی تو اب لالہ رخ بھی ایک قہر لائے گی اس ناگن پر) وہ سوچتی ہوئی عورتوں کی طرف چلی گئی جہاں قرآن خوانی ہورہی تھی
لیکن کوئی تھا جو لالی کو دیکھ کر بے تحاشہ چونکا تھا لیکن کون…؟
💜💜
تھوڑی دیر میں جنازہ اٹھانے کا وقت ہوا تو لالی اٹھی اور فوزیہ بیگم کے چہرے کے پاس بیٹھ کر سورۃ ملک پڑھی پھر اس نے علی کو کہا تو اس نے بھی کرنی چاہی لیکن میر نے اسے روکا اور خود کی اسکی آواز میں کیا سحر تھا علی اور لالی بے تحاشہ روئے جنید کو یاد کرکے
کب کسی نے یہ سوچا تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا لالی تو فوزیہ بیگم کی وجہ سے چلی آئی تھی لیکن یہاں تو اسے وہ بھی نہیں ملیں
جنازہ اٹھانے کے لئے مرد اندر آئے اور فوزیہ بیگم کا جنازہ اٹھا لیا گیا انکے رشتے داروں کا کسی کو نہیں پتا تھا سب سے زیادہ پولیس فورس تھی
تھوڑی ہی دیر میں کلمئہ شہادت کی آوازیں بلند ہوئیں تھیں لالی بھی اب گھر واپس چلی گئی تھی دوپہر ہوگئی تھی
💜💜
دونوں کی نماز جنازہ ادا ہوئی اور انہیں دفنادیا گیا دونوں کی قبریں ساتھ ہی تھیں
میر کے کان میں جنید کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں علی میر کے پاس بیٹھا ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا
جاری ہے…………
