Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 13
از قلم انعم رئیس

خان ولا میں وحشت سی چھائی تھی رابی لاؤنج میں وہیں بیٹھی تھی جہاں تھوڑی دیر پہلے طارق صاحب کی میّت رکھی تھی آنسو تھے کہ رکی نہیں رہے تھے جیسے بھی تھے وہ تھے تو اسکے باپ ہی نہ بچپن سے لے کر کون سی ایسی خواہش تھی جو پوری نہیں کی تھی ہر چیز دی تھی پھر چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز
‘بابا’ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی جنید جو اب تک وہاں تھا بھاگ کر اسکے پاس آیا اور اسے سینے سے لگایا
‘رابی سنبھالو خود کو صبر کرو ایسے کروگی تو انکل کی روح بےچین رہے گی یار’ جنید بے بسی سے بولا
‘کیسے سنبھالوں خود کو باپ تھا وہ میرا کیسے کہہ سکتے ہو تم لوگ کہ صبر کرو میرا دل کٹ کر رہ گیا ہے تم لوگوں کو کیا پتا کہ میرا دکھ کیا ہے’ وہ چیخی اپنے دکھ میں یہ بھول گئی کہ جنید بھی تو یتیم تھا اسکے سر پر بھی تو اسکے باپ کا سایہ نہیں تھا
‘رابی میرے بھی تو بابا حیات نہیں ہیں میں بھی تو رونا چاہتا ہوں لیکن میں نہیں روتا کیوں کہ جانتا ہوں وہ میرے پاس کبھی لوٹ نہیں سکتے’ اسکی آخری بات پر رابیعہ کی زور سے سسکی
‘باباااااااا’ وہ زور سے چیخی ‘کیوں کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر ماما تو پہلے ہی نہیں تھیں آپ بھی چلے گئے نہیں چھوڑوں گی میں قسم کھاتی ہوں نہیں چھوڑوں گی اس کمینے انسان کو جس نے آپ کو مجھ سے دور کیا’ اسکے سر پر خون سوار تھا
جنید اس کے تیوروں سے گھبرایا اور بھاگ کر کچن میں گیا فرج سے جوس نکالا اور اس میں نیند کی گولیاں ملائیں باہر آکر زبردستی اسکو پلایا دو چار گھونٹ لیے تھے تھوڑی دیر میں روتے روتے جنید کے سینے سے لگے ہی سو گئی تھی جب اسکی بھاری سانسوں کی آواز آئی تو جنید نے ایک ٹھنڈی آہ خارج کی اسے اپنی باہوں میں بھرا اور اسکے کمرے میں جاکر اسے بیڈ پر لٹایا پھر اپنے گھر کیلئے نکل گیا
💜💜

میر جانتا تھا کہ طارق خان کی ایک بیٹی بھی ہے جو اسکے باپ سے زیادہ تیز ہے باپ جان لیتا تھا تو اسکی بیٹی چلتی پھرتی ملکلموت تھی وہ اسکی بیٹی کو مارنا نہیں چاہتا بلکہ ڈبل کراس کرنا چاہتا ہے اسلئے آگے کے عمل کو تیار کیا اسکی انفارمیشن کے مطابق رابی کا کوئی بوائےفرینڈ بھی تھا جو لڑکیوں کی سمگلنگ میں ملوث تھا اور یہ غیر قانونی تھا مطلب مر گیا تو ثواب ملے گا اور جس چیز کے آگے ثواب لگ جائے وہ کام تو امپورٹنٹ ہوتا ہے اور میر جانتا تھا کہ رابیعہ خان اسکے باپ کی موت کا بدلہ ضرور لے گی وہ گہرا سا مسکرایا اور اپنے کونسٹیبل کو اشارہ کیا اور ایک لفافہ اسکے ہاتھ میں پکڑایا اور اچھے سے سمجھایا
‘The real game is begins’
میر دلکشی سا مسکرایا اور باہر نکل گیا
‘اسکا مطلب ہے کسی کی موت کا پروانہ ہے اس میں’ کونسٹیبل لفافے کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا اور باہر نکل گیا
💜💜

آج فصیحہ اور دانیال کا نکاح تھا دانیال کے چہرے سے مسکراہٹ جائی نہیں رہی تھی ادھر فصیحہ کے چہرے پر بھی شرمیلی سی مسکراہٹ تھی
نکاح حال میں رکھا گیا تھا جہاں نکاح ہونا تھا وہاں بیچ میں ایک پردہ ڈالا گیا تھا ایک طرف لڑکی والے اور دوسری طرف لڑکے والے یہ جگہ اسپیشلی لالی نے سیٹ کی تھی دانیال کو پردے کے دوسرے سائڈ پر بٹھادیا گیا تھا تھوڑی دیر میں فصیحہ آتی ہوئی دکھی جسے لالی نے تھاما ہوا تھا
دانیال جسنے سفید کرتے پر کالی واسکوٹ پہنی تھی انتہا کا وجیہہ لگ رہا تھا تو دوسری طرف فصیحہ نے آف وائٹ گھٹنوں سے تھوڑی اوپر تک فراک جس پر شیشیوں کا کام ہوا تھا ہم رنگ دوپٹہ سائڈ پر پن کیا ہوا تھا لال رنگ کا دوپٹہ آنکھوں تک کرکے گھونگھٹ کیا تھا کوئی معصوم سی پری لگ رہی تھی
لالی اور پری نے سیم ڈریسنگ کی تھی وائٹ میکسی پر بے بی پنک دوپٹہ دونوں ہی دیکھنے میں ڈولز لگتی تھیں اب تو پرنسیز لگ رہی تھیں
تھوڑی دیر میں نکاح شروع ہوا پہلے فصیحہ کا ہوا اور اسکے بعد دانیال کا کچھ ہی دیرمیں وہ فصیحہ آفاق سے فصیحہ دانیال شاہ بن گئی تھی
نکاح کے بعد وہ پردہ ہٹادیا گیا تھا اور فصیحہ کا گھونگھٹ بھی اوپر کردیا تھا دانیال کے دل نے فصیحہ کو دیکھ کر ایک بیٹ مس کی تھی لالی نے ان دونوں کو ایک ہی صوفے پر بٹھادیا تھا تاکہ وہ آرام سے بات کرسکیں
‘آہم آہم مبارک ہو مسز دانیال شاہ’ دانیال نے اسکے کان میں سرگوشی کی
‘آپکو بھی’ فصیحہ نے ہلکے سے کہا دانیال نے بے ساختہ اسے دیکھا آپ تو کبھی کہا نہیں تھا
‘ہئے اللہ آپ’ لالی نے انٹری ماری ”تو نے کب سے تمیز سکھلی آنٹی نے دو جوتے مارے ہونگے نہ تبھی” لالی کی بات پر دانیال نے قہقہ لگایا تو فصیحہ نے لالی کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
‘خیر ہم جارہے ہیں بھابھی آپ دونوں اپنا رومینس جاری رکھیں’ لالی شرارت سے کہتی وہاں سے بھاگی
💜💜

‘پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد بڑی بھابھی آنے والی ہیں’ حمدان نے نیا شوشا چھوڑا
‘تمہیں کیسے پتا’ سحرش نے حیرانگی سے اسے دیکھا
‘پتا نہیں کیوں مجھے بس لگتا ہے’ اسنے سب کی طرف دیکھ کر کہا اس وقت لاؤنج میں وجدان حمدان ریان سفیان عمر بہروز سحرش فری رواحہ فاطمہ موجود تھے
‘ہاں بھائی جو بولتے ہیں وہ اکثر سچ ہی ہوتا ہے’ عمر نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی
‘لیکن سوچو میر بھائی ہم سب کے بڑے بھائی ہیں ان کی بیوی یعنی ہم سب کی بڑی بھابھی اگر وہ پھاپھاکٹنی ٹائپ ہوئیں تو’ بہروز نے بڑے پتا کی بات کی
‘تو وہ ہم سب کو گھر سے باہر نکال دیں گی’ رواحہ کو نئی فکر جاگی
‘اور تو اور میر بھائی کو بھی چھین لیں گی ہم سے’ فری کو غش پڑا تو سفیان کو کچھ ہوا
‘اور وہ ہماری پراپرٹی پر قبضہ کرلیں گی’ وجدان کا ہاتھ سینے پر گیا
‘اور پھر وہ سب کچھ چھین کر میر بھائی کو بھی دھوکا دے کر بھاگ جائیں گی’ ریان بھی پریشان ہوا
‘پھر ہم سب غریب ہو جائیں گے سڑک پر بھیک مانگیں گے وہ پھاپھاکٹنی ہماری جائداد پر عیش کرے گی’ حمدان بھی بولا
‘ہم یہ سب بی جان کو جاکر بتاتے ہیں وہی کچھ کریں گی’ فاطمہ بھی اب پریشان ہوگئی تھی
اب سب بی جان کے کمرے میں موجود تھے اور اپنی پریشانی بھی بیان کر چکے تھے
‘لا ہولا ولا قوت ارے کیوں ہوگا ایسا تمھارا بڑا بھائی تم لوگوں کی طرح بے وقوف نہیں ہے اسی کی طرح کی ہوگی کوئی…’ وہ ابھی بول ہی رہی تھیں کہ وجدان بول پڑا
‘اللہ نہ کرے میر بھائی جیسی تو بلکل نہ ہوں وہ تو بلا ضرورت ہنستے بھی نہیں ہیں ازلی درجے کے کھڑوس اور سڑیل واقع ہوئے ہیں وہ اگر وہ پھاپھاکٹنی ہی ہیں تو وہ ہی ٹھیک ہیں’
‘ارے بھئی جو بھی آئے گی تم لوگ اسے اپنے جیسا بنا لینا ورنہ وہ کیا کہتے ہیں ایڈیسٹ کرلینا’ بی جاننے انگلش کی ٹانگیں توڑیں
‘ایڈجسٹ بی جان’ عمر نے انکی انگلش صحیح کرائی
‘ہاں بھئی وہی’ تھوڑی دیر میں سب ادھر ادھر ہوگئے تھے کیونکہ حسبِ معمول حمدان بی جان کو بھڑکا چکا تھا دادا جی کا ذکر کرکے
💜💜

دوسرے دن طارق صاحب کا سویم رکھا گیا تھا سب رشتےدار آئے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں چلے گئے تھے رابی بھی گم سم سی بیٹھی تھی اپنے کمرے میں جب ہی اسے پرائیویٹ ڈیٹیکٹو کا میسج موصول ہوا اور جو لکھا تھا اس نے اسکا خون خولا دیا تھا
‘طارق صاحب کے قاتل کا پتا چل چکا ہے تھوڑی ہی دیر میں آپکے پاس کچھ تصویریں آئیں گی کورئیر کے زریعے اس میں سارے ثبوت ہیں’
اب رابی کو صرف کورئیر والے کا انتظار تھا اور تھوڑی ہی دیر میں کورئیر والا کورئیر دے کر جا چکا تھا
اب منظر کچھ ایسا تھا کہ ساری تصویریں ٹیبل پر پڑی تھیں ثبوت میں ایک یو ایس بی تھی جو لیپ ٹاپ میں لگی تھی اور رابی اسکے سامنے بیٹھی تھی سکرین پر چلنے والا وہ ہول ناک منظر جس میں طارق صاحب کو آگ لگائی گئی تھی جس نے لگائی تھی وہ کوئی اور نہیں تھا اسکا اپنا تھا وہ بے یقینی سے اسکرین کو دیکھ رہی تھی کیا یہ سچ تھا اور اگر یہ سچ تھا تو اسکا انجام بہت برا ہونا تھا
‘میں چھوڑوں گی نہیں ایسی موت ماروں گی اور ایسا عزاب لاؤں گی نہ کہ تمہاری سات نسلیں تو اس دنیا میں آئیں گی ہی نہیں بلکہ جو ہیں وہ بھی تباہ ہونگیں’ وہ پھنکاری تھی اس وقت وہ ناگن صرف ایک زخمی شیرنی تھی اور بیٹی جو شاید شیرنی سے بھی زیادہ خطرناک کے رہی تھی

جاری ہے………