Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 29
از قلم انعم رئیس

لالہ رخ صبح اٹھی تو اسکے دائیں طرف ٹیبل پر ایک گلاب کا پھول رکھا تھا وہ چونکی
‘یہ کس نے رکھا’ لالی نے گلاب کا پھول اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرتے ہوئے سوچا اور پھر مسکرائی اس گلاب کو روم میں رکھے ایک واس میں رکھ دیا اور اس میں پانی ڈال دیا
آج کی صبح کافی روشن صبح تھی جیسے ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوں ہر طرف گلاب کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی فریش ائیر میں سانس لینے سے دل کو راحت محسوس ہورہی تھی لیکن کیا یہ صبح روشن تھی یا دل آج ایک الگ لے میں دھڑک رہا تھا لیکن دھڑکتا تو روز تھا پھر کیا محبت کرنے لگی تھی وہ یا کسی کے اظہارِ محبت نے دل پر برف رکھ دی تھی یا پھر اس اظہارِ محبت نے آگ بھڑکائی تھی
اس نے آج پہننے کے لئے ڈریس نکالا بیگ سے اس نے اپنے کپڑے الماری میں سیٹ نہیں کیے تھے دوسرے وارڈروب میں اپنا بیگ رکھ دیا تھا کبھی کپڑے لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اسے لگتا تھا وہ یہاں پر وقتی ہے مگر آج اس نے اپنا ایک ایک ڈریس خود ہینگ کیے اپنی وارڈروب اچھے سے سیٹ کی
پھر ایک لونگ ریڈ شرٹ نکالی جسکے ساتھ کھلے پائنچوں والا بلیک ٹراؤزر تھا ساتھ نرم سا کالے رنگ کا نیٹ کا دوپٹہ تھا وہ نکالا اور نہانے چلی گئی

💜💜

میر پولیس اسٹیشن میں بیٹھا مستقل لالی کو سوچ رہا تھا ایک پیاری سی مسکراہٹ نے چہرے پر احاطہ کیا ہوا تھا کیا محبت کا احساس اتنا پیارا تھا کہ اسے ہوش ہی نہیں تھا ہوش تو تب `یا جب کسی نے ڈور نوک کیا
‘سر یہ آپ کیلئے ہے’ ایک حولدار نے میر کی طرف ایک لفافہ بڑھایا جسے میر نے پکڑ لیا تھا پھر دو انگلیوں سے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا اور پھر وہ لفافہ کھولا تو اندر ایک کاغذ تھا جو پورا سفید تھا کھولا تو کاغز کے بلکل درمیان میں کچھ الفاظ لکھے تھے لال رنگ سے
‘ایف آئی آر پھاڑ دو ایس ایس پی نہیں تو دوبارہ ایف آئی آر لکھنے کے قابل نہیں رہوگے اور اسے خالی خولی دھمکی مت سمجھنا’
میر نے کاغز کو لاپرواہی سے میز پر پھینکا اور کرسی پر پیچھے ہوکر ٹیک لگائی لیکن دماغ میں کچھ کلک ہوا تو چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ ابھری پھر انٹرقوم اٹھایا اور اسی حولدار کو بلایا اور وہ کسی بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا جسے بس حکم چائیے تھا اور پھر اسکی تکمیل ہونی تھی
‘آج تمہارے لئے نہیں کسی اور کیلئے حکم ہے جاؤ اور جن لوگوں نے یہ لفافہ بھیجا ہے انہیں زرا یہاں کے درشن کراؤ’ میر کی سرسراتی آواز کسی کو بھی اپنے آگے کھڑا نہیں ہونے دیتی تھی پھر تو یہاں یہ کونسٹیبلز ہوتے تھے جن کی جان پر بنی ہوتی تھی

💜💜

‘تم لالہ رخ کو مار بھی تو سکتے ہو یہ سب کرکے کیا ملے گا’ رابیعہ اب اس اندھیرے کمرے میں نہیں بلکہ اسابیل کے ایک فارم ہاؤس پر تھی آج وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر اسکے پاس آیا تھا پلان سمجھانے
‘مجھے لالہ رخ کو مارنے میں وہ مزا نہیں آئے گا معمولی سی وہ لڑکی میرا کیا بگاڑے گی اسلئے اسے اور معمولی بنا کر کیڑے مکوڑے کی طرح مسلنا ہے تاکہ اسکی ماں کو پتا چلے جو میرا ہے وہ میرا ہے’ اسابیل کے لہجے میں کہیں بھی تھوڑا سا بھی پیار نہیں تھا اپنی بیٹی کیلئے کیا وہ اتنی سستی تھی اور شاید یاں تبھی اسکا باپ اسکو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا
‘غلط تم سراسر غلطی پر ہو تم اپنی بیٹی سے ملے ہو کبھی’ رابیعہ نے اسابیل سے پوچھا تو اسنے نفی میں سر ہلایا
‘بس ایک دفعہ جب وہ لاہور کے رستے میں ایک ہوٹل پر تھی اور اسکے ساتھ وہ ایس ایس پی اور اسکا دوست بھی تھا تب ہی دیکھا تھا’ اس نے تفصیلی سا بتایا تو رابیعہ نے مسکرا کر ہلکا سا سر نفی میں ہلایا
‘تم اپنی بیٹی کو نہیں جانتے لیکن میں جانتی ہوں وہ کوئی معمولی نہیں ہے نہ ہی ڈرپوک ہے تمہاری جیسی دھاڑ اکڑ دھونس اور دماغ وہ تو تم سے بھی زیادہ ہے اس میں کب کیا سوچتی ہے اور کیا کرتی ہے کوئی اسے سمجھ نہیں سکا ایک طرف وہ لاپرواہ ہے تو دوسری طرف وہ حساس ہے دوسروں کے دماغ پڑھنا اور پھر انہیں اپنی مرضی سے گھمانا وہ لڑکی مجھ سے بھی زیادہ تیز ہے میں صرف مات دوں گی تو وہ شہ مات دے گی اسلئے جو کرنا ہے سوچ سمجھ کر کرنا ورنہ اس سے ہارنے کے لئے تیار رہنا’ وہ ایک جذب کے عالم میں بولی تھی کہ اسابیل بھی اسے دیکھے گیا ہلکا سا دل کے کسی کونے میں بیٹی کا احساس جاگا تو آنکھیں مسکرائیں لیکن پھر وہی دولت کی ہوس
‘اسی لئے میں چاہتا ہوں تم میرا ساتھ دو آخر تمہاری تو اس سے دشمنی ہونے والی ہے’ وہ پراسرار لہجے میں بولا
‘مطلب’ رابیعہ ٹھٹھکی
‘تم جسکے لئے یہاں آئی ہو مطلب جس سے محبت کرتی ہو اس سے بہت گہرا تعلق ہے لالہ رخ کا’ وہ مسکرارہا تھا مسکراہٹ تھی کہ گہری ہورہی تھی
‘جو کہنا ہے صاف کہو’ رابیعہ کے دل میں جو خدشات آرہے تھے وہ چاہ کر بھی انکی تصدیق نہیں کرنا چاہتی تھی
‘تمہاری محبت کی محبت ہے لالہ رخ’ الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ رابیعہ کو لگا کسی نے اسکے کان میں صور پھونک دیا ہو ایک خاموش سا آنسو ٹوٹ کر گرا آنکھ سے جب کہ دل دھاڑیں مارکر رویا تھا ہونٹ ہولے سے لرزے اور کسی کا نام بغیر آواز پیدا کئے بھی کہہ گئے
‘میر گیلانی’
اسکی اس سرگوشی پر اسابیل عثمانی مسکرایا بادشاہ تھا وہ اپنی ریاست کا مگر اب وہ بہت سے دلوں پر حکومت کرنے والا تھا اور وہ بھی زبردستی

💜💜

میر گھر پھنچا اور لالہ رخ کو ڈھونڈنے کے لیے نظریں ادھر ادھر دوڑائیں تو ایک کالے رنگ کا آنچل کچن سے جھانکتا ہوا محسوس ہوا گویا لالی کے وہاں ہونے کا ثبوت دیا ہو اس نے میر مسکراتا ہوا اپنے کمرے میں چلاگیا
لالہ رخ جو میر کے قدموں سے ہی پہچان گئی تھی کہ وہ آگیا ہے کچن میں چھپ گئی لیکن یہ کیا اسکا دوپٹہ اس سے بغاوت کرگیا اور ہوا کہ دور پر اس طرح لہرایا کہ سامنے والے کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہو اپنے دوپٹے کی اس حرکت پر تو دل ہی دل میں مسکرائی لیکن چہرے پر گہبراہٹ کی آثار آگئے تھے
وہ اسکے جانے کے بعد اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں گئی اندر گئی تو وہ کسی سے فون پر بات کررہا تھا لالی کی نظر اسکی گھڑی پر گئی وہ مسکرائی
نچلا لب دانتوں کے بیچ دباتی ہوئی آگے آئی میر ٹیرس پر کھڑا تھا اسلئے سلائیڈ ڈور کھلا تھا وہ بغیر آواز پیدا کیے اسکی طرف آئی میر ریلنگ پر اپنا بایاں ہاتھ رکھے کھڑا تھا جب کہ وہ اسکے برابر میں کھڑی تھی اپنا نیٹ کا دوپٹہ آگے کیا اور اسکی گھڑی میں پھنسایا وہ اپنا کام کرتی ہوئی چور نظروں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی لیکن وہ شاید کوئی بہت ضروری بات کررہا تھا اسلئے یہاں نہیں دیکھ سکا لالی کے مطابق جب کہ وہ فون پر بات کرتے کرتے اسکی ایک ایک حرکت کو اچھے سے نوٹ کررہا تھا بلکہ اپنی نظروں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا لال رنگ کی قمیض میں ریڈ روز لگ رہی تھی وہ سیدھا میر کے دل میں اتر رہی تھی لمبے بال اب چٹیا میں بندھے تھے لیکن کچھ شرارتی لٹیں اسکے چہرے سے کھیل رہی تھیں
لالی اپنا دوپٹہ پھنسا کر اب اسکے برابر میں اسی کی طرح ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئی تھی اور میر کا دل تو بس اپنی شیرنی کی قربت پانے کے لیے مچل رہا تھا فون پر اگلے بندے کی بات سنے بغیر ہی کال کاٹی آں…آں…اب اسے صرف وہ چائیے تھی اور کونی نہیں وہ اسکی طرف گھوما تھا ہاتھ پیچھے ہوا تو لالی کا دوپٹہ کھیچا
‘ارے یہ کیسے اٹک گیا’ وہ بھرپور حیران ہوئی اور جھجھکتے ہوئے ڈرامے بازی کرتے ہوئے اسکے قریب آئی میر نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا جب کہ بائیں ہاتھ میں پکڑا موبائل جیب میں ڈالا پھر لالی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو خود سے قریب کیا
لالی جو اس بات پر خوش تھی کہ وہ میر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواگئی ہے اب اسکی اتنی قربت پر اپنا دوپٹہ آزاد کرانا مشکل ہوگیا تھا چہرے پر ننھی پسینے کی بوندیں ابھریں تھیں

سن ساتھیاں ماہییاں
برسادے عشقاتی سیاہیاں
رنگ جاؤں رنگ رنگ جاؤں رے
تجھ پہ میں جھل جھل جھل جاؤں رے
پیا بس تیری میں چھولے تو کھری میں
سن ساتھیاں ماہییاں
برسادے عشقاتی سیاہیاں

‘وہ…وہ یہ نن نکل ہی نہیں رہا’ وہ کہلائی اسکے اس طرح بولنے پر میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اسے خود سے اور قریب کیا
‘ہ.ہ۔ہم نننکال لیں گے دد۔دور تو ہوں’ لالی اسکے اور قریب آنے پر کنفیوژ ہوئی اسلئے وہ اسے دور ہونے کا کہہ رہی تھی جو اسکی قربت میں سکون حاصل کررہا تھا کیسے چھوڑدیتا اسے میر نے اپنا ہاتھ جو لالی کے ہاتھ میں تھا اس سے لالی کا ہاتھ تھاما اور اپنے ہونٹوں کے قریب لایا اور اس پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
اسکے لمس پر لالی ششدر رہ گئی اتنا دہکتا لمس کانوں میں آج صبح کی سرگوشیاں گونجی

میں ریت سی بوند کا ذریعہ تو
پا کہ تجھے بھیگ جاؤں رے
تر جاؤں ترتر جاؤں دریا یہ تر جاؤں جی
عشقی یہ پاکر تیرا نکھر جاؤں
پیا بس تیری میں چھولے تو کھری میں

(‘یہ پھول کون لایا تھا’ لالی نے مالی بابا سے پوچھا کیونکہ یہ پھول اسے باہر گارڈن کا ہی لگا تھا
‘ارے یہ یہ تو میر بابا لے کر گئے تھے’ مالی بابا نے مسکرا کر کہا)
لالی نے جلدی سے اپنا دوپٹہ اسکی گھڑی سے کھینچا تو وہ ہلکا سا پھٹ گیا اس نے میر کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگ گئی
‘بس اتنی ہی ہمت تھی میری شیرنی میں کل جب میرے ہاتھ لگو گی تو کیا ہوگا’ وہ مسکراتا ہوا لالی کا شرم و حیا سے ہوتا لال چہرا یاد کررہا تھا

سن ساتھیاں ماہییاں
برسادے عشقاتی ساہیاں

💜💜

‘ڈیڈ’ لالی انصار صاحب کے سامنے کھڑی تھی اسکے ہاتھ میں کافی سارے امرود تھے انصار صاحب کے ساتھ بی جان اور فہیم صاحب بھی موجود تھے
‘یہ امرود کون لایا ہے بھئی اور دکھنے میں تو کچے لگتے ہیں’ انہوں نے لالی کے ہاتھ سے ایک امرود لیتے ہوئے کہا انکی نظر لالی کے کپڑوں پر گئی جہاں مٹی لگی تھی ‘مٹی کیسے لگ گئی کہاں تھی تم’ وہ اسکا خیال بلکل بچوں کی طرح رکھتے تھے
‘وہ نہ سامنے جو رؤوف صاحب کا گھر ہے نہ انکے گھر پر اتنا بڑا امرود کا درخت ہے تو بس ہماری تو نیت خراب ہوگئی انکا چوکیدار جانے ہی نہیں دے رہا تھا تو ہم دیوار پھلانگ کر گئے اور درخت پر چڑھ کر توڑ لیے’ وہ اپنی بات مکمل کرتی ہوئی انکے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی وہ سب لان میں بیٹھے تھے لالی کی بات پر انصار صاحب اور فہیم صاحب نے قہقہ لگایا جب کہ بی جان اسے فکر مندی سے دیکھ رہی تھیں
‘لگی تو نہیں کہیں لالی’ وہ فکرمندی سے بولی تو اس نے نفی میں سر ہلایا
‘یار ڈیڈ وہ روؤف انکل نے ہمیں دیوار پھلانگتے اور یہاں آتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ نہ آرہے ہونگے آپ ہمیں بچا لیں پلزززز’ وہ منت سماجت کرنے لگی تھی
‘انصار’ روؤف صاحب لان میں ہی آگئے تھے انصار صاحب کھڑے ہوئے تو لالی انکے پیچھے چھپ گئی
‘ارے کیسے ہو روؤف آج کل نظر ہی نہیں آتے’ انہوں نے ان سے سلام دعا کی لالی نے پیچھے سے جھنج کر دیکھا تو روؤف صاحب نے اسے دیکھ لیا
‘تم انصار یہ لڑکی میرے گھر سے امرود چرا کر بھاگی ہے لڑکی ہوکر یہ حرکتیں کرتی ہے’ انہوں نے اسے ڈانٹا
‘ارے چھوڑو بچی ہے سدھر جائے گی تمہارے امردوں پر اسکی نیت خراب ہوگئی تھی بس اسی لیے لینے چلی گئی’ وہ مسکراتے ہوئے اسکی طرف سے سفائیاں دینے لگے
‘ویسے ہے کون یہ کبھی دیکھا تو نہیں اسے بھتیجی وغیرہ ہے کیا’ روؤف صاحب نے لالی کے بارے میں پوچھا
‘میر کی بیوی ہے یہ ہمارے گھر کی بڑی بہو’ انصار صاحب نے اسکا تعارف کروایا تو روؤف صاحب کو میر یاد آیا
‘کیا یہ میر کی بیوی ہے’ انہیں یقین نہیں آیا تھا شاید انصار صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو وہ بی جان اور فہیم صاحب سے ملے اور لالی کو بھی کہا جاتے جاتے کہ اسے اور امرود چاہئے ہوں تو وہ لے سکتی ہے

💜💜

لالی جوس پی رہی تھی کچن کی سلپ پر بیٹھ کر رواحہ اس سے باتیں کررہی تھی جب گھر کے لینڈ لائن پر کسی کا فون آیا تو عمر نے گے بڑھ کر فون اٹھایا فون سن کر عمر کے چہرے کی ہوائیاں اڑیں تھیں
لالی نے عمر کو دیکھا تو وہ ٹھٹھکی
‘عمر کیا ہوا ہے’ لالی نے عمر سے پوچھا
‘ممم…میر بھائی کو گگ۔گولی لگی ہے’ عمر نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی ادھر رواحہ کی چیخ نکلی جب کہ لالی کے ہاتھوں سے جوس کا گلاس چھوٹ کر زمین پر گرا اور ٹوٹ کر چکنا چور ہوا
‘میر’ لالی کہتے ہوئے عمر کے پاس آئی ‘ہمیں لے چلو پلزز ہمیں ایس ایس پی صاحب کے پاس لے چلو’ وہ مسلسل اسے کہہ رہی تھی جب کہ عمر کی حالت بھی خراب ہوگئی تھی یہ پہلی بار تھا کہ میر کو گولی لگی تھی ‘عمرررر’ وہ چیخی تھی اسکا گریبان پکڑ کر تو وہ ہوش میں آیا
رواحہ بھاگ کر لالی کے پاس آئی ‘فور گوڈ سیک لالہ رخ سنبھالو خود کو’ اس نے لالی کو کہا تو وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں آئی کیا کررہی تھی وہ اس نے خالی خالی نظروں سے رواحہ کو دیکھا اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی اور اندر سے روم لوک کرلیا
‘کیا ہوا ہے عمر بتاؤ مجھے’ رواحہ نے عمر کا رخ اپنی طرف کیا
‘آپی میر بھائی کے گردے سے گولی چھو کر نکلی ہے’ عمر کو اب سمجھ آیا تھا وہ کیا کرگیا تھا
‘کیا وہ ٹھیک تو ہیں’ بی جان باہر آئیں تو عمر کی بات سن لی تھی
‘جی بی جان مگر لالی نے صرف گولی لگی ہے سنا ہے اس طرح وہ پریشان ہوتی رہے گی’ وہ پریشانی سے بولا
‘بیوی ہیں وہ انکی عمر انہیں پورا حق ہے جاننے کا جائیں اور جاکر انہیں پوری بات بتائیں’ وہ بی جان تھیں جانتی تھیں میر کو پہلی بار گولی نہیں لگی اسلئے خاموش رہیں عمر اب واپس آرا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ دروازہ نہیں کھول رہیں
‘تمہیں تمیز نہیں ہے کوئی ایسے ڈراتا ہے کسی کو’ رواحہ نے ایک زوردار تھپڑ رسید کیا اسے تو وہ شرمندہ ہوگیا

💜💜

وہ جو گھٹنوں پر سر رکھ کر رو رو رہی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی متوجہ نہیں ہوئی وہ جو اسکا بھرم تھا کہ کبھی محبت نہیں کرے گی اپنی محبت کو بھول بھی جاتی لیکن جنید کی موت نے اسے اندر تک ہلایا تھا کہ کیسے اسکے عشق نے اسکی جان لی تھی اور یہاں یہاں تو وہ عشق کر بیٹھی تھی کیوں بھول گئی تھی وہ کہ نکاح ہوا تھا اس سے وہ نکاح جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ دلوں میں محبت پیدا کرہی دیتا ہے وہ جتنا ماننے سے انکار کررہی تھی آج سب کچھ کھل کر سامنے آیا تو نظریں چرانے کے بجائے پھوٹ پھوٹ کر روئی
میر جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا نیچے بیٹھ کر سب سے باتیں کرتے ہوئے پتا چلا کہ عمر نے لالی کو پوری بات نہیں بتائی تھی جسکی وجہ سے وہ ابھی تک کمرے سے نہیں نکلی تھی وہ بے حد بےچین ہوا اسلئے جلدی سے اپنی شیرنی کے پاس آیا اپنے کمرے کی چابی وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا ابھی تک پولیس کی وردی میں موجود تھا وہ
اندر آیا تو کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا لالی بیڈ سے ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھی شاید رو رہی تھی
‘لالہ رخ’ اسکی بھاری آواز کمرے میں گونجی وہ جو رو رہی تھی اسکی آواز سے سر اٹھا کر بے یقینی سے اسے دیکھا اور پھر چلتی ہوئی اسکے سامنے آئی
‘گگ۔گولی لگی تھی’ وہ شاید اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی میر نے پہلے روم کی لائٹ جلائی اور اسے لے کر بیڈ پر آیا اور اسے بٹھایا اور خود اسکے سامنے بیٹھا
‘چھو کر گزرگئی ہے زیادہ نہیں لگی’ میر نے اسکو پرسکون کرنا چاہا
‘مطلب لگی ہے’ لالی کی آنکھ سے آنسو رواں تھے میر نے سر اثبات میں ہلایا
‘رو کیوں رہی ہو’ میر کو اسکا رونا کچھ اور ہی لگا تھا میر کے پوچھنے پر وہ اسکے سینے سے لگی جیسے کوئی غم گسار مل گیا تھا
‘کیوں ہم نہیں جانتے خود ہی ہوگیا’ ج شاید وہ ساری تکلیفوں پر رونا چاہتی تھی
‘کیا ہوگیا’ میر نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں
‘ہمیں محبت نہیں عشق ہوگیا ہے’ وہ اظہارِ عشق کرنے چلی تھی شاید
‘کس سے’ میر کا ہاتھ پک بھر کیلئے روکا تو اس نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
‘تم سے سنا تم نے ہمیں تم سے عشق ہوگیا ہے میر گیلانی ہم ہار گئے ہم خود سے کیا وعدہ توڑ گئے ہم ہار گئے’ کچھ دن پہلے جو وہ محبت کا اظہار کررہا تھا آج لالی نے اس سے محبت کا نہیں عشق کا اظہار کرکے اسکی محبت کو شکست دی تھی

جاری ہے…………