Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 19
از قلم انعم رئیس

نکاح اسی پرانی فیکٹری میں ہونا تھا امان اللہ مولوی صاحب کو لینے گیا تھا علی میر کو سمجھا رہا تھا شبانہ بیگم زمان صاحب اور دانیال ایک کونے میں کھڑے تھے ایسے میں لالی بلکل اکیلی کھڑی تھی اپنی قسمت سے محو گفتگو تھی
(سنبھل جاؤ یار بڑے بڑے خواب دیکھنے لگی ہو آج کل کیا تم یہ نہیں جانتیں کہ جس کے ساتھ تم ہمیں باندھ رہی ہو وہ قانون سے ملوس ہے اور ہم نے اسی قانون کو توڑا ہے اس کے نزدیک وہ تڑپا تڑپا کر مارے گا طارق خان کی موت نہیں دیکھی تھی تم نے کیسے مارا تھا اسے یہ نہیں ہے کہ ہم موت سے ڈرتے ہیں ہم تو وہ ہیں جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہیں آ موت ہے ہمت تو گلے لگا لیکن کیا کریں ابھی مرنے کا موڈ نہیں ہے کیونکہ وہ ناگن ابھی کھلے عام گھوم رہی ہے ہماری زندگی میں آگ لگا کر ہمارا ہی تماشا دیکھ رہی ہوگی) وہ انہی سوچوں میں گم کھڑی تھی کہ امان اللہ مولوی صاحب کو لے آیا
‘سر مولوی صاحب آگئے ہیں’ امان اللہ میر کی طرف آیا علی نے بیٹھنے کا انتظام کردیا تھا اس فیکٹری میں کچھ کرسیاں بھی تھیں
‘چلو وقت ہوگیا ہے لالی کے جنازے کا اور تمہاری جیت کا لیکن یاد رکھنا میر اس بار میں تمہارے ساتھ تمہاری جیت کا حصہ نہیں بنوں گا بہن بولا ہے اسے میں نے اور میں اپنا فرض نبھا کر رہوں گا’ علی نے میر کو ٹھیک ٹھاک سنائیں لالی اور اپنا رشتہ بھی جتایا وہ کہہ کر لالہ رخ کے پاس چلا گیا جو اکیلی کھڑی تھی
💜💜

‘لالی’ علی نے آج اسے پہلی بار لالی کہا تھا
‘ہم بے گناہ ہیں ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا نہ تو جنید کو مارا ہے اور نہ ہی کوئی بے حیائی کی ہے بھائی آپ تو سب جانتے ہیں نہ ہم گناہگار نہیں ہیں’ لالی کو صدمہ لگا تھا شاید علی نے تڑپ کر اسکی طرف دیکھا
‘میں سب جانتا ہوں لالی مگر ہم دونوں کے پاس پاس ثبوت نہیں ہیں جو تمہیں بے گناہ ثابت کریں اور تمہیں بے گناہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ تم وہاں موجود تھیں…’ علی کہہ رہا تھا کہ لالی نے روکا
‘نہیں علی بھائی آپ کچھ ثابت نہیں کریں گے نہ ہی کسی کو کچھ بتائیں گے آپ نے دیکھا نا رابیعہ نے کیا کیا ہمارے ساتھ وہ تیز ہونے کے ساتھ ساتھ پاورفل بھی ہے کیونکہ اسکے پاس ہم لوگوں سے زیادہ شہرت ہے اس لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہے’ لالی نے اسے سمجھایا علی کو بھی یہی ٹھیک لگا کیونکہ پہلے ہی بہت کچھ ختم ہوگیا تھا جنید اور اسکی ماں اسکے بعد لالہ رخ کے کرئیکٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا
لالہ رخ کو چادر اڑانے شبانہ بیگم آگے بڑھیں اور اسکی شال جو اسنے کندھوں پر ڈالی تھی سر پر اوڑائی وہ جانے لگیں کہ لالی نے انکا ہاتھ پکڑا اور انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی نظریں جھکائیں اور دونوں ہاتھوں سے انکے دونوں ہاتھ تھامے

‘آپ نہ دنیا کی ورلڈ بیسٹ امی ہیں سب سے اچھی آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے اتنا پیارا دل دیا ہے کہ کسی اور کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنا کر پالا اتنا تو اپنے بھی نہیں کرتے اور آپ نے تو ایک غیر کو اپنی عزت بنائی ہم یہ بھی جانتے ہیں آپ نے ہمارے لیے بہت تعنے سنے تھے لوگوں نے کتنا کہا تھا کہ اسے چھوڑدو لیکن آپ کی ممتا کو شاید یہ گوارا نہیں تھا اسلئے اپنے بچوں کی طرح ہماری پرورش کی ہم تو بھول ہی گئے تھے کہ ہم کسی اور کی بیٹی ہیں’ لالی کی نظریں جھکی ہوئی تھیں آنسو گال پر بہہ رہے تھے شبانہ بیگم نے پالا تھا اسے کیسے دیکھ لیتیں اپنے کلیجے کو اس حال میں تھوڑی دیر پہلے غصّے میں سنادیا تھا

‘وہ غلطی سے نکل گیا تھا منہ سے غصّہ آگیا تھا مجھے لیکن میں نے کتنے پیار سے رکھا تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی لیکن تم نے مجھے میری نظروں میں گرادیا بیٹیاں اپنی ماں کا نصیب لے کر پیدا ہوتی ہیں کل تک صرف سنا تھا لیکن آج دیکھ بھی لیا کیونکہ تم اسی کی طرح کی نکلیں مجھے افسوس نہیں ہوا کیونکہ بیٹا تمہاری فطرت ہی ایسی تھی’ شبانہ بیگم نے اس بار نرم لہجے میں کہا تھا لیکن لالی کو لگا اس سے زیادہ تلخ رویہ کوئی ہوئی نہیں سکتا
💜💜

میر اور لالی آمنے سامنے بیٹھے تھے میر لالی کو دیکھ رہا تھا اور لالی صرف زمین کو گھور رہی تھی آنکھیں بلکل خشک تھیں
شبانہ بیگم اور علی لالی کے پاس کھڑے تھے میر کے پیچے امان اللہ کھڑا تھا مولوی صاحب کے ساتھ زمان صاحب اور دانیال تھے پہلے زمان صاحب اور دانیال نے لڑکی کے گواہوں میں اپنا نام لکھا اور سائن کیے اسکے بعد علی اور امان اللہ نے لڑکے کے گواہوں میں اپنا نام لکھا اور سائن کیے اب مولوی صاحب لالی کی طرف آئے تھے اور نکاح شروع کیا
”لالہ رخ بنتِ اسابیل عثمانی آپکا نکاح میر گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے” مولوی صاحب نے لالی کی طرف دیکھا
لالی کا ہاتھ کانپا شبانہ بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا علی بھی اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا لالی نے خالی خالی نظریں اٹھاکر اسے دیکھا علی نے اثبات میں سر ہلایا تو لالی کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا
‘قبول ہے’ کیا کمالِ ضبط تھا
‘کیا آپ کو قبول ہے’ ایک بار پھر پوچھا گیا
لالی کا سر درد سے پھٹنے کو ہوا تھا
‘قبول ہے’
‘کیا آپ کو قبول ہے’
‘قبول ہے’ (ہاں ہمیں قبول ہے ہاں ہمیں یہ قید قبول ہے ہاں ہمیں یہ زندان قبول ہے ہاں ہمیں یہ موت قبول ہے)
اب میر سے پوچھا گیا
“میر گیلانی ولد انصار گیلانی آپکا نکاح لالہ رخ بنتِ اسابیل عثمانی کے ساتھ حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے” مولوی صاحب کی بات پر میر پراسرار سا مسکرایا
‘قبول ہے’
پھر پوچھا گیا میر نے دوبارہ اقرار کیا
(مبارک ہو مسز میر گیلانی میں نے کہا تھا نہ کہ تمہیں کوئی قانون نہیں میں سزا دوں گا لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ کائنات بھی بدلہ لینا چاہتی ہے تم سے)
تھوڑی دیر میں نکاح ہوا لیکن مبارک باد کسی نے کسی کو بھی نہیں دی کیسی مبارک باد نہ تو دولہا خوش تھا اور نہ ہی وہ معصوم سی دولہن خوش تھی بس یہ تو ایک انتقامی کارروائی کی گئی تھی کسی کو عزت بچانی تھی کسی کو بدلہ لینے کا شوق چڑھا تھا
شبانہ بیگم لالی کے پاس آئیں اور اسے سینے سے لگایا لالی اس پورے واقعے میں کہیں نہیں روئی اب بھی صرف ایک آنسو نکلا جو شبانہ بیگم کے دوپٹے میں جذب ہوگیا تھا
”تم بھلے سے میرا خون نہیں ہو میری بیٹی نہیں ہو لیکن میں نے تم میں اور پری میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا لیکن اب جو حالات تم نے اپنے لیے پیدا کیے ہیں اس سب کے بعد میں تمہیں اپنے گھر میں کبھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں دونگی اور جو تم نے میرا مان توڑا ہے اس کیلئے خدا کرے تمہیں کوئی خوشی نصیب نہ ہو’ شبانہ بیگم کا دل رو رویا تھا جب کوئی اپنا بے وفائی کرتا ہے نہ تو ایسا ہی ہوتا ہے انکی بات پر لالہ رخ کی آنکھیں جھک گئیں
پیچھے کھڑے میر نے بھی سنا تھا ہلکا سا مسکرایا اور بولا ‘آمین’

رانجھے کی فریبِ نظر کی کہانی پڑھی ہے
اس کہانی کو ہر لمحے میں رسوائی ہوئی ہے
روک جاؤ آگے کا مرحلہ کٹھن ہے کیونکہ!
ابھی تو فریبِ عشق کی کہانی شروع ہوئی ہے
💜💜

شبانہ بیگم زمان صاحب اور دانیال نکاح ہونے کے بعد ہی نکل گئے تھے گھر کیلئے امان اللہ بھی چلا گیا تھا میر اور علی بھی کچھ ڈسکس کر رہے تھے لالی دور کھڑی اپنے بیگ میں سامان رکھ رہی تھی
سامان رکھنے کے بعد شال جو اسکو سر پر تھی اتار کر کندھے پر ڈالی اسکارف تو اسنے پہلے ہی پہنا ہوا تھا بیگ کو اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے
میر نامحسوس انداز میں اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کررہا تھا اسکا باہر جانا میر کو ٹھٹکا علی نے بھی مڑ کر لالی کو دیکھا تو اسکے پیچھے گیا وہ صرف دو قدم چلی تھی اسلئے میر وہیں کھڑا تھا
‘کہاں جارہی ہو’ علی لالی کے آگے آیا
‘گھر نہیں ہے نہ اسی لئے وہی ڈھونڈنے جارہے ہیں’ لالی کا لہجہ بےتاثر تھا
‘کیوں گھر نہیں ہے نکاح ہوا ہے اسکے ساتھ تمہارا’ علی نے میر کی طرف اشارہ کیا ‘تم اسکے ساتھ ہی رہوگی’
‘آپ یہ بات اچھے سے جانتے ہیں علی بھائی کے ایس ایس پی صاحب نے ہمارے کردار پر تہمت لگائی ہے ہمارے ماں باپ کے سامنے ہمیں رسوا کیا ہے اسکے بعد بھی’ لالی کو علی کی عقل پر افسوس ہوا میر تو اسکے طرزِ تخاطب پر حیران تھا
‘جو بھی ہے لیکن اب یہ تمہارا شوہر ہے’ علی نے اسکو سمجھانا چاہا
‘شوہر آپ پہلے اپنے دوست سے پوچھ لیں کہ یہ اس نکاح کو مانتے بھی ہیں جو انہوں نے ایک انتقام کی آڑ میں کیا’ لالی دھاڑی
‘ہاں نہیں ہے مجھے کوئی شوق تمہیں اپنی بیوی بنانے کا جو میری بیوی ہوگی اسکا کردار بلند ہوگا اور تم…تم تو نہ جانے کس کا گندہ خون ہو’ میر کا دماغ گھوم گیا تھا لالی کے چیخنے سے
اسکی بات پر لالی نے علی کی طرف دیکھا جو اپنے دوست کو گھور رہا تھا
‘ہم جانتے ہیں کہ ہم کس کی بیٹی ہیں اور جو آج آپ نے ہمارے کیریکٹر پر سوالیہ نشان لگایا ہے نہ اسکا حساب آپکو دینا پڑے گا اور وہ بھی سود سمیت بی ریڈی میر گیلانی اور علی بھائی امید ہے کے آپ کو سمجھ آگیا ہوگا ہمارا رکنا بےکار ہے’ لالی نے میر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھمکی دی تھی پھر چلتی ہوئی مین گیٹ سے باہر نکل گئی تھی
‘میر’ علی نے بے یقینی سے اسے دیکھا
‘واٹ’ میر نے کندھے اچکائے اپنے الفاظوں کا دکھ اسے اب ہوا تھا
‘تو نے یہ سب کیوں کیا میر مجھے صرف اتنا بتادو پہلے اسکو بدنام کیا اسکے بعد نکاح کیا اس سے اب بیوی ماننے سے انکار کررہا ہے کیوں’ علی وہیں کھڑا تھا
‘کیونکہ اس نے جنید کو مارا تھا اور تو بجائے بدلہ لینے کے اسکی حمایت کررہا ہے’ میر چلتا ہوا علی کے سامنے کھڑا ہوا
‘شکر مناؤ میر کہ تم سہی سلامت میرے سامنے کھڑے ہو میں جنید کو کھو چکا ہوں لیکن تمہیں نہیں کھونا چاہتا بہت کچھ لالہ رخ کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور جو چھپا ہے وہ بہت بھیانک ہے یار اور مجھے اچھے سے پتا ہے کہ اب مجھے کیا کرنا ہے’ علی میر کو کنفیوز چھوڑتا ہوا باہر نکل گیا میر بھی اسکے پیچھے باہر آیا لیکن جب تک وہ جاچکا تھا
💕💕
اہم آہم انعم رئیس آپ لوگوں کو پھر سے فلیش بیک میں واپس لے جانا چاہتی ہیں تو چلتے ہیں فلیش بیک کی طرف
یہ منظر آج شام کا ہی ہے جب علی کے کیبن میں دو تین غنڈے اندر گھسے
‘آپ لوگ کون ہیں’ علی نے آرام سے پوچھا
‘تم جنید فروز غزالی کے دوست ہو’ ان میں سے ایک نے پوچھا
‘ہاں میں ہی ہوں’ علی حیران ہوا
‘تمہیں ہی اس دن جنید نے کال کی تھی نہ’ اسنے سیدھا سیدھا پوچھا
‘ہاں اس نے مجھے ہی کال کی تھی لیکن کیوں’ علی سنجیدہ سا انہیں دیکھ رہا تھا
‘تو اب کان کھول کر سنو تیرا یہ دوست تو مر چکا ہے لیکن اگر تو اسکی موت کے بارے میں کچھ جانتا ہے تو بھوک جا نہیں تو تیرا ایک دوست اور بھی ہے……’ وہ اسے دھمکی دے رہے تھے
‘کیا مزاق ہے یہ’ علی دھاڑا
‘مزاق تو ہم کرتے نہیں ہیں سیدھا ٹھوکتے ہیں’ وہ اسے دھمکی دے کر چلے گئے تھے پیچھے علی پریشان ہوگیا تھا وہ میر کو پھر بھی سب سچ بتانا چاہتا تھا اسلئے ہوسپٹل سے پولیس اسٹیشن جانے لگا کہ اسے راستے میں ہی کڈنیپ کرلیا گیا
اسلئے علی نے میر کو کچھ نہیں بتایا تھا
💜💜

شبانہ بیگم نے پری اور فصیحہ کو ایک ساتھ سب بتادیا تھا لالی کے بارے میں دونوں ہی شوک تھیں پری کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ لالی اسکی بہن نہیں ہے فصیحہ بھی اچانک حیران ہوئی تھی اس سچ پر اسنے بھی شبانہ بیگم کو لالی کے بارے میں سب بتایا ارمان کے بارے میں بھی

لالہ رخ کی ماں کؤثر بیگم زمان صاحب کی دودھ شریک بہن تھیں وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خوبسیرت بھی تھیں
وہ اپنے وقت کی وہ حسین لڑکی تھیں جنہوں نے اسابیل عثمانی کے دل کی سلطنت پر حکمرانی کی تھی
اسابیل عثمانی بگڑا ہوا رئیس زادہ جسے کؤثر کی خوبسیرتی نے بدلہ تھا
کؤثر بھی اسابیل سے محبت کرنے لگی تھی لیکن گھر والے نہیں مانے تھے اسلئے وہ گھر سے بھاگ گئیں تھیں
اسابیل نے انہیں بےشمار محبت سے نوازا تھا شادی کے دو مہینے بعد کؤثر نے ممتا کی دہلیز پر قدم رکھا ایک سال بعد خدا نے انہیں بیٹی کی رحمت سے نوازا جسکا نام لالہ رخ رکھا تھا لیکن لالی کی پیدائش کے دو مہینے بعد کؤثر اور اسابیل عثمانی ایک ایکسیڈنٹ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے
لالہ رخ چونکہ ایک گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی کی اولاد تھی اس لئے سب نے اسے پالنے سے انکار کردیا تھا ایسے میں شبانہ بیگم اور زمان صاحب نے اس ننھی سی گلابی گڑیا کو پالا تھا جب دانیال صرف پانچ سال کا تھا
شبانہ بیگم نے لالہ رخ کو اسکی حقیقت سے پہلے ہی آشنا کردیا تھا لیکن لالی تو بس شبانہ بیگم کو اپنی ماں مانتی تھی
💜💜

لالہ رخ اکیلی تنہا اس سنسان سڑک پر چل رہی تھی سوچ رہی تھی کہ رات ہوگئی ہے کہاں جائے کون پنہا دیگا
وہ سوچ رہی تھی کہ اچانک اسکے سامنے گاڑی آکر رکی وہ دو قدم پیچھے ہوئی نظریں اٹھاکر دیکھا تو میر تھا
لالی نے اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہا لیکن میر نے فرہت سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی سے لگایا اور دائیں بائیں دونوں بازو رکھ کر اسکے جانے کی راہیں بند کیں
‘اس بدتمیزی کا مطلب’ لالی غررائی
‘تم نے مجھے دھمکی دی’ میر نے ایک ہاتھ سے اسکا منہ دبوچا
لالی نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور بولی
‘اب یہ مت کہنا کہ آن ڈیوٹی پولیس والے کو دھمکی دینا جرم ہے’ لالی منہ بسور کر بولی
‘جرم تو تم نے کیا ہے’ میر کی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں
‘ثبوت ہے تو آئیں ہتھ کڑی لگائیں اور لے جائیں’ لالی ہاتھ سینے پر باندھ کر آرام سے بولی
‘ثبوت تو میرے پاس…’
‘اوہ پلز ایس ایس پی صاحب کون سے دور میں جی رہے ہیں یہ کوئی ثبوت نہیں ہیں صرف آپ کو بھٹکانے کی سازش ہے آنکھیں کھول کر بیٹھیں لوگ آپکی ناک کے نیچے بیٹھے کھیل کھیل رہے ہیں اور آپ…’ اس نے بات ادھوری چھوڑی
میر اس سے دور ہٹ کر آگے بڑھنے لگا لالی نے گہری سانس لی اور بات شروع کی
‘وہ ایی…ایک منٹ’ لالی نے اسے روکا تو اسنے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
‘ہمارے پاس کوئی گھر نہیں ہے ابھی رات گزارنے کے لیے سر پر چھت مل جائے تو…’ لالی نے اسکی طرف دیکھا کیسا رشتہ تھا دونوں کے درمیان بیوی تھی وہ اسکی لیکن اپنی اوقات سے واقف تھی بچپن سے اسے خوددار رہنا سکھایا تھا
میر جواب دینے کے بجائے گاڑی میں بیٹھ گیا اور ہارن دیا مطلب بیٹھو
لالی اتنی ہی بات پر خوش ہوگئی تھی کہ اسے رہنے کیلئے جگہ تو ملی پھر چاہے وہ ایک رات کیلئے ہی کیوں نہ ہو صبح وہ اپنے لئے کوئی جگہ تلاش کرکے گی
وہ فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی اور اپنے بیگ کو اپنی گود میں رکھا کافی بھاری تھا
💜💜

میر اور لالی کا نکاح نامہ علی کے پاس تھا
علی میر کے لہجے کو سوچ رہا تھا کہ ناجانے وہ لالی کے ساتھ کیا کرے گا لیکن تھوڑی دیر پہلے میر کا میسج ملا تھا اسے جس میں اسنے لالی کا اپنے ساتھ ہونے کا لکھا تھا علی اب پر سکون ہوگیا تھا
“علی” نجمہ بیگم نے علی کے روم کا دروازہ کھٹکھٹایا
‘جی امی جان’ علی نے دروازا کھولا
‘تم اپنا کھانا پینا کم کب کروگے’ نجمہ بیگم نے اسکو ایک تھپڑ جڑا
‘اب آپ بھی میرے کھانے پر نظر رکھنے لگیں’ علی کو دورہ پڑا
‘میں نہیں گھر کی ملازمہ پریشان آگئیں ہیں کام کرنے سے منع کررہی ہیں کہتی ہیں جنات کا بسیرا ہے تم میں’ نجمہ بیگم نے اب اسکا کان پکڑ کر موڑا
‘یار اب میں کیا کروں مجھے بھوک ہی اتنی لگتی ہے’ علی نے اپنا کام چھڑاکر معصومیت سے کہا
‘پتا ہے وہ کیا کہہ رہی تھیں کہ تمہاری شادی کردیں تاکہ تمہاری بیگم تمہارے نخرے اٹھائے اب میں کیا بتاؤں کہ تمہیں کوئی لڑکی دیتا بھی تو نہیں ہے’ انہوں نے اس بات کی کثر بھی علی کو مار کر نکالی
‘ارے یار کیوں مار رہی ہیں آپکا بیٹا اپنے لیے لڑکی خود پسند کرے گا’ علی نے دانتوں کی نمائش کی
‘ہمم وہ بھی کھانے پینے کی شوقین ہوگی’ نجمہ بیگم نے اسے ترچھی نظروں سے گھورا
‘لگتا تو نہیں ہے’ اسکے منہ سے نکلا
‘آہم آہم تو ہمارے بیٹے نے پسند کررکھی ہے’ نجمہ بیگم نے ہنسی دباتے ہوئے کہا
‘چھوٹو سی ہے کالج کی سٹیوڈینٹ ہے معصوم سی’ علی کی آنکھوں پر پری کا عکس لہرایا
‘چھوٹی سی ہے کوئی بات نہیں میرے بیٹے کے ساتھ جچے گی اور ویسے بھی تم اتنے پیارے نہیں ہو’ نجمہ بیگم نے اسے چھیڑا

جاری ہے……….