Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 25
از قلم انعم رئیس

آج اتوار کا دن تھا حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ آج سب جلدی اٹھ گئے تھے کیونکہ اب میر واپس جو لوٹ چکا تھا اسلئے سب وقت سے پہلے اٹھے تھے کیونکہ آج سب کا جم ڈے بھی تھا
میر کے روم میں بنا وہ بائیں طرف والا دروازہ جسے لالی نے کبھی نہیں دیکھا تھا وہ کچھ اور نہیں جم تھا لالی نے اسلئے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ میر کے اٹھنے سے پہلے اٹھتی تھی میر نے اپنے کام کی ساری زمہ داریاں لالہ رخ پر ڈالی تھیں اسلئے وہ صبح میر کے لئے ناشتہ بنانے کےلئے جلدی اٹھتی تھی اور رات کو میر کے سونے کے بعد روم میں آتی تھی وہ گھر کی آدھی زمہ داریاں اپنے کندھوں پر لے چکی تھی کیونکہ اب اسکا سب کچھ یہی فیملی تھی
‘یہاں پر جم بھی ہے’ لالی نے حیرانگی سے پوچھا
‘ہاں تم نے نہیں دیکھا کیا؟’ بہروز نے پوچھا جو اس وقت ٹریکنگ سوٹ میں تھا
باقی سارے بھی آچکے تھے میر بلیک ٹراؤزر اور بنا شرٹ کے جم میں ایکسرسائز کررہا تھا
‘نہیں ایس ایس پی صاحب نے کبھی ہمیں بتایا ہی نہیں’ لالہ نے منہ بنا کر کہا
‘ویسے ایک بات بتاؤ تم میر بھائی کو ایس ایس پی صاحب کیوں کہتی ہو؟’ حمدان نے ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا
‘وہ ہمارے یہاں شوہر کا نام نہیں لیتے’ لالی نے شرمانے کی بھرپور ایکٹنگ کی
‘او بس اب صحیح بات بتاؤ’ عمر نے منہ بنا کر کہا
‘بس ایسے ہی ہمیں ایس ایس پی صاحب کہنا اچھا لگتا ہے’ لالہ رخ نے اپنے دل کی بات کہی
‘اووو’ عمر اور بہروز نے اسے چھیڑا
‘چلو ورنہ میر بھائی ڈانٹیں گے’ حمدان نے ان دونوں کو آکر کہا
تو سب اوپر چل دیے لالی بھی کچھ سوچتے ہوئے آگے بڑھ گئی
💜💜

تھوڑی دیر میں لالی بھی ٹریک سوٹ پہنے بالوں کی اونچی پونی بنائے جم میں موجود تھی
اندر داخل ہوئی تو میر پش اپ لگا رہا تھا اور عمر اسکا اپر پکڑے کھڑا تھا
لالہ رخ نے پہلی بار میر کی باڈی دیکھی تھی چوڑھا سینہ پھولے ہوئے مسلز پر ابھری نسیں سکس پیک ایبز گردن پر موجود پسینے کی ننھی بوندیں جبڑے بھینچے ہوئے تھے
لالی کے دل نے اعتراف کیا تھا اس سے زیادہ وجیہہ انسان اس نے آج تک نہیں دیکھا بڈھا تو وہ اسے چڑانے کیلئے کہتی تھی حالانکہ اسکی پرسنلٹی پر تو اسکا کرش تھا

تجھے دیکھنے کے سو بہانے تھے
ہائے وہ زمانے بھی کیا زمانے تھے

میر جو پش اپ لگا رہا تھا اچانک خود پر کسی کی نظروں کا احساس ہوا تو گردن گھما کر دیکھا تو لالی اسے گھور رہی تھی اسکے دیکھنے وہ بیچاری سٹپٹا گئی میر کہ ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیلی اور غائب ہوئی تھی
‘ایس ایس پی صاحب اکیلے اکیلے پش اپ لگا رہے ہیں ہمارے ساتھ لگائیں کبھی’ لالی نے ٹریڈمل کو سیٹ کرتے ہوئے کہا
سب کے ہاتھ روکے وجدان اور حمدان جو ڈمبلز اٹھا رہے تھے روکے ریان جو روئینگ مشین پر تھا وہ بھی روکا سفیان اور بہروز جو اولمپک برینچ مشین پر تھے ان دونوں نے بھی چونک کر لالی کو دیکھا جو لاپرواہی سے رنینگ کر رہی تھی
‘کیا اسکا دماغ خراب ہے’ سفیان نے بہروز سے کہا تو اس نے کندھے اچکائے
میر روکا نظروں کا زاویہ اس پاگل لڑکی کی طرف کیا اور اٹھ کر کھڑا ہوا اور سینے پر ہاتھ باندھے
‘کیوں’ ایک لفظی سوال
‘ایسے ہی’ اس نے کندھے اچکائے اور پھر مشین کو بند کرکے میر کے پاس آئی اور آنکھوں سے اسے اپر پہننے کا اشارہ کیا جسے سمجھتے ہی میر نے اپر پہنا
‘وہ شرط لگالیں ہم سے’ لالی نے میر کے پاس جاکر قدرے کم آواز میں کہا میر نے آنکھوں کو چھوٹا کیا جیسے پوچھ رہا ہو کیا
‘اگر ہم جیت گئے تو ایک ہفتے تک بیڈ پر ہماری حکومت’ لالی کی آنکھوں کی چمک دیکھنے والی تھی میر نے بھی کچھ سوچ کر ہامی بھرلی
اب سب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے لالی اور میر آمنے سامنے تھے
‘ہار جاؤگی’ میر نے کہا
‘دیکھا جائے گا’ وہ بھی لالی تھی
دونوں زمین پر اب الٹے لیٹے تھے ہاتھوں کو زمین پر رکھے اوپر اٹھایا اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پش اپس اسٹارٹ کیں
سب لوگ آنکھیں نکالے لالی کو دیکھ رہے تھے میر اور لالی ایک ساتھ چل رہے تھے پندرہ منٹ میں پچاس پش اپس کا ٹاسک تھا
ابھی دس منٹ ہوئے تھے کہ تیس بار پش اپس ہوچکیں تھیں دونوں ایک ساتھ تھے
لالہ رخ کی سانس پھول گئی تھی پھر اپنا صوفے پر سونا یاد آیا تو ڈٹ گئی میر لالی کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسکی نظر اسکے نظر اسکے بازوؤں پر گئی اپر پہنا ہوا تھا لیکن مسلز کی وجہ سے اپر کے بازو ٹائٹ تھے
میر کو ناجانے کیا ہوا تھا کہ وہ تھوڑا سا روکا لالی چونکی اور جلدی جلدی پش اپس لگائیں اور اب وہ میر سے آگے تھی
‘پندرہ منٹ ختم’ عمر نے چیخ کر کہا تو لالی نے خود کو ڈھیلا چھوڑا اور زمین پر گری میر اسکو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور عمر کو جوس لانے کا اشارہ کیا
عمر فریش جوس اٹھا کر میر کی طرف آیا اور اسے پکڑایا اور پھر باقی سب باہر چلے گئے تھے
‘جوس’ میر نے لالی کے سامنے جوس رکھا تو وہ زمین پر بیٹھ گئی اور گھٹنوں کو کھڑا کرکے سینے سے لگایا بائیں ہاتھ سے ٹانگیں کور کیں اور جوس اٹھایا میر اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا تھا ایک گھٹنا زمین پر تھا جب کہ ایک کھڑا ہوا تھا اور اس پر ہاتھ رکھا تھا جب کہ نظریں لالی کے چہرے کا اعتراف کررہی تھیں جو جوس کو ایسے ہی رہی تھی جیسے اس سے زیادہ کچھ امپورٹنٹ نہیں میر کو ناجانے کیا سوجھی کہ اس نے اپنی اپر کی زب کھول دی جسکی وجہ سے اسکا سینہ نظر آرہا تھا
لالی جو میر کو اگنور کررہی تھی اسکی اس حرکت پر آنکھیں باہر کو آئیں جوس ہلق میں اٹک گیا تھا چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا تو پورا روم خالی تھا اس کے بعد جلدی سے جوس ختم کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی
‘ہ…ہم ہم جججاتے ہیں’ وہ اٹک اٹک کر بولتی کمرے سے نکلنے کیلئے قدم بڑھائے
جب اچانک میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا وہ اس پر گری میر اسکی گھبراہٹ بڑھا رہا تھا وہ بری طرح کنفیوژ ہوئی
میر نے اسکے کمر پر اپنے بازو باندھے لالی کے دونوں ہاتھ میر کے سینے پر تھے
میر اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور وہ آنکھیں مینچے اسکی گود میں بیٹھی تھی جب اچانک میر لالی کے کان کی طرف جھکا
‘اچھی لگ رہی ہو’ میر نے اسکے کانوں میں سرگوشی کی لالی کے دل کی دھڑکن میر آرام سے سن سکتا تھا لالہ رخ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور اسکی طرف دیکھا ہوش میں نہیں لگتا تھا اسے وہ
‘ہم جیت گئے ہیں اور ہم اپنا انعام بھی وصول کریں گے اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم صوفے پر سوئیں گے تو آپکی غلط فہمی ہے’ لالی نے ناک سکوڑ کر کہا کسی صورت یقین نہیں کرسکتی تھی وہ اس دوغلے انسان پر
‘کاش تم کہتیں کہ ہم آپ کے ساتھ آپکے بیڈ پر سوئیں گے’ میر کی آنکھوں میں شرارت تھی لالی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی کل تک تو مرنے مارنے پر تلا ہوا تھا آج کیا ہوا اسے کہیں جوس میں نشے کی گولیاں تو نہیں تھیں
‘ایک منٹ چھوڑیں ہمیں پہلے’ لالی نے کہا تو میر نے اسے ناسمجھی سے چھوڑدیا لالی نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا
‘بخار تو نہیں ہے’ لالی نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا
‘آپ نشا کرنے لگے ہیں’ لالی نے شکی نظروں سے اسے گھورا
‘مطلب’ میر سنجیدہ ہوا
‘ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کررہے ہیں کل تو ہمیں جان سے ماررہے تھے آج کیا ہوا’ لالی کی بات بلکل ٹھیک تھی
💜💜

یہ ایک ریسٹورنٹ تھا جہاں دو نفوس پیچھے کی جانب ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے
‘یوں سر جھکانے سے کیا ہوگا’ ان میں سے ایک بولا ‘اتنا ہی پچھتاوا ہورہا ہے تو پیر پکڑ کر معافی مانگ لو’ وہ تنزیہ بولا
‘مجھ میں ہمت نہیں ہے اس کا سامنا کرنے کی’ دوسرا نفوس شرمندگی میں گھرا ہوا تھا
‘تو پھر یہ سب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اب بھگتو’ سامنے بیٹھا ہوا شخص غصے سے بھرا ہوا تھا
‘میں بہک گیا تھا’ آنکھیں ہنوز جھکی ہوئیں
‘تم سارا سچ بتادو اسے مجھے نہیں لگتا زمان نے سچ بتایا ہوگا’ وہ شخص کچھ سوچ کر بولا
‘سب ختم ہو جائے گا وہ مرجائے گی اور رابیعہ بھی کہیں کا نہیں چھوڑے گی خود کو بھی ختم کرے گی اور ساتھ اسے بھی مار دے گی’ وہ بے تحاشہ خوف زدہ تھا
‘تم نے اپنی حوس میں دو لوگوں کی زندگیاں برباد کردیں اب اگر سچ سامنے کو آرہا ہے تو تم اسے چھپا رہے ہو شرم کرو مزید گناہ کرنے سے بچ جاؤ’ اسنے اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا تو اسنے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے
‘میں پاگل ہورہا ہوں مجھے کؤثر کی آوازیں اپنی کانوں میں سنائی دیتی ہیں اسکی آہیں اسکا خدا کا واستہ دینا میں مرجاؤں گا’ وہ بےبسی کی انتہا پر تھا تو سامنے والا نفوس کھڑا ہوا
‘تمہارا مرنا ہی بہتر ہے لیکن مرنے سے پہلے جن لوگوں کی زندگیاں خراب کی ہیں ان کیلئے کچھ اچھا کرجانا’ وہ اسکے کندھے پر دباؤ ڈالتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا

💜💜

میر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے جم سے نکال کر روم میں لے آیا روم کا دروازہ بند کیا اسے صوفے پر بٹھایا اور خود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا اسکی دراز سے کچھ نکالا اور پھر لالی کے سامنے صوفے پر بیٹھا ایسے کے دونوں ٹانگوں پر ہاتھ تھے اور ٹانگوں کے درمیان ہاتھوں میں گن لٹک رہی تھی لالی اور میر کے درمیان ایک ٹیبل تھی
لالی نے میر کی طرف دیکھا اور پھر گن کو دیکھا اور ایک لمبی سانس خارج کی میر کی آنکھوں سے شعلے بھڑک رہے تھے تھوڑی دیر پہلے کی نرمی محبت اب کہیں نہیں تھی اب اگر کچھ تھا تو صرف ایک رشتہ جو ایک چور اور پولیس کے درمیان ہوتا تھا
میر نے کچھ تصویریں اور وہ سارے ثبوت لالی کے سامنے رکھے گن اب بھی ہاتھ میں تھی
‘مجھے پتا ہے تم جھوٹ بولنے میں ماہر ہو لیکن اب مجھے صرف سچ سننا ہے’ میر نے لالی کو دیکھا
‘دیکھیں…’ لالی کی بات میر نے کاٹی
‘صرف سچ’ میر دھاڑا لالی کا ہاتھ کانپا وہ خوفزدہ ہورہی تھی
‘اچھا ٹھیک ہے’ لالی نے لمبی سانس کھینچی اور میر کی طرف دیکھا اور پھر اسے سب سچ بتاتی گئی لالی نے میر کو سب سچ بتایا تھا ایک لفظ نہیں چھپایا تھا بس رابی کے باپ کا ذکر اسکے دماغ سے نکل گیا تھا
رابیعہ خان کے نام پر میر چونکا دماغ میں طارق خان کا عکس لہرایا لیکن وہ یہ بات کیسے مانتا کیونکہ جس دن جنید کا مرڈر ہوا تھا اسی دن روہن کا مرڈر بھی ہوا تھا کسی نے اسکی گاڑی کے بریک فیل کیے تھے اور یہ تو صرف وہی جانتا تھا کہ روہن کے مرڈر کی پلینینگ میر کی طرف سے تھی اور دوسرا یہ کہ جنید سے رابیعہ کا کیا کنیکشن اور لالہ رخ رابیعہ کو کیسے جانتی ہے
‘رابیعہ خان کو کیسے جانتی ہو’ میر نے لالی سے پوچھا
‘یونیورسٹی میں ہم سے ایک سال سینئر تھی ہمارے ڈپارٹمنٹس بھی الگ تھے’ لالی کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں
‘اسٹرینج بھلا رابیعہ خان جنید کو کیوں مارے گی’ میر نے نظروں کو ترچھا کرکے اسے دیکھا
‘ہہ.ہ.ہمیں نہیں پتا’ لالی کی حالت خراب ہورہی تھی
‘جھوٹ’ میر نے ٹیبل پر ہاتھ مارکر کہا
‘نن..نہیں پتا ہمیں کچھ’ اسکی آواز کانپی
‘قتل تم نے کیا ہے’ میر کی بات پر لالی نے سر جھٹکے سے اٹھایا ہر طرف بے یقینی ہی بے یقینی تھی
‘ساری بات چھوڑیں اور ہمیں ایک بات بتائیں’ اب لالی کی بس ہوگئی تھی پرانی ٹون میں واپس آئی ‘آپ نے اب تک کونسی ایسی انویسٹیگیشن کی ہے کہ مجرم ہم ہیں یہ بات ثابت ہوتا ہے’ لالی نے تیر سے نشانہ لگایا تھا اسکی بات پر میر مسکرایا
‘کیونکہ میں جانتا ہوں تم مجرم نہیں ہو میں تو بس سچ سننا چاہتا تھا تم سے’ میر نے اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ کر کہا اور اپنی گن ایک سائیڈ پر رکھی دونوں کے بیچ فاصلہ کم تھا
لالی نے اسے دیکھا تھوڑی دیر پہلے والی بے یقینی اب لالی کی آنکھوں میں تھی
‘جھوٹ’ وہ جھٹ سے بولی
‘جھوٹ نہیں ہے یہ’ میر نے عجیب سے لہجے میں کہا
‘ہم کیسے مان لیں’
‘کیسے مانو گی؟’
‘کچھ بھی کرلیں ہم کیا ناول کے ریڈرز بھی نہیں مانیں گے’ لالی اب بھی حیرت میں تھی
‘کیوں؟’ سوال پوچھا گیا
‘کیونکہ کل تک جو شخص آپ کو مجرم سمجھ رہا ہو وہ اچانک سے کہے کہ آپ مجرم نہیں جھٹکا تو لگے گا’ وہ اب بھی بے یقین تھی
‘میں میر گیلانی ہوں ایس ایس پی میر گیلانی سچ اور جھوٹ کا فرق سامنے والے کی آنکھوں میں دیکھ کر لگا لیتا ہوں اور اس وقت تمہاری آنکھوں میں سچائی کی رمق ہے’ میر نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اسکی باتوں میں سچائی تھی
‘ہم نہ بہت تیز ہیں آپکی ان جھوٹی باتوں میں نہیں پھنسنے والے جانتے ہیں ہم آپ ایسا اس لیے کررہے ہیں تاکہ آپ بیڈ پر سو سکیں’ لالی نے ناک پھلا کر کہا اور جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور واشروم میں گھس گئی پیچھے میر بھی وارڈروب کی طرف بڑھ گیا ہونٹوں پر اب ہلکی سی مسکراہٹ تھی
💜💜

رواحہ اس وقت کیچن میں اکیلی اپنے لیے ناشتہ بنا رہی تھی بھوک لگ رہی تھی بہت تیز اور بانو بی(کام کرنے والی آنٹی) بھی نہیں آئیں تھیں
حمدان جو کیچن میں کافی بنانے آیا تھا رواحہ کو وہاں دیکھ کر ٹھٹکا پھر آگے پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا رواحہ اسکی طرف پیٹھ کیے کھڑی تھے لمبے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے
‘روح’ وہ گھمبیر آواز میں بولا تو رواحہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسکی سانس اٹکی بلیک ٹراؤزر وائٹ شرٹ بنا سلیوز کے وہ اسی طرف آرہا تھا
‘اوہ آج تو آپ کافی اپنی اپنی لگ رہی ہیں مسز حمدان’ وہ اسکی طرف بڑھتے ہوئے بول رہا تھا
وہ پیچھے ہٹ رہی تھی دل پسلیوں سے ٹکرا رہا تھا
‘میں کیا سوچ رہا تھا ایک سال بہت ٹائم ہے کہو تو ابھی ہی رخصتی کروالوں’ وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے دلکشی سے کہتا اسکے قریب آیا
‘یہ ککک…کیا کررہے ہ.ہ.ہو تم پپ…پلیز پیچھے ہٹو’ رواحہ نے اپنے خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے کہا
‘فلحال تو کچھ نہیں مگر تم چاہو تووو’ حمدان نے کیچن سلیپ پر رواحہ کے دائیں بائیں بازو رکھ کر جانے کی راہیں مسدود کیں
‘دد۔دور رہو پلیز’ ڈر کہ مارے رواحہ تھر تھر کانپی
‘شششش’ حمدان نے اسکی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا
اسکے پرحدت لمس پر رواحہ کا پور پور سلگا تھا جب کہ سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں تھیں اس نے خوف سے آنکھیں میچیں
حمدان نے دلچسپی سے اسکا یہ سہما سہما سا روپ دیکھا اور مسکرایا اور جھک کر اسکے دونوں گالوں پر اپنے ہونٹ رکھے

خوف سے یوں نہ آنکھیں بند کر
چومنے سے کوئی نہیں مرتا

اسکی اس حرکت پر اسکے گال لال ہوگئے تھے ناشتہ کو چھوڑ کر وہ اپنے روم میں بھاگ گئی اب کونسی بھوک پیچھے حمدان ہنستے ہوئے اپنے لیے کافی بنانے لگا

💜💜

بی جان نے لالہ رخ کو اپنے پاس بلایا تھا
‘جی بی جان’ لالی انکے کمرے میں داخل ہوئی تو انہوں نے اپنے پاس بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو لالی انکے پاس بیٹھ گئی
‘بیٹا میں میر کو جانتی ہوں اس نے تمہیں اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہوگا’ بی جان کی بات پر لالی نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
‘بیٹا میر جب پندرہ سال کا تھا تب اس پر چوری کا الزام لگا تھا تب وہ دو مہینے جیل میں رہ کر آیا تھا’ بی جان کی بات پر لالی نے جھٹکے سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا
💜💜
‘جب فری پیدا ہوئی تھی تو رامین(میر کی ماں) انتقال کرگئیں تھیں ایسے میں میر کو بہت دھچکا لگا تھا وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پائے تھے کافی سال لگ گئے تھے انہیں وہ یہاں سے دور چلے گئے تھے یعنی آپ کے شہر کراچی وہاں وہ غلط صحبت کا شکار ہوئے نہ صرف چوری کی بلکہ ایک آدمی کو زخمی بھی کیا اسلئے دو مہینے جیل رہ کر آئے تھے میر’ بی جان نے کہنے کے بعد لالی کو دیکھا جو اچھنبے سے انہیں دیکھ رہی تھی
‘لیکن آپ ہمیں یہ سب کیوں بتا رہی ہیں’ لالی نے بے ساختہ پوچھا بات بڑی تھی کیونکہ میر کا کیریکٹر جڑا تھا اس بات سے
‘کیونکہ بیٹا آپ انکی بیوی ہیں’ بی جان نے مسکرا کر کہا تو لالی کا چہرہ بےرونق ہوا اتنی بڑی بات اسے کیوں بتا دی ‘اور اسلئے بھی کہ اگر آپ کو کوئی میر سے بدگمان کرنے کی کوشش کرے تو آپ کو میر پر بھروسہ ہو’ بی جان نے لالی کا ہاتھ پکڑ کر مان سے کہا تھا
‘لیکن کوئی ہمیں کیوں بدگمان کرے گا ایس ایس پی صاحب سے’ لالی نے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا وہ اس انداز میں اتنی کیوٹ لگی تھی کہ بی جان نے اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھ دیے تھے وہ کھل کر مسکرائی
‘کیونکہ ہمارے خاندان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو میر کو پسند نہیں کرتے لیکن میر انکی بھی بہت عزت کرتے ہیں’ وہ اسے سمجھا رہی تھیں یا آنے والے وقت کیلئے تیار کررہیں تھیں وہ سمجھ نہیں سکی
‘تو ہم کیا کرسکتے ہیں بی جان’ لالی نے جھٹ سے پوچھا
‘تو بس آپ کو ہمیشہ میر کو سمجھنا ہے’ بی جان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
‘یہ تو بہت مشکل کام ہے اسکے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کیا’ لالی نے آرام سے منع کیا
‘لالہ رخ’ آواز میں تنبیہہ تھی
‘اچھا اوکے’ وہ منہ بناتے ہوئے باہر نکل گئی پیچھے بی جان مسکرائیں
‘ہم غلط تھے میر یہ تمہاری طرح نہیں ہے بلکہ بلکل بھی نہیں ہے ہم کہتے ہیں لوگوں کو انکی معصومیت خطرے میں ڈالتی ہے لیکن ہم یہ بات بھی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسکی معصومیت ہی اسکو بہت آگے تک کے لے کر جائیگی’ یہ وہ چند جملے تھے جو بی جان کے ساتھ شبانہ بیگم بھی کہتی تھیں
لیکن لالہ رخ کے لئے ایک جملا ایسا تھا جسکا جواب کوئی نہیں دے سکا تھا
‘کون ہے وہ؟’
💜💜

میر آج صبح لیٹ اٹھا تھا کیونکہ اسے آج پولیس اسٹیشن نہیں بلکہ کہیں اور جانا تھا اسلئے لالی بھی ابھی تک سو رہی تھی
لالی بیڈ پر سوئی تھی کافی ٹائم بعد اتنی اچھی نیند آئی تھی جیل میں زمین پر سو کر تو کمر ٹوٹ گئی تھی اور پھر یہاں آکر صوفہ اور وہ بھی اتنا سخت اٹھو تو کمر اسکے ہینڈل سے لگتی
میر آج بھی سویا تھا صوفے پر پہلی دفعہ کا ایکسپیرینس ہی ایسا اتھا کہ ابھی تک کمر میں درد ہورہا تھا اسلئے بڑی مشکل سے نیند آتی پ تھی وہاں
‘لالی’ میر اسے اٹھانے آیا تھا اور قدرے دھیمے لہجے میں اٹھا رہا تھا اسے
لالی کی نیند ابھی ہی ٹوٹی تھی
یہ جانے بغیر کہ کوئی اسکے برابر میں بیٹھا تھا ایک جان لیوا سی انگڑائی لی ساری کی ساری رونائیاں واضح ہوئیں میر کی نظروں نے وہ دلفریب سا منظر دیکھا تو دل میں گدگدی سی ہوئی تھی نظروں کا زاویہ بدلا اور خود پر کنٹرول کیا ورنہ دل تو مچلنے لگا تھا اسکو دیکھ کر
‘لالی’ ایک دفعہ پھر پکارا
لالی کو کافی دیر سے اپنے نام کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اس نے مڑ کر دیکھا تو برابر میں میر بیٹھا تھا وہ ایک دم بوکھلائی
‘آپ یہاں کیا کررہے ہیں’ دوپٹہ اوڑھتے ہوئے بولی وہ گھبرا گئی تھی
‘ریلیکس’ میر نے اسکے بوکھلائی ہوئی آواز سنی تو بولا ‘وہ کپڑے پریس کردینا میرے وہاں رکھیں ہیں’ وہ کہتا رکا نہیں اور واشروم میں گھس گیا
اسنے ایک گہرا سانس لیا اور خود کو کمپوز کیا پھر استری اسٹینڈ کی طرف بڑھی کپڑے دیکھے تو سر گھوم گیا بلیک تھری پیس سوٹ تھا ایک نظر واشروم کے گیٹ کو دیکھا اور پھر استری کا سوئچ اون کیا دس منٹ میں کپڑے پریس ہوچکے تھے پھر نیچے کچن کی طرف بڑھ گئی ناشتہ بنانے کے لیے
💜💜

ماہین خان کنسٹریکشن آئی تھی
‘ماہی’ عارف جو مصروف سا کام کررہا تھا ماہین کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی
‘کیسے ہو عارف’ اس نے خوشدلی سے اسکا مزاج پوچھا
‘میں ٹھیک ہوں لیکن ناجانے کیوں تم ٹھیک نہیں لگتیں’ عارف نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تو ماہین نے اثبات میں سر ہلایا
‘رابیعہ دو ہفتوں سے غائب ہے’ ماہین نے عارف کے سر پر دھماکہ کیا تھا
‘رابیعہ میم تو لاہور میں ہیں’ عارف نے بے یقینی سے پوچھا
‘سب کو یہی لگتا ہے کہ وہ لاہور میں ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہ تو کبھی لاہور پہنچی ہی نہیں’ ماہین کی آواز کانپ رہی تھی
‘تم مجھے یہ سب اب بتا رہی ہو پہلے کیوں نہیں بتایا’ عارف نے ہاتھ میں پکڑی فائلز ایک طرف رکھیں
‘کیا تم نہیں جانتے کہ جب بھی وہ کہیں جاتی تھی تو کسی سے بھی رابطہ نہیں کرتی تھی کیونکہ اسے وہاں ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگتا تھا اسلئے مجھے لگا وہ بعد میں فون کرلے گی لیکن اب دو ہفتے ہوگئے تھے اسکا کوئی میسج نہیں آیا نا ہی کوئی کال آج صبح ہی اس ہوٹل سے کال آئی تھی جو رابیعہ نے بک کرایا تھا کہہ رہے تھے کہ رابیعہ وہاں آئی ہی نہیں میں نے ائیرپورٹ پر بڑی مشکل سے معلوم کروایا تھا پیسے دے کر تو وہاں سے پتا چلا کہ رابیعہ خان اس دن فلائٹ میں موجود ہی نہیں تھی’ وہ بولنے کے ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی عارف جو کب سے اسکی باتیں سن رہا تھا اسکے رونے ششدر رہ گیا
‘اچھا اچھا ریلیکس بیٹھو یہاں’ اس نے چئیر کھینچ کر اسے بٹھایا اور خود اسکے لئے پانی لایا وہ دو چار گھونٹ پی سکی صرف
‘دیکھو رابیعہ خان کو تو تم بھی جانتی ہو اور میں بھی وہ اپنا خیال رکھ سکتی ہیں کچھ نہیں ہوا ہوگا انہیں’ اس نے سمجھانے کے انداز میں کہا
‘تم یہ سب چھوڑو اور اسے ڈھونڈو میرا دل گھبرارہا ہے مجھے میری دوست چاہئے’ وہ چیخی عارف نے دانتوں سے ہونٹ کاٹے کیسے سمجھائے اس پاگل لڑکی کو
رابیعہ خان کی دوست تھی یہ وہ رابیعہ خان جو اپنی پہچان میں بہت دور نکل گئی تھی وہ محبت نہیں جنگ کرتی تھی جس میں سب جائز تھا جس چیز سے ڈرتی تھی اس چیز کو اپنے ہاتھوں سے ختم کرکے اپنا ڈر ختم کرتی تھی اور ایک یہ لڑکی تھی کچھ کرنے سے پہلے ڈرتی ہی اتنا تھی کہ ننھا سا دل بھی کانپ جاتا چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا اسکی عادت تھی
یونی میں رابیعہ نے اسے اپنا دوست بنایا تھا خود کیونکہ محترمہ لیٹ ہوگئیں تھیں اسلئے رونے لگ گئی تھیں ایسے میں رابیعہ کو ایسی ہمدردی ہوئی تھی کہ اسے اپنا دوست ہی بنا لیا

💜💜

‘سنو ٹکے کے پولیس والے ناشتہ ریڈی ہے کرلوو.و’ لالی جو بے دیہانی میں میر کو ناشتہ کا کہنے آئی تھی میر کو دیکھ کر اسکی چلتی زبان رکی
میر بلیک تھری پیس پہنے برش سے اپنے بال بنا رہا تھا
افف۔افف لالی کو اپنا دل ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا تھا
میر نے شیشے میں سے پیچھے کھڑی لالی کو دیکھا برش رکھا اور دو انگلیوں سے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا لالی نا چاہتے ہوئے بھی اسکے قریب بڑھی آنکھیں تھیں کہ پلکیں نہیں جھپک رہی تھیں دل تھا کہ دھڑکنا بھول گیا تھا سانسوں میں میر کے پرفیوم کی خوشبو بس گئی تھی سنسناہٹ سی ہوئی تھی ہر قدم پر
وہ میر کے قریب آئی تو میر نے اپنی گھڑی اسکے ہاتھوں میں پکڑائی اور اپنے ہاتھ پر اشارہ کیا
لالی نے ٹرانس کی سی کیفیت میں گھڑی پکڑی میر نے اپنا بایاں ہاتھ آگے کیا مضبوط ہاتھ پر ابھرتی ہوئی نسیں لالی نے گھڑی پہنائی اور لوک بند کیا اور پھر ایک نظر بھر کر اسے دیکھا
‘کہاں جارہے ہیں’ لالی نے نیچے دیکھتے ہوئے پوچھا
‘کیوں’ سوال پر سوال کیا
‘چکر چل رہا ہے آپکا’ لالی نے اسے دیکھ کر آئیبرو اچکائی
‘ہاں’ میر نے بھی کندھے اچکائے
‘کون مل گیا ایسا’ ایک اور سوال
‘کوئی بہت خوبصورت’ میر کی آنکھوں نے لالی کو نظروں میں بسایا
‘لیکن آپ جتنا خوبصورت نہیں ہوگا’ لالی کی آواز پر میر کی آنکھوں میں حیرت ابھری
‘تعریف کررہی ہو’ میر نے کوٹ کا بٹن بند کیا
‘نہیں تنز کررہے ہیں’ لالی مسکرائی
‘کیسا تنز’ میر اب پوری طرح اسکی طرف متوجہ تھا
‘پیار بھرا تنز’ لالی کی نظریں زمین پر تھیں
‘محبت ہوگئی ہے؟’ پھر سے سوال
‘نہیں’ عجیب سا جواب
‘تو’ میر کے ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ ابھری
‘ٹرائے کررہےتھے سوچا نہیں تھا اتنے پیارسے بات کرہیں گے’ لالی نے مسکراہٹ دباتے ہوئے میر کے کندھے سے نادیدہ دھول صاف کی
‘کیسا ٹرائے’ میر نے ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائی اور سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا
‘ٹریک پر آؤ لڑکے ہم صرف سیٹی مارکر آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کررہے تھے’ لالی نے میر کو دیکھا اور دل نے ماشاءاللہ کہا
‘سیٹی بھی انہیں ماری جاتی ہے جو پسند آئے ہوں اسکا مطلب میں تمہیں پسند ہوں’ میر کی بات پر لالی لاجواب ہوئی
‘خبردار جو ہمیں اپنی ان باتوں میں پھنسایا ہو تو ناشتہ نیچے رکھا ہے کرلیں اور بانو بی کو کہہ دینگا وہ آپ کے لئے چائے نکال دیں گی’ لالی کہتی ہوئی واشروم میں گھس چکی تھی پیچھے کھڑے میر نے اپنے ہاتھ پر لب رکھے تھے جہاں کچھ دیر پہلے کے لالی کے ہاتھ کا لمس تھا

💜💜

یہ کوئی ریسٹورنٹ تھا جہاں میر اپنی تمام تر وجہات کے ساتھ بیٹھا کسی کا انتظار کر رہا تھا وہاں بیٹھی ہر لڑکی میر کو گھور رہی تھی وہ شاید ان سب کا عادی تھا اسلئے لاپرواہ سا بنا اپنے موبائل میں لگا ہوا تھا
کچھ ہی دیر میں اسے اپنے قریب آتے قدموں کی آواز سنائی دی تو ہونٹوں کے کونے پر بلکل ہلکی سی مسکراہٹ ابھری اور گم ہوئی تھی نظریں اٹھاکر اوپر دیکھا تو
سامنے سے آتی ہوئی سنینا پر نظر پڑی لال رنگ کی ٹائٹ ٹی شرٹ پر بلیک کورٹ نیچے بلو جینس اور پیںنسل ہل شرٹ کا گلہ گہرا تھا وہ محترمہ خوبصورتی میں مثال آپ تھیں
‘کیسے ہیں آپ میر’ وہ بے تکلفی سے میر کے گال پر کس کرتی ہوئی سامنے چئیر پر بیٹھی میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی
‘آپ کیسی ہیں’ شوخ آنکھیں تو میر کی بھی تھیں
‘آپ کو دیکھنے کے بعد کوئی کیسا ہوسکتا ہے’ وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی میر نے اب کی بار نظر پورے ہال پر ڈالی ساری لڑکیاں ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھیں بلکہ اب تو مرد حضرات بھی شامل تھے سُنینا کو گھورنے میں
‘آج کل کہاں ہیں آپ’ سنینا نے پھر پوچھا
‘میں تو مصروف رہتا ہوں آئے دن مجرموں کی مہمان نوازی کرنے میں’ وہ دلفریب انداز میں بولا
سنینا زرا اٹھی اور میر کی طرف جھکی گلہ گہرا تھا اسلئے رعنائیاں واضح ہوئیں تھیں میر نے آنکھیں پھیریں اندر اٹھنے والے اشتعال کو دبایا
‘کبھی ہمیں بھی اپنی خاطر توازہ کرنے کا موقع دیں بائے گوڈ بور نہیں ہونے دیں گے’ وہ بے باک ہوئی
‘اسکی ضرورت نہیں’ میر کو ناجانے کیوں وہ پاگل سی لڑکی یاد آئی تھی ‘خدمات تو ہم کرنا چاہتے ہیں آپ کی’ میر ایک آنکھ دبا کر بولا

جاری ہے…………