No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 06
از قلم انعم رئیس
لالی اپنی یونی میں بنے گارڈن میں بیٹھی تھی جب اسکی بہترین دوست فصیحہ (دونوں بچپن کی ہی دوستیں تھیں نائن کلاس سے اسلئے بہترین دوستیں تھیں اور تھیں بھی ایک جیسی) آئی
‘لالی لالی لالی تجھے پتا ہے آج یونی میں نیو پروفیسر آئے ہیں’ فصیحہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی
‘تو تو ایسے بول رہی ہے جیسے تیرے خوابوں کا بھائی ہمارا مطلب ہے شہزادہ سلیم آگیا ہو اور تو انار کلی بن کے مری ہی جارہی ہے اس کے لئے’ لالی فصیحہ کو دیکھ کر گڑبڑا کر بولی جو اسے گھورنے لگی تھی
‘کچھ ایسا ہی سمجھ لے میں تو لٹّو ہوگئ ہوں اس پر پتہ ہے ساری یونی کی لڑکیاں مرے جارہی ہیں اس پر شرم تو کہیں جا سوئی ہے’ فصیحہ پہلے شرما کر اسکے بعد بی اماں کے انداز میں غصّے سے بولی
‘اوو۔۔۔اپنے بارے میں کیا خیال ہیں خود تو لٹّو ہوگئی ہے اور دوسرے ہوں تو مصلا’ لالی نے اس کی پشت پر تھپڑ مارا
‘ہاں تو میں الگ ہوں اور میں کہہ رہی ہوں تو آج سے انہیں جیجو بنالے بس وہ فائنل’ اس نے جوش میں ہوش کھوئے
‘بے ڈھنگی انسان ہر ہینڈسم لڑکے کو دیکھ کر شروع ہوجاتی ہے تو چل دفعہ دور ہو اور ویسے بھی کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے چلو اب’ لالی نے شرم دلائی اور پھر موبائل میں ٹائم دیکھا
‘ہمممم چلو’
💜💜
فصیحہ اور لالہ رخ نے اپنی مخصوص جگہ سنبھالی دونوں نے ان سیٹس پر اپنے نام بھی لکھ دیے تھے بیٹھ کر تو دیکھائے کوئی ادھر پھر ایک تماشا لگتا تھا جس میں ہمیشہ لالی اور فصیحہ جیت تی تھیں ہا خیر
جیسے ہی پروفیسر ارمان ملک نے کلاس میں قدم رکھا پوری کلاس میں ایک سنّاٹا سا چھا گیا تھا فصیحہ جو سوتے ہوئے بھی کبھی چپ نہ ہو وہ بھی چپ تھی لیکن کوئی تھا جو اس سب سے بے خبر اپنی ڈھائی گز کی زبان کے جوہر دکھا رہا تھا ہاں جی بلکل لالی
ارمان ملک پھرپور وجاہت کا مالک بلیک پینٹ پر بلیک ہی شرٹ اسکی صاف رنگت پر بے تحاشہ جچ رہی تھی تیکھے نین نقش مضبوط دائیں ہاتھ پر بندھی بلیک رسٹ واچ سیدھے ہاتھ میں موبائل بالوں کو جیل لگا کر اوپر کیا گیا تھا اپنی مضبوط چال چلتا ہوا اندر آیا جب کسی کی باتوں اور کھکھلاہٹ کی آواز کانوں میں پڑی وہ چونکا اور مڑ کر دیکھا
وہ اس سب کا عادی تھا جہاں بھی جاتا تھا اپنی سحر زدہ شخصیت سے سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیتا تھا لیکن آج کچھ الگ تھا اس لڑکی نے اسے دیکھا تک نہیں اسے نیو سا لگا تھا اور انٹرسٹنگ بھی
‘اسلام و علیکم کلاس’ سلامتی بھیجی گئی
‘وعلیکم السلام’
ہمیشہ کی طرح لالی کی آواز سب سے تیز اور شاید لڑکیوں میں اکلوتی بھی کیونکہ کلاس کی باقی لڑکیاں تو انھیں دیکھنے میں مگن تھی
‘اوووو بہن مرمرا گئی ہے کیا اٹھ سر آگئے ہیں’ لالی نے فصیحہ کو کونی ماری لالی کی آواز ارمان تک پہنچ چکی تھی اسنے لب دبا کر مسکراہٹ روکی
‘Attension everyone I am Arman Malik, Your new professor Of IT Skills’
ارمان بات تو سب سے کررہا تھا لیکن نظریں اسکی لالی پر تھیں جو فصیحہ سے ناجانے کونسے راز و نیاز کررہی تھی ارمان پھر بولا
‘کیوں نہ پہلے کچھ انٹرو ہوجائے آپ سب سے’ آنکھوں کا فوکس لالی اور باتوں کا فوکس کلاس سب نے یہ بات اچھے سے نوٹ کی تھی ارمان نے نظریں پھیریں
سب کا انٹرو لینے کے بعد باری لالی کی آئی
‘محترمہ کھڑی ہونگی آپ یا کورٹ سے دستخط کروا کر لاؤں’ ارمان لالی کو دیکھ کر بولا جو بولے ہی جارہی تھی لالی نے نظریں گھما کر دیکھا ارمان اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
‘کون ہم’
‘جی آپ’
‘اوہ پریزنٹ سر’ لالی جلدی سے بولی
‘مس میں نے آپ سے آپ کا انٹرو مانگا ہے ایٹنڈنس نہیں’ وہ چڑ کر بولا
‘ہم لالہ رخ زمان شاہ عرف لالی فرام ڈگری کالج’ کانفیڈینس سے کہا گیا ارمان ٹھٹکا اور دل میں بڑبڑایا “لالی”
‘اوکے سٹ ڈاؤن اینڈ یو سٹینڈپ’ لالی کے بعد فصیحہ کو اشارہ کیا
‘مممم۔۔۔می۔۔میں۔۔۔میں’ لالی نے اسکو دھموکا جڑا ‘اووو وہ بکری بول بھی دے اب’ لالی نے دانت کچکچائے
‘آہہہ۔۔۔ہاں میں آپکی میرا مطلب ہے فصیحہ فاطمہ فرام ڈگری کالج’ فصیحہ الٹے میں جلدی بول گئی ہمارا مطلب ہے فصیحہ جلدی میں الٹا بولتے بولتے سیدھا بول گئی ہاں
‘ok let’s we start lecture’
ارمان نے سر جھٹکا اور لیکچر شروع کیا
💜💜
‘بھائی ایک کلو چاول دے دیں’ پری بولی کالج سے آتے ہوئے شبانہ بیگم نے چاول لانے کو کہا تھا
علی جو ہوسپٹل سے آتے ہوئے گھر کا سامان لینے پاس ہی دوکان میں چلا آیا تھا تب ایک پیاری سی آواز کانوں سے ٹکرائی علی نظر انداز کر گیا اور سامان لے کر جیسے ہی پیچھے مڑا پری سے ٹکرا گیا
‘ہائو ربّا! کون ہے یہ موصوف جنہیں نظر نہیں آتا’ پری چڑ کر بولی ایک تو کالج سے تھک کر آئی تھی اب یہ
‘وہ غلطی………’ علی نے بولتے ہوئے نظریں اٹھائیں تو لگا جیسے سفید پری کھڑی ہو کالج یونیفارم میں سفید رنگت جو گرمی کی وجہ سے سرخ ہورہی تھی شال سے ڈھکا چھپا وجود لال ہونٹ جو ہل رہے تھے لیکن جیسے آوازیں آنا بند ہوگئیں ہوں کیا ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے کچھ نہیں پتا تھا بس پتا تھا تو یہ کہ یہ پری علی کی ہوگی دل بے ساختہ بولا انشاءاللہ
‘بھائی سوگئے ہوکیا’ وہ جو کب سے بول رہی تھی لیکن وہ تو بس اسکے چہرے کو دیکھ نہیں بلکہ گھور رہا تھا
‘استغفراللہ دیکھیں مس آئ ایم سوری میں نے دیکھا نہیں تھا’ علی اسکے بھائی کہنے پر اچانک بولا
‘ہمممم تو پہلے بول دیتے آپ ویسے آپ نے میری ناک توڑ دی ہے بیچاری’ پری افسوس سے ناک چڑھا کر بولی اور علی تو اس ادا پر فدا ہی ہوگیا تھا سنبھالا خود کو پھر آگے بڑھا اور اسکی چادر کو اس کے سر پر اوڑھایا
‘چادر کو سر پر لے کر اوڑھتے ہیں ہمیشہ ہمم’ علی نے سمجھایا
‘ہمم’ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر وہ بے ساختہ بولی اور پھر چل پڑی اپنے گھر کی طرف
علی نے سر پر ہاتھ پھیرا اور مبہم سا مسکرایا
💜💜
فری اور فاطمہ جو بڑے مزے سے ہورر مووی دیکھ رہی تھیں اچانک ہڑبڑا گئیں کیونکہ اس میں کس سین آگیا تھا (ہاہاہاہاہا)
‘لا ہولا ولا قوت’ فاطمہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بولی
‘ہاہاہاہاہا مجھے تو ہنسی آتی ہے ایسے سینز دیکھ کر’ فری ہنستے ہوئے بولی
‘مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا یہ لوگ ایسے سینز کر کیسے لیتے ہیں اتنے بولڈ پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہو تو وہ بیچاری تو شرم سے مر جائیں اور ایک یہ ہوتی ہیں بے شرمیوں کی دوکانیں’ رواحہ اندر آتی ہوئی بولی اور ساتھ میں نازش بھی آئی
‘اللہ نے عورتوں کو سب سے زیادہ عزت دی ہے لیکن ایسی لڑکیاں اپنی عزت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عزتوں کو بھی خراب کرتی ہیں ہمارے ملک میں بڑھتے ریپ کیسز انہی وجہ سے تو پروان چڑھتے ہیں کیونکہ ایسی لڑکیاں اپنی روعنیاں ظاہر کرتی ہیں اور پھر شیطان یہ دونوں اچھے خاصے بندے کو بگاڑ دیتے ہیں اور اس سب کی جو لڑکیاں شکار ہوتی ہیں ان میں سے کچھ اپنی جان کھوتی ہیں کچھ آبرو اور کچھ اپنا ذہنی توازن غرض سب کچھ کھوتی ہیں……… ہمارے خدا رب العزت نے قرآن میں زنا کا بہت بڑا عزاب بتایا ہے ایسے لوگوں کا دین بھی جاتا ہے اور ایمان بھی’ نازش خاموش ہوئی
‘آپی اور بتائیں’ فری کی آواز میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوئی تھی اسکے دل میں ڈر بیٹھ رہا تھا لیکن کس چیز کا۔۔؟
‘خدا نے یہ حق صرف شوہر کو دیا ہے کہ وہ آپ کی محبت کے ساتھ ساتھ آپکے جسم پر بھی حق رکھتا ہے اور اگر عورتیں اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کو یہ حق سونپتی ہیں تو انکا وہ وہ حصہ آگ میں جلتا ہے قیامت کے روز جسے نامحرم چھوتا ہے یہاں تک کہ اگر آپ کو کوئی غیر محرم چھو بھی لے چاہے ہلکا سا مس ہی کیوں نہ ہوا ہو آپ کا وہ حصہ سلگ جاتا ہے جسم فروشی میں آج کل مرد ہی نہیں عورتیں بھی شامل ہیں کیسی تزلیل ہے یہ بنتِ حوا کی استغفرُللہ’ اتنے میں آیت(نازش کی بیٹی) کے رونے کی آواز آئی
‘سکون نہیں ہے انکو بھی حد ہوگئی ہے’ نازش بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلی
‘میں آتی ہوں آپی آپ مووی انجوائے کریں’ فری بھی بولتے ہوئے باہر نکلی
‘اسے کیا ہوا خود ہی تو مووی لگائی تھی’ فاطمہ نے رواحہ سے پوچھا اس نے کندھے اچکائے
💜💜
کئی دن گزر گئے سب کچھ معمول پر تھا لیکن کچھ الگ تھا تو وہ ارمان ملک کے جزبات تھے لالی کیلئے جو لالی کو دیکھتے ہی آنکھوں میں چمکنے لگتے تھے یہ بات لالی نے بھی نوٹ کی تھی لیکن سب سے زیادہ اسنے یہ نوٹ کیا تھا کہ فصیحہ کے جزبات بھی ابھرنے لگے تھے ارمان کیلئے جو محبت بن چکے تھے اور لالی اسی بات سے ڈر رہی تھی کہ کہیں فصیحہ اس قسمت کے کھیل کا حصہ نہ بن جائے لیکن لالی یہ بات بھی مانتی تھی کہ ارمان ملک ایک بہترین انسان ہے جو ہر لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا ہے لڑکیوں سے نظریں نیچے کرکے بات کرنا دھیما مزاج اپنے سے بڑوں کی رسپیکٹ سب کچھ تھا اس میں اور یہی بات لالی کو بھی باغی بنا رہی تھی کیونکہ جزبات تو اس میں بھی تھے لیکن وہ اپنی دوست کیلئے خاموش تھی
جاری ہے…………
