No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 27
از قلم انعم رئیس
لالی کا ایک ہفتہ پورا ہوگیا تھا بیڈ پر لیکن وہ بلکل بھی دوبارہ صوفے پر نہیں سونا چاہتی تھی اسلئے تانے بانے بننے لگی اسی کشمکش میں چلتی ہوئی وہ میر کے پاس آئی جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر بزی تھا وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئ بولنے کے لیے منہ کھولا لیکن میر کو دیکھتے ہی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
میر ٹائٹ ریڈ ٹی شرٹ اور ڈارک بکو کلر کے ٹراؤزر میں چہرے پر سنجیدگی سجائے کام میں مگن تھا پتا نہیں کیوں اسے دیکھ کر لالی کا دل ایسے دھڑکتا تھا جیسے پہلے کبھی دھڑکا ہی نہ ہو وہ اس سچویشن سے پوری طرح کنفیوژ تھی
میر جو کب سے لالی کی نظریں خود پر محسوس کررہا تھا اور چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ بولے لیکن وہ خاموش تھی اسلئے نظریں اٹھاکر اسے دیکھا
‘لالہ رخ واٹس ہیپنڈ’ میر نے اسکو اس طرح خود کو گھورتے ہوئے دیکھ کر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا
‘وہ ہم کہہ رہے تھے’ لالی جو اتنی پلینینگ کرکے آئی تھی سب بھول گئی تھی
‘کیا کہہ رہی تھیں’ میر نے پھر سے پوچھا
‘وہ.ہ.ہ’ وہ اسے بتانے کے لیے اسکے قریب بڑھی ہی تھی کہ پاؤں کارپیٹ میں الجھا اور وہ لڑکھڑا کر میر پر گری
لالی کے بال جو جوڑے میں قید تھے کھل کر اس کے چہرے پر آئے تو اسکا چہرہ چھپا گئے
میر کا دل جو لالی کو پھر سے اتنے قریب دیکھ کر مچل گیا تھا اب اسکے بالوں کو محسوس کرنے کا کیا تھا اسلئے اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتا اپنی انگلیوں سے اسکے چہرے پر جھولتی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑسا
لالی جو پہلے ہی کنفیوژ تھی اب بوکھلا گئی تھی اسکے ہاتھوں کا لمس دہکتا ہوا سا تھا
‘can we share the bed?’
میر کی گھمبیر آواز کانوں میں پڑی تو لالی اور کنفیوژ ہوئی
‘what?’
لالی کو لگا اس نے کچھ غلط سن ہے ادھر میر لالی کی آواز سے ہوش میں آیا اور اٹھ بیٹھا لالی نے اپنی دھڑکنوں کو گہری سانسیں لے کر نارمل کیا
‘تم بیڈ پر سو سکتی ہو لیکن میں بھی یہیں سونگا’ میر نے اپنی شرط بھی بتائی
‘اس سے اچھا ہے ہم صوفے پر ہی سو جائیں’ وہ منہ بناتی ہوئی بولی
‘سوچ لو میں تو تمہارے ہی فائدے کی بات کررہا ہوں’ میر اسکے فائدے کی بات کررہا تھا یا اپنے
‘لیکن ہم…’ وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی لیکن پھر دماغ میں ایک آئیڈیا آیا ‘ٹھیک ہے ہم اور آپ یہیں سوئینگے’ لالی نے چہکتے ہوئے کہا میر اسکے اتنی جلدی ماننے پر حیران ہوا لیکن سمجھ تو تب ہی جب لالی نے اپنے اور اسکے درمیان ایک احتیاطی تدابیر بنائی مطلب بیڈ کے بیچ میں کشن رکھ کر ایک لائن بنادی
💜💜
‘مجھے کیوں لائے ہو یہاں’ رابی چیخی اور اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کرنے لگی وہ کرسی سے بندھی تھی
‘تم نے مارا ہے نہ جنید کو’ اسابیل کا چہرہ روشن ہوا وہ آج بھی اتنا ہی وجیہہ تھا لالہ رخ کی آواز میں موجود غرراہٹ غرور اکڑ اور دھاڑ اس نے اسابیل سے حاصل کیا تھا
‘کیوں تمہیں بھی مرنا ہے’ رابیعہ کی آواز میں موجود پھنکار اس بات کی گواہی تھی کہ وہ ڈری نہیں ہے
‘نہیں کسی اور کو مروانا ہے’ اسابیل اب رابیعہ کے سامنے رکھی گئی کرسی پر آکر بیٹھا تھا
‘تو میں کیا کروں’ اس نے دانت کچکچائے
‘سمپل اسے ماردو’ اسابیل نے اطمینان سے کہا
‘اور میں اسے کیوں ماروں گی’ رابیعہ کی آنکھوں میں سوال تھا
‘تمہیں پتا ہے برسوں پہلے جو جگنو میری آنکھوں میں روشن تھے وہ جگنو اب تمہاری آنکھوں میں روشن ہیں’ اسابیل نے آگے ہوکر کہا
رابیعہ نے اسابیل کی آنکھوں میں دیکھا اور استہزائیہ مسکرائی
‘جن سے محبت کرتے ہیں انہیں مارا نہیں جاتا بلکہ اپنی عمر انہیں لگائی جاتی ہے لیکن آپ تو بہت کچّے کھلاڑی نکلے عثمانی صاحب اسکو مارا تو مارا لیکن دنیا کی نظروں میں خود کو بھی مار دیا کیوں’ رابیعہ کی آنکھوں میں سوال تھے
‘ہئے کیا یاد کرا دیا تم نے بھی’ وہ شاید کچھ سوچ کر مسکرایا اور پھر رابیعہ کی طرف دیکھا ‘میں نے کہا تھا کؤثر سے جان لے لوں گا لیکن وہ سمجھی کے شاید میں اپنی بات کررہا ہوں’ آخر میں اس نے قہقہ لگایا جب کہ رابیعہ کی آنکھوں میں حقارت امڈ آئی تھی اُس کیلئے
‘پتا ہے میں لوگوں کو بلاوجہ نہیں مارتی کیونکہ پھر بعد میں میری آنکھوں سے نیند اڑ جاتی ہے جو مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے لیکن تم نے تو دو بے گناہوں کو ماردیا’ وہ آپ سے تم پر آئی
‘تو وہ کونسا بے گناہ تھے جانتی ہو کؤثر نواب کو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی تھی جتنی دولت اسکے پاس تھی اتنی تو میرے پاس بھی نہیں تھی لیکن پتا نہیں کیوں محبت ہوگئی اس سے شاید وہ خوبصورت بہت تھی لیکن پتا ہے کیا’ وہ بول کر خاموش ہوئے اور رابیعہ کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
‘محبت سے اوپر نہ عشق ہوتا ہے اور مجھے عشق صرف دولت سے تھا وہ مجھ سے شادی نہیں کررہی تھی اسلئے اسے بےبس کیا پہلے اسکے بعد اس سے شادی ہونے ہی لگی تھی کہ اسکے بھائی احمد کو سب پتا چل گیا صرف اس دولت کے لئے میں نے سب کو مارا جب مجھے لگا کہ اب سب میرا ہے تو’ اس نے ایک پنچ دیوار پر مارا
‘لالہ رخ وہ بیچ میں آگئی وہ کوئی ایری غیری نہیں نوابوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث ہے اور اس سونے کی چڑیا کو بچانے والا کوئی اور نہیں شاہ خاندان تھا’ اسابیل کی آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے وہ غصّے میں پاگل ہو دینے کو تھا
رابیعہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ نڈر بہادر لوگوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والی لالہ رخ اس اسابیل عثمانی کی بیٹی ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا لیکن بس دونوں کے ارادے الگ تھے
💜💜
رات کے گیارہ بج رہے تھے شبانہ بیگم اور زمان صاحب اپنے کمرے کے دائیں جانب کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے
‘پری کے رشتے کیلئے جو لوگ آئے تھے وہ منع کرگئے ہیں’ شبانہ بیگم کی آواز بہت دھیمی تھی
‘ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے’ زمان صاحب نے کہ سائیڈ پر رکھا
‘پوچھیں گے نہیں کیوں منع کیا ہے’ شبانہ بیگم نے زمان صاحب کو دیکھا تو انہوں نے بھی انکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
‘لالی کی وجہ سے’ وہ کہہ کر خاموش ہوئیں
‘مطلب’ وہ سمجھے نہیں
‘جب گھر کی ایک بیٹی کمزور کردار کی مالک ہو تو دوسری بیٹی کے کردار پر خود بہ خود سوال اٹھتے ہیں’ وہ استہزائیہ مسکرائیں
‘جن کی سوچ اتنی گری ہوئی ہو ہم وہاں اپنی بیٹی دیں گے بھی نہیں’ زمان صاحب کا لہجہ قطعی تھا
‘کس کس کو منع کریں گے آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ آپ کی بیٹی…’ وہ ابھی کچھ اور بولتی کہ زمان صاحب اٹھ کھڑے ہوئے
‘بس کردیں شبانہ بیگم جب آپ نے اسکی ماں کے ساتھ کبھی غلط نہیں کیا تو اسکے پیچھے کیوں پڑ گئی ہیں آپ’ وہ گرجے تھے
‘کیونکہ اس سب میں اسکی ماں کی کوئی غلطی نہیں تھی اور یہاں سراسر وہ غلط ہے’ شبانہ بیگم کا لہجہ انکی آنکھوں سے یک سر مختلف تھا
‘کیا پتا اسکی ماں خود گئی ہو اس…’ ابھی زمان صاحب کے الفاظ پورے نہیں ہوئے تھے کہ
‘کوثر ایسی نہیں تھی اس کے کردار کی گواہی میں دیتی ہوں’ شبانہ بیگم نے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر کہا
‘تو پھر وہ تو آپکی بیٹی ہے سگی نہ صحیح لیکن اسکی پرورش تو آپ نے کی ہے خود پر بھروسہ نہیں ہے کیا’ زمان صاحب کی آواز اس بار ہلکی تھی
‘میں کیا کروں شاہ سگی بیٹی کی محبت غالب آرہی ہے اپنی پرورش پر’ وہ بے بس تھیں زمان صاحب کچھ کہتے کہ اچانک دروازہ کھلا اور پری اندر داخل ہوئی
‘امی آپکی محبت اتنی خود غرض کب سے ہوگئی آپ نے ہم سب کو خوددار رہنا سکھایا ہے تو آپ کب سے خود غرض ہوگئی’ پری کی آنکھوں میں آنسو تھے دکھ تھا افسوس تھا
‘اور رہی بات ان فضول رشتوں کی تو یاد رکھیں آپ وہ کیا میں ٹھوکر مارتی ہوں ایسے لوگوں کو جو اتنے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنکی سوچیں اتنی محدود ہیں کہ وہ کچھ اونچا سوچ لیں تو انہیں بےعزتی محسوس ہو’ پریشے کا لہجہ باغی ہورہا تھا وہ اپنی بات مکمل کر کے جاچکی تھی پیچھے شبانہ بیگم نے زمان صاحب کو دیکھا جو زیرِ لب مسکرا رہے تھے اور دروازے کو دیکھ رہے تھے
💜💜
آج گیلانی ہاؤس میں میر کی دلہن کو دیکھنے وہ عورتیں آئیں تھیں جنہیں میر سے خدا واسطے کا بیر تھا بلکہ یہ وہی عورتیں تھیں جو میر سے خار کھاتی تھیں چار سے پانچ عورتیں جن میں سے دو کے ساتھ انکی بیٹیاں بھی آئیں تھیں
میر پولیس اسٹیشن سے جلدی آگیا تھا اور انصار صاحب کے ساتھ کچھ ضروری باتیں کررہا تھا سارے لوگ بھی منہ بنائے گھوم رہے تھے لالی ابھی تک کمرے میں تھی باقی سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے
‘ارے بھئی اب بلوا بھی میر کی بیوی کو ایسی بھی کونسی حور پری آگئی ہے جو ہمارے سامنے بیٹھنا گوارا ہی نہیں’ یہ میر کی خالا تھیں
‘ارے بس آتی ہی ہوگی اور خوبصورتی کی بات تو کریں ہی مت ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت ہے’ قرۃ بیگم تو صحیح والا چڑتی تھیں ان سے
‘ارے روبی تم کیا پارلر سے تیار ہوکر آئی ہو’ رواحہ نے دوسری خالا کی بیٹی سے پوچھا
‘نہیں اٹس نیچرل’ وہ اتراتی ہوئی بولی تو سحرش نے اپنا منہ نیچے کرکے ہنسی روکی
اچانک کمرے میں لالی نے انٹری دی سفید شلوار قمیض پر کالے رنگ کا دوپٹہ سر پر جمائے پنک گلوس اور آنکھوں میں کاجل ہاتھوں میں بی جان کے دیے ہوئے خاندانی کنگن کانوں میں ہلکے پھلکے آویزے پہنے وہ کوئی میرڈ نہیں بلکہ ایک کالج گرل لگ رہی تھی اس نے آہستہ آواز میں سب کو سلام کیا اور میر کے برابر والی کرسی پر براجمان ہوئی اسکی چال میں موجود واضع غرور اور اکڑ نے وہاں پر آئے تمام مہمانوں کو مرعوب کردیا تھا
میر کے برابر میں جب وہ آکر بیٹھی میر کو لگا کہ وہ جیسے مکمل ہوگیا ہے وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی حسن تو اس نے بہت دیکھا تھا لیکن لالی جیسا معصوم حسن اس نے کہیں نہیں دیکھا تھا
‘میں میر کی سگی خالا ہوں اور یہ میری بیٹی روبی’ ان میں سے ایک نے اپنا تعارف کروایا تو لالی نے ترچھی نظروں سے انھیں گھورا جیسے ایکسرے کیا گیا ہو پھر ہاں میں سر ہلایا
‘میں ان سب بچوں کی پھوپھو ہوں تمہاری بی جان میری خالا لگتی ہیں’ پھوپھو صاحبہ بولیں تو لالی نے انہیں بھی گھورا اور پھر سر ہلایا
‘میں ساجدہ کی بہن ہوں اور یہ میری بیٹی روفیہ’ وہ کافی مسکرا کر بولیں پھر اور بھی لوگوں نے اپنا تعارف کروایا اور وہ بس سر ہلاتی گئی
💜💜
سنینا راحیل
یہ ہیں وہ جنہوں نے لالی سے پنگا لیا تھا اور پھر منہ کی کھائی تھی یونی میں بس پھر اسے رابیعہ نے اپنے ساتھ ملایا
رابیعہ نے جنید کا قتل کیا تو سنینا نے ساری کی ساری فوٹیجز ڈلیٹ کیں اور لالہ رخ کو اس سارے معاملے میں پھنسایا تھا یہ ایس ایس پی میر گیلانی کو جانتی تھی تبھی بڑے آرام سے کھیل کھیلتی گئی رابیعہ نے تو اختیار دیا تھا اسے اور اسنے اسی اختیار کا فائدہ اٹھایا تھا
سنینا نے لالی کے گھر وہ ساری تصویریں بھیجی تھیں اور اس بارے میں رابی کو نہیں معلوم تھا
لیکن میر کو وہ وڈیوز اسابیل نے بھیجی تھیں وہ چاہتا تھا بس کسی طرح لالہ رخ اس پورے کھیل میں بری طرح سے پھنس جائے وہ چاہتا تو
جائیداد آرام سے اپنے نام کرسکتا تھا لیکن وجہ صرف ایک عورت تھی اور وہ کون تھی یہ کوئی نہیں جانتا
💜💜
‘آپ کے گھر میں کون کون ہے مطلب کس خاندان سے تعلق ہے آپکا’ میر کی خالا نے سوال کیا
‘جی گھر تو ہمارا کوئی نہیں ہے ہم یتیم ہیں’ لالی نے بڑے اطمینان سے بات مکمل کی
‘ارے خاندان کا تو پتا ہوگا نہ یا کسی یتیم خانے میں پلی ہو’ پھوپھو نے چائے پیتے ہوئے کہا
‘ہماری ماں نوابوں کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور باپ کا خاندان عثمانی تھا اسکے علاوہ جنہوں نے ہماری پرورش کی وہ شاہ ہیں’ لالی نے مسکرا کر جواب دیا
‘تم نے کہا تمہارا کوئی گھر نہیں تو جنہوں نے تمہاری پرورش کی ان کے بارے میں نہیں کہوگی کیا’ میر کی دوسری خالا کافی تیز تھیں
‘جی لیکن پھر بھی یتیم تو ہوئے نہ ہم اور رہی بات گھر کی تو ہم کچھ ٹائم پہلے اپنے گھر والوں سے الگ ہوگئے تھے’ لالی نے بات آرام سے بتائی
‘کہیں بھاگ کر تو شادی نہیں کی میر سے اسلئے گھر چھوڑ دیا’ یہ تیر میر کی خالا نے چھوڑا تھا میر نے اپنے ہاتھ بھینچے انکے سوال پر
‘گھر سے بھاگ کر شادی ہم نے کی ہے یا آپکی بیٹی نے’ لالی اور تمیز سے رہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسکے اس غیر متوقع سوال نے سب کو حیرت میں مبتلا کیا
‘مطلب’ انہوںنے اپنی آییبروز اچکائیں جب کہ میر اب تھوڑا سکون میں تھا
‘آنٹی اگر گھر سے بھاگ کر ہم نے شادی کی ہے تو آپ کو تو کوئی مصلا تو نہیں ہونا چاہئے نہ’ لالی اب پیچھے ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھی تھی
‘بہت تیز ہے آپکی بہو کہا بھی تھا میں نے کہ میری بیٹی کو بنالیں اپنی بہو لیکن آپ کو تو بس باہر والی لانی تھی’ تو یہ وجہ تھی انکے چڑنے کی لالی نے ایک نظر انکو دیکھا اور پھر انکی بیٹیوں کو اور پھر مسکرائی
‘جی اللّٰہ میاں نے جب ڈھائی گز کی زبان دی ہے تو جوہر تو دکھانے پڑیں گے نہ’ لالی نے منہ نیچے کرکے کہا تو شیراز صاحب اپنی ہنسی چھپانے کیلئے مصنوعی کھانسے
‘میر برا مت ماننا لیکن جلدی میں لے آئے تم شکل سے ہی کیریکٹر لیس لگتی ہے’ یہ کوئی نامعلوم شخص تھیں انکی بات پر سب مہمانوں کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی
لالی کے تو سر پر لگی تلوؤں میں بجھی منہ پر انسلٹ میر کا دل کررہا تھا ایک ایک کو اچھی خاصی سنائے لیکن وہ خاموش بیٹھا تھا اور وجہ لالی تھی جو پلٹ پلٹ کر جواب دے رہی تھی
‘آنٹی یہ سارا کھیل ہی تو کیریکٹر اور عزت کا ہے ایک بار اگر یہ عزت چلی جائے اور آپ کیریکٹر لیس ہوجائیں تو پیچھے کچھ نہیں بنتا بلکہ انسان بے خوف ہوجاتا ہے اور انسان جب بے خوف ہو جائے تو شیر بن جاتا ہے جسے پھر لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور رہی بات میری بیوی کی تو یہ میری متاع ہے میری عزت میری محبت پھر چاہے یہ کریکٹر لیس بھی ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں’ میر آنچ دیتے لہجے میں بولا تو لالہ رخ کا دل دھڑکا گیا
جاری ہے………
