Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 28
از قلم انعم رئیس

دنیا فریب دے کر_ ہنرمند ہوگئی ! ہم اعتبار کر کے_ گناہ گار ٹھہرے !🖤

بہروز جو اپنے روم میں آیا تھا موبائل لینے اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی وہ پیچھے مڑا اور ٹھٹکا کیونکہ اسکے پیچھے روفیہ کھڑی تھی

‘تم یہاں کیا کررہی ہو’ بہروز کا ماتھا ٹھنکا
‘اب تم اتنے بھی بچے نہ بنو’ روفیہ نے ایک ہاتھ سے اپنے بال کھولے جو جوڑے میں مقید تھے

‘کیا بے حیائی ہے یہ کسی نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ ایک نامحرم کے کمرے میں نہیں گھستے’ وہ دھاڑا ایک پل کو تو وہ بھی کانپ گئی تھی روم ساؤنڈ پروف تھا اسلئے آوازیں روم سے باہر نہیں گئی تھیں

‘سکھایا تو مجھے سب نے بہت کچھ ہے’ وہ دوپٹے سے آزاد اسکے سامنے تھی وہ ایک قدم اور بڑھی

‘چٹاخ’

بہروز نے اسکو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا وہ لہرا کر زمین پر گری

‘دفعہ ہوجاؤ یہاں سے نہیں تو اس بار میر بھائی کچھ کہیں یا نہ کہیں میں تمہیں دھکے مار کر گھر سے نکالوں گا’ بہروز کی آواز میں گرج تھی کہاں دیکھیں تھیں اس نے ایسی لڑکیاں

روفیہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے بے یقینی سے دیکھا وہ آگے بڑھ رہی تھی جب اسے پیچھے دروازہ کھلنے کی آواز آئی

💜💜

اسابیل نے کافی امیر گھرانے میں شادی کی تھی انکی شادی روشنی بیگم سے ہوئی تھی جو ایک سوشل ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ کلب میمبر بھی تھیں

خدا نے انہیں ابھی تک اولاد جیسی نعمت سے نہیں نوازا تھا جسکے لئے اسابیل نے روشنی بیگم کے ٹیسٹ کروائے تو وہ سارے مثبت آئے تھے لیکن پھر بھی وہ اس نعمت سے محروم تھے روشنی بیگم خدا سے رو رو کر دعا مانگتی تھیں اگر انہیں ہلکی سی بھی بھنک پڑ جاتی نہ کہ انکے شوہر نے کیا کیا ہے انکو خدا کے آگے جھکنے سے شرم آجاتی

لیکن لالی پولیس قتل کیس میں پھنسے اسابیل کو خوشخبری سنائی گئی اور وہ یہ کہ وہ باپ بننے والا ہے اولاد کی خوشی دولت کے عشق پر حاوی آئی تھی وہ بے تحاشہ خوش تھا اپنی بیوی کا خود سے بڑھ کر خیال رکھ رہا تھا

یہ شخص اولاد کیلئے تڑپ رہا تھا جب کہ اسکی بیٹی اپنے ماں باپ کے لئے ترس رہی تھی دونوں ایک دوسرے کیلئے جینے کی وجہ بن سکتے تھے لیکن ہمیشہ وہ ہی تو نہیں ہوتا جو ہم چاہیں

💜💜

کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جب بہروز اٹھ کر اوپر گیا اسکے ایک منٹ بعد ہی روفیہ اوپر جاتی ہوئی نظر آئی تھی یہ بات سحرش اور لالی نے بہت چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھی تھی

لالی کو یہ بات تو اور بھی زیادہ کھلنے لگی تھی کیونکہ جب سے وہ گئی تھی دونوں خالائیں کبھی اوپر دیکھتیں اور پھر عجیب سے انداز میں مسکرادیتیں

جب کہ سحرش کی نظر اب روبی پر تھی جو عمر کو گھورے جارہی تھی وہ اٹھی اور اسکے برابر میں آکے بیٹھی جہاں لالی بھی تھی

‘لالی مجھے پتا نہیں کیوں روفیہ پر شک ہورہا ہے’ سحرش سرگوشی میں بولی

‘ہمیں پورا پورا یقین ہے’ لالی سامنے دیکھتے ہوئے بولی ‘تم زرا روبی کو انسان بناؤ جب تک ہم اوپر جاتے ہیں’ لالی کہتے ہی اٹھی اور اوپر جانے لگی تو میر کی ایک خالا آگے آئیں اور اسے روکا جب کے دوسری طرف سحرش نے روبی کو اپنی طرف متوجہ کروایا

(‘شرم نہیں آتی مردوں کو گھورتے ہوئے’ سحرش چبھتے ہوئے لہجے میں بولی)

‘بیٹا کہاں جارہی ہو آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو’ وہ کافی پیارے لہجے میں بولیں حالانکہ کچھ دیر پہلے لالی بھی وہی تھی اور خالا بھی وہیں تھیں لیکن لہجے میں زمین و آسمان کا فرق تھا

‘آنٹی ہمارا گھر ہماری مرضی کہیں بھی جائیں ہم’ لالی اب سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی وہ دونوں بھی اسکے پیچھے گئیں

میر جو باتوں میں مگن تھے لیکن اسکا سارا دھیان لالی کی طرف تھا میر چونکا تب جب لالی کے چہرے پر بے چینی نظر آئی

(‘ارے میں تو کسی کو بھی نہیں گھور رہی’ وہ مصنوعی سا مسکراتے ہوئے بولی

‘سنو یہ جو تمہاری دو ٹکے کی حرکتیں ہیں نہ انہیں اپنے گھر جا کر کیا کرو یہاں کے اگر کسی بھی مرد پر یہ گھٹیا حربے آزمائے تو اس گھر میں داخلہ ممنوع مردوں گی تمہارا سمجھیں’ وہ غررائی تھی روبی اب ادھر ادھر ہوگئی تھی جبکہ پیچھے کھڑے ریان نے سحرش کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا)

💜💜

لالی نے بہروز کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ لوک تھا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا بھی لیکن کوئی رسپانس نہیں ملا لالی نے بالوں میں سے ہئیر پن نکالی اور لاک میں لگائی چھ بار گھمائی اور لاک ان لوک کیا

دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ لالی کو بے تحاشہ غصہ چڑھا اپنے پیچھے آتی خلاؤں پر نظر ڈالی اور اندر گئی

بہروز لالی کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اور وہ بھی ایسی حالت میں اسے بے حد شرمندگی ہوئی وہ خود سے نظریں ملانے کے قبل نہیں رہا تھا
لالی اندر آئی اور روفیہ کو سر تا پاؤں دیکھا اور پھر اسکے چہرے پر پڑے تھپڑ کا نشان دیکھا تو تنزیہ مسکراہٹ نے چہرے پر احاطہ کیا

‘ہمیں نہ کوئی سچ سننا ہے اور جاننا ہے کیونکہ تمہارے چہرے پر موجود تھپڑ نے ہمیں یہاں ہوئی ہر کہانی سمجھادی ہے’ لالی آگے بڑھی اور روفیہ کا ہاتھ پکڑا ‘بہروز نیچے آؤ’ کہتی ہوئی اسے کھینچتی ہوئی نیچے لائی اب وہ سب بھی اسکے پیچھے تھیں

💜💜

لاؤنج کی سیڑھیوں سے اترتی ہوئی لالی اور اسکے ساتھ کھینچتی ہوئی روفیہ جو رو رہی تھی سحرش نے اسے دیکھا تو مسکراتی ہوئی کھڑی ہوئی گویا شق پر یقین کی مہر لگی ہو
میر نے صرف پیچھے آتے بہروز کو دیکھا تھا اور پھر روفیہ کو وہ بے تحاشہ چونکا بہروز نے روفیہ کے ساتھ…؟

اب سب لوگ کھڑے تھے اور سب کی نظریں لالی اور روفیہ پر تھیں

‘آپ لوگ جاننا چاہ رہے ہونگے نہ کہ یہ کیوں رو رہی رہے اور ہم اسکو اس طرح کھینچتے ہوئے کیوں لائے تو سنیں یہ’ ہاتھ سے روفیہ کو پکڑ کر سامنے کیا ‘یہ بہروز کے کمرے میں تھی اور دروازہ اندر سے لوک تھا’ لالی چیختے ہوئے بول رہی تھی جب کہ لاؤنج میں اب سناٹا تھا سب کی نظریں روفیہ پر تھیں جب کہ گھر والوں کی نظریں بہروز پر جو شرمندہ سا کھڑا تھا

‘نہیں نہیں روکیں بہروز غلط نہیں ہے غلط تو روفیہ محترمہ ہیں اسکے چہرے پر پڑنے والا تھپڑ اس بات کی گواہی ہے’ لالی نے جب سب کی نظریں بہروز پر دیکھیں تو سب کی پریشانی دور کی

‘اے لڑکی……میری بیٹی ایسی نہیں ہے بہروز نے زبردستی کرنے کی کوشش کی ہوگی جب وہ نہیں مانی ہوگی تو مارا ہوگا اسے’ روفیہ کی ماں نے پوری کہانی گھڑی تھی جب کہ بہروز اپنے اوپر لگے الزام اور اپنوں کی بے یقینی پر نظریں نیچے گاڑھے کھڑا تھا وہ وہاں سے جانا لگا تو لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے روکا بہروز نے اسے دیکھا جب کہ وہ سامنے دیکھ رہی تھی دل میں ایک پھانس سی چبھی تھی اسکے

‘زبردستی کی ہوگی واؤ آنٹی آپ کو پتا ہے آپ جس گھر میں کھڑی ہیں وہاں پر ایسے لفظ بولا تو کیا کبھی سنا بھی نہیں گیا ہم اس خاندان کے نہیں ہیں اسکے باوجود یہاں کے ہر مرد کے کردار کی گواہی دیتے ہیں’ لالی نے بہو نہیں بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تھا نامحسوس انداز میں قرۃ بیگم ساجدہ بیگم اور بی جان کا سر اونچا ہوا تھا

‘ارے دیکھو تو بول بھی کون رہا ہے جسکے خود کے کردار پر سوالیہ نشان لگا ہے نہ آگے کا پتا نہ پیچھے کا’ یہ ان عورتوں کا روز کا تھا کسی کی بھی بیٹی یا بیٹے کی عزت خراب کرنا

‘چلیں ہم بدکردار ہی سہی لیکن پھر بھی نکاح کیا ہے آپکی بیٹی کی طرح کسی نامحرم کے کمرے میں نہیں گھسے’ لالی چباتے ہوئے بولی جب کہ آنکھوں میں ایک بار پھر بے بسی آئی اپنا نکاح کا دن یاد آیا تھا

‘جھوٹ بول رہے ہیں یہ لوگ بی جان بہروز نے مجھے کمرے میں بلایا تھا لالی بھی اسی کے ساتھ ملی ہوئی تھی ان دونوں نے مجھے مل کر پھنسایا ہے تبھی سب سے پہلےیہ آئی کمرے میں’ روفیہ کہتے کہ ساتھ پھوٹ پھوٹ کر روئی جب کہ بہروز کا دل کیا منہ توڑ دے اسکا ان سب میں میر خاموش تھا

‘کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے بی بی جھوٹ بولنے سے پہلے زرا یہ تو سوچ لیتیں کہ کمرے میں چل کر تو تم خود گئی تھیں’ رواحہ بھی آگے آئی اسکی بات سن کر روفیہ اور خالا
جان کے چہرے سفید پڑے تھے جو انکے غلط ہونے کا ثبوت دے رہے تھے میر سچ تو پہلے ہی جان گیا تھا اب یقین بھی ہوگیا تھا

‘کیا تم نے ایسا کیا ہے’ میر نے روفیہ سے پوچھا آواز میں ہلکا ہلکا غصّہ تھا

‘وہ…’ روفیہ میر کو سامنے دیکھ کر ڈگمگائی

‘yes or no’
وہ دھاڑا

‘ہ.ہ.ہ۔ہاں’ وہ اسکی دھاڑ سے سفید پڑتی سچ بول گئی ‘لل…لیکن ااا…امی نے کہا تھا’ وہ ہکلاتی ہوئی پورا سچ بولی میر کی پیشانی پر شکنیں در آئیں اور وہ گھوم کر اپنی خالا کی طرف آیا لیکن اس سے پہلے لالی آگئی تھی

‘کیا آپکو باہر کا راستہ پتا ہے’ لالی نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے خالا سے کہا تو سب نے اچھنبے سے اسے دیکھا ایسے سوال کا مطلب

‘بتائیں’ لالی نے ایک دفعہ پھر پوچھا ت انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

‘جب پتا ہے تو چلی کیوں نہیں جاتیں’ لالی نے مسکرا کر کہا جب کہ اسکی بات سمجھ کر ینگ پارٹی کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی بہروز بھی اب ایزی تھا

‘کہاں’ انکو شاید اپنی بےعزتی کرانے کا شوق تھا

‘اس گھر سے باہر’ لالی کہہ کر پیچھے ہوئی تھی
ان سب کے چہرے بے عزتی کی وجہ سے سرخ پڑے تھے کچھ بھی کہے بغیر سب کے سب باہر چلے گئے تھے
لالی کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی وہ خاموشی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی جب کہ سب نظریں نیچے گاڑھے کھڑے تھے انہی کے خاندان کے تھے شرمندگی تو ہونی تھی

💜💜

میں جذب کرلوں ساری تھکاوٹیں تیری
تو اک بار میرے بازوؤں میں آ تو سہی❤️

سحرش اپنے روم میں تھی اسکے ساتھ روم میں فاطمہ رہتی تھی لیکن وہ ابھی آئی نہیں تھی شاید نیچے کہیں بزی تھی

سحرش وارڈروب سے نائٹ ڈریس نکال رہی تھی اسلئے ریان کا روم میں آنا نوٹ نہیں کرسکی اور کام میں لگی رہی جبکہ وہ روم کا ڈور بھی کرچکا تھا اور فرصت سے دشمنِ جاں کو دیکھ رہا تھا
سحرش کو خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو پیچھے مڑی کپبورڈ کھلا ہوا تھا

ریان کو اپنے روم میں دیکھ کر اسکی آنکھیں باہر کو آئیں ریان اسکی حالت سے محظوظ ہوتا قدم آگے بڑھا گیا سحرش پیچھے ہوتی ہوتی وارڈروب کے اندر جانے لگی تھی جب ریان نے اسے ایک ہاتھ سے کھینچ کر سینے سے لگایا جبکہ دوسرے ہاتھ سے کپبورڈ بند کیا اور سحرش کو اسی کے ساتھ لگا کر کھڑا کردیا

اس افتاد پر سحرش کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی تھی ‘یہ کیا بے حودہ حرکت ہے؟’ وہ غصے سے اس سے پوچھنے لگی

‘ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے میری شیرنی ابھی سے پسینے چھوٹ گئے’ ریان سحرش کے خوبصورت چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے شرارت سے پوچھنے لگا تو سحرش کے گال دہکے اسکی اتنی قربت پر سانس دھوکتی مانند چل رہی تھی

‘رر…ریان پپ.پلیز’ اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں احتجاج کیا

‘شششش اب میں کہوں گا اور تم سنو گی بہت ظالم ہو یار تم’ وہ کہتا ہوا اسکے مزید قریب ہوا سحرش کی تو جان پر بن گئی تھی

‘آہ’ وہ بلکل کپبورڈ سے چپک کھڑی تھی

ریان نے اسکی کمر کے گرد باہیں حائل کرکے اسے خود سے مزید قریب کیا تھا سحرش کا دل مچلنے لگا

‘پلیز چھوڑ دو’ سحرش نے التجائیہ نظروں سے دیکھا

‘اور اگر نا چھوڑوں’ وہ چہرہ جھکا کر بولا تو وہ آنکھیں مینچ گئی ریان کو اسکی اس ادا پر کھل کر پیار آیا اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی وہ کوئی گستاخی کرتا کہ دروازہ نوک ہوا اور باہر سے فاطمہ کی آواز آئی تو وہ اسے چھوڑتا بالکونی سے دوسرے کمرے کی بالکونی میں کود گیا پیچھے وہ اپنی سانسوں کو سنبھالتے ہوئے دروازہ کھلنے لگی

💜💜

اس نے عیشاء کی نماز پڑھنے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو کانوں میں کچھ پورانی آوازیں نئی آوازوں کے ساتھ سنائی دینے لگیں
(نکلی نہ تم ایک بھاگی ہوئی ماں کی بیٹی…میری بیٹی ایسی نہیں ہے…تم میری بیٹی نہیں ہو…دیکھو تو کہہ بھی کون رہا ہے جسکا کردار خود سوالیہ نشان ہے…خدا کرے کوئی خوشی نصیب نہ ہو…تم میری بیوی ہو بھی نہیں سکتیں…میں تمہیں اپنی بیوی نہیں مانتا…خدا تم جیسی بیٹی کسی کو نہ دو…اچھا ہوا تمہاری ماں تمہیں پیدا کرتے ہی مر گئی ورنہ یہ دن دیکھ کر ہی مرجاتی…خدا کرے کوئی خوشی نصیب نہ ہو) وہ خالی خالی نظروں سے ہاتھوں کو گھور رہی تھی آنکھیں بلکل خشک تھیں کیونکہ آج پھر دل کے زخم ادھیڑ دیے گئے تھے
‘جو ماں تھی وہ زندہ نہیں ہے اور جو زندہ ہے اسے کبھی خوشی نہیں دے سکے اسلئے آپ سے ایک ریکوئسٹ ہے امی کی بددعا قبول کرلیے گا انہوں نے دعائیں تو بہت دیں لیکن آپ پلیز بددعا قبول کرنا, آپکو پتا ہے ہم نے اچھی بیٹی بننے کی بہت کوشش کی لیکن اچھی بیٹیاں بھلا اچھی بیٹی ہونے کا ثبوت دیتی ہیں؟ نہیں نہ کیونکہ سب کو پتا ہے وہ اچھی ہیں اور بری پتا ہے کیسی ہوتی ہیں جو سچ بولتی ہیں حق کیلئے لڑتی ہیں ہم نے صرف ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ سر کو بچانا تھا لیکن شو مئی قسمت انکو بھی نہیں بچا سکے بلکہ خود ہی پھنس گئے لیکن ہمیں اس چیز کا شکوہ نہیں ہے ہمیں تو اپنوں کی بے یقینی مار گئی ہے سب کچھ ادھر سے ادھر ہوگیا ہے ہمیں نہیں پتا ایس ایس پی صاحب ہمیں کب چھوڑ دیں گے اور کیا پتا تب تک دو چار غیر قانونی کاموں میں ملوس ہوکر جیل ہی چلے جائیں’
دعا مانگنے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا لیکن اس نے دعا میں دعا تو مانگی ہی نہیں تھی کتنی مشکل ہوتی ہے نہ یہ زندگی لیکن صرف زندگی مشکل نہیں ہوتی بات تو آپکی قسمت کی ہے کہا تھا نہ کہ کچھ لوگوں کو بڑی فرصت سے بدقسمت بنایا جاتا ہے

💜💜

‘ہمارے خاندان کے لوگ کتنا گرگئے آج’ انصار صاحب زمین پر نظریں گاڑھے بیٹھے تھے

‘مجھے دیکھیں میں اس لڑکی کو دیکھ کر اپنے بیٹے پر یقین نہیں کر پارہا تھا’ فہیم صاحب کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی بی جان خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھیں

‘میری اپنی بہن نے یہ کیا ہے مجھے تو سوچتے ہوئے ہی شرم آرہی ہے کہ کیسے وہ بچوں کے سامنے کیسے لفظ ادا کررہی تھی’ ساجدہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے

‘کچھ بھی ہو مگر فہیم تمہیں بہروز پر بھروسہ کرنا چاہیے تھا وہ تو شکر ہے کہ بات اتنی بگڑی نہیں’ شیراز صاحب کی سنجیدہ سی آواز گونجی

‘وہ لڑکی روفیہ اچھا نہیں کیا اس نے اگر اسے بہروز پسند تھا تو بتاتی تو صحیح ہم رشتے کی بات چلاتے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی’ قرۃ بیگم بھی پریشان تھیں

‘جو بھی ہوا غلطی جس کی بھی تھی بات کو ختم کریں ہم اب اس موضوع پر کوئی تنقید نہیں چاہتے اور رہی بات لالہ رخ کی تو ہمیں میر کے پسند پر اب غرور آنے لگا ہے بےشک وہ بہو نہیں بیٹی ہے’ بی جان نے بات مکمل کی تو آخر میں انکی آواز میں فخر تھا غرور تھا جو یہاں سے گزرتے میر نے نہ صرف دیکھا سنا بلکہ محسوس کیا تھا

💜💜

میر کمرے میں داخل ہوا تو وہ شاید سو چکی تھی آہستہ آہستہ چلتا اسکے پاس آیا اور دو زانو ہوکر اسکے سامنے بیٹھا اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں
‘مجھے پتا ہے تمہیں مجھ سے بہت ساری شکایتیں ہیں اور ہوں بھی کیوں نہ کچھ اچھا بھی تو نہیں کیا تمہارے ساتھ تمہیں ٹورچر کیا جیل میں بند کیا مارا بھی (نظریں شرمندگی سے جھک گئیں) کردار کشی بھی کی گھر والوں سے بھی الگ کیا ڈرایا بھی لیکن اب ایسا کچھ نہیں کروں گا بلکہ میرے دل میں جو محبت اب عشق بن رہی ہے بہت جلد تم میں بھی بھر دوں گا اتنا پیار کروں گا کہ خود کو بھول جاؤ گی میں تمہیں آسمان پر بٹھا کر رکھوں گا اور تم فکر مت کرو بہت جلد سارے مجرم جیل میں ہونگے سکون تو میں کسی کو لینے نہیں دوں گا بس اتنا جان لو تم صرف میرے دل کی مجرم ہو جسکی سزا تمہیں میں اپنی باہوں میں لے کر دوں گا’ وہ اسکے سر پر محبت کی پہلی مہر ثبت کرتا ہوا بولا کتنا خوبصورت اظہارِ محبت تھا کہ سوتی ہوئی لالی کے چہرے پر بھی تبسم پھیل گیا تھا

جاری ہے…………