No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط نمبر 17
از قلم انعم رئیس
لالہ رخ یونی سے واپسی کے راستے پر گامزن تھی اپنی ہی دھن میں چلے جارہی تھی دوپہر ہونے والی تھی سورج سوا نیزے پر تھا گرمی کی وجہ سے اکا دکا ہی لوگ تھے اور جو لوگ تھے وہ بھی اپنے ہی کام میں مگن تھے ایسے میں لالی اچھل اچھل کر نیچے دیکھ کر چل رہی تھی کہ اتنے میں اسکے پاس پولیس موبائل آکر رکی
لالی نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو نفری سے حارث اور دو لیڈیز کونسٹیبلز اتر رہیں تھیں
لالی کو پتا تھا جنید کی موت میں کہیں نہ کہیں وہ بھی پھنس سکتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ ہونے کیا والا ہے
‘لالہ رخ زمان شاہ؟’ حارث نے پوچھا
‘نہیں وہ برابر والے گھر میں رہتی ہے ہم بلا کر لاتے ہیں اسے’ لالی مسکرا کر کہتی آگے بڑھنے لگی حارث نے اس کے آگے اپنا بازو کیا تو وہ رکی اور اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے ‘لا تو رہے ہیں بلا کر اب کیا’
‘میں جانتا ہوں آپ ہی لالہ رخ زمان شاہ ہیں’ حارث گھگیا گیا
‘تو پھر کیسے آنے ہوا’ لالی نے ایسے پوچھا جیسے وہ کافی عرصے سے جانتی ہو اسے
‘آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا’ حارث مدعے پر آیا
‘یہ دو کافی نہیں ہیں ڈیٹ مارنے کے لیے جو ہمیں بھی لے کر جارہے ہو’ لالی نے دونوں لیڈیز
کونسٹیبلز کی طرف اشارہ کیا تو حارث کی ہنسی نکلتے نکلتے رہ گئی وہ بیچارہ کب سے ان دونوں کو پٹانے کی کوشش کررہا تھا
‘دیکھیں آپ…’ وہ اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتے تھے تبھی ایک کونسٹیبل نے بولنا چاہا لیکن لالی نے بات کاٹی
‘آپ’ لالی نے حیرانگی سے اسے دیکھا ‘آپ نے ہمیں آپ کہا اتنی عزت… اتنی عزت تو کبھی ہماری ماں نے نہیں کی’ لالی تو فرطِ جذبات میں اس کے گلے لگ گئی دوسری کونسٹیبل نے تعجب سے اسے دیکھا جیسے کسی اور دنیا کی ہو وہ
‘دیکھیں مس آپ کو ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن جانا ہوگا’ حارث بولا تو ایسا لگا جیسے ہاتھ جوڑنے کی کمی رہ گئی ہے
لالی کو ترس آگیا تھا اسلئے احسان کرنے والے انداز میں چلتی ہوئی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھی حارث تو اسکے مان جانے پر خوش ہوگیا تھا لیکن اسکا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا اسکو آگ لگاگیا
‘اففف یہاں کیوں بیٹھ گئی ہو پیچھے بیٹھو’ حارث غصے سے چیخا لیکن سامنے بھی لالہ رخ تھی گاڑی اسٹارٹ کردی
‘بیٹھنا ہے تو جلدی بیٹھیں ورنہ ہم بھگا کر لے جائیں گے آپ کی گاڑی کو’ لالی نے ہاتھ پر باندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے بولی جیسے اسے بہت دیر ہورہی ہو
‘سر آپ پیچھے بیٹھ جائیں سر پھری لڑکی ہے نہیں مانے گی’ ایک کونسٹیبل نے صبر کا مظاہرہ کیا تو حارث بھی دندناتا ہوا پیچھے بیٹھ گیا
ایک کونسٹیبل لالی کے ساتھ بیٹھ گئی اور ایک حارث کے ساتھ پیچھے اور پھر لالی نے سو کی اسپیڈ سے گاڑی بھگائی تھی پیچھے بیٹھا حارث تو بس لوگوں کی گالیاں سن رہا تھا جن کی گاڑی سے انکی گاڑی لگتے لگتے رہ گئی تھی
تھوڑی دیر میں گاڑی پولیس اسٹیشن کے پاس آکر رکی
💜💜
‘سر’ امان اللہ میر کے کیبن میں آیا
‘ہاں بولو’ میر چئیر پر بیٹھا فون میں بزی تھا
‘سر ٹریفک پولیس کی طرف سے فون آیا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار ہوائی جہاز کی طرح گاڑی چلا رہے ہیں’ امان اللہ نے اپنی بات مکمل کی اور اسکی طرف دیکھا
‘واٹ کونسی گاڑی’ میر سیدھا ہوکر بیٹھا
‘سر جو انسپیکٹر حارث لے کر گئے ہیں’ امان اللہ نے اسکو دیکھ کر کہا
‘اتنی غیرزمہدرانہ حرکت قانون کے ہوتے ہوئے غیر قانونی حرکتیں کرتے……’ وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ باہر گاڑی روکنے کی آواز آئی
‘لگتا ہے سر وہ لوگ آگئے’ امان اللہ نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا
‘کان ہیں میرے پاس بیوقوف چلو باہر’ میر نے اسے ڈپٹا اور پھر دونوں میر کے کیبن سے باہر نکلے
💜💜
‘تمہیں گاڑی چلانا بھی آتی ہے؟’ حارث نے غصّے سے پوچھا
‘نہیں’ اتنے ہی اطمینان سے لالی نے جواب دیا
‘تمہارا تو میں ڈرائیونگ لائسنس بننے نہیں دونگا دوسرے لوگوں کے لیے چلتا پھرتا خطرہ ہو تم’ حارث بولتا ہوا اندر چلا گیا لالی جو اسکی بات سن رہی تھی اسکی بات پر بھڑکی اور اسکے پیچھے ہی بھاگتی ہوئی اندر آگئی
‘اوہ خبردار جو یہ فالتو کی حرکت کی ورنہ ہم تمہارے گھر کی بجلی کاٹ کر بھاگ جائیں گے’ لالی چیخ کر بولی تو سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے اپنا کام چھوڑ کر
علی بھی کچھ ضروری کام سے آیا تھا لیکن لالی کو دیکھ کر رکا میر نے اسے بلا ہی لیا آخر اسکا مطلب صحیح وقت پر آیا ہے وہ
میر بھی اسکی آواز پر ٹھٹھک کر رکا سامنے کا منظر ملاحظہ کیا تو لالی حارث سے لڑ رہی تھی اسنے لالی کو غور سے دیکھا جس نے اورنج شرٹ وائٹ ٹراؤزر کے ساتھ سر پر وائٹ اسکارف لیا تھا گرمی کی وجہ سے چہرہ سرخ ہوگیا تھا لیکن زبان اپنے پورے ڈھائی گز کے ہونے کا ثبوت دے رہی تھی
‘اون ڈیوٹی پولیس والے کو دھمکی دیتے ہوئے شرم نہیں آتی تمہیں’ حارث پھر بھڑکا
‘تو کیا آف ڈیوٹی پولیس والے کو دھمکی دے سکتے ہیں’ لالی نے معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹائیں
‘تم…’ حارث کچھ بولتا کہ میر کی آواز گونجی
‘شٹ آپ’ وہ دھاڑا اسکی دھاڑ پر تو لالی بھی اچھلی اور نہ محسوس انداز میں حارث کے پیچھے ہوئی جو میر دیکھ چکا تھا
‘ڈائیناسور بھی ہے کیا یہاں’ لالی نے حارث کے کان میں کہا تو حارث کو ہنسی آگئی
‘ایس ایس پی میر گیلانی ہے تم ڈائناسور ہی سمجھو’ علی نے بھی اسکی بات سن لی تھی اسلئے اسکے پاس آکر بولا تو لالی اور حارث نے جھٹکے سے علی کو دیکھا
‘علی بھائیییییی’ لالی فرطِ جذبات میں چیخ پڑی
‘اللّٰہ اکبر’ علی نے سر پر ہاتھ مارا
‘افففف پاگل ایڈیٹ نون سینس’ حارث کو بھی اس سے ہمدردی ہوئی
‘خاموش ایک بات کی بات سمجھ نہیں آتی یا جاہل ہو’ میر ایک بار پھر دھاڑا
‘جاہل کسے کہہ رہے ہیں آپ’ لالی کا دماغ لفظ جاہل پر بھک سے اُڑا اسلئے ایک بار پھر چیخی
(گئی اب تو یہ پکا گئی) حارث نے تو دل ہی دل میں اس پر انا للّٰہ پڑھ لیا تھا
‘تمہیں پتا بھی ہے کہاں کھڑی ہو تم پولیس اسٹیشن ہے یہ’ میر دھاڑا
‘ہمیں پتا ہے کہ یہ گندہ سا پولیس اسٹیشن ہے اب پلز ہمیں کوئی یہ بتائے گا کہ ہمیں کیوں بلایا گیا ہے ہمیں جانا بھی ہے’وہ چڑ گئی تھی اب ایک تو گرمی اوپر سے یہ ڈرامے
سب نے حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا
میر چلتا ہوا لالہ رخ کے قریب آیا اسکا ہاتھ پکڑا اور ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کیا پھر اسکی طرف جھکا تو لالی تھوڑا پیچھے ہوئی
‘تم آئی بھی میری مرضی سے ہو اور جاؤ گی بھی میری ہی مرضی سے’ میر کی غصّے میں ڈوبی آواز گونجی
(ارے یہ تو ڈائلاگ ہوگیا امیتاب کی فلم دیوار کا) لالی نے دل میں سوچا
‘ڈائیلاگ بازی اچھا اب ہم بھی بولیں گے’ لالی کہتے کے ساتھ ہی پھدک کر ٹیبل پر بیٹھی اور اسٹک اٹھائی ٹیبل پر پڑے ہوئے سن گلاسس بھی اٹھا لیے اور آنکھوں پر لگائے
میر اور تو اور جو کمپلین لکھوانے آئے تھے اب وہ سب بھی اسے ہی دیکھ رہے تھے
“یہ پولیس اسٹیشن ہے تمہارے باپ کا گھر نہیں کہ منہ اٹھائے اور چلے آئے” لالہ رخ نے اسٹیک سے میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس کی آنکھیں اب آگ اگل رہیں تھیں
‘یہ امیتاب بچن کی مووی کا ڈائیلاگ ہے نہ’ علی نے اس کے پاس آکر کہا
‘ہاں کیا نام ہے اسکا زنجیر’ حارث بھی بول پڑا
میر کو تو آگ ہی لگ گئی مطلب اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں ایک نئے سرے سے غصّہ نے آن جکڑا
‘ماریہ’ اسنے لیڈی کونسٹیبل کو مخاطب کیا
‘جی سر’ ماریہ جو شوق سے سب دیکھ رہی تھی میر کے بلانے پر چونک پڑی
‘ہتھ کڑی لگاؤ اسے اور منہ پر ٹیپ بھی لگاؤ اس کے’ میر نے آہستہ سے بولا تو وہ جلدی سے آگے بڑھی اور اسکے ہاتھ باندھنے لگی
‘ارے محترمہ یہ کیا کررہی ہیں آپ علی بھائی اسکو بولے نہ’ لالی ڈری تھی یہاں ہلکا سا
‘میر کیا کررہا ہے منع کر اسے’ علی نے میر کو آنکھیں دکھائیں
‘مجھے پتا ہے مجھے کیا کرنا ہے تم چپ رہو’ میر نے علی کا ہاتھ پکڑ کر اسکے منہ پر رکھا ‘اور تم اسے میرے کیبن میں لے کر جاؤ اور جب تک میں اندر ہوں کوئی اندر نہیں آئے گا اب سب اپنے اپنے کاموں میں لگو’ میر نے ماریہ کو کہنے کے بعد سب کو وارن کیا
ماریہ اسے کھینچ کر لے کر جارہی تھی اور وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر سب کو دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو کوئی تو بچا لو لیکن کون اس شیر کی پوچھاڑ میں ہاتھ ڈالتا
💜💜
‘لالی ابھی تک آئی کیوں نہیں کہیں پھر سے نوکری تو نہیں کرنے لگی’ دانیال آج گھر پر تھا
(لالی نے اپنی سیلری اور اپنی جاب کا سب کو بتا دیا تھا کسی کو کوئی مصلا نہیں تھا لیکن زمان صاحب اسکی پڑھائی کی وجہ سے پریشان تھے اس لئے انہوں نے منع کردیا تھا کہ جب پڑھائی مکمل ہوجائے تب کرنا نوکری)
‘پتا نہیں کیا کرتی رہتی ہے یہ لڑکی کسی دن پٹے گی میرے ہاتھوں سے’ شبانہ بیگم حسبِ معمول چڑ گئیں تھیں
‘لگی ہوگی لوگوں کو پریشان کرنے میں اسکا تو زوز کا ہے اسلام و علیکم’ پری نے گھر میں انٹری مار کر کہا وہ کالج سے آئی تھی لیکن شبانہ بیگم کو دیکھ کر گڑبڑا کر سلام کیا
‘ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کل کلا کو اسکی شادی ہوگئی تو سسرال والے تو دو ہی دن میں رنگ آجائیں گے اس سے’ شبانہ بیگم کو ایک نئی فکر جاگی
‘اسکی شادی کو چھوڑیں پہلے دانی بھائی کی شادی کا سوچیں ویسے ہی آجکل یہ بہت اتاولے ہورہے ہیں’ پری نے دانیال کو آنکھ ماری دانیال اچھلا
‘چپ رہو تم بکواس نہ کیا کرو کچرا رانی’ دانیال خود بھی جلا اور اسے بھی جلایا
‘کیا ہے بھئی امّی انہیں کچھ کہتی کیوں نہیں ہے آنے دو لالی کو بتاؤں گی سب پھر وہ آپکی ٹانگ کھچے گی’ پری نے اسے لالی کے نام سے ڈرایا
‘آنے تو دو اسے پھر دیکھنا میرے ساتھ ہی ملکر تمہیں ڈرڈو کی بیوی بنائے گی ہاہاہا’ دانیال اپنی ہی بات پر ہنسا تو پری کو آگ لگا گیا وہ پیر پٹختی ہوئی فریش ہونے چلی گئی
پیچھے دانیال کو تھوڑا پریشان ہوگیا تھا اب لالی کی وجہ سے پتا نہیں کہاں رہ گئی تھی
💜💜
لالی میر کے کیبن میں بیٹھی آفس کا جائزہ لے رہی تھی بلکہ اب تو نیم غنودگی میں جارہی تھی میر کو فری کی کال آگئی تھی تو وہ اس سے بات کررہا تھا کافی دیر سے
لالی کا ہاتھ اور منہ ابھی تک کسی نے نہیں کھولا تھا اسی لئے بیٹھے بیٹھے اسکی آنکھ لگ گئی
میر آفس میں داخل ہوا تو وہ محترمہ سو رہیں تھیں میر اسکے پاس آیا اسنے پہلے اچھے سے چیک کیا تو واقعی وہ سو گئی تھی
میر نے رومال پکڑا اور پانی کا گلاس اٹھایا پھر لالی کے ہاتھ میں گلاس تھمایا تاکہ فنگر پرنٹس لے سکے اسکے بعد اسے حارث کے حوالے کیا اور پھر دوسرے گلاس میں پانی بھر کر لالی کے منہ پر مارا وہ بیچاری ہڑبڑا کر اٹھی
ادھر ادھر دیکھا تو سامنے میر کھڑا تھا بولنے کی کوشش کی لیکن ہونٹوں پر تو ٹیپ تھا
میر سمجھ گیا تھا کہ وہ بولنا چاہ رہی ہے اسلئے اسنے پہلے اسکے ہاتھ کھولے اور پھر جھٹکے سے اسکا ٹیپ ہٹایا ہونٹوں کی کھال اکھڑی اور خون کی ننی بوندیں نکلیں
‘آہ آرام سے نہیں ہٹا سکتے تھے’ لالی نے اپنا ہاتھ ہونٹوں پر رکھا
‘شش کافی دیر سے تمہاری بدتمیزی دیکھ رہا ہوں اب چپ ایک لفظ بھی بولا تو ایک لگاؤں گا’
میر نے اسکی کرسی کے دائیں بائیں ہینڈلز پر اپنے ہاتھ رکھے اور اسکی طرف جھکا وہ اب پوری طریقے سے اس کے حصار میں تھی ڈھائی گز کی زبان بھی خاموش ہوگئی تھی
‘جنید فروز غزالی کو جانتی ہو’ وہ سیدھا اپنے مقصد پر آیا
‘جنید ککون جنید’ وہ زیادہ تر اسے ارمان کہتی تھی اس لیے اسکا اصل نام بھول گئی تھی
میر نے اسکے سامنے تصویر رکھی جنید کی
‘ارمان…’ وہ کہتے کہتے روکی پھر یاد آیا کہ اسکا اصل نام جنید ہے ‘ہاں ہاں جانتے ہیں’ لالی نے اعتراف کیا
میر اسکے پاس سے دور ہوا اور اپنی ڈرا سے ایویڈینس نکالنے لگا
‘تو یہ بھی جانتی ہوگی کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا’ میر کی آواز میں واضح دکھ تھا
‘ہاں’ لالی ہلکے سے بولی میر نے سارے ایویڈینس اس کے سامنے رکھے اور پھر وڈیو کلپ سٹارٹ کیا
لالی آنکھیں پھاڑے وڈیو کلپ دیکھ رہی تھی صرف دو سیکنڈ کی تھی لیکن بہت کچھ ثابت کررہی تھی
میر اسکے بلکل سامنے ٹیبل پر بیٹھا
‘کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم یہاں کیا کررہی تھیں؟’ میر نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جو کچھ کھوج رہی تھیں
‘غلطی سے آآگئے تتت…تھے وہاں’ اسکی آواز کانپی جھوٹ بولتے ہوئے
‘تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو’ میر کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی تھی
‘پپ۔پتا نہیں’ اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے
‘اچھا اس کے بارے میں کیا خیال ہے’ اب ایویڈینس میں اسکا آئی ڈی کارڈ تھا
‘یہ…یہ نا یونی میں گم ہوگیا تھا پتا نہیں وہاں کیسے پہنچ گیا’ اسنے ایک بار پھر جھوٹ بولا
‘مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے’ وہ دھاڑا تو لالہ رخ کے چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھریں
‘اور یہ…یہ تو یقیناً وہاں خود چل کر گئی ہوگی ہے نا’ میر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکے سامنے جلی ہوئی شال لہرائی
‘نہیں’ وہ کنفیوژ ہورہی تھی
‘کیا نہیں’
‘مم…مطلب وہ ہاں یہ تو اڑ گئی تھی اوپر سکھائی تھی’ لالی گھبراہٹ میں نہ جانے کیا بول رہی تھی
‘کیوں اڑن قالین تھی یا اسکے پر تھے’ اسنے اسکی عقل پر ماتم کرنا چاہا
‘نہیں لیکن ہَوا تو تھی نہ اسنے آڑایا اسے’ اب لالی نے اسکی عقل پر ماتم کیا تو میر کا دماغ بھک سے اڑا ایک ہی جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا اور ہاتھ کمر پر لےجاکر موڑا
‘مجھے جھوٹ بلکل بھی پسند نہیں ہے اور تم جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہو’ اس نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی لیکن وہاں بھی لالہ رخ تھی ایسے درد سہتی رہتی تھی
لالہ رخ بولنے کے بجائے ہلکا سا پیچھے ہوئی اور پھر اسکا ہاتھ جو میر کے ہاتھ میں تھا اوپر اٹھایا اسکی نیچے سے نکلی اس طرح کرنے سے اب میر کا ہاتھ اسکی گرفت میں تھا جو وہ اسکی کمر سے لگا چکی تھی میر اسکی ہمت پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکا
‘آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں’ لالی نے اسکا ہاتھ زور سے مروڑا اور اسکے کان میں پھنکاری
میر نے اپنے دوسرے ہاتھ سے لالہ رخ کا بازو پکڑا اور آگے اتنی زور سے کھینچا کے لالی کو اسکا ہاتھ چھوڑنا پڑا
‘بہت سے کیسیز ہینڈل کیے ہیں میں نے لوگوں کے چہرے دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ کون جھوٹ بول رہا ہے اور کون سچ’ میر نے اسکو ٹیبل کی طرف دھکا دیا تو وہ ٹیبل پر گری کوئی چوٹ نہیں لگی تھی دونوں ہی اس کھیل کے کھلاڑی تھے آخر
حارث نوک کرکے اندر آیا اور فنگر پرنٹس کی فائل دکھائی اور میر کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا جیسے فنگر پرنٹس میچ ہوگئے ہیں
‘پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے تم نے ہی قتل کیا ہے’ میر نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا
‘قتل کرنے کے لیے وجہ ہونی چاہیئے جو یقین جانیں ہمارے پاس نہیں ہے’ لالہ رخ نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
‘کیوں تم جنید سے محبت نہیں کرتی تھیں’ وہ چیخا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ مجرم ہراس ہوکر اطرافِ جرم کرے
‘کککرتے تھے’ اسکو سمجھ آرہا تھا سب
‘اسنے تمہیں دھوکا بھی دیا ہے نہ’ وہ چیخا باہر کھڑا علی سب سن رہا تھا اسکو جھٹکا لگا تھا کہ جنید نے دھوکا لالی…
‘ ہاں دیا تھاااا’ اب وہ بھی چیخی یہی تو میر چاہتا تھا کہ وہ اس طرح سب بتادے
‘بس تم نے اسی لئے اسے ماردیا’ میر نے یہ بات سکون سے کہی تھی سامنے والے کا سکون غارت کرکے
‘چپ بلکل چپ سمجھتے کیا ہو خود کو محبت کے بارے میں جانتے بھی ہو وہ محبت نہیں کرتا تھا لیکن ہم تو کرتے تھے اور محبت میں محبوب کی جان لینا اپنی میّت اپنے کندھے پر رکھنے کے مترادف ہے میر گیلانی’ وہ اتنی زور سے چیخی کہ علی نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا میر بھی ایک پل کیلئے ہل گیا تھا اب اس نے یہ بھی نہیں چاہا تھا
‘ثبوت تمہارے خلاف ہیں سارے’ میر بھی اپنی بات سے ایک انچ نہیں ہٹا تھا
‘سب جھوٹ ہے سارے ثبوت جھوٹے ہیں اگر ہمیں اسے مارنا ہی ہوتا تو گولی تو لگ ہی چکی تھی پھر جلانے کا مطلب’ اس نے یہاں جوش میں اپنے ہوش کھو دیے میر مسکرایا اور علی کی اوپر جیسے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے وہ اندر داخل ہوا
‘تمہیں کیسے پتا کہ اسکو گولی بھی لگی تھی’ علی نے حیرت سے پوچھا یہ وہ بات تھی جو میر علی اور کچھ پولیس آفیسرز کے علاؤہ کسی کو نہیں پتا تھی
لالی کو شدّت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا جلد بازی میں کیا بول گئی تھی وہ اور اب تو کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی
‘ہ…ہم…ہمیں گھر جانا ہے سب انتظار کررہے ہونگے’ لالی نے اپنا بیگ اٹھایا اور نکل گئی
پیچھے علی صرف میر کو دیکھ کر رہ گیا
‘اسکا مطلب یہ وہاں موجود تھی’ علی ابھی بھی حیرت میں تھا
‘ہوسکتا ہے اسی نے قتل کیا ہو’ میر نے آئی ڈی کارڈ پر اسکی تصویر کو دیکھ کر کہا
‘میں مان ہی نہیں سکتا’ علی نے سر نفی میں ہلایا
تبھی میر کے فون میں ایک بیل رنگ ہوئی
میر نے فون چیک کیا تو اننون نمبر سے کسی نے کچھ تصاویر اور وڈیو بھیجی تھی جس میں لالہ رخ گن پکڑے جنید کے پچھے کھڑی تھی اور کچھ میں وہ جنید سے بات کررہی تھی اور وڈیو میں وہ جنید پر پیٹرول چھڑک رہی تھی میر کی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں تھیں علی نے میر کو دیکھا اور پھر اس سے موبائل لیا اور ایک ایک تصویر دیکھی تو اسکے پیروں تلے زمین کھسکی
‘یہ نمبر کس کا ہے؟’ علی نے میر سے پوچھا
‘فراز ایوبی ڈیٹیکٹو’ میر کا سرسراتا لہجہ علی کو بھی اپنی کم عقلی پر افسوس ہوا کیسے اس نے بھروسہ کرلیا اس پر
(مس لالہ رخ زمان شاہ تیار رہو کیوں کہ تمہیں قانون نہیں میں سزا دوں گا اور میری سزا موت سے بھی بدتر ہوتی ہے)
جاری ہے…………
