Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 04
از قلم انعم رئیس

وہ اپنے مخصوص انداز میں ہاتھوں کو پینٹ کی جیبوں میں اڑسے آنکھوں پر سن گلاسز لگائے ہونٹوں کو گول کرکے سیٹی بجاتا ہوا ہمیشہ کی طرح خوبرو سا وہ مرد پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا سامنے سے آتے حولدار سیلیوٹ کرکے سلام کرتے وہ سب کا سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنی ٹیبل کی طرف آیا اور ٹیبل پر پڑی فائلز کو چیک کرنے لگا
اتنے میں انسپیکٹر حارث اندر داخل ہوا اور میر کو سیلیوٹ کرکے سلام کیا اس نے سر ہلا کر جواب دیا
‘کیا اپڈیٹ ہے انسپیکٹر’
”سر ایک درندے کو پکڑا ہے دو معصوم بچیوں کو نوچا ہے اس خبیث نے اور نہ صرف درندگی کی بلکہ جلا کر جان سے ماردیا” میر نے مٹھیاں بھینچی تھیں دانت پر دانت جمائے تھے دو انگلیوں سے مخصوص اشارہ کیا تھا اور حارث جان گیا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے ‘سر’ کہتا واپس مڑا اسکے پیچھے میر بھی نکلا تھا
_ایسوں کا فیصلہ تو وہ خود کرتا تھا جب بھی ایسا کوئی کیس آتا تو میر کی عدالت لگتی تھی جس میں صرف سزائے موت ہوتی تھی نہ گواہ ہوتے نہ جج ہوتا اور نہ ہی کوئی تاریخ اور اس دن آس پاس کا پورا محلہ آتا تھا انصاف دیکھنے اور مقتول کا خاندان فیصلہ کرتا تھا کہ کیا کرنا ہے اور انکے فیصلہ کے ساتھ ایک فیصلہ میر کا ہوتا تھا
کب ضد پر آجائے تو سمندر کو چیر دے
جھونکا ہوا کا یہ نہ بن پاوے زنجیر سے
جب غررائے سب تھر رائے یا بند خول بن جائے

وہ مین انٹرینس پر موجود تھا جہاں پر دائیں طرف حوالداروں کی ٹیبلس تھیں اور بائیں طرف گزرے سالوں کے ریکارڈ تھے دائیں طرف ہی باہر آنے جانے کا دروازہ تھا دائیں اور بائیں کے بیچ کی جگا ایک دیوار تھی تھی جس پر زنجیریں لگی تھیں اور اس دیوار کے بلکل سامنے تین سٹیپ اوپر میر کا آفس تھا (یو نو سمبا) اور ان سٹیپ پر بیٹھا وہ ملک کا رکھوالا میر گیلانی کیسے اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا ہوتا دیکھ سکتا تھا کیونکہ ملک کی جڑیں تو یہ بچے ہیں جن میں سے دو اسکی درندگی کا نشانہ بنے اب یہ میر کی درندگی کا نشانہ بنے گا
کچھ دیر بعد حارث اور امان اللہ(حوالدار) نے اس درندے کو سامنے لگی زنجیروں میں جکڑا تھا میر کی خونخوار نظر بھی اسی پر تھی اس کا بس نہ چلتا کہ نظروں سے ہی کھا جاتا
‘جلیل صاحب فیصلہ کریں یہ آپکا مجرم ہے’ میر کی سرد آواز ہال میں گونجی تھی سامنے بندھے درندے کے نیم غنودگی میں بھی پسینے چھوٹے تھے آواز ہی اتنی سرد تھی جیسے اشتعال اور غصّے کو دبانے کی کوشش کی گئی ہو
‘بیٹا اسنے میرے گھر کی خوشیوں کو چھینا ہے اسے چھینا ہے جسے میں نے اپنے ہاتھوں میں کھلایا تھا میری نازک پھول جیسی بچی تھی وہ اسنے میری بچی کو زندہ جلایا تھا میری آنکھوں کے سامنے میرا فیصلہ ہے اسے بھی زندہ جلایا جائے’ انہوں نے روتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا انکی بیٹی محض نو سال کی تھی جسے اس درندے نے نوچ کھایا تھا
‘رحیم صاحب آپ کا کیا فیصلہ ہے’ وہی سرد لہجہ حارث نے بے ساختہ جھرجھری لی
‘میرا بھی یہی فیصلہ ہے’ رحیم صاحب نے پختہ لہجہ میں کہا اپنی بیٹی کو انصاف دلا رہے تھے انہیں اس وقت مضبوط بننا تھا اپنی بیٹی کے لئے جو سترہ سال کی تھی جسنے کئی خواب دیکھے تھے اسے ڈاکٹر بننا تھا کافی زہین بھی تھی لیکن اسکا حسن اسے لے ڈوبا کالج سے واپسی پر اس درندے نہ اسے اٹھا لیا تھا اور درندگی کرکے اسے جلا دیا تھا وہ ہمیشہ کہتی تھی میں بڑے ہوکر ایسی لڑکیوں کیلیے لڑوں گی لیکن خود انہی لڑکیوں میں شامل ہوگئی تھی
“خدا سب لڑکیوں کے نصیب اچھے کرے اور ساتھ میں انہیں اپنے حفظ وامان میں بھی رکھے آمین”

‘تو پھر میرا بھی ایک فیصلہ ہے’ میر نے سامنے نظریں ٹکائے کڑختگی سے بولا
💜💜

رابیعہ نے پورا پلین تیار کیا تھا اب وقت اس پر عمل کرنے کا تھا جو جنید کے بغیر نہ مکمل تھا سو فون اٹھایا اور اپنے ایک ضروری مُہرے جنید کو کال ملائی اور اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا دکھ سمویا
جنید نے پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کی
‘زہے نصیب آج تو بڑے لوگوں نی فون کیا ہے’ جنید کی شوخ سی آواز سنائی دی
‘جنید’ وہ بولتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی بھئی ناٹک کررہی ہے لگنا بھی چائیے اور ادھر جنید کی ساری شوخی ہوا ہوئی تھی
‘رابی’ جنید نے بولتے کے ساتھ ہی فون بند کیا تھا اور آفس کے مینیجر کو کام سنبھالنے کا بولتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا اور گاڑی زن سے آگے بڑھائی
ادھر رابی اپنی ایکٹنگ کو دنیا جہاں کے ایوارڈز سے نواز چکی تھی
💜💜

‘رابی میری جان کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے اگر مجھے نہیں بتاؤ گی تو میں سب کچھ کیسے ٹھیک کروں گا’ جنید نے روتی ہوئی رابی کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ تو ایسے رو رہی تھی جیسے وہ مرنے والی ہو اور حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ اسنے خود کو شال سے ڈھکا ہوا تھا ایک پل کیلئے تو جنید بھی ٹھٹکا تھا لیکن وہ رابی کو سنبھالنے میں مگن ہوگیا تھا تو بھول گیا
‘جنید اس نے…….مجھے……پوری یونی کے سامنے…….اس………نے’ ہچکیوں کی وجہ سے بولا تک نہیں جا رہا تھا
‘اچھا روکو پہلے پانی پیو’ جنید نے پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھایا وہ ایک ہی سانس میں پی گئی
‘اب بولو’
‘جنید اسنے پوری یونی کے سامنے میری انسلٹ کی اور اور میری جھوٹی تتتتت۔۔۔۔تصویریں بھی دکھائیں سب کو کسی لڑکے کے ساتھ وہ لڑکا تو بچ جائے گا پر میں میں تو لللللل۔۔۔۔لڑکی۔۔ی۔۔ ہونا’ وہ زارو قطار روتے ہوئے(ڈرامہ) اسکے سینے سے آلگی رابی نے پلین کے مطابق پہلا پتّہ پھینکا تھا
‘ی۔۔۔ییی۔۔یہ دیکھو’ اسنے وہ خود سے کی فوٹوشاپ تصویریں دکھائیں جسمیں اس نے انتہائی تنگ جسم کو چھپانے کے لیے نا برابر سا لباس زیب تن کیے کسی لڑکے (جو کہ شرٹ لیس تھا) کہ انتہائی قریب کھڑی تھی دکھانے والے نے تصویر اس طرح سے فوٹوشاپ کی تھی کہ دیکھنے والا ان پر ایمان لے آئے
‘اور اور اس۔۔۔۔۔نے میرییییی۔۔۔آستین بھی کھینچی جس سے وہ پھٹ گئی اس نے کہا ایسی حرکتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تو اب کیوں آئے گی(استغفرُللہ کتنی کمینی ہے)’ اس نے اپنی شال ہٹا کر اپنا بازو دیکھایا جہاں آستین پھٹی ہوئی تھی جنید کو تو اپنی آنکھوں پر ہی یقین نہ ہوا پہلے تو وہ بے یقینی سے دیکھے گیا اسکے بعد غصّے نے اسے آ جکڑا تھا اور غصّے میں ہمیشہ کی طرح وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا تھا اسی وجہ سے یہ تک بھول گیا تھا کہ سامنے کھڑی ہوئی لڑکی بہت تیز ہے کس میں اتنی ہمت ہوگئی تھی اسے کچھ کہنے کی وہ تو چڑیل تھی وار کرنے سے پہلے ثبوت مٹاتی تھی اگر کسی نے ایسا کچھ کیا بھی تھا تو رابی اب تک اسے موت سے بد تر سزا دے چکی ہوتی نہ کہ رو رہی ہوتی
‘کس نے کیا ہے یہ میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا’
لہجہ میں پختگی تھی غصّہ تھا
‘نن۔۔نہیں جنید تم ایسا کچھ نہیں کروگے تمہیں تمہاری محبت کی قسم’ رابی نے ایک اور پتّہ پھینکا جو اس بات کی گواہی تھا کہ جیت اسی کی ہوگی مگر قسمت۔۔۔ جنید نے جھنجھلا کر اسکی طرف دیکھا وہ پھر بولی
‘اس نے صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ بہت سی لڑکیوں کی زندگی خراب کی ہے اب ہم اسے سزا دیں گے جنید اس میں تم میرا ساتھ دوگے نہ کیونکہ تمھارے بغیر میں کچھ نہیں کرسکتی پلزززز’ رابی نے آنکھوں میں امید لیے اسے دیکھا
‘ہاں میں کروں گا تمھاری مدد بلکہ تم اگر مجھے نہ روکتیں تو اب تک وہ میرے ہاتھوں قتل ہوچکی ہوتی’ جنید کے لہجہ میں سختی ابھری لیکن وہ ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کتنی معصوم ہے رابی اپنی مشکلات بھلا کر دوسروں کا بھلا کررہی تھی

اور یہاں رابی نے پھینکا تھا جوکر کا پتّہ، دل ہی دل میں وہ قہقہ لگا رہی تھی ایک تیر سے دو شکار جنید بھی راستے سے ہٹے گا اور وہ لالی بھی برباد ہوگی
ہاہاہاہاہاہاہا قسمت نے بھی اسکے ساتھ زور سے قہقہ لگایا تھا کیونکہ کاتب بھی اب مزاق کرنے چلا تھا لیکن کاتب کے مزاق مزاق نہیں ہوتے
💜💜

میر کے فیصلے کے مطابق اسے محلے کی بنجار زمین پر آدھا زمین میں دفنایا اور آدھا زمین سے باہر رکھا کیونکہ میر کا فیصلہ زندان تھا وہ اسے ختم کر دینا چاہتا تھا لیکن ایسے نہیں
پھر اس نے محلے کے لوگوں کو آگے کیا اور سب کو پتھر اٹھانے کو کہا اور سب نے مل کر اس درندے کو پتھر مارے تھے چند ہی منٹوں میں وہ لہولہان ہوگیا تھا اور آخر میں ایک پتھر رحیم صاحب نے اور ایک پتھر جلیل صاحب نے مارا تھا اور اتنی زور سے مارا تھا کہ اس کی چیخوں کے ساتھ کراہیں بھی گونجی تھیں
میر نے حارث کو اسے باہر نکالنے کا اشارہ کیا اسنے اشارہ سمجھتے ہی حوالداروں کے ساتھ باہر نکالا اور اب باری تھی تاریخ لکھنے کی کہ جب جب ایسے فرعون اٹھیں گے تب تب خدا موسیٰ (ع) کو بھیجے گا
اس کے ہاتھوں اور پیروں کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا میر نے اپنے ہاتھوں سے اس پر پیٹرول چھڑکا، محلے کی کچھ دل برداشتہ عوام واپس جا چکی تھی جانتے جو تھے کہ ایک اور فرعون ختم ہونے آیا ہے اتنی آسانی سے تو نہیں مرے گا
میر نے رحیم صاحب اور جلیل صاحب کو اشارہ کیا وہ دونوں آگے بڑھے تھے دونوں کی ہاتھوں میں ماچس تھی بلکہ موت کا پروانہ تھا
جلیل صاحب کے کانوں میں اپنی بیٹی کی آواز گونجی
‘بابا آپکی بیٹی ایک دن ٹاپ کی ڈاکٹر بنے گی اور سب کا علاج کرے گی اور سب سے پہلے آپکا بلڈ پریشر ٹھیک کرے گی نہ صرف آپکو بلکہ میں سب ٹھیک کروں گی ہم امیر ہو جائیں گے اور پھر ہم بڑا والا گھر لینگے اور اچھے اچھے کپڑے بھی پہنیں گے’ اور آخر میں کھلکھلا کر ہنسی انکی آنکھوں سے آنسو ٹپکا میر نے ھاتھ رکھا تھا انکے کندھے پر انہوں نے سر ہلایا
اور ماچس جلائی رحیم صاحب نے بھی ماچس جلائی اور ایک ساتھ اسکی طرف پھینکی تھی
پیٹرول نے شعلہ پکڑا اور آگ بھڑکی تھی اس درندے کی چیخوں نے اس بات پر مہر لگائی تھی کہ وہ خدا انصاف پسند ہے پھر جیسے بھی ہو مکافاتِ عمل لازمی ہوتا ہے
ادھر اسکے جسم سے روح نکلی جلیل صاحب نے بے ساختہ آسمان کو دیکھا تو سامنے انکی بیٹی کھڑی مسکرا رہی تھی اور پھر واپس پلٹ گئی یہ دیکھ کر انکے دل کو سکون ملا تھا ہائے یہ بیٹیاں کتنی پیاری ہوتی ہیں
💜💜
لالی صبح یونی جانے کیلئے تیار ہورہی تھی آف وائٹ سیمپل سی کرتی صرف گول گلے پر سلور موتیوں کا کام تھا اسکے نیچے آف وائٹ ٹراؤزر دوپٹے کو پلیٹس ڈال کر اسکارف بنایا تھا بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر گلوس
‘آجاؤ نیچے شیشے میں تو ایسے دیکھ رہی ہو جیسے ہور پری لگ رہی ہو بہت’ پری نے شرارت سے کہا
‘جلو مت اب ہیں تو کیا کرسکتے ہیں ہائے نظر نہ لگے کسی کی ماں صدقے ماں واری’ لالی اپنے ہی صدقے واری ہوئی

وہ دونوں باہر ٹیبل پر آئیں تو زمان شاہ انکا انتظار کر رہے تھے
‘آگئیں میری پریاں’ انہوں نے محبت بھرے لہجے میں کہا
‘بابا پری تو صرف میں ہوں’ پری نے لاڈ سے کہا
‘ہاں پری تو یہی ہے کیونکہ ہم تو حور پری ہیں’ اس نے آنکھوں کو جھپکا کر کہا
‘حور پری نہیں کچرا رانی کہو یا لڑاکا عورت’ دانیال نے اسکے سر پر ہاتھ مارا
‘اووو…بھئی عورت کسے کہا لڑاکا تو ٹھیک ہے لیکن عورت’ ہاتھوں کو کمر پر رکھ کر صدمے سے بولی
‘ہاں بابا کل وہ امیر زادی ہمارے محلے سے گزر رہی تھی اس نے شہیر کو مارا اپنی گاڑی سے بچارے کے سر پر چوٹ لگ گئی تھی اور سوری کرنے کے بجائے وہ گاڑی لئے وہاں سے جارہی تھی پھر لالی نے اس کی ساری اکڑ نکالی تھی’ پری جوش سے سب بتانے لگی سب نے لالی کی ہمت کو سراہا اور لالی بھی اکڑ کر بیٹھ گئی شبانہ بیگم نے بھی ایک ایک بات سنی تھی انکو پہلے تو خوشی ہوئی لیکن بعد میں یاد آیا لڑکیاں ایسی نہیں ہوتیں اسلئے اپنے ازلی موڈ میں واپس آئیں
‘لالہ رخ امیر زادی تھی وہ اس طرح ہر کسی سے نہیں لڑتے سدھر جاؤ تم دیکھا ہے کبھی خاندان کی لڑکیوں کو ایسا کرتے ہوئے کچن میں کونسی چیز کہاں رکھی ہے تمہیں اسکا زرا بھی پتہ نہیں ہوگا لیکن یہ پوچھو کہ کونسی ایکشن مووی کب اور کہاں ریلیز ہوئی ہے اسکا سب پتا ہوگا تمہیں’ شبانہ بیگم شروع ہوچکی تھیں اور لالی حسبِ معمول سن رہی تھی کہہ تو وہ بھی سکتی تھی کچھ لیکن وہ بد تمیز نہیں تھی عزت کرنا تو اس نے بھی سیکھا تھا لیکن صرف ان کیلئے جو عزت کرنے کے لیے بنے ہیں اور جو اسکی عزت کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے پھر وہ انہیں منہ بھی نہیں لگاتی تھی دریا دل بھی تھی اور لڑاکا بھی جہاں کچھ غلط ہو وہاں یہ پہلے پہنچ جاتی تھی
‘اچھا ڈارلنگ سوری بس کے آنے کا ٹائم ہوگیا ہے اب ہم جارہے ہیں شام میں ملاقات ہوتی ہے اللّٰہ حافظ’ لالی سب کو الوداع کہہ کر جلدی سے باہر دوڑی کوئی شک نہیں تھا کہ انکی چپل نہ اسکا پیچھا ضرور کیا ہوگا
لالی صبح 7:30 پر یونی جاتی تھی اور پانچ بجے واپس آتی تھی کیونکہ وہ 1 بجے کے بعد وہ ایک نیوز پیپر میں ایز آ ایڈیٹر جاب کر رہی تھی اور یہ بات اس نے کسی کو نہیں بتائی تھی کیونکہ اسے جاب کرتے صرف دو ہفتے ہوئے تھے وہ سب کو اپنی پہلی کمائی دکھا کر سرپرائز کرنا چاہتی تھی جو کہ بیس ہزار تھی

جاری ہے…………