No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 08
از قلم انعم رئیس
لالی یونیورسٹی میں بنی لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی کہ فصیحہ بھی وہیں آگئی
‘لالی’
‘ہمممم’
‘میں سر ارمان سے بات کرنا چاہتی ہوں’ فصیحہ ہمہ تن گوش ہوئی لالی جھٹکے سے سیدھی ہوئی
‘کککک۔۔کیوں’ اسکی زبان لڑکھڑائی تو لالی نے آئیبرو اچکائی جیسے کہہ رہی ہو تجھے نہیں پتا ‘فصو کیا ضضض۔۔ضرورت ہے چچچ۔چھ۔۔چھوڑ اسے تجھے ان سے اچھا کوئی مل جائے گا ویسے بھی وہ ہمیں کچھ ٹھیک نہیں لگتے’ اسنے دبّو سی وضاحت کری
‘اوو تیری طبیعت تو ٹھیک ہے بخار وخار تو نہیں ہوگیا کہیں ابھی کچھ دن پہلے ہی تو کہا تھا تو نے کہ سر کہ اخلاق ایسے ہیں اور ویسے ہیں اب کیا ہوگیا سر بھی وہ ہی ہیں اور اخلاق بھی’ فصیحہ کے لہجے میں حیرت ابھری
لالی اسے کیسے بتاتی جس سے وہ محبت کرتی ہے وہ تو کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے کسی بھی کوئی اور نہیں اسکی اپنی دوست کی اور اسکی اپنی دوست بھی تو اسی سے محبت کرتی ہے اگر فصیحہ کو یہ سب پتا چلا تو ٹوٹ جائے گی اور جب پتا چلے گا تو بھروسہ مان جو اسکا لالی پر تھا وہ بھی ٹوٹ جائے گا لالی اس وقت کتنی بے بس تھی وہ سوچوں میں گم تھی جب
‘تو تو جانتی ہے نہ کہ میں ان سے کتنی محبت کرتی ہوں کسی اور کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔’ وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ لالی نے اسکی بات کاٹی
‘پاگل مت بنو یار اسکا سٹیٹس دیکھا ہے تم نے اور ہم اسکے بارے میں جانتے کیا ہیں بس یہی کہ وہ ایک اچھی تربیت کا مالک ہے اچھی شکل و صورت بھی ہے لیکن کیا اسکے پاس دل نہیں ہے کیا وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا کیا پتا اس نے کسی اور کے ساتھ شادی کے وعدے کیے ہوں کیا پتا کسی اور سے محبت کرتا ہو۔۔۔۔۔۔’ بات کاٹی گئی
‘ممممم۔۔میں نے اسکی آنکھوں میں محبت دیکھی ہے’ فصیحہ نے لہجے کو مضبوط بنایا
‘آنکھیں جھوٹ بھی بولتی ہیں اور کیا پتا کسی اور کیلئے ہو وہ محبت’ لالی نے آئینہ دکھانا چاہا
‘نہیں جب میں اپنی چیزوں میں شراکت منظور نہیں کرسکتی تو وہ تو انسان ہے میں اسے خود سے محبت کروا کر رہوں گی’ اسنے خود کو تسلی دی
‘فصیحہ فاطمہ تم اس وقت ہوش میں نہیں لگتی اس محبت میں تم اتنی اندھی ہوگئی ہو کہ تمہیں کچھ دکھتا ہی نہیں ہے وہ انسان ہے کوئی کھلونا نہیں جسے تم توڑنے چلی ہو ارے اگر تمہیں ہم یہ کہیں کہ اسے چھوڑ دو اور کسی دوسرے سے محبت کرو تو کیا تم مان لوگی ہماری بات نہیں نہ ہماری جان بات کی نزاکت کو سمجھو تم’
‘لالی میں کیا کروں مجھ سے نہیں ہوتا میں بے بس لگتی ہوں اسکے آگے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا’ فصیحہ کی آنکھوں سے آنسو گرے لالی تڑپ کر اسکی طرف آئی
‘نہیں ہماری جان تم خدا سے مدد مانگو اس سے دعا میں کہنا نصیب میں ہو تو لکھ دے نہیں تو دل سے نکال باہر کرے اور آج تو ویسے بھی وہ نہیں آیا اچھا ہے ہم دونوں پیدل پیدل گھر جائیں گے’ لالی نے ماحول کو ہلکا کرنا چاہا
‘ہمم لیکن آج تو تجھے سیلری ملنی تھی نہ تو ہم دونوں تیرے آفس سے گھر جائیں گے اور تیرے ہی’ اسنے اپنے آنسو صاف کیے
‘ہمارے گھر کیوں بھئی’
(لگتا ہے پھر سے بھول گئی ہے) فصیحہ نے دل میں سوچا
‘آنٹی سے ملنے کا دل کررہا ہے’
‘اوکے’
💜💜
‘میں بھی شادی کرنے کا سوچ رہا ہوں’ جنید نے کہا تو میر علی اور باقی سب نے بھی اسکی طرف دیکھا
‘کون ہے وہ’ میر نے ساری بات ایک ہی جملے میں کہی
‘لڑکی ہے’ لہجہ شوخ ہوا
‘تو میں نے کب کہا کہ تو علی سے شادی کر رہا ہے’ میر نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا
‘نہیں اگر میں نے اِس سے شادی کرلی تو اُس سے کیسے کروں گا’ علی نے جلدبازی دکھائی
‘اُس سے کس سے مطلب تو بھی چھپا رستم نکلا’ میر نے آنکھیں بڑی کیں
‘تو اب سب کی عمر ہوگئی ہے اپنے بارے میں ہی سوچیں گے تمہاری طرح نوکری کو سینے سے تو نہیں لگائیں گے’ بی جان نے اوپر چڑھتے ہوئے کہا انکے بائیں طرف انصار صاحب تھے جو انہیں سہارا دےکر اوپر لارہے تھے
‘نہیں وہ میرا مطلب تو تھا کہ’ میر خجل ہوا
‘بس رہنے دو آئے بڑے میرا مطلب تھا’ بی جان نے نقل اتاری تو سب نے قہقہ لگایا ‘دیکھنا سب خدا نے اس کیلئے اسی کی طرح کی کوئی بنائی ہوگی اسکی طرح وہ بھی شادی سے انکاری ہوگی ورنہ اب تک تو ہم پر دادی بن چکے ہوتے’ بی جان کی بات پر میر کی پیشانی عرق آلود ہوئی اور نظریں شرم سے جھکیں تھیں سوچ کے پردوں پر کسی کا چہرہ لہرایا
میر کے شرمانے پر انصار صاحب کا قہقہ بلند ہوا
‘برخوردار کب ملوارہے ہے پھر ہماری بہو سے’ انصار صاحب کی بات پر ایک بار پھر اسکے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ ابھری سب ہقہ بقہ میر کو دیکھ رہے تھے ارے بھئی یہ کب ہوا پہلی بیوی کے پلو سے بندھے رہنے والا دوسری بیوی لانے کے بارے میں سوچ رہا تھا
‘ایسا کچھ نہیں ہے میں بس ایسے ہی’ میر کہتے ہی ادھر ادھر ہوا
‘ہاہاہاہاہا اچھا زرا ہم نظر تو اتار لیں بچوّں کی’ پھر بی جان کے صدقے واری گئیں
‘بی جان اب زرا ہمارے شہزادوں کو پریوں کے بھی دیدار کرا دیں جب سے نکاح ہوا ہے نظریں دروازے پر ہیں’ کہنے والے کوئی مہمان تھے اس بات پر چاروں کا دل کیا سینے سے لگالیں اسے
‘ہاہاہا ہاں بھئی لو وہ دیکھو آگئیں ہماری پریاں’
(فنکشن گھر کے لان میں ہی رکھا گیا تھا) سامنے سے رواحہ آتی ہوئی نظر آئی اسکے پیچھے سحرش اسکے پیچھے فاطمہ اور اسکے ہمراہ فری انکو دیکھ کر شہزادوں نے دل تھاما اور اٹھ کھڑے ہوئے چاروں نے اپنی دلہنوں کو اپنے ساتھ کھڑا کیا فری کو آخر میں میر نے تھام لیا تھا اور پھر اسکا ہاتھ خود سفیان کے ہاتھ میں رکھا
💜💜
‘ڈر کیوں رہی ہو پرنسس اس طرح کروگی تو رخصتی کروانی پڑ جائے گی’ سیفی نے سرگوشی کی
‘نہیں نہیں بلکل بھی نہیں’ فری جھٹ سے بولی تو وہ مسکرایا
‘ریلیکس رہو کچھ نہیں کہہ رہا ابھی صرف نکاح ہوا ہے’ سیفی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دبایا فری کو جیسے کرنٹ لگا تھا لیکن اس طرح اسکا ڈر بھی ختم ہوا تھا
‘میرا ہاتھ چھوڑیں سب دیکھ رہیں ہیں عجیب لگ رہا ہے’ فری نے منہ بنایا اسکے اس طرح کرنے سے سیفی نے خود کو سنبھالا ورنہ دل اف۔۔۔۔۔۔
‘کیوں چھوڑوں بیوی ہو میری گرل فرینڈ نہیں اور ویسے بھی یہ ہاتھ میں نے چھوڑنے کیلئے تو نہیں پکڑا نہ اس لئیے خاموش سب دیکھ رہے ہیں’ سیفی نے اسے بولتا دیکھ چپ رہنے کا کہا
‘ہونہہ۔۔۔۔۔۔سب دیکھ رہے ہیں’ فری نے اسکی نقل اتاری سیفی نے اپنی ہنسی روکی
💜💜
‘فائنلی تم میری ہوگئیں’ حمدان جو اتنی دیر سے چپ رہنے پر اکتا گیا تھا آخر بول ہی پڑا
‘ہمم پتا نہیں کیسے لیکن اب کیا کرسکتے ہیں’ رواحہ نے افسوس کیا
‘کیا مطلب تمہیں کسی اور کا ہونا تھا’ حمدان کا تو گویا دل بند ہونے لگا تھا
‘ہاں تو ہائے میرا اففان وحید اسنے میری وجہ سے اپنی بیوی چھوڑدی اور میں نے تو ابھی اسکے خواب بھی ٹھیک سے نہیں دیکھے تھے کہ تم پہلے آگئے’ رواحہ نے ٹسوے بہائے
‘شکر مناؤ تم کہ آج رخصتی نہیں ہوئی ورنہ حشر بگاڑدینا تھا تمہارا اپنے شوہر کے سامنے غیر مرد کا ذکر کرتے ہوئے شرم نہیں آئی’ وہ ہلکی آواز میں غرایا میر کا غصہ اس میں بھی پایا جاتا تھا لیکن سامنے فکر کسے تھی
‘غصہ کسے دکھا رہے ہو ابھی بی جان کو شکایت لگائی نہ سب کے سامنے کردیں گی تمھاری’ رواحہ نے ڈرایا
‘یہ تم کیا ہوتا ہے آپ کہو بیوی ہو میری’ وہ پہلی بات کو چھوڑ کر دوسری بات پر آیا
‘بیوی رخصتی کے بعد ہوتی ہے اور میں ابھی صرف تمھاری منکوحہ ہوں اسلئے اب خاموش ہو کر بیٹھو ویسے ہی تمھاری وجہ سے سب مجھے دیکھ رہیں ہیں کہ کیسی دلہن ہے’
‘میری وجہ سے کیوں اپنی وجہ سے کہو اور ویسے اتنا میک اپ تھوپنے کے بعد بھی کچھ خاص نہیں لگ رہیں وہی جنگلی بلی لگ رہی ہو’ حمدان نے اسکے غصے کو ہوا دی
‘یو جنگلی جانور خود کو دکھا ہے کبھی لال بھالو لگ رہے ہو’ رواحہ نے مزاق اڑایا
اتنے میں کھانا کھولا گیا
💜💜
‘مجھے بھوک لگ رہی ہے’ سحرش نے بھوک کا رونا رویا
‘کیوں صبح سے کھا کھا کر تھکی نہی تم’ ریان نے چڑایا
‘میں نے کچھ نہیں کھایا نکاح کی وجہ سے نروس ہی اتنی تھی کہ کچھ کھانے پینے کا سوجا ہی نہیں’ سحرش نے منہ بنایا
‘کیوں رخصتی تھی آج جو کھانے سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے’ ریان نے گھمبیر لہجے میں کہا
‘نہیں وہ بس ایسے ہی دل نہیں کک۔۔کیا’ گھبرائی
‘چلو تمہیں کچھ کھلا پلا دیں اس سے پہلے کہیں گر گرا گئیں تو پھر مجھے ہی اٹھانا پڑے گا’ اسکی بات سن کر گالوں پر لالی نے اپنا کام دکھایا
‘افف ابھی سے شرما رہی ہو کنٹرول کرو نازک سا بندہ ہوں کہیں مر ہی نہ جاؤں’ اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
‘ہاہاہاہا ابھی سے مر جائیں گے تو میرے اسائمنٹ کون بنائے گا’ شرارت سے بولی
‘مطلبی کہیں کی’ اسکی بات پر وہ جی بھر کر بدمزا ہوا تھا
‘کھانا’
‘لارہا ہوں سب کیلئے یہیں لگوادیتا ہوں سٹیج پر’
💜💜
‘فاطمہ’ وجدان کی گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائی
‘جج۔۔جی’
‘کیا کہتی ہو آج ہی رخصتی نہ کروالوں’ شوخ لہجہ
‘میں نہیں جاؤں گی آپکے ساتھ’
‘ارے اٹھا کر لے جائیں گے’
‘لے جا کر دکھائیں میں بی جان کے پاس چلی جاؤنگی پھر وہ آپکے کان مروڑیں گی ہاہاہاہا’
‘بی جان کی چمچی سوچو انہوں نے اگر خالص ساسوں والا روپ دھار لیا تو’ وجدان نے ڈرایا
‘آپ میری ساس کو ناگن سمجھتے ہیں شرم نہیں آئی آپکو ابھی بی جان کو بتاتی ہوں جاکر’ اس سے پہلے وہ اٹھتی بی جان ادھر ہی آتی ہوئی نظر آئیں
‘اب مزہ آئے گا ہاہاہا’ اب فاطمہ نے ڈرایا
‘نہیں یار پلیز ایسا نہ کرو’ اسکو اپنی بینڈ لگتی ہوئی دکھی
‘اب کریں گے رخصتی کی بات’
‘نہیں’
‘پکا’
‘ہاں پکا’ وہ بے بسی سے بولا
بی جان نے ساری لڑکیوں کو کمرے میں بھیجا اور کھانا میر کے ہاتھ بھجوایا
💜💜
لالی اور فصیحہ جب گھر پہنچی تو ہر جگہ اندھیرا تھا
‘بیڑا غرق جائے ان لائٹ والوں کا پھر سے لائٹ لے لی ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ لائٹ والوں کو بددعائیں کیوں نہیں لگتیں’ وہ اپنے موڈ میں واپس آئی اور حسبِ عادت چیخنا شروع کر دیا
‘تونے دی ہے نہ اب ضرور لگ جائے گی چل موبائل نکال اور لائٹ جلا’ فصیحہ تھکے ہوئے انداز میں بولی
‘ہمممم روکو’ اس نے لائٹ جلائی اور اچانک پورے گھر میں روشنی پھیل گئی پورا گھر بلونز سے سجا ہوا تھا سامنے ہیپی برتھڈے لالی لکھا تھا پھر کہیں سے برتھڈے سونگ کی آواز آئی
‘ہیپی برتھڈے ٹو یو’
ہیپی برتھڈے ٹو ڈیر لالی’
ہیپی برتھڈے ٹو یو’
پری زمان صاحب شبانہ بیگم اور دانیال باہر آتے ہوئے گانا گانے لگے شبانہ بیگم کے ہاتھ میں چوکلیٹی کیک تھا جس پر HBD LALI لکھا تھا
دانیال نے لالی کے بال کھینچے
‘بس بھئی اب مراکبے سے باہر بھی آجاؤ اور کیک کاٹو تاکے ہم غریبوں کو بھی کچھ ملے’
‘بھائی’ لالی دانیال کے گلے لگی
‘بھائی کی جان’ اسنے بھی اسکو خود میں بھینچا کچھ دنوں سے سب لالی کی حالت دیکھ رہے تھے اسلئے یہ پلین بنایا تھا اور اس کو عملی جامہ فصیحہ نے پہنایا تھا
لالی نے کیک کاٹا اور سب کو کیک کھلایا تو پری نے میوزک سسٹم پر سونگ لگایا اور ہاتھ میں بوتل کو مائک کی طرح پکڑا
میں ڈالوں تال پہ بھنگڑا تو بھی گدا پالے
چل ایسا رنگ جما دوں ہم کی بنے سبھی متوالے
گھومتے گھومتے لالی کی طرف آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گول گول گھمایا شبانہ بیگم نے اسے پکڑا اور اسکے ہاتھوں میں ہاتھ رکھا
میں کہے کہ میں لے آؤں چاند اور تارے سارے
ان ہاتھوں پر میں چاند رکھوں اور
اس مانگ میں بھر دوں تارے
دانیال بھی آگے آیا ایک ہاتھ اسکا اپنے کندھے پر رکھا اور ایک اپنے ہاتھ میں تھمایا جب کہ اپنا ہاتھ اسکی کمر پر رکھا
ہیلو ہیلو تو فلور پر جب ہے آئی
یہ لو یہ لو
بڑی سولڈ مستی چھائی
ہیلو ہیلو تو مچ ہے تم نے لگائی
یہ لو یہ لو
کنٹرول کرو میرے بھائی
دانیال لالی کے ساتھ کپل ڈانس کر رہا تھا باقی سب بھی انکے ارد گرد ڈانس کررہے تھے زمان صاحب نے جب شبانہ بیگم کو تھاما تو وہ بے اختیار شرمائیں ہاہاہاہا سب نے قہقہ لگایا
پری بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی اس نے فصیحہ کو تھام لیا
‘یہ بھی ٹھیک ہے ہاہاہاہا’ فصیحہ سب کچھ بھول چکی تھی اور دانیال نے بڑی مشکل سے خود کو فصیحہ کی طرف دیکھنے سے روک ہوا تھا کیونکہ پاس کھڑی اسکی بہن آنکھوں سے ایکسرے کرتی تھی
اب سب کی پوزیشنز بدلیں تو لالی زمان صاحب کے پاس شبانہ بیگم پری کے پاس اور فصیحہ دانیال کے پاس فصیحہ نے منع کیا تو پری اور لالی نے اسے آنکھیں دکھائیں شبانہ بیگم بھی مسکرائیں دل دانیال کے دل کے حال سے واقف تھیں وہ تینوں لیکن تینوں نے ایک دوسرے کو بتایا بھی نہیں تھا مجبوراً فصیحہ کو ماننا پڑا
یہ نین مٹکا تیرا مجھے بڑا تڑپاوے
تو دیکھ تو اج وی دلبر کڑیے تیر سا ایک چلاوے
دانیال کو لگا شاید اسکا دل گا رہا ہو وہ بے خود سا اسے دیکھے گیا اور وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی تھوڑا سا اسکی طرف دیکھ کر مسکراتی پھر ادھر ادھر دیکھنے لگتی
لالی زمان شاہ کے ساتھ ڈانس کررہی تھی
‘ہئے کیا کوئی اتنا بھی ہینڈسم ہوسکتا ہے’ لالی نے پیچھے اسٹیپ لیا
‘شرم نہیں آتی جوان لڑکے کو چھیڑتے ہوئے’ انہوں نے آنکھیں دکھائیں
‘نہی اس معاملے میں کافی بے باک نہیں بلکہ آپ پر گئے ہیں ہاہاہا’ لالی کھلکھلائی ‘تو کیا خیال ہے شادی کریں گے ہم سے’
‘نہی بھئی اس معاملے میں میری بیوی بہت سخت ہے’ ڈر واضح کیا
‘تو یوں کہے نہ بیوی سے ڈر رہے ہیں’ لالی نے منہ بگاڑا
‘ڈرتا نہیں ہوں محبت کرتا ہوں میری پہلی محبت ہیں وہ’ زمان شاہ نے اعتراف کیا
‘واہ ہیرو’ لالی نے چھیڑا
کر دے بن پیے شرابی چہرہ تیرا گلابی
کوئی کیوں نہ یملا بن جاوے جو اتنی ہو بے تابی
لالی نے زمان شاہ کا ہاتھ پکڑا اور دانیال کی طرف آئی فصیحہ کو اسکی بانہوں سے آزار کرا کر اپنی طرف کھینچا
ہیلو ہیلو دل دل سے کنیکٹ کرنا
یہ لو یہ لو یہ بات ڈیریکٹ کرنا
فصیحہ کے اندر لالی کو دیکھ کر اچانک مجنو کا کیریکٹر جاگا اور لالی کو خود سے قریب کیا پیچھے لگے پھولوں میں سے ایک پھول منہ میں ڈالا آدھا ہونٹوں سے اندر اور آدھا باہر کیا پری نے سچوئیشن دیکھ کر سونگ چینج کیا
جنم جنم ساتھ چلنا یونہی
قسم تمہیں قسم آکے ملنا یہیں
ایک جاں ہے بھلے دو بدن ہوں جدا
میری ہوکر ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع
ہونٹوں میں موجود پھول نکالا اور لالی کے چہرے پر پھیرا لالی نے بھرپور شرمانے کی ایکٹنگ کی
میری صبح ہو تمہی اور تمہی شام ہو
تم درد ہو اور تم ہی آرام ہو
میری دعاؤں سے آتی ہے بس یہ صدا
میری ہوکر ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع
فصیحہ نے تو جیسے سارے مجنوؤں کے ریکارڈ توڑے تھے کیا ڈانس کیا تھا ان دونوں نے دانیال تو مبہوت سا فصیحہ کو دیکھ رہا تھا گویا خدا نے دوسری لالی اتاری ہو زمین پر گانا ختم ہوتے ہی ایک فلک شگاف قہقہ گونجا تھا پری اور زمان صاحب کا شبانہ بیگم بھی اس بار مسکرائیں
‘ماشاءاللہ صرف میری بیٹی ہی ایسی نہیں ہے آج تم نے یہ بات ثابت کردی ہے چلو کھانا لگاتی ہوں بیٹھو سب’ شبانہ بیگم کچن کی طرف بڑھ گئیں
جاری ہے……………
