Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 12
از قلم انعم رئیس

ارمان کو دیکھ کر فصیحہ کا چہرہ ایک دم پھیکا پڑا تھا ایک تو اس کی وجہ سے اس کی جان سے بھی زیادہ پیاری دوست اور اس کی دوستی میں بدگمانی آگئی تھی دوسرا اس کی دوست بھی اس سے محبت کرتی تھی لالی اور فصیحہ کے دکھ تقریباً ایک جیسے تھے بس فرق یہ تھا کہ لالی کسی چیز کا سوگ نہیں مناتی تھی اور فصیحہ کو سنبھل نے میں وقت لگتا تھا
‘مس لالہ رخ کیا آپ مجھے اپنا کچھ وقت دے سکتی ہیں مجھے ضروری بات کرنی ہے میں زیادہ وقت نہیں لوں گا’ جنید سنجیدگی سے گویا ہوا تو لالی اسکے انداز پر کھٹکی
‘فصیحہ تم کلاس میں جاؤ ہم ابھی آتے ہیں’ لالی نے اسے بھیجنا چاہا
‘میں کیوں جاؤں اسے کہو جو کہنا ہے یہیں کہہ’ وہ بھی ڈٹ گئی تھی جنید نے لالی کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھا
‘اففف ڈھیٹ عورت بھاگے نہیں جارہے ہم کہیں آرہے ہیں جاؤ کلاس میں’ وہ بھڑک گئی تھی
‘جارہی ہوں تم نہ اس انسان کی وجہ سے بدل گئی ہو لالی اپنی دوست کو جانے کیلئے کہہ رہی ہو تف ہے مجھ پر کہ میں اس دوغلے انسان سے محبت کر بیٹھی میں اب دانیال سے ہی شادی کروں گی بھاڑ میں جائے یہ اور بھاڑ میں جائے اس کی محبت آئی ڈونٹ کئیر’ وہ اسے بول کر بڑبڑاتی ہوئی کلاس کی طرف چل دی
‘جی آپ کیا بولنا چاہتے تھے سر’ لالی نے سر جھٹکا اور ارمان کی طرف متوجہ ہوئی
‘اس سائٹ آجائیں آپ پلیز’ اسنے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا تو دونوں اسی طرف چلے گئے
‘مجھے……مجھے آآ…آپ سے معافی مانگنی ہے’ اس نے اٹک اٹک کر کہا لالی نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا
‘آپ کے ساتھ جو کچھ کیا اسکی معافی’ وہ مزید بولا
‘لیکن آپ نے ہمارے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ آپ کو معافی مانگنی پڑے’ لالی کی تو حیرت ختم نہیں ہورہی تھی
‘جو کیا ہے وہ ہی تو نہیں کرنا تھا اس لئے تو معافی مانگ رہا ہوں’ ارمان کی آنکھیں جھکی ہوئیں تھیں لالی کو کچھ کچھ سمجھ آرہا تھا
‘آپ جو کہنا چاہتے ہیں صاف لفظوں میں کہیں کیونکہ گھما پھرا کر بات تو ہم کرتے ہیں اس لئیے اسے ہمارا فریضہ ہی رہنے دیں’ لالی کے لہجے میں حیرت ابھری
‘میں آپ سے محبت نہیں کرتا’ وہ ایک ہی سانس میں بول گیا
لالی سب جانتی تھی لیکن پھر بھی ایک جو ہلکی سی امید تھی وہ ختم ہوگئی تھی اسے دکھ ہوا تھا اور اسے یہی ظاہر کرنا تھا تاکہ سچ پتا چلے
‘آپ ابھی مزاق کررہے ہیں یہ جو پہلے تھا وہ مزاق تھا’ لالی کہ لہجے میں دکھ خود بہ خود جگہ بنا رہا تھا
‘جو پہلے تھا’ ہلکی سی رنج بھری آواز تھی
‘اب کیوں بتا رہے ہیں’ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہورہی تھی
‘ندامت نے آن گھیرا ہے اور کچھ ضمیر نے بھی جھنجھوڑا ہے’ آواز ہلکی اور آنکھیں جھکی ہوئیں
‘کیوں پہلے یہ ضمیر سوگیا تھا یا مر گیا تھا جو اب اسکا دوبارہ جنم ہوا ہے اور یہ ندامت کہاں تھی تب جب ہم سے محبت کا اظہار کررہے تھے’ اسکی آواز میں درد شامل ہورہا تھا آخر محبت تو وہ بھی کرتی تھی
‘میں میں سب بتاتا ہوں میں کوئی پروفیسر نہیں ایم ڈی ہوں ایک کمپنی کا میں تو یہاں محض بدلا لینے آیا تھا’ اس نے جلدی سے سچ بتانا شروع کیا لیکن اس نے رابیعہ کا ذکر کہیں بھی نہیں آنے دیا تھا یہی تو محبت ہوتی ہے کہ محبوب پر آنچ بھی نہ آنے دی جائے
‘آپ معصوم ہیں یہ بیوقوف کوئی آپ کو کچھ بھی کہے آپ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیں گے’ لالی بے یقینی سے بولی
‘میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتا لیکن اس بار اس نے مجھ سے یہ بات کی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں شاید اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی تمہارے بارے میں’ وہ کسی طور رابی کو مجرم ٹھہرانا نہیں چاہتا تھا حالانکہ اس نے اپنے کانوں سے سنی تھی رابیعہ کی باتیں
ارمان نے اسکو ابھی تک اپنے اصل نام سے آشنا نہیں کیا تھا اور نہ ہی اپنے بارے میں کچھ بتایا تھا
‘ایک سچ ہم بھی بتانا چاہتے ہیں’ لالی نے اسکی طرف دیکھا
‘بولو’ جنید نے اسکی طرف دیکھا
‘ہم آپ کے بارے میں پہلے سے سب سچ جانتے تھے کہ آپ کوئی ارمان نہیں جنید ہیں جنید فروز غزالی اور ملٹی نیشنل کمپنی کے ایم ڈی ہیں صرف یہی نہیں بلکہ ہم تو علی بھائی کو بھی جانتے ہیں ڈاکٹر علی انکو تو ہم اپنی امی کے ہاتھ کی بریانی کھلانے ہوسپٹل بھی گئے تھے وہیں آپ کے بارے میں سب معلوم ہوا ہم نے علی بھائی کو یونی میں دیکھا تھا تب سے ان پر نظر رکھی تھی’ لالی خاموش ہوئی جنید تو دم سادھے کھڑا اسے سن رہا تھا مطلب یہ لڑکی اتنے دنوں سے ان پر نظر رکھ رہی تھی اور انہیں پتا بھی نہیں چلا واقعی بہت تیز اور اچھا خاصا دماغ رکھتی ہے تبھی رابی نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہوگا پہلی بار اسے رابیعہ سے زیادہ تیز لڑکی دکھی تھی جو لوگوں کو عقل سے ہرانا جانتی تھی پیسوں سے نہیں
‘اور بھی کچھ بتانے کو رہ گیا ہے یا بس یہی تھا’ جنید نے اچھنبے سے پوچھا
‘ہاں ہاں ایک بات اور بھی ہے’
‘اب کیا رہ گیا’
‘ہم یییی…یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کسی رابیعہ نامی لڑکی سے محبت کرتے ہیں’ اور یہ تھا اسکا سب سے بڑا راز
‘تم نے مجھ پر بھی نظر رکھی تھی’ اب اسکے لہجے میں حیرت تھی
‘نہیں یہ بات تو خود آپ نے اپنے منہ سے کہی تھی’ لالی کو اسکا الزام لگانا اچھا نہیں لگا
‘میں نے کب’ جنید بے یقین ہوا
‘اس دن جب علی بھائی یہاں آئے تھے آپ نے تب انکو بتایا اور یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اسی یونی میں پڑھتیں ہیں’ لالی مزے سے بولی اور جنید کو اب پتا چلا کہ کیسے یہ سب جان گئی تھی
‘کافی تیز اور شاطر لڑکی ہو’ وہ اسکو سراہے بغیر نہیں رہ سکا
‘نوازش’ وہ بھی ایک ادا سے دل پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھک کر بولی ‘کبھی کوئی مصلہ یا پریشانی ہو تو بلا جھجک اس ناچیز کو یاد کرلیے گا اور ہاں آنٹی کو سلام کہیے گا اور ایک بات اور ہم نے آپ کو معاف بھی کردیا ہے’ وہ ایسے بولی جیسے سب مصلوں لے حل اسکے پاس ہیں
جنید تو اسکو دیکھ کر رہ گیا کیا پرورش کی تھی اسکی اسکا دوست میر بھی تو ایسا ہی تھا لیکن وہ مغرور تھا اور اسکے سامنے کھڑی ہوئی لڑکی سرپھری تھی
وہ اپنے شہر کا مغرور زادہ
ہم سر پھروں کی نواب زادی
‘اچھا نمبر تو دیتی جاؤ کبھی یاد آئی تو یاد کرلوں گا’ جنید شوخ سے لہجے میں بولا وہ بہت ہی مشکل سے لوگوں میں گھلتا ملتا تھا
‘ہاں ہاں کیوں نہیں 000111 جب بھی ملاؤ تبھی بند’ لالی بھی شوخ ہوئی
‘دے رہی ہو یہ نہیں’ اسنے مصنوئی سنجیدگی سے کہا
‘اچھا اچھا لے لیں’ اس نے بھی شرافت سے نمبر دے ہی دیا اسکے بعد وہ چلا گیا
لالی کو عجیب سا لگا جیسے آخری ملاقات ہو
💜💜

‘ہیلو پاپا کا کچھ پتا چلا’ رابیعہ نے طارق خان کے پرسنل سیکرٹری عارف کو کال کی
‘نہیں میم ہم بھی ڈھونڈ رہے ہیں اور پولیس بھی ڈھونڈ رہی ہے’ عارف نے سنجیدگی سے کہا
‘مجھے تو لگتا ہے تم لوگ صرف جھک ماررہے ہو دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں پاپا کہاں ہیں آخر’ وہ دھاڑی
‘میم ہم کوشش کررہے ہیں پولیس بھی ڈھونڈ رہی ہے اب آپ کے پاپا بھی تو ایسے کام کرتے تھے ہوسکتا ہے کسی نے پکڑلیا ہو تو اب کہیں منہ چھپاتے پھر رہے ہونگے’ عارف چوبھتے ہوئے لہجے میں بولا طارق صاحب کے رنگین مزاج سے اچھے سے واقف جو تھا ہر اتوار کی رات کسی لڑکی کے ساتھ ہوتے تھے اور اب تو ماشاءاللہ بیٹی بھی انہی کہ نقشِ قدم پر چل رہی تھی
‘عارف پاپا کو ڈھونڈو نہیں تو میں آگ لگا دوں گی سب کو’ اس بار اسکی آواز ہلکی ہوئی تھی باپ کے عاشقانہ مزاج سے تو وہ بھی واقف تھی
‘جی میم’ کہتے کہ ساتھ ہی کھٹاک سے فون بند کیا
‘ناگن کہیں کی اچھا ہے کہیں مر کھپ جائے بڈھا کہیں کا زمین سے چلتی پھرتی گندگی صاف ہوگی اے اللہ! اٹھا لے اس کمینے ٹھرکی بڈھے کو’ عارف نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا آفس کی بیشتر لڑکیاں تو جاب چھوڑ کر چلی گئیں تھیں اور جو آفس میں ٹیلی ہوئی تھیں وہ ساری لالچی تھیں
💜💜

میر پولیس اسٹیشن میں بیٹھا کچھ کام کررہا تھا تبھی اسے کسی کی کال آئی
‘ہاں بولو’ میر کی مصروف سی آواز گونجی
‘سر میں عارف حسن بات کررہا ہوں خان کنسٹریکشن سے آپ سے طارق خان کے بارے میں پوچھنا تھا’ عارف نے کہا
‘ہاں وہی جو لاپتا ہے کل تک اسکی ساری انفارمیشن آپکو مل جائے گی اب برائے مہربانی فون کرکے پریشان نہ کریں ہم ویلے لوگ نہیں ہیں ہزاروں کام ہوتے ہیں ہمیں’ اس نے اچھی خاصی سنائی عارف تو اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور فون بند کیا
‘انفارمیشن نہیں دیڈ باڈی ملے گی اسکی اور یقیں جانوں اسکی باڈی دینے میں خود آؤں گا آخر اپنی جیت کا جشن بھی تو منانا ہے’ میر کے چہرے پر ایک پر اسرار سی مسکراہٹ تھی
‘بھائی چائے’ چھوٹو نے اسکی توجہ چائے کی طرف دلائی لالہ کی سامنے دکان تھی چائے کی جس پر چھوٹو کام کرتا تھا پورا پولیس اسٹیشن چھوٹو کو جانتا تھا کیونکہ میر اسکا خرچا اٹھاتا تھا لاوارث تھا لوگ کہتے تھے لیکن پولیس اسٹیشن والے اسے میر کے گھر کا ہی سمجھتے تھے وہ دونوں بہت کلوز تھے اسکا نام عبد الرحمن تھا لیکن سب پیار سے چھوٹو کہتے تھے
‘ہاں بھئی لڑکے پڑھائی کیسی جارہی ہے’ میر نے چائے لیتے ہوئے پوچھا
‘ہاں وہ تو اچھی جا رہی ہے لیکن کالج والے ٹریپ پر لے کر جارہے ہیں کیا میں بھی جاؤں’ چھوٹو ٹیبل کے سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا
‘کہاں جارہیں ہیں لے کر اور کتنے دنوں تک’ میر نے فائل بند کی اور چھوٹو کی برابر والی کرسی پر براجمان ہوا
‘ہم سکھر جارہے ہیں دو دن کیلئے بھائی پلز منع مت کرنا میرا بہت دل ہے’ اس نے آس بھرے لہجے میں کہا
‘دو دن کیلئے میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر یہاں’ میر نے ایکٹنگ کرنی چاہی
‘نہ کریں بلکل اوور لگ رہے ہیں’ چھوٹو ہنسا اسکو دیکھ کر میر نے منہ بنایا ‘اسکا مطلب میں جاسکتا ہوں’ وہ ایکسائیٹڈ ہوا
‘ہاں بھئی جا سکتے ہو لیکن ابھی جاؤ مجھے کام کرنا ہے’
‘جی بھائی’
💜💜

دوسرے دن طارق صاحب کی دیڈ باڈی میر گیلانی خود لے کر آیا تھا خان ولا اور گیٹ کے باہر رکھ کر چلا گیا تھا جب چوکیدار نے یہ دیکھا تو رابیعہ کو بلانے چکے گئے
رابیعہ کا سانس اٹک گیا تھا اپنے باپ کو اس حال میں دیکھ کر
‘پاپا اٹھیں ککک…کی…کیا ہوا ہ…ہے پاپا کو’ رابیعہ چیخی جنید بھی پہنچ گیا تھا اسے گھر کی ملازمہ نے کال کی تھی جنید تو باڈی کو دیکھ کر ہی رہ گیا بری طریقے سے جلی ہوئی تھی صرف چہرہ آدھا جلا تھا تو پہچان ہوگئی تھی لاش کے ساتھ ایک خط بھی تھا جو رابیعہ نے کھینچ کر نکالا کیونکہ وہ لاش کے اندر پیوست تھا ہلکا سا

“طارق خان دی ریپسٹ ایک نو سال کی اور سترہ سال کی بچی کا ریپ کیا ہے اس نے اور ریپ کرنے والوں کی جگہ تو صرف جہنم میں ہوتی ہے دنیا میں یہ رہ نہیں سکتے کیونکہ میں رہنے نہیں دوں گا”
اور آخر میں قانون کا رکھوالا لکھا تھا رابیعہ نے اس خط کو اپنی مٹھی میں بھینچا آنکھوں میں انگارے جلے تھے
جنید نے کفن دفن کا انتظام کیا تھا پوری سوشل میڈیا پر یہ بات پھیل گئی تھی لیکن ریپسٹ ہونے کی بات چھپی ہوئی تھی ہر طرف سنسنی خیز نیوز تھی بیزنس کی دنیا کا جانا پہچانا نام طارق خان کو کسی نے جلا کر ماردیا
میر نے تو یہ سب دیکھ کر خوب انجوائے کیا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ مار تو دیا لیکن کمینا بدنام نہیں ہوا اور بس یہی سوچ اسکی خوشی کو بدمزہ کررہی تھی
💜💜

فصیحہ کو لالی نے بڑی مشکل سے منایا تھا ابھی وہ دونوں شوپنگ مال میں موجود تھیں نکاح کیلئے شوپنگ کرنے آئی تھیں فصیحہ بھی اب مطمئن ہوگئی تھی دانیال نے اسے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور یقین بھی دلایا تھا کہ وہ اسے بہت خوش رکھے گا
‘وہ ڈریس کیسا ہے’ فصیحہ نے لالی سے پوچھا جسے الجھن ہورہی تھی اس سب سے نہ اسے شوپنگ کرنا آتی تھی اور نہ ہی اسکو شوق تھا
‘ہاں یہ ٹھیک ہے بس اسے فائنل کروالیتے ہیں’ لالی تھک گئی تھی اس لئے بے چارگی سے بولی
‘ہاں چل آ’ فصیحہ نے اس ڈریس کی پیکنگ کرائی
‘چل کچھ کھلا ورنہ ہم نے یہیں سے ٹپک جانا ہے جلدی کر’ فصیحہ گاڑی چلارہی تھی جب لالی نے اسے کہا
‘ہاں رک ڈھونڈ رہی ہوں کوئی کھانے پینے کیلئے اچھی جگہ’ فصیحہ نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں
‘اچھی جگہ کی کیا ضرورت ہے وہ دیکھ لالہ کا ڈھابہ بس ہم نے تو وہیں کھانا ہے’ لالی بضد ہوئی فصیحہ نے بھی گاڑی پارک کی تو دونوں ڈھابے کی طرف چل پڑیں یہ میر کے سامنے والا ڈھابہ تھا
‘سلام لالہ’ لالی چیخی پہلی بار آئی تھی لیکن اسے دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے آتی جاتی رہی ہو
‘وسلام بچہ’ لالہ نے جواب دیا
‘لالہ بھائی جلدی سے گرما گرم کھانا لگائیں میری دوست کو بہت بھک لگی ہے’ فصیحہ بھی کہاں پیچھے رہتی
‘بچہ بتاؤ کیا کھائے گی اوئے تم ادھر کھڑی کیا کرتی ہے پوچھو جاکر ان سے’ لالہ نے چھوٹو کو کہا
‘باجی کیا لاؤں’ چھوٹو نے پوچھا
‘باجی کو چھوڑو یہ بتاؤ کھانے میں کیا ہے’ لالی نے مینیو پوچھا
‘دال چکن قورمہ چکن کڑاہی مٹن کڑاہی بیف پلاؤ….…’ وہ بتائے جارہا تھا اور لالی کی بھوک بڑھتی جارہی تھی
‘روک جاؤ لڑکے… ایک کام کرو دو پلیٹ چکن کڑاہی چار روٹیاں اور دو پلیٹ بریانی کے ساتھ میٹھے میں جو بھی ہو وہ بھی لانا بلکہ ایک کام کرو دال بھی لے آؤ آور آلو گوشت بھی لے آنا اور اسکے ساتھ کولڈرنک ہوجائے تو مزہ ہی آجائے اور ہاں چکھنے کیلئے ایک پلیٹ بیف پلاؤ لے آنا اب جلدی جاؤ’ لالی کی زبان فراٹے بھررہی تھی لالہ نے تو کانوں کی ہاتھ لگایا چھوٹو کو لگا وہ نہیں کھا پائے گی اسلئے بولا
‘باجی اتنا کھانا بچ جائے گا میر بھائی کہتے ہیں جتنا کھانا ہو اتنا لیتے ہیں’ چھوٹو بغیر ڈرے بولا تو لالی مسکرائی اسنے چھوٹو کو اشارہ کیا بیٹھنے کا
‘دیکھو لڑکے تمہارا بھائی صحیح کہتا ہے جتنا کھانا ہو اتنا نکالو ورنہ کھانے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور خدا بھی ناراض ہوتا ہے لیکن ہم بچانے والوں میں سے نہیں کچھ نہیں چھوڑنے والوں میں سے ہیں’ لالی مسکرا کر بولی
‘مطلب’ وہ ناسمجھی سے بولا
‘تم کھانا لاؤ سمجھ جاؤ گے’
تھوڑی دیر میں کھانا ٹیبل پر لگادیا گیا تھا اور پھر لالی کا ہاتھ تھا اور کھانا تھا فصیحہ بھی کھا رہی تھی لیکن لالی تو چسکے لے لے کر کھا رہی تھی ہاتھ رکی نہیں رہا تھا چھوٹو بھی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا اتنی سی لڑکی لگتی تھی یہ تو میر بھائی سے بھی زیادہ کھاتی ہے

جاری ہے…………