Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 09
از قلم انعم رئیس

‘یہ تحفہ اپنی شایانِ شان میں منظور کریں’ فصیحہ نے جوبصورت پیکنگ میں ایک چھوٹا سا بوکس دیا
‘اتنا سا گفٹ غریب عورت تھوڑا بڑا ہی لے لیتی’ لالی چڑ کر بولی
‘دیکھ تو لے پہلے’ اسنے گفٹ کو اسکے آگے کیا
‘ہممم’
لالی نے گفٹ کو پیکنگ سے آزاد کیا اور چھوٹا سا بوکس کھولا بوکس میں ایک لال ڈائمنڈ کی رِنگ تھی جس پر سلور نگ لگے تھے رِنگ کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں ستائش ابھرے
‘واؤوو کیا رِنگ ہے یہ میں لے لوں’ پری نے رنگ اپنے ہاتھ میں لی
‘خبردار وہ ہمارے لئے لائی ہے تو اسے ہم ہی پہنیں گے’ لالی نے رنگ اپنی درمیانی انگلی میں پہنی
‘سوٹ کر رہی ہے تجھ پر’ فصیحہ بولی
‘ہم پر سب اچھا لگتا ہے’ وہ اترائی
‘او نیچے آجاؤ زیادہ اُڑو مت’ پری نے منہ بنایا
‘اچھا 8 بجنے کو آئے ہیں مجھے گھر جانا ہے’ فصیحہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
‘ہم بھائی کو بولتے ہیں وہ تمہیں چھوڑدیں گے’
‘نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں خود چلی جاؤں گی’ وہ عجلت میں بولی
‘کاٹ نہیں لوں گا تمہیں جو تم جانے سے منع کررہی ہو’ دانیال اندر آتے ہوئے بولا
‘نہیں وہ میرا مطلب ہے پری بھی جائے گی میرے ساتھ’ فصیحہ جلدی سے بولی
‘بھائی سچ میں انسان نہیں کھاتے’ پری نے ہنسی دباتے ہوئے کہا
‘زیادہ بکو مت اور جو کہا ہے وہ کرو ورنہ۔۔۔’ (دراصل فصیحہ کے پاس پری کی کچھ تصویریں تھیں جن میں اس نے کچرا رانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا) آئیبرو اچکائی
‘ہہ۔ہہ۔ہاں میں تو کہہ رہی تھی میں ہی جاؤں گی میرا آئسکریم کھانے کا دل جو چاہ رہا ہے’ پری نے بات بنائی
‘اگر آئسکریم کھانی ہے تو ہم بھی چلتے ہیں’ لالی آگے آئی
‘ہمم ٹھیک ہے چلو چلتے ہیں’ دانیال گاڑی کی چابیاں لینے اپنے کمرے میں چلا گیا
💜💜

‘قسمت ابھی بہت خواب دکھائے گی لالی لیکن خواب تو اکثر ٹوٹنے کیلئے دیکھے جاتے ہیں نہ ہاہاہاہا تم اور تمہاری وہ ڈرامے باز دوست دونوں کو دھول نہ چٹائی تو نام بدل دینا میرا’ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی
‘ویسے ہماری دشمنی صرف لالی سے تھی لیکن جب وہ بیچ میں خود آرہی ہے تو بسم للّٰہ پہلے تو صرف دھول چٹانی تھی لیکن اب لگتا ہے کیچڑ میں دھکا دینا پڑے گا ہاہاہا’ سامنے والے نے خباثت سے کہا
‘مجھ سے تو صبر ہی نہیں ہورہا کتنی معصوم بنتی ہے نہ یہ جب یہی معصومیت اسکا حشر بگاڑے گی نہ تب میں اس پر سے وہی ہزاروں روپے واروں گی ارے بھئی نظر نہ لگے’ چہرے پر وہی مسکراہٹ کے ساتھ وسکی کا گھونٹ بھرا

‘تم کب سدھروگی نہ پیا کرو شراب اچھی نہیں ہوتی جگر خراب ہو جائے گا’ سامنے والا فکرمند ہوا
‘ارے بےبی تم بھی پیو آج تو دل گارڈن گارڈن ہوریا ہے جب سے میں نے ان دونوں کو روتے دیکھا ہے ہاہاہا ارے کوئی میوزک لگاؤ آج تو میرا انار کلی بننے کا دل کر رہا ہے’ اسنے آواز لگائی
‘اور میرا شہزادہ سلیم بننے کا ہاہاہا’
سامنے والے نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو جھٹکے سے کھینچا وہ سیدھا اسکے سینے سے لگی ‘سلیبریشن کرنا ہے نہ تو آؤ تھوڑا ہمیں بھی کراؤ کچھ تم کرو اور کچھ ہم’ کہتے کہ ساتھ اسکی پہنی ہوئی جیکٹ کی زب کو تھوڑا نیچے کیا اور اس کی گردن پر لب رکھے اور پھر تھوڑی اور زب نیچے کی تو گلے کی گہرائی واضح ہوئی ہونٹ جو گلے پر تھے اب سینے پر سفر کر رہے تھے اور پھر نظر ان لال ہونٹوں پر ٹھری ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسایا اور دوسرے سے کمر سہلائی ایک ہی جھٹکے سے جھکا اور لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا ہاتھ کمر سے نیچے بڑھ رہا تھا تبھی اس لڑکی نے اسے دھکا دیا
‘آج کیلئے اتنا سلیبریشن کافی ہے اور آج رابیعہ خان خوش تھی اسلئے ٹک گئے اگلی بار کیلئے دعا کرنا کہ میں خوش ہوں ہاہاہا’
رابیعہ خان اس سب کی عادی تھی اسکے باوجود بھی ہیرا تھی اور ہیرے کی پہچان تو جوہری کو ہی ہوتی ہے چھوٹے اور مڈل کلاس لوگ تو صرف دور سے دیکھنے کی خواہش میں ہی پورے ہوجاتے ہیں
💜💜

لالی اپنے بھائی کے جزباتوں سے بہت اچھے سے واقف تھی لیکن وہ فصیحہ کی محبت کو بھی جانتی تھی اسلئے اب اسے فیصلہ کرنا تھا بھائی کی محبت اور فصیحہ کی بے رخی یا اپنا مستقبل سب اس کیلئے ضروری تھا لیکن ان سب میں سے بھی تو ایک، اختیار اسکے ہاتھ میں تھا لیکن یہ کیسا اختیار تھا کسی ایک کیلئے اسے بہت کچھ چھوڑنا تھا
‘اے خدا! کوئی تو راہ دکھا فیصلہ کرنے میں مدد کر ہماری اور جو بھی فیصلہ ہو اس میں ہمیں ثابت قدم بھی رکھے گا پلزز’ دل ہی دل میں وہ دعا کررہی تھی
وہ چاروں آئسکریم پارلر میں بیٹھے تھے لالی کبھی اپنی دوست کو دیکھتی تو کبھی اپنے بھائی کو جو چوری چھپکے فصیحہ کو دیکھ رہا تھا لالی اسکی اس حرکت پر مسکرائی اور دل میں ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں
‘چلو بھئی اب کیا یہیں دھرنا دینا ہے’ پری لالی کو دیکھ کر بولی جو فصیحہ اور دانیال کو دیکھ رہی تھی
‘ہاں بھئی چلو ایک منٹ رکو’ لالی جو اٹھنے لگی تھی ایک دم بولی
‘کیا ہوا لڑکی اوو اچھا اچھا تم بل دینا چاہتی ہو کوئی مصلہ نہیں ہے نکالو ڈیڑھ ہزار’ دانیال سمجھ کر بولا
‘ڈیڑھ ہزار لیکن بل میں تو نو سو روپے لکھا ہے’ فصیحہ نے آنکھیں بڑی کیں
‘پیٹرول کے پیسے کون دے گا مفت خوروں’ دانیال بھی اسی کے انداز میں بولا
‘اوہ مفت خور کسے کہہ رہے ہو اور ویسے بھی احسان نہیں کیا تم نے کوئی یہ تمہارا فرض ہے’ فصیحہ نے آپ کہنا تو سیکھا ہی نہیں تھا
‘فرض کون سا فرض’ وہ ناسمجھی سے بولا
‘ارے بھائی ہو تم ہم سب کے اور ہم بہنیں ہیں تمھاری’ فصیحہ کی بات پر پری نے امڈ آنے والا قہقہ روکا اور لالی نے بھی سانس روکی اگلی سانس لی تو بہت زور سے ہنسی نکلنی تھی
دانیال کا چہرہ تو دیکھنے والا ہوگیا تھا
‘بھائی کون بھائی کس کا بھائی میرے پاس بہنوں کی کمی نہیں ہے جو تم بھی بہن بننے نکلی ہو اللہ کو مانو اوپر جاکر کیا منہ دکھاؤ گی اللہ میاں تمھارا جنت کا ویزا کنسل نہ کردیں کہیں ہونے والے شوہر کو بھائی کہہ رہی ہے’ دانیال نے آخری بات دل میں کہی
‘اچھا ہم کچھ کہہ رہے تھے شاید’ لالی نے اپنی طرف توجہ دلائی
‘ہاں کہو کیا کہہ رہی تھیں’ پری نے پوچھا
‘وہ دیکھو سامنے’ تینوں نے سامنے کی طرف دیکھا جہاں کچھ آوارہ لڑکے بیٹھے آنے جانے والی لڑکیوں پر با آواز بلند جملے کَس رہے تھے اور ایک نے تو آنے والی لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
‘ویسے کل ہی سنگھم کو دیکھا تھا ہم نے اسکو دیکھ کر دل کر رہا تھا کسی کو کوٹیں فائنلی پیس بھی مل گیا اور وجہ بھی ہاہاہا’ لالی نے اپنی ہی بات پر قہقہ لگایا
‘نہیں لالی وہ خطرناک بھی ہوسکتے ہیں’ پری فکرمند ہوئی
‘پاگل پن کہیں اور جاکر کیا کرو ان سر پھروں سے نہیں الجھتے گھر چلو’ دانیال سنجیدہ ہوا
‘بھائی لالہ رخ زمان شاہ ہیں ہم ان جیسے سڑک چھاپوں اور نشیڑیوں کو ٹھیک کرنا ہمارا فیورٹ کام ہے اگر یہ سر پھرے ہیں تو ہم تو راج کرتے ہیں ایسے سر پھروں پر’ وہ مسکرائی دانیال نے سر جھٹکا پری نے بھی نشست سنبھالی البتہ فصیحہ اس کے ساتھ کھڑی تھی
وہ جو پاگل سرپھرے یا عامل ہوتے ہیں
ان میں سے اکثر عشق کے مریض ہوتے ہیں
💜💜

فصیحہ آگے بڑھی اور ان لڑکوں کے سامنے سے گزری ان میں سے ایک نے سیٹی بجائی اور بولا
‘ارے آج تو شیلا کی جوانی دیکھنے کو ملی ہے’
‘نہیں آج تجھے شیلا کے علاوہ شکیرا بھی دیکھنے کو ملے گی بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ تارے اور دور دراز چاند بھی دکھے گا’ فصیحہ نے لالی کی چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تبھی ان میں سے ایک نے فصیحہ کا ہاتھ تھاما
‘بیوقوف سمجھتی ہے مجھے’
اور یہیں دانیال کو غصے نے آجکڑا تھا
‘اتنی بڑی غلطی اللہ معاف کرے اب تو تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا’
‘مطلب’
‘پیچھے تو دیکھو’
”چٹاخ”
وہ جیسے ہی پیچھے مڑا لالی کے ایک زوردار تھپڑ نے اسکی دنیا ہلائی وہ ابھی کچھ سمجھتا کہ
“چٹاخ”
ایک اور تھپڑ اسکے دوسرے گال پر پڑا اسکا تو سر گھوم گیا سب لوگوں نے بھی گردن گھما کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا اسکے دوست آگے بڑھے اور لالی کو تھامنا چاہا لیکن لالی تو تھی بندریا پھدک کر ٹیبل پر چڑھی سامنے کھڑے ہوئے لڑکوں نے حیرت سے اسے دیکھا شکل سے معصوم اور دماغ۔۔۔۔
‘اے لڑکی عزت پیاری نہیں ہے کیا’ ایک نے خبیث ہونے کا پختہ ثبوت دیا
‘لگتا ہے تجھے تیری عزت پیاری نہیں ہے پوری محفل میں ایک لڑکی سے دو تھپڑ کھا چکا ہے ضمیر تو تھا نہیں لگتا ہے غیرت بھی سو گئی ہے بے غیرت انسان کی’ لالی نے اسے للکارا
‘زبان کو قابو میں رکھ نہیں تو بھری محفل میں بے آبرو کردیں گے ویسے بھی اتنے دنوں سے روکھی پھیکی راتیں گزار کر تھک گئے ہیں اب کچھ رنگین۔۔۔۔’ ہوس زدہ نظریں لالی کو اپنے وجود کے آرپار ہوتی محسوس ہوئیں تماشا لگا تھا سب خاموش تھے وہ بول رہا تھا کہ لالی نے جھٹکے سے کانچ کا گلاس اٹھایا اور اسکے سر پر پھوڑا
‘آہہہہہ…ہہ(گالی) پکڑو اسے نکالتا ہوں اسکی اکڑ’ وہ دونوں اسکے پیچھے آئے یہی تو چاہتی تھی لالی
‘شاباش آؤ پکڑو ارے ہم یہ رہے آؤ نہ یار’ وہ ہلکی پھلکی سی چھوٹی سی لڑکی کبھی ادھر کبھی ادھر چڑھ جاتی وہ دونوں بیٹھ کر کھانے کے عادی تھے شاید اس لئیے توند نکلی ہوئی تھی آخر میں وہ دونوں تھک گئے
‘ہاہاہاہا بس اتنی جلدی تھک گئے انکل’ کہتے کے ساتھ ان میں سے ایک کے سر پر پہنچی جو رکوع کی طرح گھٹنوں پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور جھٹکے سے اوپر کیا
“چٹاخ”
“چٹاخ”
“چٹاخ”
تین تھپڑ لگاتار مارے تھے اسے لالی نے یہ وہ تھا جس نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تھا
‘لڑکی ہوکر مرد پر ہاتھ اٹھاتی ہے’ اسکا تیسرا دوست چیخا
‘ابے او مرغی مرد وہ ہوتا ہے جو مردانگی دکھائے اور تم لوگوں نے اپنی درندگی دکھا کر اپنے نامرد ہونے پر ٹھپہ لگوایا ہے’ لالی کی بات پر لوگوں کی دبی دبی مسکراہٹ گونجی لیکن ایک قہقہ بھی گونجا تھا جو فصیحہ نے لگایا تھا
لالی اس تیسرے کے سر پر پہنچی جو اسے دیکھتے ہی کھڑا ہوا تھا لالی نے گھما کر اپنی ٹانگ اسکی ٹانگ پر ماری وہ گرا اور پھر اسکا ہاتھ تھاما جس سے اسنے فصیحہ کو ہاتھ لگایا تھا اور پھر اپنے گھٹنے پر رکھ کر اپنی کہنی اسکی کلائی پر ماری ٹک کرکے آواز آئی اور کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی
‘آہہہہہہ……’ ایک دلخراش چیخ گونجی تھی پارلر میں
‘ہماری دوست کو ہاتھ لگایا تھا یہ تو ہونا ہی تھا اور پارلر میں موجود جتنی لڑکیوں کے ساتھ ان نا مردوں نے بد تمیزی کی ہے وہ اپنا بدلہ لے سکتیں ہیں اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی تم لوگوں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو اسکا ہاتھ توڑنے کی زمہ داری ہماری’
کہنے کی دیر تھی پارلر کی تقریباً تمام لڑکیاں جھپٹ پڑی تھیں ان تینوں پر جسکے سر سے خون نکل رہا تھا وہ اب بے ہوش ہوگیا تھا
‘لے کے جاؤ بے چارے کو حالت دیکھ کر لگ رہا ہے رستے میں ہی ٹپک جائے گا لیکن اب ہم اتنے بھی پتھر دل نہیں ارے بھئی کوئی ایمبولینس کو کال کرکے کہو پہلے تو پوچھ لینا جانوروں کے ہسپتال جاتی بھی ہے یا نہیں’ لالی نے آواز لگائی تو ایک بار پھر قہقہ گونجا لوگوں کا
‘چلیں یا اور کوئی مووی کا ٹریلر دکھانا ہے لوگوں کو’ دانیال نے مسکرا کر کہا لیکن اس سب کے بعد اسکا سر فخر سے اونچا ہوا تھا اور غصہ بھی ختم ہوگیا تھا کیونکہ جہاں لالی ہو وہاں فکر نہیں ہوتی
‘ہاں چلو اوکے بائے ایوری ون اور ہاں گرلز ڈرتے نہیں ہیں’ لالی جاتے جاتے بولی
💜💜

آج یونی میں بہت کام تھا اسلئے لالی اور فصیحہ کو جلدی آنا تھا لالی جو روڈ کراس کر رہی تھی سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو نہ دیکھ سکی لیکن فصیحہ نے بروقت اسے پیچھے کھینچ لیا تھا گاڑی بھی بریک لگا کر رکی اس میں فصیحہ کو بھی چوٹ لگ سکتی تھی لیکن پھر بھی اس نے لالی کو بچایا اور اس بات سے لالی نے وہ فیصلہ کیا تھا جو وہ اتنے دنوں سے نہیں کر پا رہی تھی
‘تم ٹھیک ہو’ فصیحہ نے اسے گلے لگایا
‘ہاں ہم ٹھیک ہیں ہماری وجہ سے تمہیں بھی چوٹ لگ سکتی تھی’
‘پاگل اپنوں میں خود کو ترجیح نہیں دیتے’ اس بات نے لالی کے فیصلے پر مہر لگائی تھی
‘مس آپ ٹھیک تو ہیں آپ کو کہیں چوٹ تو نہیں لگی اگر لگی ہے تو پلز چلیں میں آپکو اپنے ہوسپٹل لے جاتا ہوں’ علی ہوسپٹل جارہا تھا جب اسکی گاڑی کے سامنے لالہ رخ آگئی
‘ارے نہیں بھائی ہم بلکل ٹھیک ہیں ہمیں کچھ نہیں ہوا یہ تو بس ایسے ہی’ اسنے فصیحہ کی طرف اشارہ کیا
‘ویسے اچھے لگ رہے ہیں آپ’ لالی نے سچائی کے ساتھ تعریف کی
‘راہ چلتے لوگوں کی تعریف کرنا ثواب ہوتا ہے کیا’ علی نے تعجب سے پوچھا
‘نہیں لیکن سچ بولنا ثواب ہوتا ہے اور ویسے بھی ہم نے پڑھا ہے کہ جو چیز اچھی لگے اسکی تعریف کرو کیا پتا وہ ختم ہو جائے یا تو مر جائے’ لالی نے اپنی فلاسفی جھاڑی
‘ان شارٹ آپ مجھے مارنا چاہتی ہیں’ علی نے منہ بنایا
‘اور ہم ایسا کیوں کریں گے’ لالی بولی فصیحہ کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
‘کیوں کہ میری گاڑی کی وجہ سے آپکا ایکسیڈنٹ ہوا’ اسنے سوچ کر کہا
‘لیکن ہوا تو نہیں’ لالی نے بھی اسی کے انداز میں کہا
‘اففف…تعریف کی تھی نہ آپ نے میری تھینک یو سو مچ’ علی جھنجھلاتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا
‘بھائی نام تو بتاتے جائیں اگلی بار ایکسیڈینٹ ہوا تو آپکے ہوسپٹل آئیں گے تاکہ ہمیں تھوڑا ڈسکاؤنٹ ملے’ لالی نے علی کو پکارا
‘میرا نام علی اسماعیل آفندی ہے قریبی ہوسپٹل میں ہارٹ سرجن ہوں’ علی نے تعرف کروایا
‘ویسے علی بھائی کھانے پینے کے شوقین لگتے ہیں ہے نہ’ لالی نے اس کے ہاتھ میں بسکٹ کا پیکٹ دیکھتے ہوئے پوچھا
‘ہاہاہاہا رائٹ’ وہ گاڑی کی طرف بڑھا
‘اللہ حافظ’ لالی نے بولا
‘خدا حافظ’ علی نے ہاتھ ہلایا اور گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف بڑھا

جاری ہے…………