Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 14
از قلم انعم رئیس

طارق صاحب کے انتقال کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا رابیعہ بھی سنبھل گئی تھی خان ولا میں ہر طرف سناٹا چھایا رہتا گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا پہلے بھی جب گھر میں دو لوگ تھے تب بھی اس گھر میں خاموشی رہتی لیکن اب تو موت کا سا سناٹا رہتا تھا دو چار ملازماں تھی صرف گھر میں
ادھر رابیعہ اپنے کمرے میں بیٹھی کسی سے فون پر بات کررہی تھی رات کا وقت تھا
‘ہیلو ہاں میری گاڑی خراب ہوگئی ہے کیا تم مجھے پک کرنے آسکتے ہو اسی پرانی فیکٹری کے پاس جو بند ہے’ وہ اب سامنے والے کا جواب سن رہی تھی
‘ہاں ہاں وہی’ وہ پھر خاموش ہوئی اور سامنے والے کا جواب سنا
‘تھینک یو سو مچ میں تمہارا انتظار کررہی ہوں کتنی دیر تک پہنچو گے’ وہ پھر خاموش ہوئی
‘بس آدھا گھنٹا ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کررہی ہوں آجاؤ بائے’ فون رکھنے کے بعد وہ پراسرار سا مسکرائی اپنا بیگ اٹھایا اور گاڑی کی چابیاں لیں اور نکل گئی
💜💜

لالہ رخ کا کافی دیر سے دل گھبرارہا تھا رات کا وقت تھا ہر سو خاموشی تھی آج تو موسم کے رنگ بھی عجیب تھے طوفان آنے سے پہلے کی خاموشی لگ رہی تھی
لالہ رخ نے قرآن نکالا اور سورۃ یسین کی تلاوت کرنے لگی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰسٓۚ(۱)
یس

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ(۲)
قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے پر ہے

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۳)
جتنا تم رسولوں میں سے ہو

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ(۴)
سیدھے راستے پر ہو

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ(۵)
نازل کیا ہوا ہے غالب مہربان کا

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ(۶)
تاکہ خبردار کردو تم اس قوم کو نہیں خبردار کیا گیا تھا بنکے باپ دادا کو سو وہ غفلت میں ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۷)
یقیناً ثابت ہوچکی ہے (اللہ کی) بات ان میں سے اکثر پر سو وہ ایمان نہیں لائیں گے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ(۸)
بلاشبہ ہمنے ڈال رکھیں ہیں انکی گردنوں میں طوق سو وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے) ہیں تو انکے سر اکڑے ہوئے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ(۹)
اور بنادی ہم نے انکے آگ ایک دیوار اور انکے پیچھے ایک دیوار پھر ڈال دیا ہے پردہ ان پر تو یہ دیکھ نہیں سکتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰)
اور برابر ہےان کیلئے خواہ تم خبردار کرو انکو یا نہ خبردار کرو انکو یہ ایمان نہیں لائیں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِۚ-فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ(۱۱)
صرف تم خبردار کرسکتے ہو اسکو جو پیروی کرے اس ذکر (قرآن) اور ڈرے رحمان سے غائبانہ۔ سو بشارت دو اسکو مغفرت کی اور اجر کریم کی

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْۣؕ-وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠(۱۲)
بےشک ہم ہی زندہ کریں گے مردوں کو اور ہم لکھ لیتے ہیں جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ اور ہر چیز کہ شمار کر رکھا ہم نے اسکو ایک واضح کتاب میں

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِۘ-اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ(۱۳)
اور بیان کرو ان سے قصہ بستی والوں کا جب آئے انکے پاس رسول

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ(۱۴)
جب ہم نے بھیجے انکی طرف دو(رسول) تو انہوں نے جھٹلایا ان دونوں کو۔ پھر ہم نے تقویت دی تیسرے سے تو کہا انہوں نے بےشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ-وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ(۱۵)
انہوں نے کہا نہیں ہو تم مگر ایک بشر ہماری طرح کے اور نہیں نازل کی رحمان نے کوئی چیز۔نہیں تم مگر یہ کہ جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ(۱۶)
انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے یقیناً ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۱۷)
اور نہیں ہمارے ذمے مگر پہچانا صاف صاف

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْۚ-لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۸)
انہوں نے کہا ہم یقیناً منحوس سمجھتے ہیں تمکو۔ اگر نہیں تم باز آؤ گے تو ہم ضرور سنگسار کردیں گے تمہیں اور پہنچے گا تمہیں ہم سے عزاب دکھ والا

قَالُوْا طَآىٕرُكُمْ مَّعَكُمْؕ-اَىٕنْ ذُكِّرْتُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۱۹)
انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم وہ لوگ ہو جو حد سے تجاویز کر گئے ہو

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ(۲۰)
اور آیا شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا۔ کہنے لگا اے میری قوم پیروی اختیار کرو رسولوں کی

اسکو لگا ہر لفظ پر ایک سچ لکھا ہے اسکی زندگی کا کیا مستقبل کا سچ ہے یا ماضی میں ہونے والا کوئی قصہ ہے کچھ تو تھا جو اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا
وہ پڑھ رہی تھی آواز میں سحر تھا کہ جو تھوڑی دیر پہلے وحشت تھی اب ختم ہو گئی تھی اب ہر طرف سکون سا لگا تھا وہ مزید پڑھتی کہ فون رنگ ہوا اسنے قرآن کو چوم کر سینے سے لگایا اور اٹھ کھڑی ہوئی فون اٹھانے کی غرض سے
💜💜

میر ابھی کچھ دیر پہلے ہی فلیٹ آیا تھا پورا دن تھکا دینے والا تھا اسلئے پہلے کھانا کھایا اور پھر فریش ہونے چل دیا بوجھل سی طبیعت تھی دل بھی بے چین ہورہا تھا آنکھیں بلاوجہ نم ہورہی تھیں
‘آخر کیا ہوگیا ہے آج سے پہلے تو کبھی ایسا انہیں ہوا اللہ خیر کرے’ میر نے دل پر ہاتھ رکھا
فریش ہونے کے ساتھ ہی اسنے وضو بھی بنا لیا تھا اب مصلے پر کھا تھا نیت باندھی تھی اور ہاتھ کان تک لے جاکر تدبیر پڑھی
‘اللّٰہ اکبر’ آواز میں رعب تھا
ثناء پڑھی اور پھر سورۃ فاتحہ اسکے بعد سورۃ اخلاص رکوع میں گیا اسکے بعد سجدہ
سجدے میں جاتے ہی آنکھیں موندیں گویا سکون دل میں اتارا ہو سجدہ کافی لمبا تھا
بی جان اکثر کہتی تھیں مشکل میں ہو تو سجدے لمبے کردو وہ تمہاری خوشیوں کے پل لمبے کردے گا
سلام پھیرا اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے کچھ پل تو انہیں دیکھتا رہا پھر جب کہا تو درد سا محسوس ہوا اسکی آواز میں
‘میں نہیں جانتا اے رب کریم جو بھی جانتا ہے بس تو جانتا ہے تیرا فیصلہ تیرا کن کہنا ہم سب کو ایک نئی راہ دکھاتا آیا ہے ہمیشہ سے میرا دل کہہ رہا ہے کہ میرا دل کٹ جائے گا اس لئے آج بھی ایک نئی راہ دکھائے گا میں منتظر رہوں گا آپکے اشارے کا اپنی قسمت کی جھلک کا میرے ہاتھ خالی ہیں اور میں چاہتا ہوں انھی خالی ہاتھوں سے تیرا ہاتھ تھاموں بے شک تو تھامنے والا ہے’ میر کے دل نے دعا مانگی تھی دلوں پر راج کرنے والے سے ابھی وہ اور کچھ مانگتا کہ اسکا فون رنگ ہوا اسنے دعا مانگ کر ہاتھ منہ پر پھیرا اور فون دیکھنے کیلئے اٹھا
💜💜

جنید جو گھر واپس جارہا تھا بیچ میں رابی کی کال آگئی تھی اور اسنے اسے پرانی فیکٹری پر بلایا تھا اور وہ وہاں پہنچ بھی گیا تھا
جب اسے میسج موصول ہوا فیکٹری میں اندر آنے کا
‘شاید انتظار کرتی ہوئی اندر چلی گئی ہو’ وہ بڑبڑاتے ہوئے اندر چلا گیا
اندر داخل ہوا تو چاروں اور اندھیرا تھا پرانی فیکٹری تھی اسلئے لائٹ کا کوئی کنیکشن بھی نہیں تھا موبائل نکالا اور لائٹ اون کی تو سامنے ہی ایک لیڈی پرس دکھا اس نے پرس اٹھایا کھولا تو اس میں سے رابیعہ کا این آئی سی ملا جنید کو شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
‘رابیعہ’ وہ دھاڑا آواز میں ہلکا ڈر تھا کسی کو کھونے کا لیکن ہر طرف وہی خاموشی
‘رابیعہ کہاں ہو تم فور گڈ سیک یار اگر یہ کوئی مزاق ہے تو باہر آجاؤ’ وہ ایک بار پھر دھاڑا اس بار آواز میں غصہ تھا لیکن وہی خاموشی وہ ایک بار پھر کچھ بولتا کہ اسے پیچھے کسی کے قدموں کی آواز آئی باریک سی ٹک ٹک ہیلز کی
‘کتنا چیختے ہو تم میرے کانوں میں درد کردیا’ رابیعہ نے کانوں کو مصلا
‘رررررابیعہ تم ٹھیک تو ہو نہ’ جنید نے اسے چھونا چاہا لیکن وہ پیچھے ہٹی جنید نے بے یقینی سے دیکھا
‘دور رہو مجھ سے میں سمجھتی تھی کہ تم غصے کے تیز ہو لیکن ہو سیدھے سادھے سے لیکن میں غلط تھی تم تو مکار بھی نکلے شکر ہے کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہوئی’ رابیعہ چیخی تو جنید کے پیروں سے زمین کھسکی
‘تم تم محبت کرتی ہو نہ مجھ سے تم نے خود کہا تھا کہ یو لوو می تم ججج…جھوٹ بول رہی ہونہ’ اسکی زبان کڑکھڑائی
‘ہاں یو نو نہ ٹائم پاس کررہی تھی مجھے تم میں تو سرے سے دلچسپی ہی نہیں تھی میں تو کسی اور سے محبت کرتی ہوں جنونی محبت کرتی ہوں اس سے میں تو تمہیں چھوڑنے ہی والی تھی’ وہ ابھی اور بکواس کرتی کہ جنید کا ہاتھ بے اختیار ہوا میں اٹھا تھا اور اسکے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا ایک آواز گونجی تھی فضا میں
رابیعہ نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا ہونٹ سے خون کی بوندیں نکلیں اور لکیر بنا گئیں
‘تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ کھیلنے کی لڑکی ہوکر محبت سے کھیلتی ہو ارے لڑکیوں کو تو محبت سے گوندھ کر بنایا جاتا ہے لیکن شاید تمہیں نفرت اور خود غرضی سے گوندھ کر بنایا ہے پہلے بھی تم نے مجھ سے جھوٹ بولا لالہ رخ کے معاملے میں اسے توڑنا چاہا لیکن شاید اسے خدا نے تھاما ہوا تھا اسے پہلے ہی سب پتا چل گیا اور مجھے بھی لیکن میں نے صبر کیا نظر انداز کیا لیکن اب صحیح کہتی ہے لالہ رخ میں بیوقوف ہوں جو تمہاری چالوں کو نہیں سمجھ سکا تھو ہے مجھ پر’ وہ دھاڑا تھپڑ اتنی زور سے مارا تھا کہ اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا امی کا خیال بھی ذہن میں تھا کہ آج انکا بی ہی ہائی تھا نہیں انہیں ہسپتال کے جانا تھا وہ باہر جانے لگا تبھی فضا میں ایک آواز اور گونجی
رابی نے اسے پلٹتے دیکھ کر اپنی گن نکالی تھی اور ایک فائر کیا
‘ٹھاہ’ اندھیرے میں ایک آگ کا شعلہ نکلا اور جنید کی کمر میں لگا وہ لڑکھڑاکر پیچھے مڑا اور بے یقینی سے اسے دیکھا
رابی مسکرائی اور قریب آئی
‘یہ جو تھپڑ مجھے مارا ہے نہ اسکا تحفہ ہے میرے باپ کو مارنے کی سزا تو ابھی ملے گی تمہیں’ رابیعہ کہتی ہوئی باہر کی طرف مڑی
جنید کی آنکھوں میں اپنی امی کا عکس لہرایا
‘میں اپنے بیٹے کی چاند سی دلہن لاؤں گی’ امی کو یاد کرکے اسکی آنکھوں سے آنسو ٹپکا
‘ابے چل ہٹ میری شادی میں ناگن ڈانس کیے بغیر مرنے نہیں دونگا تجھے’ علی کی آواز سنائی دی وہ آسودگی سے مسکرایا
‘تجھے ابھی بہت کچھ کرنا ہے آنٹی کیلئے اپنے لئے اور پھر اپنے بچوں کیلئے بھی’ میر کا چھیڑنا اسے یاد
‘جب بھی کوئی مصلا ہو تو بلا جھجک اس ناچیز کو یاد کرلیے گا’ لالی کی آواز کانوں میں پڑی تو آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسؤں میں روانی آئی اپنا فون نکالا اور پہلا نمبر جسکا تھا اسے کال کی لیکن دوسری طرف بیل جاتی رہی تھی تبھی فون والے نے فون اٹھایا


‘اسلام و علیکم کون بات کررہے ہیں’ لالی کی شوخ سی آواز گونجی جنید نے دل میں سلام کا جواب دیا (لالی کا نمبر کچھ دیر پہلے ہی سیو کیا تھا اسلئے ریسینٹلی ایڈیڈ نمبرز میں تھا اور اوپر ہی تھا)
‘پپپرانننیییی ف…فیک…فیکٹری آآآ آجاؤ میں مممم…مر جاؤں گا اااامممم…ام.امی لا……ل…لالی آآآججج۔۔۔جاؤ’ جنید نے بہت مشکل سے بات کی درد برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا
‘ااا…ارمان ملک’ لالی نے کہنے کے ساتھ ہی فون کاٹا اور بھاگ کر شال اٹھائی ہینڈ بیگ لیا اور گھر کے بیک ڈور سے باہر نکلی رکشا روکا پرانی فیکٹری کا پتہ سمجھایا اور نکلی
💜💜

‘بیٹا آج تم نے بریانی نہیں کھائی کیا بات ہے’ اسماعیل صاحب نے علی سے پوچھا
ایک ہفتے میں تین بار لالی بریانی لائی تھی اسکے لئے آج بھی لائی تھی اور دے کر جا چکی تھی لیکن حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ علی نے کچھ کھایا نہیں تھا شام سے
‘دل نہیں چارہا ڈیڈ آج جنید نے آنا تھا آنٹی کو لے کر مگر وہ نہیں آیا میرا دل بھی گھبرارہا ہے میں میر کو کال کرکے آتا ہوں’


‘ہیلو اسلام وعلیکم علی’ میر کی آواز گونجی
‘وسلام میر کیسے ہو’
‘میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ پریشان لگ رہے ہو ویسے پریشان تو میں بھی ہوں پتا نہیں کیوں دل گھبرا رہا ہے بے چینی ہورہی ہے’ میر کی آواز میں بے چینی تھی
‘میر جنید نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ آج آنٹی کو لائے گا ہوسپٹل میں نے اسے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا اب ساڑھے دس ہونے کو آئے میں گھر گیا لیکن وہ نہیں آیا اآآآآنٹی تو ٹھیک ہونگی نہ’ اسکے لہجے میں کچھ تو عجیب تھا میر کو حیرت ہوئی
‘علی ٹھیک سے بتاؤ کیا ہوا ہے تم کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے’ میر بات کی گہرائی میں پہنچا
‘میر آنٹی کے دل کے والز بند ہیں اگر انہیں کوئی صدمہ پہنچا تو انکی جان کو خخخ…خطرہ ہے’ علی پریشانی سے گویا ہوا ‘جنید نے آج اسی لئے اپائنٹمنٹ لیا تھا مجھ سے’
‘واٹ اتنی بڑی بات ہوگئی اور مجھے کسی نے کچھ بتایا ہی نہیں تم جنید کے گھر کیلئے نکلو میں بھی آتا ہوں’ میر نے فون کال کٹ کی اب دل صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا بھاگ کر چابیاں اٹھائیں اور باہر نکلا
💜💜

لالی پہنچ گئی تھی فیکٹری اسکو بمشکل دس منٹ لگے تھے رکشے کو تھوڑی دور ہی روک وایا تھا آگے بھاگ کر پہنچی ادھر ادھر نظریں گھامائیں تو ایک لڑکی اپنی گاڑی سے کچھ نکال رہی تھی چھپکے سے بنا آواز کیے اندر داخل ہوئی گھپ اندھیرا تھا پاؤں کسی چیز پر پڑا ہلکی سی آواز سے کسی چیز کے دو ٹکڑے ہوئے تھے اسنے اپنے موبائل سے لائٹ اون کی تو وہ کسی کا فون تھا پیچھے مڑ کر دیکھا تو کسی کا بیگ بھی تھا لائٹ جلانے سے لالی کے چہرے پر لائٹ پڑی تھی جنید نیم غنودگی میں تھا اسلئے پہچان گیا
‘للل…لا…لالی…ی’ وہ درد بھری آواز میں بولا
‘سر کہاں ہیں آپ’ اس نے ادھر ادھر دیکھا سامنے ہی جنید زمین پر گرا ہوا تھا خون بہہ رہا تھا اسکے پاس سے اگر لالی کے علاؤہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اب تک بے ہوش ہوچکی ہوتی وہ بھاگ کر اسکے پاس پہنچی اور اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اپنا پرس ایک طرف پھینکا اس میں سے موبائل نکالا ایمبولینس کو کال کی
‘سر آپ کو کچھ نہیں ہوگا ایمبولینس بس آتی ہی ہوگی……’ اسکا جملا مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اسکو اپنے گلے کے پیچھے کی طرف کچھ چھوبتا ہوا محسوس ہوا
‘آہ…..’ اسکا سر چکرایا ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور چکنا چور ہوا
‘ماشاءاللہ بھئی بہت ہی کوئک سروس ہے تمہاری کافی جلدی پہنچ گئیں’ رابی نے لالی کا منہ دبوچا
‘کون ہو تم’ لالی نے اپنا منہ چھوڑوایا سر چکرارہا تھا لیکن جو ہار جائے وہ لالہ رخ نہیں
‘میرے بارے میں ابھی پتا چل جائے گا تمہیں صبر کرو’ اسنے لالی کو ایک طرف دھکا دیا لالی جو پہلے ہی چکرارہی تھی اچانک سے نیچے گرنے پر بے ہوش ہوئی
‘تو ڈئیر موت سے ڈر تو نہیں لگ رہا نہ اگر لگ بھی رہا ہے تو اچھی بات ہے موت سے تو سب نے ڈرنا چاہیے’ رابی کہہ بھی رہی تھی اور ساتھ میں اس پر پیٹرول بھی چھڑک رہی تھی اور جنید تو بس اسے دیکھ رہا تھا محبت موت بن کر سامنے کھڑی تھی وہ ہنس دیا ماں کا خیال ذہن میں آیا تو ہنستے ہنستے اتنی زور سے رویا کے بے ہوش پڑی لالی نے آنکھیں کھولیں
‘شاباش میرے بابا نے بھی تم سے زندگی مانگی تھی لیکن تم تم نے انہیں اسی طرح تڑپا کر مارا تھا اب مرو تم بھی’ وہ ہنس رہی تھی اسی کی ہنسی میں چھپا درد جنید نے دیکھ لیا تھا وہ تو یہ بھی جانتا تھا کہ اسکا باپ گناہگار تھا اسلئے مارا گیا وہ تو قاتل کو بھی جانتا تھا اسی لیے خاموش تھا کیونکہ اسکی محبت بے موت مارنے کا ہنر اچھے سے جانتی تھی
پیٹرول چھڑک دیا تھا آگ جلانے کیلئے لائٹر نکالا لالی بھاگ کر اسکے پاس آئی
‘اسے چھوڑدو اس کی ماں گھر پر انتظار کررہی ہے اسکا اسے چھوڑدو’ لالی نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے
‘اسکی ماں…اور وہ باپ تھا میرا جسے اس نے مارا میں اسے نہیں چھوڑوں گی’ رابی نے لائٹر جلایا
‘چھوڑدو کیوں گناہگار بن رہی ہو چھوڑدو اسے اللہ کے قہر سے ڈرو’ لالی نے اسے سمجھانا چاہا لیکن شاید تب تک دیر ہوگئی رابیعہ لیٹر پھینک چکی تھی
‘ارمااااااان’ لالی چیخی آگ بری طریقے سے پھیلی تھی اسنے جلدی سے اپنے اوپر اوڑھی چادر اسکے اوپر ڈال کر آگ بجھائی کچھ حد تک بھج گئی تھی چہرہ جھلسنے والا تھا جب چادر ڈال کر آگ روکی رابیعہ آگ لگا کر باہر چلی گئی تھی
‘لللل…لا…لای’ وہ زندہ تھا آہستہ آہستہ جان نکل رہی تھی
‘ارمان چپ ہو جاؤ یہ ایمبولینس کہاں مر گئی ہے ابھی تک کیوں نہیں آئی’ لالی بول رہی تھی نکھوں سے آنسو نکل رہے تھے
‘میں ننننن…نہیں بببب…بچ سسسس…سکتا’ اسکی بات پر لالی ہچکیوں سے روئی
”ممممم….میری…ی ممم….ماں کککک…کا خیال ررررر…رکھنا اور ممم…میر کو بولنا دوستی ننننن…نبھ…نبھادی ہ…ہے اور اب وہ دوسسری شادی کرلے علی ککککک…کو ببب…بولنا کم…ککک…کھایا ککک…کرےےےےے” اسکی آنکھیں اوپر چڑھ رہی تھیں “رررر…راببب…بی ممم…محببب…بت نہیں ککک…کرتی ووووہ…ہ ججج…جھوووٹی…ی تھی مممم…مجھے من…معاف ککک…کردیناااا’ بس یہیں اسنے ایک زور سے ہچکی لی اور اسکی روح اسکے جسم سے نکل گئی لالی اسکی پتھرائی ہوئی آنکھیں دیکھ کر دھاڑے مار مار کر روئی
‘ارمااااااان’ وہ زور سے چیخی تو بے ہوشی کے انجیکشن کی وجہ سے وہ اپنے ہواس کھو بیٹھی

جاری ہے……….…