No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 23
از قلم انعم رئیس
میں ہوں تنہائی ہے اور فریبِ خیال تیرا ہے
کیا کہوں تجھے اس میں نہیں کوئی قصور تیرا ہے
میں سجدے میں گرا اور روکر التجا کی اے رب
کہا گیا واپس پلٹ جا نہیں وہ اب تیرا ہے
سوچا بیچ دوں وہ سامان جو گھر میں پڑا ہے
گھر نہیں جسم ہے سامان نہیں دل ہے جو تیرا ہے
کیا کہوں کیسے کہوں الفاظ نہیں پاس میرے
جو تیرے پہلو میں بیٹھا وہ کل میرا تھا جو آج تیرا ہے
(انعم رئیس)
یہ ہے گیلانی ہاؤس کی ڈائینگ ٹیبل کا منظر جہاں صبح کا ناشتہ ہورہا ہے اور آج ایک افراد کا اضافہ اور ہوا ہے اور وہ ہے لالہ رخ
میر کے بلکل سامنے والی چئیر پر لالی بیٹھی تھی اور اسکے برابر میں فری میر کے ساتھ علی بیٹھا تھا
‘بیٹا آپکی اور کیا مصروفیات تھیں’ شیراز صاحب نے لالی سے پوچھا
‘ماردھاڑ’ میر بڑبڑایا
‘سوشل ورکنگ کوکنگ اور سپورٹس’ لالی نے ٹہر ٹہر کر جواب دیا
‘ویسے بیٹا آپ کو ہمارا میر کیسا لگا’ یہ سوال فہیم صاحب نے پوچھا تھا اور لالی کا منہ میں لے جاتے ہوئے چمچ کا ہاتھ رکا تھا اس نے ایک نظر اٹھا کر میر کو دیکھا اور تھوک نگلا اور پھر بولنا شروع کیا
‘جی ایس ایس پی صاحب تو ماشاءاللہ سے کافی ایماندار (رشوت خور) ہیں اور رحم دلی (توبہ توبہ) وہ تو ان میں بہت ہے اور جب بولتے ہیں تو لگتا ہے جیسے (آگ اگل رہے ہوں) پھول برسا رہے ہوں …ہی ہی…(ایک تو ہنسی کو بھی ابھی آنا ہے) اور تو باقی سب ان کی(دو ٹکے کا پولیس والا) بہت تعریفیں کرتے ہیں تو کون انکو اپنی لڑکی دینا چاہے اوہ ہمارا مطلب ہے کہ کون اپنی لڑکی انہیں نہ دینا چاہے (زندگی میں بڑے بڑے جھوٹ بولے ہیں مگر اس سے بڑا جھوٹ نہیں بولا ہوگا)…ہی ہی… اور اللّٰہ میاں نے کتنی پیاری شکل و صورت سے نوازا ہے (ہونہہ…بڈھا) تو یہ تو ہر کسی کا آئیڈیل ہوسکتے ہیں اور پھر تو یہ ہماری قسمت میں آئے (ہائے ہماری ہی قسمت پھوٹی تھی)’
لالی نے میر کی تعریفوں میں جو قصیدے پڑھنا شروع کیے تھے کہ بس کتنی مشکل سے وہ ہنسی روک کر بول رہی تھی کہ ضبط کہ مارے چہرہ لال ہونے لگا تھا علی بھی اپنے لب دبا کر ہنسی روک رہا تھا
‘ارے ماشاءاللہ بہو تو میر کی تعریف کرتے ہوئے شرمانے لگ گئی ہے’ ساجدہ بیگم نے لالی کے لال گالوں پر چوٹ کی
‘ہاہاہاہا’ اور یہاں علی کا ضبط ختم ہوا وہاں بیٹھی لالی کی آنکھوں سے آنسو آنا شروع ہوگئے تھے ضبط کے مارے لالی نے علی کو چپ ہونے کا اشارہ کیا وہ سمجھ گیا تھا اسے ہنسی آرہی ہے اسکی شکل دیکھ کر دوبارہ اسکی ہنسی نکل گئی
‘ہاہاہاہا’ علی کے پیٹ میں درد ہونا شروع ہوگیا تھا
‘آپ ہنس کیوں رہے ہیں علی بھائی’ رواحہ نے پوچھا باقی سب کا بھی یہی سوال تھا
‘وہ مجھے نہیں پتا تھا کہ میرے دوست میں اتنی خامیاں میرا مطلب ہے خوبیاں ہیں’ علی نے وضاحت دی ‘ہاہاہاہاہا’ اس بار علی کے قہقہہ کے ساتھ لالی نے بھی قہقہ لگایا میر وہاں بیٹھا سب سمجھ رہا تھا یہ لڑکی جب سے اسکی زندگی میں آئی تھی اچھا خاصا مزاق بن گیا تھا اسکا
سب ناشتہ کر چکے تھے لالی علی اور میر تھک ہوئے لگ رہے تھے اسلئے بی جان نے ان کو آرام کرنے کیلئے کہا تھا
‘ہم کہاں جائیں آرام کرنے’ لالی نے جمائی لیتے ہوئے رواحہ سے کہا
‘ارے اب تو تم میر بھائی کے روم میں جاؤ گی نہ’ رواحہ نے میر کے روم کی طرف اشارہ کیا
‘کیا انکا روم بھی ہے’ لالی کو حیرت ہوئی
‘مطلب’ رواحہ ناسمجھی سے بولی
‘نہیں ہمیں لگا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں رہتے ہیں’ لالی استہزائیہ ہنسی
رواحہ اسے میر کے روم کی طرف لے آئی تھی
💜💜
انعم رئیس: ارے ایک منٹ ہم تو آپ کو گیلانی ہاؤس کا نقشہ بتانا ہی بھول گئے تو سب سے پہلے ہم گھر دیکھتے ہیں کہ کیسا ہے لیکن یاد رہے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے ورنہ ایس ایس پی صاحب سے ڈرتے رہو
یہ ہے گیلانی ہاؤس کا گیٹ مطلب مین انٹرینس اس سے اندر جائیں تو پورچ میں گاڑیاں کھڑی نظر آئیں گی اور اس پورچ کے اوپر بنا ہے ایک چھجّا جب کے دائیں طرف لان ہے جہاں ہر قسم کے پھول ہیں اور ساتھ میں ایک درخت سے جھولا بندھا ہے اور اس جھولے کی رسیوں پر درخت کے پھولوں کی بیلیں ہیں اب ہم اندر چلتے ہیں جہاں دو اسٹیپس اوپر اندرونی گیٹ ہے اس گیٹ کو کھولیں تو سامنے ہی لاؤنج ہے جہاں صوفہ سیٹ رکھا ہے جسکے سامنے ٹیبل پر ایک بڑی سی ایل ای ڈی رکھی ہے صوفہ سیٹ کے دائیں طرف ڈائینگ ٹیبل ہے اور ڈائینگ ٹیبل کے سامنے ہی کچن ہے کچن امریکن طرز پر بنا ہے اب لاؤنج کے بائیں طرف ایک بڑا سا گیٹ ہے جو مہمان خانے کی طرف کھلتا ہے جو بہت بڑا تھا وہاں تقریباً دو سیٹ رکھے تھے صوفوں کے اب واپس باہر آتے ہیں تو کیچن کے بلکل برابر سے بلکہ لاؤنج کے بلکل درمیان میں سیڑھیاں لگی تھیں اوپر جانے کی سیڑھیوں کے بلکل برابر میں چار کمرے تھے جن میں سے ایک بی جان کا دوسرا انصار صاحب کا تیسرا شیراز صاحب کا اور چوتھا فہیم صاحب کا
اب آتے ہیں اوپر تو یہ ارے یہ یہاں کون ہے اوہ یہ تو لالہ رخ ہے اور اسکے ساتھ رواحہ ہے جو اسے میر کے کمرے میں چھوڑنے جارہی ہے سیڑھیوں کے ساتھ ہی پورے فلور پر ریلنگ لگی تھی یہاں پر صرف تین کمرے ہیں ان میں سے بیچ کا روم میر کا تھا جب کے اسکے دائیں طرف والا روم حمدان کا اور اسکے بائیں طرف والا سفیان کا اور اسکے اوپر ہے ایک اور فلور جہاں باقی ینگ پارٹی رہتی ہے
‘یہ رہا تمہارا روم’ رواحہ اسے گیٹ پر چھوڑ کر چلی گئی تھی
لالہ رخ نے دروازے کا ہینڈل پکڑا اور گھمیایا دروازہ کھلتا چلا گیا جیسے اسی کے انتظار میں تھا وہ اندر داخل ہوئی اور اردگرد نظر گھمائی
دروازے کی دائیں طرف کی دیوار کے ساتھ ہی جہاز نما بیڈ تھا بیڈ کے بلکل سامنے صوفہ سیٹ تھا بیڈ کے دائیں طرف ایک کپبورڈ تھا جس میں میر کے آوارڈز رکھے تھے اور بیڈ کے بائیں طرف ڈریسنگ ٹیبل اور اسکے برابر میں ایک سلائیڈ ڈور تھا جو ٹیرس کا تھا سلائیڈ ڈور پر پردے لگے ہوئے تھے صوفوں کے بلکل پیچھے یو شیپ میں گولائی نما ڈیزائن دیا گیا تھا جسکے دونوں سائیڈ میں ایک ایک دروازہ تھے دائیں واشروم تھا جب کہ بائیں طرف والا لوک تھا اور ان دو دروازوں کے بیچ میں الماریاں تھیں روم کو وائٹ اور گرے کومبینیشن دیا گیا تھا
💜💜
‘ہممم گڈ’ لالی کو روم پسند آیا تھا
وہ صوفے کی طرف آئی اور اپنا بیگ اٹھا کر ٹیبل پر رکھا اور اسے کھولا اس میں سے ایک ڈریس نکالا تو سامنے ہی اسکی فیملی کی تصویر رکھی تھی جو شاید پری نے رکھی تھی
وہ مسکرائی اور تصویر نکالی اوپر زمان صاحب کی فیملی تھی جبکہ نیچے بنے خانے میں اسکے سگے ماں باپ کی اس نے اپنا ہاتھ اس فوٹو فریم پر رکھا
کوئی اس سے پوچھتا کہ دنیا کا سب سے بڑا دکھ کیا ہے وہ کہتی “جنہوں نے ماں باپ بن کر پالا وہ ماں باپ نہیں تھے” آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا لیکن یہ بھی تو سچ تھا کہ اگر ایک فیملی اس سے چھینی گئی تو ایک اور دے بھی تو دی تھی
وہ تصویر ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی اسنے فرتی سے فریم واپس رکھا اور اب دیکھا تو میر داخل ہوا تھا اندر
‘یہاں کیا کررہی ہو تم’ اسکو اپنے کمرے میں دیکھ کر میر کی تیوری چڑھی
‘شاید آپ بھول رہے ہیں کہ ہم آپکی بیوی ہیں’ لالی نے اسے یاد کروایا
‘میں نہیں مانتا تمہیں اپنی بیوی’ وہ جارہانا انداز میں اسکی طرف بڑھا
‘آپ نہیں مانتے لیکن باقی سب تو مانتے ہیں’ لالی کے اطمینان میں زرا فرق نہیں آیا تھا
‘اور اس سب کی وجہ بھی تم ہو سمجھیں’ میر چلّایا اور اسکا بازو پکڑ کر اسے کھڑا کیا
‘ہم نے بھیجا تھا نکاح نامہ یہاں’ لالی نے دانت پیس کر کہا اور بازو چھڑانے کی کوشش کی جس پر میر کی پکڑ مضبوط تھی اسے لگا اسکا ہاتھ ٹوٹ جائے گا
‘نیچے کیا ڈرامے کررہی تھی تم ہاں’ میر نے اسکا ہاتھ اسکی کمر سے لگایا
‘سی’ وہ سسکی ‘تو کیا بتا دیتے کہ آپ نے ہمیں ہمارے ماں باپ کے سامنے رسوا کرکے ہم سے نکاح کیا اسکے بعد ہمیں پولیس اسٹیشن میں رکھ کر ٹورچر کیا جیل میں ڈالا بولیں’ وہ ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی اور میر کی پکڑ اتنی ہی مضبوط ہورہی تھی
‘تو یہ بھی کہو نہ کہ تم نے قتل کیا تھا اور میرے دوست کا کیا تھا’ وہ دھاڑا اور اسے زمین پر پٹخا وہ اسکے قدموں میں گری اسکے پاس زمین پر بیٹھا اور اسکا منہ دبوچا ‘تمہیں پتا ہے تمہاری اوقات میرے قدموں میں ہے اگر اپنی اوقات سے باہر آنے کی کوشش کی نہ تو تمہارا حشر بگاڑ دوں گا’ وہ پھنکارا تھا
لالی کانپ کر رہ گئی تھی اتنی تزلیل وہ اسے پلٹ کر جواب دینا چاہتی تھی لیکن نہیں دے سکی شبانہ بیگم کی نصیحت کانوں میں پڑی جو انہوں نے شوہر کے بارے میں کی تھی
‘بیٹا شوہر کو اللّٰہ نے آپکے سر کا سائیں بنایا ہے وہ آپ کو کچھ بھی کہے آپ نے صبر کرنا ہے ورنہ اللّٰہ میاں ناراض ہوتے ہیں’ اور صرف یہی نہیں اس نے ہمیشہ شبانہ بیگم کو زمان صاحب کی عزت کرتے دیکھا تھا تو زمان صاحب بھی بدلے میں شبانہ بیگم کی ان سے زیادہ عزت کرتے تھے
تو کیا وہ ڈر گئی تھی ہاں وہ ڈر گئی تھی اللّٰہ میاں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی جب بچپن میں اسنے اسکول میں ٹیچر سے بدتمیزی کی تھی اس دن اسکے دادا کا انتقال ہوگیا تھا اسے لگا اللّٰہ اس سے ناراض ہوگیا ہے اسی لئے اس کے دادا کو اس سے واپس لے لیا تب سے وہ ڈرتی تھی کہ اللّٰہ میاں پھر سے ناراض ہوگئے تو
تبھی ڈور نوک ہوا میر نے لالی کو چھوڑا اور کھڑا ہوا لالی نے بھی اپنے آنسو صاف کیے ڈریس لیا اور واشروم میں گھس گئی
میر نے اسکی پشت کو گھورا اور سر جھٹکا اور دروازے کی جانب بڑھا تو علی تھا جو اسے اسکا والٹ دینے آیا تھا میر والٹ لینے کے بعد پلٹا تو علی کی آواز نے اسکے قدم جکڑے
‘کبھی کبھار ہم سے کچھ ایسے غلط فیصلے ہوجاتے ہیں جنکا خمیازہ ہمیں زندگی بھر بھگتنا پڑتا ہے لیکن اگر وقت رہتے اسکا کفارہ ادا کردو تو پچھتانا نہیں پڑتا’ علی سنجیدہ تھا
‘مطلب’ میر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
‘تم سے ایک غلط فیصلہ ہوا تھا لیکن وہ شاید تمہاری قسمت تھی اور اب میں دعا کروں گا کہ وہ فیصلہ اب تمہاری خوش قسمتی بن جائے’ علی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اور چلا گیا لیکن پیچھے میر الجھ گیا تھا
💜💜
ساری ینگ پارٹی ہمیشہ کی طرح اپنے پورشن مطلب سیکنڈ فلور پر جمع تھی اور اس بار انکی گفتگو کا موضوع لالہ رخ تھی
‘ویسے کتنی عجیب بات ہے نہ میر بھائی کو بلکل ان سے الٹ بیوی ملی ہیں’ عمر نے چپس کھاتے ہوئے کہا
‘ہاں قانون سے نفرت کرنے والی’ رواحہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
‘وہ تو علی بھائی کی ہی بہن لگی مجھے تو دونوں ہی تھوڑا ایکسٹرا کھاتے ہیں’ بہروز کو لالی کا کھانا یاد آیا
‘ویسے تم لوگوں نے دیکھا تھا میر بھائی کتنے کھچے کھچے سے تھے لالی کے ساتھ’ وجدان نے اپنے دل کی بات کہی
‘ہاں ہوسکتا ہے ان کو یہ سب عجیب لگا ہو اسلئے’ فریہا نے میر کی سائیڈ لی
‘بھائی جتنے کٹم سے الٹ ہیں لالہ رخ بلکل ہمارے جیسی ہی ہے اسکی باتیں کتنی عجیب تھیں’ سحرش کو لالی پسند آئی تھی
‘یار چھوڑو سب لالی کو بلاتے ہیں شام ہونے والی ہے وہ ابھی تک باہر نہیں آئی لگتا ہے کچھ زیادہ ہی تھک گئی ہے’ نازش منہ بنا کر بولی
💜💜
لالہ رخ شاور لے کر باہر نکلی تو میر سو رہا تھا وہ آہستہ سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی برش اٹھایا اور سلائیڈ ڈور کھولا اور ٹیرس پر آئی اور اپنے بالوں کو برش کیا نیند سے آنکھیں بند ہورہی تھیں اس لئیے بیڈ پر سونے کے بجائے صوفے پر لیٹ گئی اپنی چادر اٹھائی اور اوڑھ کر سو گئی
3:30 بج گئے تھے سوتے سوتے اب بھی وہ سو رہی تھی لیکن میر اٹھ گیا تھا اور اسے اسکا سکون زہر لگ رہا تھا اسلئے اسکے سر پر جا پہنچا
‘اٹھو’ میر نے کہا لیکن وہ سوئی رہی میر نے غصے میں اسے اتنی زور سے جھنجھوڑا کہ وہ گرتے گرتے بچی
‘اففف جنگلی انسان کیا مصیبت ہےےے’ وہ چیخی اور صوفے سے نیچے اتر کر کھڑی ہوئی
‘تمیز نہیں ہے تمہیں بات کرنے کی’ وہ بھی چیخا
‘ہاں نہیں ہے بتاؤ کیا کروگے’ لالی دونوں ہاتھ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی
میر نے اپنی ٹانگ اسکی ٹانگ میں اَڑائی وہ جو نیند میں تھی اسلئے سمجھ نہ پائی اور زمین پر منہ کے بل گری
‘کہا تھا نہ اوقات میں رہنا’ میر اسکے بال مٹھی میں جکڑے
‘ہمیں اپنی حدود اور اوقات اچھے سے معلوم ہے ایس ایس پی صاحب اگر کوئی بھولا ہے تو وہ آپ ہیں’ لالی پھنکاری تھی اس میں بھی صبر بس اتنا ہی تھا
میر نے اسکے بال چھوڑے اور ایک زوردار تھپڑ مارا
‘چٹاخ’
‘آہ’ لالی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا
‘میرے سامنے نظریں نیچے رکھا کرو کیونکہ تم نے ابھی تک ایک صرف ایک پولیس والا دیکھا ہے اسکے پیچھے چھپا درندہ نہیں دیکھا’ کہتے کہ ساتھ ہی میر نے اس سے اسکی چادر کو کھینچ کر دور پھینکا لالی ہقّہ بقّہ کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی وہ اپنے دوست کا بدلہ لینے کیلئے کس حد تک جارہا تھا
لالی نے اپنا ہاتھ اسکے دائیں کندھے پر رکھا اور اسکا بایاں ہاتھ پکڑا کندھے پر زور دے کر ہاتھ کو اتنی زور سے چٹخایا کہ میر نے بے ساختہ اسے دھکہ دیا سیکنڈوں کا کھیل تھا کیا ہوا پتا بھی نہیں چلا لالی نے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور اوڑھا
‘درندگی انکو دکھانا جو ڈرتے ہوں مگر ہم لالہ رخ ہیں جس کو دنیا میں کسی کا خوف نہیں ہے اور آپ جیسے کا تو بلکل نہیں جسے صرف کمزورں پر ہاتھ اٹھانا آتا ہے’ لالی کہتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی اور دو چار کریمز چہرے پر لگائیں جس سے اب گال پر پڑے تھپڑ کا نشان چھپ گیا تھا
میر اب خاموشی سے کھڑا تھا اور اسکو دیکھ رہا تھا آج پہلی بار اس نے اسکے بال دیکھے تھے کتنی حسین تھی وہ کاش اس نے قتل نہ کیا ہوتا تو آج وہ دونوں کتنی خوبصورت زندگی گزارتے
تھوڑی دیر میں دروازہ نوک ہوا
‘بھائی’ فری کی شوخ سی آواز آئی
میر نے کتنی جلد بازی میں دروازہ کھولا تھا جیسے وہ بھاگ جائے گی لالی مسکرائی دونوں کی محبت پر
‘فری بچہ اندر آؤ’ کتنی محبت تھی میر کے لہجے میں اور تھوڑی دیر پہلے کے لہجا نہ جانے کہاں گم ہوگیا تھا
‘وہ بھائی لالی کو لیں جاؤں اپنے ساتھ’ اسنے معصومیت سے پوچھا میر تو لالی کے نام سے جی بھر کر بدمزا ہوا تھا
‘یار فری اگر ایس ایس پی صاحب اجازت نہ بھی دیں ہم تو تب بھی تمہارے ساتھ جائیں گے ہائے صدقے تمہاری اس معصومیت پر’ لالی نے فری کی بلائیں لیں اس بات پر تو میر کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ رینگی
جاری ہے…………
