Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 02
از قلم انعم رئیس

‘بس ہوگیا تمہارا نہیں چاہئے مجھے بھیک میں ملی ہوئی بریانی اور تم بڑا جانتے ہو بنگالی بابا کو اور انکی جھاڑو کو لگتا ہے پڑ چکی ہے تمہیں ویسے بھی تمھاری شکل دیکھ کر لگتا ہے پانچ سے سات چڑیلیں عاشق ہونگی تمھاری…..ہونہہ….. ڈاکٹر کو بول رہے ہیں بنگالی بابا سے علاج کر وائیں ارے میں تو خود ڈاکٹر ہوں لیکن میں اپنا علاج کیوں کروں گا…..اُف….’
‘ڈاکٹر صاحب کیا بولیں جارہے ہیں’
‘کچھ نہیں بھائی تم جاؤ’ اسنے ہاتھ جوڑ کر بولا
اتنے میں جنید اندر آیا علی اسکو آتا دیکھ کر پہلے تو بہت خوش ہوا اسکے بعد ناراض بھی (ارے اتنے دنوں بعد آیا ہے ناراضگی تو بنتی ہے)

‘ او۔۔۔۔ کیا بابا جی کا آستانہ سمجھ رکھا ہے جو چلتے جا رہے ہیں چلتے جا رہے ہیں appointment لے کر آئیں’ علی خفگی سے منہ موڑ کر بیٹھ گیا اور جنید جانتا تھا کہ اسے کیسے منانا ہے اسی لیے جلدی سے بولا

‘او ہو یار تو تو ناراض ہے میں نے سوچا تھا کہ آج ہم تینوں بھائی بیٹھ کے امی کے ہاتھ کی بریانی کھائیں گے لیکن تو تو ناراض ہے چل پھر میں چلتا ہوں اللّٰہ حافظ لالے’ جنید وپس جاتے ہوئے بولا

‘اب اگر تم اتنا کہہ رہے ہو تو ٹھیک ہے میں نے تمھیں معاف کیا ہاں ہاں اب زیادہ پیر پڑنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹھو اور ہاتھ آگے کرو’ علی نے کہا جانتا تھا کہ کسی سے لڑ کے آیا ہوگا کیونکہ غصے کا بہت تیز جو تھا اور اکثر وجہ سے ہوسپٹل آوری ہوتی تھی

‘بس کام کے وقت علی یاد آجاتا ہے’ علی جل کر بولا ایک تو زخم اتنا گہرا تھا اور پھر یہ آیا اتنے دنوں بعد تھا
‘اوہ آئی سی لگتا ہے بریانی بھی کام ہوتا ہے’ اسنے دانتوں تلے لب دبایا علی کو منانا واقعی روٹھی محبوبہ منانے کے برابر تھا

ڈریسنگ کروانے کے بعد جنید اور پر علی نے بیٹھ کر رات کا ڈنر کیا اسکے بعد جنید نے اپنی ماں کو اپنے سامنے کھانا کھلایا اس کے بعد انہیں دوائی دے کر انکو لئے روم میں آیا کمفرٹر اڑا کر میر اور علی کو الوداع کیا
💜💜
یہ ہے شاہ ہاؤس کا منظر جہاں 12 بجنے کو آئے تھے لیکن لالی محترمہ کی نیند تھی جو پوری نہیں ہو رہی تھی اسلئے دانیال زمان شاہ (5 سال بڑا بھائی) اور پریشے زمان شاہ (3 سال چھوٹی بہن) لالی کو اٹھانے آئے تھے (لالی 20 سال کی)

‘یار لالی اٹھ جاؤ بھوک سے برا حال ہورہا ہے’ دانیال نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دہائی دی

‘ہمیں تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے پاٹ ٹائم کوک کی جوب پر رکھ لیا ہو چلے جاؤ سونے دو ویسے بھی آج تو چھٹی ہے’ لالی نے سوئی جاگی کیفیت میں بولی

‘بھائی اسکے منہ پر پانی ڈالدیں خود تو اٹھتی نہیں ہے ہمیں بھی بھوکا مارے گی’ پریشے نے پانی کا گلاس دانیال کی طرف بڑھاتے ہوئے مشورہ دیا

‘خبردار! ہم کہہ رہے ہیں اگر کسی نے ہم پر پانی ڈالا تو تو تو تم لوگوں کی چائے میں نمک ڈالدیں گے اور ہمارے پیارے بھائی نہیں ہیں آپ جائیں نہ ناشتہ کرلیں دونوں ہم بعد میں آئیں گے’ وہ پریشے کو چیخ کر بولتے ہوئے دانیال سے مخاطب ہوئی پھر خود پر کمفرٹر اوڑ کر لیٹنے لگی کہ دانیال نے ایک ہی جھٹکے میں اٹھایا اور واشروم میں لے جاکر پٹخا

‘تمھارے پاس صرف 15 منٹ ہیں فریش ہوکر نیچے آؤ ورنہ ناشتے سے ہاتھ دھو بیٹھو گی سمجھیں’
وہ ٹیڑھے میڑھے منہ بناتی واشروم میں گھس گئی دانی اور پری باہر نکل گئے اور ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ کر لالی کا انتظار کرنے لگے

‘امی ناشتہ لگادیں آرہی ہیں وہ محترمہ اور تم کیوں بیٹھی ہو بیٹری فل نہیں ہوئی کیا جاکر ناشتہ لگواؤ امی کے ساتھ’ دانی نے ایک آواز شبانہ بیگم کو دی اور دوسری بار پری کو ڈپٹا جو موبائل لے کر بیٹھی تھی

‘یار بھوک لگ رہی ہے ابھی نہیں بعد میں’ پری نے ایک نظر دانی کو دیکھ کر کہا پھر موبائل میں مگن ہوگئ اتنے میں لالی محترمہ تشریف لے آئیں

اور شبانہ بیگم کو سلام کرکے ان کے گلے لگی “اسلام و علیکم ڈارلنگ”
‘ہزار دفعہ کہا ہے ایسے نہ پکارا کرو خالص لوفر اور چھچھوری ہونے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی تم نے’
‘ہا ہئے۔۔۔۔’ لالی نے خالص جاہل عورتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ سینے پر رکھ کر بولی
‘ تو پھر کیا بولیں ایک تو اتنا پیار کرتے ہیں آپ سے اور آپ ہیں کہ ہمارے پیار کا جواب ایسے دے رہی ہیں ہمیں تو پہلے ہی شک تھا کہ ہم آپکی بیٹی نہیں ہیں بتائیں ہمیں کہ کون سے بھنگی پاڑے سے اٹھا کے لائی ہیں ان دونوں کو کیونکہ لوگ سگی اولاد سے زیادہ دوسروں کی اولاد سے پیار کرتے ہیں اور آپ تو ہم سے پیار کرتی نہیں ہیں ہمارے صرف پاپا ہیں’ لالی نے دانی اور پری کی طرف اشارہ کیا اور ہاتھ نچا نچا کر بولنے کے ساتھ ساتھ چیخنے کا فریضہ بھی خوب انجام دے رہی تھی اور تو اور زمین پر بھی بیٹھ گئی اور دوپٹے کو سر پر اوڑھ کر کانوں کے پیچھے اڑسا ہاں بھئی لگنا بھی چائیے کہ کس کی ایکٹنگ کر رہے ہیں (جاہل عورتوں کی)
اور دانی اور پری اسی لیے لالی کے ساتھ ناشتہ کرتے تھے صبح صبح فری کا انٹرٹینمنٹ ملتا تھا ناشتے کے ساتھ

‘اگر دو منٹ میں نہ اٹھی تو باٹا کی جوتی سے چھترول کروں گی’ شبانہ بیگم نے نہ صرف بولا بلکہ ایک ڈیمو بھی دکھا دیا

‘اوئی۔۔۔۔۔ خدا کو مانیں یار کوئی جوان جہان بیٹی کو ایسے مارتا ہے بھلا’ لالی مصنوعی خفگی سے بولتی ہوئی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی
ناشتہ کرتے وقت بھی لگاتار ڈھائی گز کی زبان (بقول لالی اور شبانہ بیگم کے) کے جوہر دکھا رہی تھی اور شبانہ بیگم صرف سوچ کر رہ گئیں کہ گئی تو گئی کس پر ہے ہمارے خاندان میں تو کوئی ایسا نہیں تھا
ناصر شاہ اور انکی بیوی سلمی بیگم کے دو بچے زمان شاہ اور چھوٹی بیٹی شمائلہ شاہ
زمان شاہ کی شادی انکی ممانی کی بیٹی شبانہ بیگم سے ہوئی شادی کے چار سال بعد خدا نے انہیں بیٹے سے نوازا جسکا نام دانیال شاہ رکھا اسکے پانچ سال بعد خدا نے انہیں رحمت سے نوازا جسکا نام لالہ رخ رکھا اور تب ہی شمائلہ بیگم کی شادی انکے چاچا زاد کزن معراج الدین سے ہوئی اور اسکے اگلے سال خدا نے انہیں بھی بیٹے سے نوازا جسکا نام جواد معراج الدین رکھا اسکے دو سال بعد خدا نے پھر سے زمان صاحب کو بیٹی کی رحمت سے نوازا جسکا نام پریشے زمان شاہ رکھا اسکے بعد شمائلہ بیگم کو بھی خدا نے ایک بیٹے عمید اور اسکے چار سال بعد بیٹی میمونہ سے نوازا
💜💜
یہ منظر ہے گیلانی ہاؤس کا جہاں اس وقت ڈائینگ ٹیبل مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہی تھی
میر گیلانی کے تین بھائی ریان گیلانی ہمدان گیلانی اور وجدان گیلانی ماشاءاللہ سے تینوں ہی شیطان اور ایک بہن فریہا گیلانی عرف فری حد درجہ معصوم سب سے بڑا میر 28 سال کا اس سے تین سال چھوٹا حمدان اسکے بعد یہ دونوں 24 سال کے جن میں محض 5 منٹ کا فرق ہے دونوں ہم شکل انکی ماں رامین گیلانی بھی نہیں جانتیں تھیں کہ پہلے کون آیا ان سے چار سال چھوٹی 20 سال کی فری، فری کے پیدائش کے وقت ماہین گیلانی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں تھیں جہاں خوشی آئی وہاں پر یہ دکھ بھی رہا خیر جانے والے کو کون روک سکتا ہے

فاروق گیلانی اور انکی بیوی خدیجہ گیلانی (بی جان) کے تین بیٹے انصار صاحب، شیراز صاحب اور فہیم صاحب، فاروق گیلانی نے مرنے سے پہلے اپنے تینوں بیٹوں کو الگ الگ پورشن میں تائینات کردیا تھا

انصار گیلانی (میر کے والد) کے چھوٹے بھائی شیراز گیلانی اور انکی بیوی قرۃ العین گیلانی کے تین بچے سب سے بڑی رواحہ 25 سال کی اسکے بعد سحرش 23 کی اور اسکے بعد عمر 21 سال کا

انصار گیلانی کے دوسرے چھوٹے بھائی فہیم گیلانی اور انکی بیوی ساجدہ گیلانی کے چار بچے سب سے بڑی نازش 29 سال کی شادی شدہ 2 خوبصورت بچوں کی ماں اسکے بعد سفیان 25 سال کا اسکے بعد بہروز 23 سال کا اور آخر میں فاطمہ 21 سال کی
سب بڑے بیٹھے ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے اتوار کا دن ہے بھئ لیٹ اٹھنا تو بنتا ہے سب بچے اپنے اپنے کمروں سے نکل کر آرہے تھے اور سب سے آخر میں وہ تینوں شیطان۔۔۔۔۔
سربراہی کرسی پر بی جان انکے بائیں طرف انصار صاحب اور دائیں طرف شیراز صاحب پھر دائیں طرف کی دوسری کرسی پر فہیم صاحب انصار صاحب کے ساتھ میر(جو دو تین دن کے لئے گھر آیا تھا) بیٹھا اپنی فری گڑیا کی شکایاتیں سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ ان تینوں کو ڈانٹ بھی رہا تھا انکے بعد گھر کے سب بچے بیٹھے تھے ساجدہ بیگم اور قرۃ العین بیگم کچن میں مصروف تھیں…… وجدان اور حمدان کی طرف آئیں تو دونوں لڑنے میں لگے ہوے تھے اور وہ بھی چیز آملیٹ پر…..
‘شرافت سے دے دو مجھے ورنہ تمہاری یہ کیچڑ کی کوفی تمھارے کیچڑ جیسے سر پر ڈال دوں گا’
حمدان نے وجدان سے پلیٹ کھینچنی چاہی
‘یہ کیچڑ نہیں بلیک کوفی ہوتی ہے جاہل’
وجدان چڑ کر بولا
‘اگر تم نے مجھے یہ آملیٹ نہیں دیا نہ تو تمھارا رات دیر سے آنے والی بات اور اور اور اس دن جو تمہیں پولیس نے پکڑلیا تھا ڈراؤینگ لائسنس نہ رکھنے کی وجہ سے بتاؤں سب کو’
حمدان آہستہ بولنے کے بجائے زور سے بول گیا اور وجدان تو اسے دیکھ کر رہ گیا اسکا دل کیا یہی آملیٹ اسکے منہ میں ٹھونس کر اسکا منہ بند کردے کیسا ناگن سیزن 6 نکلا تھا اسکو ڈر بڑوں کی وجہ سے نہیں بلکہ میر کی وجہ سے لگا تھا کہ اس دن تو پولیس والوں نے چھوڑ دیا تھا لیکن آج سینٹرل جیل جانا پکا لگ رہا تھا اس نے دل میں آل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو کا ورد شروع کردیا تھا…..ان سب میں کوئ تھا جو فریہا کو بڑی فرست سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔آں۔۔۔آں۔۔۔۔سفیان عرف سیفی اور ادھر فری انجان بیٹھی لڑائیاں دیکھنے میں مصروف تھی اسنے بھی اپنی نظریں ناشتے کی طرف مبذول کرلیں
اب ماحول میں تھوڑی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ میر کا غصہ اس غصے سے تو سبھی کی جان جاتی تھی اس لیے سبھی خاموش تھے میر نے ناشتہ کرنے کے بعد وجدان کو اپنے روم میں بلایا
وجدان کا تو مانو جسم کاٹو لہو نہی والا حساب ہوگیا تھا اس نے جانے سے پہلے حمدان کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے ڈیول اپنے شکار کو گھورتا ہے میر کے جانے کے بعد سب اپنی ٹون میں واپس آگئے تھے ریان نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں سب اپنے ناشتے میں مصروف تھے تو سوچا کیوں نہ دیدارِ یار کرلیا جائے اس نے نظر اُٹھا کر سحرش کو دیکھا اور پھر نظر ہٹانا مہال ہوگیا اِدھر سحرش خود کو کسی کے نظروں کے حسار میں محسوس کر رہی تھی نظر اُٹھا کر دیکھا اور دونوں کی نظریں ٹکرائیں ریان اپنی آنکھوں میں عشق کا سمندر لئے اسے دیکھ رہا وہ ان نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے نظریں جھکا گئی اور یہ منظر ریان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آیا کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ آگ سامنے کی طرف بھی برابر لگی ہے اور دوسری طرف حمدان بھی انہی حرکتوں میں مگن تھا لیکن اس کی نظریں رواحہ پر تھیں دونوں کا رشتہ بھی پکا ہوچکا تھا
💜💜
ادھر میر کے کمرے کا منظر ہی الگ تھا
میر غصے میں اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا اور اُدھر وجدان کو سانس بھی نہیں آرہا تھا (ارے بھئی آتا بھی کیوں قانونی بندے کے سامنے غیر قانونی حرکت کرکے آیا تھا اور قانونی بندہ بھی وہ جو ڈیوٹی سے جنونی محبت کرتا تھا بیوی کہنا برا نہیں ہوگا)
‘ تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی کیا میں پاگل ہوں جو تم لوگوں کے پیچھے پڑا رہتا ہوں ہزار دفعہ کہا ہے کہ ذمہ دارانہ حرکتیں چھوڑ دو دل تو کر رہا ہے تمہیں جیل میں ڈال دوں لیکن نہی اس بار سزا ملے گی اگلے دو ماہ تک پاکٹ منی بند’ میر ہلکی آواز میں دھاڑا
‘بھائی پلز اس بار معاف کردیں اگلی بار قسم سے نہیں کروں گا مجھ جیسے غریب کے پاس تو دال روٹی کھانے کے پیسے نہیں ہیں اپنے بچوں کو کیا کھلاؤں گا’ وجدان نے آنکھوں میں آنسوں لا کر ایکٹنگ کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اگر میر کے علاؤہ کوئی اور ہوتا تو اسکی بات پر سو نہ سہی 90 فیصد یقین تو ضرور کرلیتا
‘کونسے بچے…..؟’ میر نے پوچھا جانتا تھا کیا بولے گا آگے
‘وہی بچے جو سڑک پر سوتے ہیں وہی بچے جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا وہی بچے جن کے ماں باپ انہیں پالنے سے منع کر دیتے ہیں وہی بچے……..’ وجدان ابھی بول ہی رہا تھا کہ میر نے جملہ مکمل کیا
‘وہی بچے جن کے پاس عید منانے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔ہوگیا تمھارا دو ٹکے کہ تین تہائی ایکٹر اب سنو تم مجھے آوارہ گردیاں کرتے ہوئے نظر نہ آؤ نہیں تو جیل میں ڈال دوں گا تمہیں پھر سچ میں پتلی دال اور سوکھی ہوئی روٹی پر گزارا کرنا تم اب جاؤ’ میر اپنے گھر والوں کے سامنے غصہ کم ہی کرتا تھا کبھی کبھار تو شوخ بھی ہوجایا کرتا تھا سب گھر والوں میں بے پناہ محبت تھی بی جان نے میر وجدان ریان حمدان اور فری کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی کرتی تو وہ سب سے بے پناہ محبت تھیں لیکن ان پانچوں سے کچھ زیادہ کرتی تھیں
💜💜
ریان جو ابھی کمرے سے نکلا تھا سامنے سے آتی سحرش کو نہ دیکھ پایا اور زور سے ٹکرایا اسکو تو کچھ نہ ہوا لیکن وہ چھوئی موئی سی لڑکی اگر بر وقت نہ سنبھالتا تو زمین پر گر چکی ہوتی
سحرش نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلی تھیں اسکو تو لگا آج وہ گئی
ریان کو اس وقت وہ ایک پیاری سی بچی لگ رہی تھی جو گرنے کے ڈر سے آنکھیں بند کیے اسکے بازوؤں میں تھی ریان بے خود سا ہوکر اسکے ماتھے پر جھکا اور ایک عقیدت بھرا لمس اس کے ماتھے پر چھوڑا تھا
وہ جو پہلے خود کو آرام دہ جگہ پر محسوس کر رہی تھی اس سے پہلے کہ وہ آنکھیں کھولتی اسکو اپنے ماتھے پر کسی کا پر حدت لمس محسوس ہوا اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے ریان کو دیکھ کر گڑبڑائی اور جھٹکے سے اٹھی وہ بھی ہوش میں آیا تھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ریان آگے بڑھ گیا لیکن وہ وہیں کھڑی اپنے ماتھے پر اسکا لمس محسوس کر رہی تھی بے خود سی ہو کر ہاتھ سے پیشانی کو چھوا پھر اسی ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور آخر میں خود ہی شرما دی اف یہ لڑکیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے…………..