No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 30
از قلم انعم رئیس
تُو شاہِ عشق ھے _ تیرا پلڑا بھاری🥀
میں فقیر عشق ھوں میرا تَن بھی خالی مَن بھی خالی💕
میر نے اسے خود سے دور کیا اور اسے غور سے دیکھا جب کہ چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی لالی نے اسے دیکھا تو اپنی بے اختیاری پر خود کو کوسا کیا ضرورت تھی اظہار کرنے کی اور وہ بھی اظہارِ عشق لالی نے آنسو صاف کیے اور پھر اس سے فاصلے پر بیٹھی میر اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا محبت سے لیکن شاید نہیں اسکی آنکھوں میں عزت بھی تھی
‘کہاں لگی ہے’ کچھ لمحوں بعد لالی نے میر سے پوچھا
‘پہلے تو ایک خراش آئی تھی لیکن اب لگتا ہے دل زخمی ہوگیا ہے’ وہ شاید بےبس سا ہوگیا تھا لالی کا عشق اپنے لیے دیکھ کر
‘ایسے نہ بولیں ہماری بے اختیاری میں کہی گئی بات کو دل پر نہ لیں ضروری نہیں ہوتا کہ رشتے میں بندھے دونوں فریقوں میں محبت ہو’ وہ کچھ اور سمجھ بیٹھی تھی
‘تو کیا محبت کا حق صرف تمہیں ہے’ میر شاید اسے کچھ باور کروانا چاہتا تھا شاید نہیں وہ یقیناً اپنی محبت کا یقین دلارہا تھا
‘نہیں سب کو ہے لیکن بس آپ کو نہیں ہے’ وہ شاید سمجھ گئی تھی
‘اور مجھے کیوں نہیں ہے’ وہ گھمبیر آواز میں بولا تو لالی کی جان اٹکی
‘کیونکہ ایک پولیس اہلکار مجرم سے محبت نہیں کرسکتا’ لالی نے اسے کچھ یاد دلایا تو اسنے لمبی سانس کھینچی
‘اور اگر میں کہوں کہ تم مجرم نہیں ہو تو’ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تو لالی کی آنکھیں حیرت سے پوری کھل گئیں وہ دونوں پاؤں اوپر کرکے آلتی پالتی مار کر میر کے سامنے ہوکر بیٹھی
‘رابیعہ خان کو پکڑ لیا ہے کیا’ اسکے لہجے میں حیرت تھی اتنی جلدی کیسے پکڑ لیا اس چڑیل کو بھئی
‘پکڑا تو نہیں ہے کیونکہ وہ غائب ہے لیکن اسکے خلاف ثبوت حاصل کررہا ہوں’ وہ پرسکون لہجے میں بولا تو لالی بےچین ہوئی
‘سر رابیعہ خان سے محبت کرتے تھے’ لالی نے جملہ پورا کیا اور میر کی طرف دیکھا میر کے سر پر تو گویا دھماکا کیا گیا تھا اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا
‘تو اسلئے مارا ہے رابیعہ جان نے اسے’ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور شرٹ اتارنے لگا تو ہلکا سا درد ہوا تو لالی فوراً سے پہلے اسکے پاس پہنچی اور بغیر کچھ کہے اسکی شرٹ اتروانے میں اسکی ہیلپ کرنے لگی
‘آپ فریش ہوجائیں جب تک ہم کھانے کا دیکھ کر آتے ہیں’ وہ کہتی ہوئی پھدک پھدک کر چلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی میر مسکراتا ہوا واشروم میں چلا گیا
💜💜
‘ٹھیک ہوگئیں تم سوری میں بتانے والا تھا لیکن تم بغیر کچھ سنے چلی گئیں میں بھی گھبرا گیا تھا’ عمر شرمندہ سا تھا
‘کوئی بات نہیں دراصل نہ ہم میں ہماری امی جان کی روح آجاتی ہے کبھی کبھی ہم پاگل ہوجاتے ہیں اسلئے تھوڑی دیر پہلے پاگل ہوگئے تھے’ لالی نے ہنستے ہوئے کہا
‘امی کی روح’ عمر نے دوہرایا تو اسکی ہنسی کو بریک لگا امی…
‘اوہ ہیلو ہمیں نہ اموشنل مت کرو تھوڑی دیر پہلے اموشنل ہو ہو کر ہم تھک گئے ہیں اب زرا ہمیں اپنی ٹون میں واپس آنے دو’ وہ تھوڑا غصّے سے بولی اتنے میں فاطمہ بھی وہیں آگئی
‘تم تھوڑی ڈائیٹنگ وائیٹنگ کرو کتنی موٹی ہوگئی ہو’ عمر فاطمہ کو آگے پیچھے سے دیکھتے ہوئے بولا
‘موٹی اور میں ارے جاؤ خود کو دیکھو پہلے پرسوں جو ویٹنگ مشین پر کھڑے تھے نہ تم وہ میں نے بھی دیکھا تھا ماشاءاللہ 60 کلو’ فاطمہ نے اچھے سے لتاڑا اسے اور پھر لالی کو بھی بتایا
‘کیاااا 60 کلو تھوڑا کم کھایا کرو ایک تو کھاتے اتنا ہو اوپر سے ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھاتے ہو توند نکل گئی نہ تو لڑکی نہیں دینی کسی نے اپنی تمہیں’ لالی نے اسے ڈرایا اور بانو بی کو کھانا گرم کرنے کا کہنے لگی
‘توند نہیں نکلی میری میں جم کرتا ہوں اسلئے اور موٹی تو یہ ہے’ عمر نے فاطمہ کو بازو سے دھکا دیا تو وہ گرتے گرتے بچی اور پھر اسکے سر پر پہنچی
‘موٹے کہیں کہ کیا بولا میں موٹی اچھا سنو اللہ کرے تمہاری بیوی موٹی ہو بچے موٹے ہوں پورا خاندان موٹا ہو’ اسنے اسکے بال کھینچتے ہوئے بھر بھر کر بددعائیں دیں وجدان بھی اسی کی طرف آیا
‘اللہ کرے تیرا شوہر کالا ہو موٹا بھدا ہو بال بھی نہ ہوں اسکے اور اور’ اس نے لالی سے پوچھا تو لالی نے ایک نظر وجدان کے سفید پڑھتے چہرے کو دیکھا اور پھر شروع ہوگئی
‘اور اسکے دانت بھی نہ ہوں پوپلا ہو کالے کالے ہونٹ ہوں چرسی ہو لفنگا ہو’ لالی مزے سے بولی تو وجدان کو آگ لگا گئی وہ تن فن کرتا اسکے پاس پہنچا
‘تم ہوگی چرسی اللہ کرے تمہارے دانت ٹوٹیں تمہارے ہوں ہونٹ کالے…’ وجدان انگلیوں پر گنے گن کر بول رہا تھا اور لالی کی آنکھیں اسکی ہر بات پر مزید مزید کھل رہی تھیں پاس پڑا ہوا پانی کا جگ اٹھایا اور پورا کا پورا اس پر پلٹ دیا تو اسکی چلتی زبان کو بریک لگی عمر اور فاطمہ کے قہقہ بلند ہوئے
‘ہم چرسی ہیں تو تم کیا ہو چپڑاسی کہیں کے’ لالی کی زبان کو تو ہم سب جانتے ہی ہیں بھئی وہ وجدان کی کلاس لے کر آگے جارہی تھی کہ اپنے ہی کھودے ہوئے گڈّے میں گرگئی مطلب وجدان پر جو اس نے پانی پھینکا تھا وہ زمین پر بھی گرا تھا لالی کا پاؤں اس پانی پر سلپ ہوا اور وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی اب فاطمہ اور عمر کے ساتھ وجدان نے بھی قہقہ لگایا
‘ہاہاہاہا کلیجے وچ ٹھنڈ پڑ گئی’ وجدان نے ہنستے ہوئے کہا تو لالی جلتی بھنتی اٹھی
‘وجی۔ی۔ی’ وہ چیختے ہوئے اسکے پاس آئی لیکن یہ کیا وہ ایک بار پھر سلپ ہوگئی اور ایک بار پھر قہقہ بلند ہوئے لیکن سب میر کو دیکھ کر خاموش ہوئے جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس چہرے پر سنجیدگی لیے ان سب کو ہی دیکھ رہا تھا لیکن لالی اسے نہیں دیکھ سکی کیونکہ اسکی طرف اسکی کمر تھی
‘عمر کے بچے اٹھالے ہمیں نہیں تو تیری شادی نہیں کرائینگے ہئے کمبختو نے کمر توڑ دی’ بوڑھی عورتوں کی طرح پہلے اسنے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور پھر اسے کانوں کے پیچھے اڑسا پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی ‘اس وجدان کو تو اللہ پوچھے ارے ہم پوچھتے ہیں کونسے جنم کے بدلے لیے ہیں ہم سے ایسی کونسی کالی زبان رکھی ہوئی ہے منہ میں کہ بددعائیں کیا نکالیں قبول ہی ہوگئیں’ وہ ہاتھ نچا نچا کر بولی تو فاطمہ اور عمر نے ہنسی روکی وجدان تو اسکی لمبی زبان پہلی بار دیکھ رہا تھا شاید جبکہ میر کیلئے یہ پرانی بات تھی لیکن پھر بھی وہ کڑے تیوروں سے اسے گھر رہا تھا
‘کوئی بددعا نہیں دی میں نے تمہیں تمہارے خود کے گناہ ہی تمہارے آگے آئے ہیں’ وہ مزے سے بولا
‘ہئے ہئے بیڑا غرق جائے تمہارا وجی ہم معصوم لڑکی پر ظلم کرتے شرم نہ آئی اور تم تم کیا کھی کھی کررہے ہو اٹھاؤ ہمیں’ اسنے وجدان کو دو چار بددعائیں دے کر عمر کو لتاڑا تو اس نے میر کو دیکھا تو اسنے منع کردیا اور اشارہ کیا کہ وہ خود اٹھائے گا
‘آجکل کے جوانوں میں تو شرم و حیا کہیں دور جا سوئی ہے ارے کب سے سدا لگا رہے ہیں کہ کوئی اٹھالے لیکن لگتا ہے اب تو صرف خدا ہی اٹھائے…’ وہ عمر کو اپنی جگہ سے نہ ہلتے دیکھ بولی تبھی میر سامنے آیا تو زبان کو ایسی بریک لگی جیسے کبھی چلی ہی نہ ہو چہرہ بلکل فق ہوگیا
💜💜
میر نے اسے سب کے سامنے بانہوں میں اٹھایا اور ڈائینگ ٹیبل کی چئیر کھینچ کر اس پر بٹھایا تو وہ تینوں معنی خیزی سے انہیں دیکھنے لگے
‘چلو جاؤ سب’ میر کی ایک ہی کڑک دار آواز نے سب کو ادھر ادھر کیا تو وجدان فاطمہ کو لے کر ایک سائیڈ پر ہوگیا جبکہ عمر اپنے کمرے میں چلاگیا تھا اب وہ دونوں بیٹھے تھے اور کوئی نہیں تھا بانو بی نے کھانا لگادیا تھا ٹیبل پر
‘بولنے کا بہت شوق ہے’ میر نے سنجیدگی سے پوچھا
‘نہیں بس کبھی کبھی دل کہتا ہے بولتے رہو’ وہ نظریں جھکاتی ہوئی معصومیت سے بولی ایک تو اس لڑکی کی معصومیت میر کو اپنا دل اپنے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا
‘ایس ایس پی صاحب آپکی دوائیاں برابر والی ٹیبل پر رکھی ہیں کھالیے گا’ کھانا کھانے کے بعد وہ برتن سمیٹتے ہوئے بولی میر اپنی دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھے انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے اس پر چہرا رکھے لالی کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا اسکے جانے کے بعد بھی وہیں بیٹھا رہا وہ کیچن صاف کرتی وہاں آئی تو اسے وہیں بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئی
‘آج یہیں سونے کا ارادہ ہے’ وہ اسکے پاس آتی ہوئی بولی تو وہ بنا کچھ بولے اسکا ہاتھ پکڑے اوپر کمرے میں لایا اور ٹیبل سے اپنی دوائیاں اٹھاکر لالی کے ہاتھ میں رکھیں تو وہ مسکرائی
‘بیٹھیں ہم کھلاتے ہیں’ وہ مسکراتے ہوئے بولی یہی تو ہوتا ہے عشق میں محبوب کی آنکھیں پڑھ کر ہی محبوب کے دل کی بات جان لینا
لالی نے اسکو دوائی دی اور اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا اسکے کپڑوں پر پڑنے والی سلوٹوں کو ہاتھوں سے ٹھیک کیا اسکی پیشانی پر بکھرے بال پیچھے کیے نیچے جھک کر اسکے پیروں کو سینڈل سے آزاد کیا یہ لالی تو نہیں تھی یہ تو کوئی دیوانی تھی اور اس خوش قسمت میر کی جسکو رابیعہ خان نے چاہا تھا
میر نے پہلی بار کسی عورت کو دیکھا تھا ایک مرد کے لاڈ اٹھاتے ہوئے زن مریدی کے بارے میں بہت سنا تھا اس نے لیکن یہ کیا تھا افف کون ہے وہ آخر کب ملے گا اس سوال کا جواب
💜💜
روشنی بیگم پارک آئیں تھیں چہل قدمی کرنے ڈاکٹر نے انہیں زیادہ سے زیادہ چہل قدمی کا کہا تھا اسلئے وہ اکثر اپنے گھر کے لان میں چہل قدمی کرتی تھیں لیکن آج وہ پارک آئیں تھیں اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھیں کہ جب انکے پاؤں کے نیچے پتھر آیا وہ ابھی گرتیں کہ…
لالی ایسے ہی ٹہلتے ٹہلتے یہاں آگئی تھی اب اسے واپسی کا راستہ یاد نہیں آرہا تھا وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ سامنے اسکو ایک عورت دکھی جو کافی پیاری سی تھیں ان میں نہ جانے ایسی کیا کشش تھی کہ لالہ رخ کے قدم انکی طرف خود بہ خود اٹھ رہے تھے وہ بے دیہانی میں چلتی انکی طرف آئی وہ جو گرنے لگیں تو لالہ رخ کا دل رک کر دھڑکا سانس سینے میں اٹکی وہ بھاگتی ہوئی انکی طرف آئی اور انہیں گرنے سے پہلے سنبھال لیا
روشنی بیگم گرتیں کہ انہیں کسی نے سنبھال لیا تھا اور وہ اپنا بھاری نقصان کرانے سے بچ گئیں تھیں بری طریقے سے ڈری تھیں وہ اپنی اولاد کو کھونے کے ڈر سے مارے تشکر کے آنکھیں بھیک گئیں نظریں اٹھاکر اس فرشتے کو دیکھا تو وہ کوئی معصوم حسن رکھنے والی لڑکی تھی
‘آپ ٹھیک ہیں’ لالی کی آواز میں کپکپاہٹ تھی لیکن کیوں
‘تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم نے مجھے گرنے سے بچا لیا’ وہ اسکے ہاتھ چوم کر بولیں اولاد کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے لالی نے بجائے کچھ کہنے کی انہیں ایک بینچ پر بٹھایا اور خود بھی انکے ساتھ بیٹھی
‘آپ رو کیوں رہی ہیں کچھ نہیں ہوا دیکھیں اللّٰہ نے آپکو بچا لیا’ لالی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے
‘میں پریگننٹ ہوں’ روشنی بیگم نے لالی کو دیکھ کر کہا تھا پتا نہیں کیوں یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھیں یا صرف وہی جانتی ہیں
لالی انکی بات سن کر اپنی جگہ سے اچھلی ابھی اگر وہ انہیں نہیں بچاتی تو کیا ہوتا بے ساختہ اس نے خدا کا شکر کیا تھا
‘اوہ تو آپ کو کسی کو ساتھ لانا چاہیے تھا اکیلے باہر آنا آپکے لئے ٹھیک نہیں ہے ابھی اگر ہم نہیں پھونچتے تو کیا ہوتا’ لالی منہ بنا کر بولی تو روشنی بیگم مسکرائیں
‘اسابیل نے بھی یہی کہا تھا لیکن میں نے منع کردیا اب اگر انہیں پتا چلا تو بہت ڈانٹیں گے’ روشنی بیگم نے مسکرا کر بات مکمل کی لالہ اسابیل کے نام پر چونکی
‘اسابیل…؟’ لالی نے سوالیہ انداز میں کہا
‘he is my husband’
وہ آرام سے بولیں
‘اوہ ہمارے بابا کا نام بھی اسابیل تھا’ لالی کے لہجے میں دکھ تھا
‘تھا مطلب’ اب وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں
‘انکا اور ہماری ماں کی ایک کار ایکسیڈنٹ میں دیتھ ہوگئی تھی جب ہم مشکل سے ایک دو مہینے کہ تھے’ وہ افسردہ سے لہجے میں بولی
‘Oh I am sorry’
انہوں نے افسوس کیا
‘Its Ok’
لالی نے مسکرا کر کہا
‘کس کے ساتھ رہتی ہو’ انہوں نے مزید پوچھا
‘ہم اپنے ہزبینڈ اور انکی فیملی کے ساتھ’ وہ پیر سے زمین پر لائن مارتی ہوئی بولی
‘ایک بات کہوں’ انہوں نے پوچھا تو لالی نے اثبات میں سر ہلایا
‘کل میری اپوائنٹمنٹ ہے ڈاکٹر سے تم چلو نہ میرے ساتھ’ انہوں نے استفسار کیا
‘ہم ایس ایس پی صاحب سے پوچھ کر بتائیں گے اور ہمیں پتا ہے وہ منع نہیں کریں گے لیکن پھر بھی ہم ان سے پوچھ کر بتائیں گے’ وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی یہی تو خوبی تھی اس میں ہر بات پر مسکرانا
‘ایس ایس پی صاحب کون ہیں’ روشنی بیگم اس سے اسطرح بات کررہی تھیں جیسے وہ انکی بیٹی ہو
‘ارے ہاں ہم نے آپ کو ایس ایس پی صاحب کے بارے میں بتایا ہی نہیں وہی تو ہیں ہمارے ہزبینڈ ایکچلی انکا نام میر گیلانی ہے لیکن ہم انہیں ایس ایس پی صاحب ہی کہتے ہیں ہمیں اچھا لگتا ہے وہ نہ بہت اچھے ہیں پتا ہے وہ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں اسلئے ہم ان سے عشق کرتے ہیں اور نہ وہ ہم سے لڑتے بھی ہیں اور ہم بھی پلٹ پلٹ کر جواب دیتے ہیں’ وہ مسکراتے ہوئے بولتی ہی جارہی تھی اور روشنی بیگم یک ٹک اسے دیکھ رہی تھیں انکے دل نے شدت سے بیٹی ہونے کی دعا کی تھی یہ الگ بات تھی کہ خدا تو انکو لالی جیسی بیٹی سے پہلے ہی نواز چکا تھا
‘گھر نہیں جانا یا پھر آج یہیں رہنا ہے’ شام ہوئی تو روشنی بیگم نے لالی سے پوچھا
‘ڈئیر روشنی ہم نہ گھر کا راستہ بھول گئے ہیں اور ہمارے پاس فون بھی نہیں ہے ورنہ ایس ایس پی صاحب کو کہہ دیتے’ وہ منہ بناتے ہوئے اپنی پریشانی بتانے لگی تو وہ
‘اوہو کوئی بات نہیں آؤ میرے ساتھ چلو میں تمہیں گھر چھوڑدیتی ہوں’ انہوں نے مصلے کا حل پیش کیا تو لالہ رخ بھی من گئی
💜💜
‘امی یہ کیا ہے’ دانیال کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں وہ لاؤنج میں بھاگتا ہوا داخل ہوا
‘کیا ہوگیا ہے اللہ خیر کرے’ شبانہ بیگم دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتیں اسکے پاس آئیں
‘لالہ رخ کا ایک اور سچ اور یہ سچ بہت بھیانک ہے’ اسکا چہرہ بلکل سفید تھا پری بھی وہیں تھیں اور سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی
‘ہوا کیا ہے بھائی کچھ تو بتائیں’ پری بھی آگے آئی تو دانیال نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا
‘امی کیا کؤثر آنٹی نے شادی نہیں کی تھی؟’ دانیال نے سوالیہ نظروں سے شبانہ بیگم کو دیکھا تو انکا چہرہ سفید پڑا اور پری الجھی یہ کیسے ہوسکتا ہے
‘تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے کیا’ وہ نظریں چراتی ہوئی بولیں
‘امی کسی نے یہ پیپرز بھیجے ہیں جو کوثر آنٹی کو…’ وہ اپنے الفاظ منہ میں ہی روک گیا اور وہ پیپرز انکی طرف بڑھائے تو انہوں نے جھٹ سے پیپر چھینے اور جیسے جیسے دیکھتی گئیں انکی آنکھیں پتھرا گئیں اور کون تھا جسکو یہ سچ معلوم تھا کہانی مزید الجھ رہی تھی پری نے پیپرز شبانہ بیگم سے چھینے اور ایک ایک ورق کو پلٹ کر دیکھا تو پیپرز ہاتھ سے چھوٹ پڑے اسکا ننھا سا دل دہل گیا تھا
‘kausar Anty was a rape victim and lali…’
وہ مزید بولتی کہ شبانہ بیگم نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا
‘چٹاخ’
‘خبردار جو بکواس کی ہو تو لالہ رخ کے بارے میں کوثر نے شادی کی تھی اور اسابیل سے کی تھی لالہ رخ ان دونوں کی بیٹی ہے بس یہی سچ ہے اور جو سچ ہے وہ جھوٹ ہے’ وہ چیخ کر بولیں تھیں گویا سچ کو دبانے کی کوشش کی تھی لیکن سچ کب چھپتا ہے
‘ہاں یہی سچ ہے میں نہیں مانتا اس سب کو’ دانیال کو اپنی آواز گہرائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
‘آئیندہ سے اس بارے میں گھر میں کوئی بات نہیں ہوگی اور نہ ہی فصیحہ کو اس بارے میں کچھ پتا چلنا چائیے’ شبانہ بیگم کہتی ہوئی واپس پلٹ گئیں اور پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے
💜💜
لالی کو روشنی بیگم نے اسکے گھر کے سامنے اترا تو وہ انہیں بائے کہتی ہوئی اندر کی جانب چلدی دروازہ کھولتے ہی کوئی چیز اسے آلگی اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ ایک کاغذ تھا جسے پتھر پر باندھ کر مارا گیا تھا اس نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نہیں دکھا پھر کاغذ اٹھا کر کھولا تو وہ خالی تھا
لالی نے کاغذ کو مٹھی میں دبایا اور اندر بڑھ گئی
‘ارے لالہ رخ کہاں رہ گئیں تھیں آج تو بہت دیر کردی تم نے آنے میں’ فریہا بولتی ہوئی اسکے پاس آئی
‘ہاں یار ہم نہ غلطی سے تھوڑا آگے چلے گئے تھے تو راستہ بھول گئے پھر ہماری ایک فرینڈ بن گئی روشنی ڈارلنگ اس نے ہمیں یہاں ڈروپ کردیا اور تمہیں پتا ہے وہ نہ ممی بننے والی ہے’ روشنی بیگم سے زیادہ خوش تو شاید یہ تھی
‘کیاااا رستہ بھول گئی تھی تم تو فون تو کردیتیں ابھی میر بھائی آتے تو ہم لوگوں کو ڈانٹتے’ وہ اسے ڈانٹتی ہوئی بولی
‘وہ ہم فون بھی گھر پر بھول گئے تھے’ اس نے اپنے دانتوں کی نمائش کی
‘اچھا ہوتا تمہیں کوئی اٹھا کر لیجاتا تو ہم لوگوں کو سکون مل جاتا’ فریہا افسردگی سے بولی
‘اوہ بیٹا زرا تھم لو کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز لالہ رخ کو ہاتھ بھی لگا سکے ہاتھ ہی توڑ دینا ہے ہم نے اسکا’ لالی نے کالر جھاڑے جب کہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی پرچی وہ اپنی آستین میں چھپا چکی تھی تاکہ وہ کہیں گرے نہیں
‘ارے جاؤ جاؤ پولیس والے کی بیوی ہو پولیس والی نہیں ہو’ فری نے اسے سچائی بتائی حالانکہ ابھی اسے پتا چلتا نہ کہ لالی میر کو بھی اپنے گے بےبس کرچکی ہے تو وہ یہ بات کبھی نہیں کہتی
‘نہ مانو ہماری بات لیکن ایک دن تم یہ بات خود کہو گی
And that’s my challenge’
وہ مسکراتی ہوئی بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی کمرے میں آکر دروازہ لوک کیا اور کمرے میں اندھیرا کیا اپنی آستین سے وہ کاغذ نکالا موبائل کی لائٹ اون کی اور کاغذ کے پیچھے رکھی جسکی وجہ سے کاغذ ہر لکھے ہوئے الفاظ واضح ہوئے وہ چاہتی تو کاغذ کو گیلا کرکے بھی پڑھ سکتی تھی لیکن اس طرح الفاظ مٹ جانے کا خدشاہ تھا اسلئے اس نے یہ حربا آزمایا کاغذ کے وسط میں ایک تحریر درج تھی اس پین سے لکھاھا گیا تھا جو سکھا ہوا تھا
‘Congratulations Lala Rukh for Sister to be’
لالہ رخ نے ان الفاظوں کو ایک بار نہیں بار بار پڑھا لیکن الفاظ نہیں بدلے تھے یہ کیسے ممکن تھا کس نے لکھے تھے یہ الفاظ اور کیوں لکھے تھے اور پھر لالی کو کیوں بھیجا گیا تھا یہ اور وہ کس کی بہن بننے والی تھی
‘اب یہ نیا شوشا کون چھوڑ رہا ہے کون ہے یہ فضول انسان جس کو اپنی زندگی میں سکون نہیں ہے’ وہ بڑبڑاتی ہوئی اس کاغذ کو اور الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی کہ کچھ اور مل جائے لیکن اس پر اور کچھ نہیں تھا
‘شاید کسی نے مزاق کیا ہوگا ہاں یہی ہوسکتا ہے’ لالی کچھ پرسکون ہوگئی تھی کاغذ کو پھاڑ کر ڈسٹ بن میں ڈالا
💜💜
‘اسے بھیج تو دیا ہے لیکن کیا وہ اسے پڑھ بھی پائے گی بھی یا نہیں’ رابیعہ میز پر ہاتھ رکھے انگلیوں کو پیانو کی طرح چلا رہی تھی وہ کاغذ رابی نے بھیجا تھا لالی کو کیونکہ وہ لالی کو روشنی بیگم کے ساتھ دیکھ چکی تھی اسلئے یہ کام اس نے اسابیل سے چھپ کر کیا تھا
اسابیل نے اسے اغواہ کیا تھا بدلہ تو چکا نہ تھا اس نے اور رابیعہ خان نے لالہ رخ کو نہیں چھوڑا محض انسلٹ کرنے پر پھر تو یہ اسکا کڈنیپ ہوا تھا ادھر اسابیل کو لگا تھا کہ وہ اسے شیشے میں اتار چکا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس بار اسکا جن سے پالا پڑا تھا دونوں ہی خطرناک تھیں انہیں شیشے میں اتارنا مطلب شیر کی پوچھاڑ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا
💜💜
لالی میر سے بات کرنا چاہ رہی تھی لیکن میر کے سامنے آتے ہی اسکی زبان اسکا ساتھ چھوڑدیتی تھی میر جو کب سے اسکے بولنے کا انتظار کررہا تھا آخر میں خود ہی بول اٹھا
‘کیا بات ہے لالہ رخ’ وہ سنجیدگی سے بولا
‘ایس ایس پی صاحب ہمیں نے کل کہیں باہر جانا ہے صبح’ وہ آج اس سے پہلی بار اجازت لے رہی تھی کیونکہ اسے دور جانا تھا
‘کہاں جانا ہے اور کس کے ساتھ’ وہی سنجیدگی
‘ہمیں اپنی دوست کے ساتھ جانا ہے ہوسپٹل’ وہ جلدی سے بولی
‘کونسی دوست اور ہوسپٹل کیوں جانا ہے’ اسکے ماتھے پر بل آئے
‘ہماری نیو فرینڈ بنی ہے روشنی ڈارلنگ اور اسے ہوسپٹل لے کر جانا ہے اس نے ہمیں بہت پیار سے کہا تھا’ وہ اب اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
‘لالہ رخ کس کو دوست بنایا ہے’ اب اسکا لہجہ تھوڑا سخت تھا
‘ایس ایس پی صاحب ایک انسان کو دوست بنایا ہے جو لڑکی ہے اسکا نام روشنی ہے اور وہ…وہ نہیں بتائیں گے’ وہ جو کہنے لگی تھی کہ وہ ممی بننے والی ہے روک گئی کیونکہ میر تو لڑکا ہے نہ اسے کیسے بتا سکتے ہیں میر جو کچھ فائلز چیک کررہا تھا اب انہیں بند کرکے پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوا
‘کسی کو بھی اس طرح دوست نہیں بناتے بچی ہو تم جو تمہیں ہر بات سمجھانی پڑے گی’ وہ سخت لہجے میں کہہ رہا تھا
‘ایس ایس پی صاحب ہم بچی نہیں ہیں اور نہ ہی ہم روٹی کو کوکو بولتے ہیں ہم اتنے بڑے ہوگئے ہیں (ہاتھ سے اپنے بڑے ہونے کا اشارہ کیا) اور وہ نہ بڑی ہیں آنٹی ہوتی ہیں نہ وہ ہیں وہ انکی طبیعت خراب ہے اسلئے ہم ان کے ساتھ جارہے ہیں’ وہ اپنی دوست کو آنٹی نہیں بولنا چاہتی تھی لیکن میر کو سمجھانا بھی ضروری تھا
‘کوئی ضرورت نہیں ہے وہ خود بھی جاسکتی ہیں نہ’ میر نے صاف لفظوں میں منع کیا اور اسے آنکھیں دکھائیں لیکن لالہ رخ نے سرے سے اگنور کیا
‘ہمیں جانیں دے یار ہم نہ روشنی ڈارلنگ کو آپکے بارے میں اتنے پیارے پیارے لفظوں میں بتا کر آئے ہیں کہ آپ ہمیں جانیں دے گے اور اگر آپ نے ہمیں جانیں نہیں دیا نہ تو اچھا نہیں۔ ہوگا’ وہ اسکو اپنی شہادت کی انگلی سے وارن کرتی ہوئی اب دھمکیوں پر اتری تھی میر نے اسکی انگلی پکڑلی
‘دھمکی دے رہی ہو’ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
‘ہماری کیا مجال کہ آپ جیسے پولیس والے کو دھمکی دیں لیکن پلزز مان جائیں نہیں تو ہم بی جان کو شکایت کردیں گے اور اگر ہم ڈرامے بازیوں پر اترے نہ تو بی جان نے آپ کو بہت ڈانٹنا ہے’ وہ ڈرا رہی تھی اسے اور اسکے اس انداز پر میر نے اپنی ہنسی دبائی اور اسکے ماتھے پر آئے بالوں کو اپنی انگلیوں سے کان کے پیچھے کیا بس اتنی سی ہی اسکی قربت میں اسکی سانسیں رک جاتی تھیں ابھی بھی کچھ یہی ہوا تھا
‘ہ۔ہ۔ہم کہہ رہے تت۔تھگ ک۔ہ۔کہ’ وہ بھول چکی تھی بلکل ہی اسے یاد ہی نہیں آرہا تھا
‘کیا کہہ رہی تھیں’ میر اور قریب ہوا تو وہ بھاگتے ہوئے صوفے پر جا کھڑی ہوئی میر پھر اسکی طرف گھوما لیکن لالی نے صوفے پر پڑے کشن اٹھاکر اسے مارنا شروع کردیے تھے
‘لالہ رخ کیا کررہی ہو اترو وہاں سے’ میر نے کشنز سے بچتے ہوئے کہا
‘نہیں پہلے کہیں کہ ہاں تم جاسکتی ہو کل اسکے بعد ہی اتریں گے’ وہ چیختے ہوئے بولی
‘اوکے اوکے چلی جانا میں نہیں کچھ کہہ رہا’ وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا تو لالہ رخ کھلکھلا کر ہنسی
💜💜
میر جاچکا تھا اور وہ ساری ینگ پارٹی بیٹھی ناشتہ کررہی تھی لالی کو بھی تھوڑی دیر میں جانا تھا اسلئے سکون سے ناشتہ کررہی تھی کہ اچانک اسکے خرافاتی دماغ میں کچھ کوندا
‘تم لوگوں کو پتا ہے کل کیا سین ہوا’ وہ چیختی ہوئی بولی جبکہ رواحہ کا ہاتھ بے ساختہ دل پر گیا تھا اور باقی سب بھی ناشتہ چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے
‘اب بول بھی دو کیا ہوا تھا’ عمر بےزاری سے بولا
‘کل نہ ہم باہر گھوم رہے تھے ویلوں کی طرح تو ہم نے دیکھا ایک امیر انسان اتنا اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا اور نہ غریب لوگوں پر طنز کے تیر چلا رہا تھا موٹا (اسنے منہ بنایا سب لوگ اچھنبے سے اسے دیکھ رہے تھے) پھر وہ ایک جگہ آکر رکا ہم نے دیکھا کہ اسکے بلکل برابر میں ایک کتا سو رہا تھا بس پھر ہم نے اٹھایا پتھر اور لگایا نشانہ کتے کا اور کھینچ کر مارا وہ امیر انسان کتے کے تیور دیکھ کر ہی چکرا گیا تھا نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اندھا دھند بھاگا ئ کتے نے بھی اسے تنگی کا ناچ نچایا پھر کیا غرور اور کونسی اکڑ سب ملیا میٹ ہوئی تھی جتنے لوگوں کی بھی دل آزاری کی تھی ان سب کا بدلہ لیا’ وہ آخر میں قہقہ لگا کر ہنسی تو اسکا ساتھ حمدان اور سفیان نے دیا تھا باقی سب تو حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے
‘بیچارا امیر انسان پھنسا بھی تو کس کے چنگل میں پھنسا لالی کے’ رواحہ بھی ہنستے ہوئے بولی
‘لالی تم آج کہیں جارہی تھی نہ’ فری نے جوس پیتے ہوئے کہا
‘ہاں کیوں’ لالی نے اسکی طرف دیکھا
‘مجھے کچھ بکس منگانی ہے لادینا پلزززز’ اس نے ریکوئسٹ کی
‘ہاں تم ہمیں لسٹ دے دینا ہم کے آئینگے اوکے’ وہ مسکراتی ہوئی بولی
‘ویسے بچ تو گیا ہوگا نہ وہ امیر انسان’ سحرش نے شرارت سے کہا تو سب ایک بار پھر ہنس دیے
💜💜
لالی اور روشنی ہوسپٹل میں موجود تھے روشنی کا نمبر آیا تو وہ لوگ اندر چلے گئے اندر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لائبہ تھیں
‘کیسی ہیں آپ مسز عثمانی’ ڈاکٹر خوشدلی سے بولی جب کہ لالہ رخ انکا روشنی کو مسز عثمانی کہنا ٹھٹھک گیا اور کل کی روشنی کی بات دماغ میں آئی اسابیل میرے شوہر کا نام ہے تو کیا وہ…نہیں نہیں ایک نام کے اور بھی لوگ ہوسکتے ہیں اس دنیا میں دماغ میں آئی فالتو سوچوں کو جھٹکا تو روشنی کی آواز سنائی دی جو شاید ڈاکٹر سے اسکا تعارف کروارہی تھی
‘She is my friend Lala Rukh’
وہ بہت پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں تو ڈاکٹر نے لالی سے بھی ہائے ہیلو کی ڈاکٹر انکا چیک اپ کررہیں تھیں تو لالہ رخ باہر آگئی ایک دو منٹ ہی گزرے ہونگے کہ اسکے فون پر کسی کی کال آئی اننون نمبر تھا لیکن پھر بھی دل نے سگنل بھیج دیا تھا میر کے نام کا اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا
‘ہیلو کون’ لالہ رخ انجان بنی لیکن مسکراہٹ چہرے پر ہنوز قائم تھی
‘مسکراہٹ سے لگ رہا ہے کہ پہچان گئی ہو’ میر چئیر کی بیک سے ٹیک لگاتا ہوا بولا ہاتھ میں ایک چھوٹے سائز کا چاکو تھا جو گول گھوم رہا تھا
‘شرم نہیں آتی ایک شادی شدہ لڑکی کو اس طرح کال کرتے ہوئے ایس ایس پی صاحب کو بتایا نہ تو اندر کردیں گے’ وہ اکڑ کر بولی تو میر کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے
‘میں کسی ایس ایس پی سے نہیں ڈرتا’ وہ بے خوف لہجے میں بولا تو لالی کی مسکراہٹ گہری ہوئی
‘ان سے تو ہم بھی نہیں ڈرتے ہاہاہا’ وہ ہنستی ہوئی بولی آتے جاتے لوگوں نے رک کر اسے دیکھا اسکی مسکراہٹ کافی پیاری تھی دور بیٹھے میر کی آنکھوں میں بھی مسکراتی ہوئی لالی کا عکس لہرایا ہاتھ میں گھومتا ہوا چاکو بھی رکا لیکن پھر سے گھمنا شروع ہوا
‘سوچ کر بولو لالہ رخ ورنہ واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے’ وہ روعب دار آواز میں بولتا لالی کی دھڑکنیں روک دیتا تھا
‘تم ہم سے فلرٹ کررہے ہو’ وہ اتراتی ہوئی بولی
‘نہیں اپنی بیوی سے کررہا ہوں’ اسکا بیوی کہنا لالی کے عشق کو اور بڑھا گیا تھا
‘اچھا خیر فون کیوں کیا تھا’ وہ بہت ہی خوبصورتی سے بات بدل گئی تھی
‘گھر پھنچ گئیں’ اسکے لہجے میں فکر تھی
‘نہیں ابھی تو آئیں ہیں اور ہم تو ابھی گھر نہیں جائیں گے ہمیں ابھی بک اسٹور جانا ہے اسکے بعد لنچ کرنا ہے پھر جائیں گے’ وہ ج کی پوری پلینینگ میر کو بتا رہی تھی
‘کوئی ضرورت نہیں ہے کل بھی راستہ بھول گئیں تھیں نہ گھر جانا ہے سمجھیں’ میر نے سنجیدگی سے کہا تو لالہ رخ گڑبڑا گئ اسے کیسے پتا کل کہ بارے میں
‘اچھا بکس کے کر چکیں جائیں گے گھر’ وہ منہ بناتی ہوئی بولی
‘ہم یہی ٹھیک ہے آہ…’ میر بات کرتے ہوئے چاکو کو فراموش کرچکا تھا اسلئے اسکے ہاتھ پر لگ گیا تھا جہاں سے اب خون کی لکیر نمایا ہورہی تھی
‘کک…کیا ہوا ہے’ لالہ رخ کی زبان لڑکھڑائی
‘کچھ نہیں ہوا بس ہلکا سا کٹ لگا ہے…’ وہ بول ہی رہا تھا کہ لالی نے فون کاٹ دیا چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی تھیں بھاگ کر ڈاکٹر کے کیبن میں آئی
‘روشنی ہم جارہے ہیں ایک ایمرجینسی ہوگئی ہے آپ اکیلے چلی جائیں گی نہ’ وہ جلدی جلدی بول رہی تھی چہرہ بلکل سفید ہوگیا تھا
‘ہاں میں چلی جاؤں گی لیکن تم کیسے جاؤ گی کیونکہ تم تو میرے ساتھ آئی تھی نہ’ وہ فکرمندی سے بولی
‘کوئی بات نہیں ہم بلے جائیں گے ہمیں عادت ہے’ وہ کہتی ہوئی عجلت میں نکلی لیکن باہر آکر اسے یاد آیا کہ اسے صرف پولیس اسٹیشن کا نام یاد ہے اس نے رکشہ روکا اور صرف نام بتایا پولیس اسٹیشن کا تو وہ سمجھ گیا تھا اور لالی کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بنا کوئی وقت ضائع کیے بیٹھ چکی تھی
💜💜
ہوسپٹل میں کھڑی رابیعہ خان نے لالی کی ہر بات سنی تھی اسکی آنکھیں ضبط کی وجہ سے لال ہوگئی تھیں ایک عجیب حسد سا تھا اسکی آنکھوں میں جس شخص کو پانے کیلئے وہ اتنا گر گئی تھی کہ اسکے دوست کو مار دیا تھا ورنہ طارق صاحب کے قاتل کو مارنا تو محض بہانہ تھا اصل وجہ تو میر کو حاصل کرنا تھا
کیا سوچا تھا رابیعہ نے کہ لالی کو منہ کے بل گرائے گی اور کیا ہوا تھا اسکے ساتھ جسکو گرانے چلی تھی آج اسی نے اسے زمین کی دھول چٹائی تھی انجانے میں ہی صحیح مگر لالہ رخ ایک بار پھر رابیعہ کو زمین پر لانے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس بار تو بڑا کاری وار کیا تھا لالی نے
آخر ایسا تھا کیا لالہ رخ میں کہ پہلے جنید علی اور اب میر اس کے آگے بچھے گھوم رہے تھے کیا ہے اسکے پاس ایسا خوبصورتی وہ تو رابیعہ خان کے پاس اس سے زیادہ تھی اور رہی بات دولت کی تو لالہ رخ سے کم دولت تو اسکے پاس بھی نہیں تھی پھر کیا ہے وہ کون ہے وہ
رابیعہ خان کا دماغ صرف دولت اور حسن کے آگے پیچھے گھومتا تھا لیکن اب یہاں اسکے جنون کی باری آئی تھی اسکے عشق کی اسکے جنونِ عشق کی باری تو آگ تو اب لگنی ہی تھی دلوں میں یا پھر گھروں میں لیکن میر کو تو اب رابیعہ کو ہونا ہی تھا وہ ایسے ہی منصوبے بناتی ہوئی جلے دل کے ساتھ ہوسپٹل سے نکلی
💜💜
‘ایس ایس پی صاحب کا آفس کہاں ہے’ لالہ رخ ہڑبڑاتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور پاس سے گزرتی ہوئی لیڈی کونسٹیبل کا بازو پکڑ کر اپنی طرف متواجہ کرایا
‘اوہ بی بی تھم کے پولیس اسٹیشن ہے تمہارے باپ کا گھر نہیں’ وہ بدتمیزی سے بولی تو لالی نے اسکا بازو چھوڑ دیا
‘اا…اوکے سس۔سوری ایس ایس پی کا آفس کہاں ہے؟’ اسنے معزرت کی اور اب دھیمے لہجے میں بولی
‘کیا کام ہے کیوں ملنا ہے صاحب سے جو بھی شکایت ہے انسپیکٹر سے کرو’ اس نے غصّے سے بولتے ہوئے انسپیکٹر کی طرف اشارہ کیا
‘دیکھو بس ہمیں انکا آفس بتادو ورنہ ہم خود ڈھونڈلیں گے شکریہ آپکا’ وہ کہتے ہوئے آگے بڑھی تو اسی کونسٹیبل نے اسکا بازو پکڑلیا
‘اوہ بی بی ہو کون تم جو سر سے ملنے کیلئے مچلے ہی جاری ہو’ وہ ایک بار پھر بدتمیزی سے بولی اس نے لالی کو کسی غریب گھرانے کا سمجھ لیا تھا وجہ اسکا اسکارف اور سادہ کپڑے تھے لالی جو کب سے خود پر کنٹرول کرکے تمیز سے بات کررہی تھی اب اسکا کنٹرول ختم ہوا تھا
‘کہا نہ ہمیں ایس ایس پی کا آفس بتاؤ یا تو ہمیں جانے دو’ وہ دھاڑی تھی اسکی دھاڑ ایسی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے پولیس اسٹیشن جو مچھلی بازار کا منظر پیش کررہا تھا اب بلکل سکوت خاموشی چھا گئی تھی وہاں کانسٹیبل نے اسکا بازو چھوڑا
‘کیا ہورہا ہے یہاں’ یہ میر تھا جو کسی کے دھاڑنے کی آواز سنتا ہوا باہر آیا تھا لیکن لالی کو کھڑا دیکھ کر چونک گیا تھا
لالی کا غصّہ میر کو دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا اب وہاں صرف فکرمندی تھی
‘سر یہ لڑکی جب سے آئی ہے بدتمیزی کررہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ آپ سے ملنا ہے’ وہی کونسٹیبل آگے آئی اور لالی کی میر سے شکایت کرنے لگی
‘جھوٹ بولنے پر کوّے کاٹیں گے تمہیں بدتمیز’ لالی اسے خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تو وہ آنکھیں گھما گئی
‘مس اجالا (کونسٹیبل) یہ میری وائف ہیں تو آئندہ انہیں روکیے گا مت’ میر سنجیدگی سے بولتا ہوا اجالا کے سر پر دھماکا کرگیا وہ کیا سب آنکھیں پھاڑے لالی کو دیکھنے لگی یہ چھوٹی سی لڑکی انکے سر کی بیوی تھی وہ شرمندہ ہوگئی جبکہ لالی کی گردن میں شاید راڈ آگئی تھی ‘لالہ رخ آؤ میرے ساتھ’ وہ کہتا ہوا گے بڑھا تو لالی اسکے پیچھے چلنے لگی
میر اپنے آفس میں آیا اور سنجیدگی سے ٹیبل پر بیٹھ گیا اور اپنا دایاں ہاتھ اسکی طرف بڑھا دیا وہ لالی کو یہاں دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں آئی ہے دل میں ایک احساس سا ہوا تھا تبھی ہاتھ کے زخم پر کچھ نہیں لگایا تھا
لالی نے میر کا ہاتھ تھاما اور بے چین نظریں میر کے چہرے کی طرف کیں تو اس نے اپنے پیچھے پڑا ہوا فرسٹ ایڈ باکس اسکے سامنے کیا لالی نے اس میں سے پہلے کچھ دوائیاں اٹھائیں اور میر کے ہاتھ پر سے رسنے والا خون صاف کیا ہاتھ کی پٹی کرتے وقت آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تو ایک قطرہ میر کے ہاتھ پر آگرا میر نے سر اٹھاکر لالی کو دیکھا تھا خود کی عشق بنتی محبت پر رشک آیا تھا کہ اس کے دل نے کس لڑکی سے محبت کی تھی
وہ تو پہلے ہی اس لڑکی کے عشق میں خود کو دبا ہوا محسوس کرتا تھا کب کس نے سنا تھا کہ کسی لڑکی نے اپنے محبوب کے لاڈ اٹھائے تھے لالی سے کوئی یہ کہہ دے نہ کہ میر کیلئے جان دینی ہے وہ بغیر سوچے سمجھے اپنی جان دے دے گی
‘درد تو نہیں ہورہا نہ’ وہ فکرمندی سے بولی تو میر نے نفی میں سر ہلایا اور پھر ٹیبل سے اتر کر اپنی چئیر پر جا بیٹھا
‘کیسے آئی ہو یہاں ہوسپٹل تو دور ہے یہاں سے’ میر سنجیدہ تھا اور کچھ سنجیدگی اس پر سوٹ بھی کرتی تھی لالی اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گئی اور پاؤں جھلانے لگی
‘پہلے ہاتھ ہلایا (ہلا کر بھی دکھایا) پھر رکشہ روکا اور پھر پولیس اسٹیشن کا نام بتایا بس پھر آگئے ہم’ لالی کندھے اچکائے ہوئے بولی تو میر کرسی کی بیک سے ٹیک لگا کر پر سکون ہوا وہ لڑکی اپنی حفاظت کرنا جانتی تھی
‘اب’ وہ خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا
‘اب ہم جارہے ہیں ہمیں کچھ بکس لینی ہے’ وہ اپنا چھوٹا سا پرس بیک کرتی ہوئی بولی
‘واپس کیسے جاؤگی’ میر کی ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ورنہ وہ خود چھوڑدیتا اسے
‘رکشے سے’ وہ مصروف سی بولی اور پھر ایک لسٹ نکالی بکس کے ساتھ انکے ریٹس بھی لکھے تھے لالی نے پیسے چیک کیے تو تقریباً اتنے ہی تھے جتنے ٹوٹل پرائس تھے بکس کے مطلب اسے پیدل جانا پڑے گا اففف ‘اپنے ہاتھ کا خیال رکھیے گا اور کسی کو ماریے گا نہیں کسی اور سے پٹوا لیے گا اور اب ہم جارہے ہیں ورنہ گھر پہنچتے پہنچتے دیر ہو جائے گی’ ایک تو اسے راستہ نہیں پتا تھا اوپر سے دوپہر ہورہی شام بھی ہونے والی تھی اسلئے میر کو خدا حافظ کہتے اپنے موبائل میں گوگل کی ہیلپ سے نکل پڑی تھی
💜💜
اسابیل عثمانی اپنے آنے والے بےبی اور اپنی بیوی کیلئے کچھ شوپنگ کرنے آیا تھا یہ بات تو طے تھی کہ وہ ان دونوں سے بےحد محبّت کرتا تھا اور لالہ رخ سے شاید اتنی ہی نفرت
وہ بک اسٹور پر کھڑا کچھ ضروری بکس لےرہا تھا جو روشنی نے منگائیں تھیں وہ بکس کے رہا تھا کچھ جب اپنی جیب میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ اسکی جیب سے اسکا پرس نکالنے کی کوشش کررہا تھا مطلب وہ چوری کررہا تھا اسابیل کا پارہ ہائی ہوا اور ایک ہاتھ گھما کر اس لڑکے کو مارنا چاہا لیکن کسی نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا
لالی بک اسٹور تک پہنچ گئی تھی اور بکس دیکھ رہی تھی تبھی اسکی نظر ایک بچے پر پڑی جو کسی کی جیب سے شاید پیسے نکالنے کی کوشش کررہا تھا پھر وہ شخص پیچھے مڑا اور اس لڑکے کو تھپڑ مارنا چاہا لیکن لالی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
اسابیل کا حلیہ بدل گیا تھا جو تصویر لالہ رخ کے پاس تھی وہ بیس سال پہلے کی تھی اب چہرے پر داڑھی تھی آنکھوں پر نظر کا چشمہ تھا بڑی بڑی مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹ وہ پہلے والا اسابیل نہیں تھا اسلئے لالی اسے پہچان نہیں سکی تھی
‘چھوڑو میرا ہاتھ کیا بدتمیزی ہے یہ’ وہ چینگھاڑتا ہوا پیچھے ہوا لیکن لالی کو دیکھ کر اسکی آنکھیں تحیر سے پھیلیں لالی نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑا
‘بدتمیزی تو آپ کررہے ہیں اتنے چھوٹے سے بچے پر ہاتھ اٹھا کر’ لالی غرراتی ہوئی بولی اسابیل تو دم سادھے اسے دیکھتا رہ گیا اس میں اسے اپنی جھلک دکھی تھی
‘یہ چوری کررہا تھا میرا پرس’ اسابیل نے اپنا پرس لالی کے سامنے لہرایا تو لالی نے اس بچے کو دیکھا جو پکڑے جانے کے ڈر سے لالی کے پیچھے چھپا کھڑا تھا
‘پرس چوری کررہا تھا نہ آپکی جان تو نہیں لے رہا تھا جو آپ اتنا اوور رئیکٹ کررہے ہیں انکل’ وہ اپنے باپ کو انکل کہہ رہی تھی کیسے رشتے تھے لالی کے پاس
‘چوری وہ کررہا ہے تو تم مجھے کیوں باتیں سنا رہی ہو اسے سناؤ جو مظلوم بنا تمہارے پیچھے کھڑا ہے’ اسابیل کو کہاں برداشت تھی اپنی تزلیل
‘آپکو پتا ہے یہ لوگ چور بھی آپ لوگوں کی وجہ سے بنتے ہیں کیوں کہ آپ ہی وہ لوگ ہیں جو ان جیسے لوگوں کے حق کھاتے ہیں قبر میں ٹانگیں لٹک رہی ہیں لیکن حرکتیں ہیں کہ ختم نہیں ہورہیں’ وہ بڑے پیار سے پوری کی پوری کہانی پلٹ گئی تھی اور اسابیل کو پتا بھی نہیں چلا تھا
‘کونسے حق اور کہاں کہ حق سیاستدان نہیں ہوں میں اور میں ابھی اتنا بوڑھا نہیں ہوا جو مرنے والا ہوں’ وہ لفظ چبا چبا کر بولے تو لالی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی لیکن ہونٹوں کے کونے پر اپنی مسکراہٹ روک گئی تھی
‘کیوں آپ لوگ جو اپنی عیاشیاں کرتے ہیں نہ بڑے بڑے محلوں میں رہ کر اے سی کی ٹھنڈی ہوائیں کھا کر بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم کر کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ سب بھی انہی سب کی بدولت سے ہے ورنہ بنا لیتے آپ اپنا بڑا سا مکان بنالیتے اس میں لگنے والی اینٹیں بنالیتے ان گاڑیوں کے انجن جن کے بغیر آپ لوگ سفر نہیں کرتے’ وہ گن گن کر بولی تھی اسابیل تو ہقہ بقہ لالی کو دیکھ رہا تھا کونسی دور کی کوڑی لائی تھی وہ ایک لمبی سانس خارج کرنے کے بعد وہ بک اسٹور سے باہر نکل گیا جبکہ لالی تاسف سے سر جھٹک گئی پھر اس بچے کو دیکھا
‘پتا ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے تھے اسلئے جلدی سے سچ سچ بتاؤ چوری کیوں کی تھی ورنہ ہاتھ کٹوا دیں گے’ لالی نے اسے ڈرایا اور وہ ڈر بھی گیا تھا
‘میں نے کچھ نہیں کھایا تھا پیسے نہیں تھے اسلئے چوری کی’ وہ بچہ ندامت سے آنکھیں جھکا گیا لالی کو اس پر ترس آیا تھا وہ اسے وہیں کھڑے رہنے کا کہہ کر لائیبریری میں گئی ایک بک کے علاؤہ ساری بکس خریدیں جو پیسے بچ گئے تھے ان پیسوں سے اس بچے کو کھانا کھلایا اور باقی کے پیسے اسے دے دیے
جاری ہے…………
