Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 05
از قلم انعم رئیس

وہ اپنی جاب سے واپس آرہی تھی کہ اسے لگا جیسے کوئی اسکا پیچھا کررہا ہو اس نے ایک دو بار مڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا آج اس نے شارٹ کٹ لیا تھا لیکن اب وہ بری پھنسی تھی کیونکہ آس پاس کوئی تھا ہی نہیں عجیب آج کچھ زیادہ ہی سناٹا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ پہلے کبھی نہیں آئی تھی اکثر جب بھی لیٹ ہوتی تو یہیں سے گزرتی تھی
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ دولفنگوں نے اسکا راستہ روکا وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی
‘ارے دن میں چاند کہاں سے نکل آیا’ اس میں سے ایک لفنگا بولا
(ابے یار اب یہ کہاں سے آگئے چرسی سالے اب تمہیں چاند تارے دکھانے پڑیں گے)
‘ارے چھمک چھلو ڈرو نہیں بس کچھ وقت ہمارے نام کردو ہم جانے دیں گے’ دوسرا بولا شاید وہ لوگ اسکی شکل کی معصومیت اور چھوٹے قد کی وجہ سے بچی سمجھ بیٹھے تھے
(ہاہاہاہا امی دیکھ لیں آپ کی بیٹی کتنی تیز ہے صبر رکھو چرسیوں ڈرو گے تو اب تم لوگ)
دونوں نے لالی کی طرف قدم بڑھائے تو۔۔۔۔
💜💜

میر اس سب کے بعد ڈسٹرب ہوگیا تھا اسلئے اسٹیشن سے گھر گیا کپڑے چینج کیے اور پھر گاڑی لے کر نکلا اور سڑکوں کی دھول چھاٹنے لگا ادھر ادھر نظریں بھی مار لیتا کہ اچانک اسے دور دو لڑکے دکھے جو کسی لڑکی کا پیچھا کر رہے تھے ان لڑکوں کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ نشہ کرتے ہیں اسکا مطلب وہ لڑکی مشکل میں تھی لیکن وہ بے خبر بھی تھی
تبھی میر نے اپنی گاڑی روکی اور انکا پیچھا کرنے لگا لیکن اچانک سے وہ دونوں اس لڑکی کے سامنے آئے اور کچھ واحیات جملے بولے لیکن اسے عجیب تب لگا جب وہ لڑکی انکی باتوں پر مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کررہی تھی
(پاگل ہے کیا یہ لڑکی جو گھبرانے کے بجائے ہنس رہی ہے) وہ ابھی کچھ کرتا کہ
.……………………………
دونوں لفنگوں نے لالی کی طرف قدم بڑھائے تو لالی کا ڈرامہ شروع ہوا وہ اونچی اونچی آواز میں رونے لگ گئی اور تو اور آنسوں بھی آگئے
یہ دیکھ کر وہ دونوں گھبرائے
‘آپ واقعی بہت اچھے ہیں جو ہمیں اپنے ساتھ لے جارہے ہیں ورنہ تم لوگوں کی یہ دنیا ہمیں کہاں جینے دے گی’

ان دونوں کو شاید اس پر بڑا ترس آیا تھا اس لیے پوچھ بیٹھے
‘یہ دنیا تمھاری کیوں نہیں ہے اور کون تمہیں جینے نہیں دیتا’ اسنے الجھ کر پوچھا میر نے بھی درخت کے پیچھے سے اسے دیکھا تھا

(پاگل) میر مسکرایا وہ جو ایسے ڈرامے باز لوگوں میں رہتا تھا سمجھ گیا تھا (میر کے بھائی یار)

‘یو نو واٹ انکل آپ دونوں بہت اچھے ہیں جو ہم سے ہمارے دکھ پوچھ رہے ہیں ورنہ ان انسانوں نے ہمیں زندہ ہی مار دیا تھا چلیں لے چلی ہمیں اپنے ساتھ ہمیں بھی نہیں رہنا ان بیڈ لوگوں میں’

اسکے ان انسانوں اور تمھاری دنیا کہنے سے وہ دونوں واقعی ڈر گئے تھے
‘کون ہہہہہ۔۔۔۔۔ہو تت۔۔تم’ اسکی زبان لڑکھڑائی

‘ہم جن کی بہن ہیں لیکن ہیں آپ لوگوں جیسے ہی بس پیر الٹے نہیں ہیں لیکن دماغ الٹا ہے آپ ہمیں لے کر جائیں گے نہ اپنے ساتھ’ اسکا ڈرامہ عروج پر تھا
جن کی بہن اس بات پر وہ یقین نہ کرتے لیکن اسکا ڈرامہ تبھی وہ لڑکی اس سنسان سڑک پر آئی تھی وہ لوگ ابھی بھاگتے کہ انہیں اسکے ہنسنے کی آوازیں آئیں اللّٰہ معاف کرے ہنستی بھی چڑیلوں جیسا ہے اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر کہتے وہاں سے بھاگے تھے

‘ارے انکل سنیں تو سہی ارے روکیں ہمیں بچائیں اپنی دنیا کے لوگوں سے ارے لگتا ہے بھاگ گئے اب کون بچائے گا ہمیں’ وہ خود سے کہتی آخر میں اس نے قہقہ لگایا
‘ہاہاہاہاہاہا سالے چرسی لالی دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز کو پھانس نے آئے تھے آخر میں خود ہی پھنس گئے ہائے صدقے’
خود سے بولتی پیچھے مڑی بیگ اٹھانے کیلئے جو اسنے ڈرامہ کرتے ہوئے اتار کر پھینکا تھا پیچھے مڑتے ہی ٹھٹھکی کیونکہ میر نے اسکا بیگ اٹھا لیا تھا اور اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا تھا اب اطمینان سے اسکا جائزہ لے رہا تھا چہرے کی معصومیت دیکھ کر ٹھٹکا تھا پسند آگیا تھا اسے لیکن کیا۔۔۔؟ شاید اسکا کانفیڈینس یا شاید اسکی ہمت یا پھر۔۔۔۔۔۔۔وہ خود
اور اسکی طرف دو قدم بڑھائے وہ ڈری (ہائے اللہ کنوئیں سے نکل کر کھائی میں تو نہیں گر گئے کہیں امیییی) وہ دو قدم پیچھے ہوئی
‘دیکھو چرسی انسان دور کھڑے رہو ورنہ اچھا نہیں ہوگا’ لالی نے اپنے لہجہ کو مضبوط بناتے ہوئے کہا ڈر تو اسکو سچ میں لگ رہا تھا اسکے پھولے ہوئے ڈولے اور سنجیدگی دیکھ کر
(اسکو بیوقوف بنانا مشکل لگتا ہے اور ہے بھی موٹا اٹھا کر لے جائے گا ہمیں اسکی فٹنیس اور مسلز کو وہ موٹا بول رہی تھی)
‘واٹ چرسی میں تمہیں چرسی لگتا ہوں’ میر نے صدمے سے قدم روکتے ہوئے پوچھا
لالی نے اثبات میں گردن ہلائی
‘ہیں اچھا میری آنکھوں کے نیچے بلیک سرکلز ہیں’ اسنے اپنی آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا
“نہیں” لالی نے کہنے کے ساتھ گردن بھی ہلائی
‘تو کیا میرے ہونٹ کالے ہیں’
“نہیں”
‘تو میں چرسی کیسے ہوسکتا ہوں’ میر نے سمجھانے کے انداز میں کہا
‘کیونکہ آپ ان لوگوں کی طرح ہمارے قریب آرہے تھے تو اس لئیے’ وہ منمناتی ہوئی بولی
‘اوہ۔۔۔ہاں روکو ہلنا مت’ میر اسکی طرف بڑھا اور اسکی چادر جو کہ کندھے سے ڈھلک گئی تھی سہی کی اس دوران لالی کی دھڑکنیں اسکو اپنے کانوں میں سنائی دی تھیں میر نے دانتوں تلے ہونٹ دبایا اور اپنا گال اسکے گال سے مس کیا لالی کی دھڑکنیں دو سو کی اسپیڈ سے تیز ہوئی تھیں میر اپنی حدود سے اچھے سے واقف تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ اس لڑکی میں اتنی دلچسپی لے رہ تھا
‘جاؤ فی امان اللہ’ میر بول کر پیچھے ہٹا
‘فی امان اللہ’ لالی نے بھی پیاری سی مسکراہٹ سے کہا
اور پھر دونوں نے اپنی اپنی راہ لی وہ پیچھے مڑ گیا اور وہ آگے دونوں کی راہیں جدا تھیں لیکن پھر بھی ایک تھیں میر نے اسے مڑ کر ایک بار ضرور دیکھا تھا جو اپنے ہی دھن میں چلتی ہی جارہی تھی
دل کی ضد ہو تم ورنہ
ان آنکھوں نے بہت لوگ دیکھے ہیں
💜💜

“رابی کیا بول رہی ہو کسی کو ایسی سزا نہی دیتے ہم کیوں کسی کی فیلینگس سے کھیلیں اور میری ماں نے مجھے سکھایا ہے کہ اگر کوئی برا ہے تو اسے اپنے طریقے سے سمجھاؤ نہ کہ اسکی طرح برے بن جاؤ تو آپ میں اور اس میں فرق کیا رہ جائے گا” جنید نے اسے سمجھانا چاہا جو کہ نا ممکن سا تھا رابیعہ کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا وہ جانتا تھا اسے وہ سب کرنا ہی پڑے گا
‘جنید تم میری بات مانو گے یا نہیں مجھے آخری امید صرف تم سے ہے’ اس نے اسے بلیک میل کرنا چاہا اور تو اور وہ ہو بھی گیا
‘میں کوشش کروں گا کہ تمہاری امید پر پورا اتروں’ وہ سنجیدگی سے کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا
پیچھے وہ مسکرائی
‘The game is begins’
💜💜

آج بی جان نے سب کو اکھٹّا کیا تھا شام کی چائے پر اور میر کو وڈیو کال کی تھی کیونکہ بات ضروری تھی علی اور جنید بھی میر کے ساتھ تھے ان دونوں کو بھی میر کے گھر میں ایک فرد کی سی اہمیت حاصل تھی
علی حسبِ عادت کھانے میں مگن تھا، وجدان سوچ رہا تھا اپنی سزا کیسے ختم کروائے کیونکہ دو تین دنوں میں ہی اسے پیسوں کے لالے پڑگئے تھے اسکو لگ رہا تھا جیسے اسکی دولت پر اسکے رشتے داروں نے قبضہ کرلیا ہو اور وہ ظلم کا مارا ہائے، جنید رابی کو سوچ رہا تھا اس نے اتنی بڑی بات کہہ دی تھی کہ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا کرے، انصار صاحب فریہا کو لیے بیٹھے تھے فہیم صاحب اور شیراز صاحب بھی انہی کی طرف متوجہ تھے پورے گھر کی لاڈلی تھی وہ اور میر بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں وجدان کی سفارش کررہی تھی اور میر اسکے آگے ہمیشہ کی طرح بے بس
‘بی جان بتائیں نہ کیا بات ہے کہیں میر نے شادی کیلئے ہاں تو نہیں کہہ دی’ نازش اچھل کر بولی سب لوگوں نے گھوم کر میر کو دیکھا اس بات پر تو علی کا سموسے والا ہاتھ جو منہ تک جا رہا تھا روکا جنید کی سوچوں کا ارتکاز ٹوٹا اس بات پر
‘اوئے لالے نے ہاں بول دی بلے بلے میرے یار کی شادی ہے’ علی نے چیخ مار کر بھنگڑا ڈالا جنید بھی اٹھ کر گلے لگا
‘کمینے ہمیں تو بتا دیتا اس کے گھر رشتہ ہی لے جاتے اب وہ خود رشتہ لے کر تھوڑی آئیں گے اور بی جان اگر وہ کراچی کی ہوگی تو ہم دونوں ہی رشتہ لے کر جائیں گے نہ بس تو ایڈریس لکھوا جگر ہم شادی کی ڈیٹ بھی لے کر آئیں گے اور اگر وہ نہیں مانے تو ہم پیر پڑ جائیں گے’
جنید نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا میر اور علی تو آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھ رہے تھے کہ ہیں یہ بولتا بھی ہے شاید اسے کچھ زیادہ ہی خوشی ہوئی تھی
‘بس چپ ہو جاؤ اسنے کوئی ہاں نہیں کی ہے’ بی جان نے ڈانٹا دونوں کو
‘اوہو ایویں میرا کھانا روک وا دیا ہونہہ۔۔۔۔’ علی نے بھر کر اسے کوسا
‘اففففف، فالتو میں ہی اتنا بول گیا میں حد ہوگئی ہے’ جنید نے منہ بسورا
‘اچھا تو اب سب اپنی زبانوں پر لگام ڈالیں’ بی جان نے روعب دار آواز میں کہا سب خاموش ہوئے
‘آج ہم نے اپنے گھر کے بچوں کیلئے بہت بڑا فیصلہ کیا ہے اور اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ اعتراض کے ساتھ وجہ بھی بتائے نہیں تو کیوں نہیں’ انہوں نے بات شروع کی
‘ہم چاہتے ہیں کہ اب ہم سب کو نکاح جیسے پاک بندھن میں باندھیں’ اس بات پر رواحہ کا دل زور سے دھڑکا
‘اس لئے ہم نے حمدان اور رواحہ کے ساتھ تین رشتے اور جوڑے ہیں پہلا سفیان کا فریہا کے ساتھ دوسرا ریان کا سحرش کے ساتھ اور تیسرا وجدان کا فاطمہ کے ساتھ’ روکیں اور سب کو دیکھا سب سر جھکائے بیٹھے تھے انکا سر فخر سے اٹھا جانتی تھیں انکی تربیت تھی ان سب میں
‘ارے بیٹھے کیوں ہو قرۃ اور ساجدہ ہمارے گھر کی بہوؤں کو نیگ دو اب یہ بیٹیاں نہیں ہماری بہوؤں ہیں’ کتنا مان تھا انکے لفظوں میں پھر ایک شور مچا تھا پورے گیلانی ہاؤس میں
ساجدہ اور قرۃ نے ان دونوں پر سے ہزاروں نوٹ وارے اور انکی بلائیں لیں ادھر تو جیسے ان چاروں کو جنت مل گئی ہو گویا سارے لڑکوں نے مل کر بھنگڑے ڈالے انصار صاحب شیراز صاحب اور فہیم صاحب کو بھی خوب نچایا اور بی جان نے ان پر سے بڑے بڑے نوٹ وارے
فری بھی سب کھل کر انجوائے کررہی تھی زیادہ اسے کچھ پتا نہیں تھا شادی کے بارے میں بس وہ یہ جانتی تھی کہ ڈھیر ساری شاپنگ ہوگی
‘اچھا سنو سب ہم نے نکاح کا فیصلہ کیا ہے’ بی جان ابھی بول ہی رہیں تھیں کہ علی بول پڑا
‘اللہ اللہ بی جان اس عمر میں شادی کرتی ہوئی اچھی لگیں گیں دادا جانی کیا سوچیں گے اور ویسے بھی ابھی تو ہم لوگوں کی شادی کی عمریں ہیں’ علی اپنی ہی بات پر شرمایا
‘تم اپنا کھانا کھاؤ میاں اور ہم نے ان چاروں کے نکاح کا فیصلہ کیا ہے اگلے ہفتے کے جمعہ کو اور ایک سال بعد رخصتی’ بی جان نے علی کو لتاڑا اور وہ بے شرموں کی طرح پھر بولا
‘کسی دوشیزہ کو ہمارے لیے بھی ڈھونڈ لیں تاکہ ہمیں بھی کوئی اے جی او جی سننے کو ملے اور آپ کو بھی پر دادی سننے کو ملے’ علی بے باک ہوا شرم تو تھی ہی نہیں زرا بھی
‘بے شرم انسان گدھے لڑکیوں کا ہی خیال کرلے’ میر نے دھموکا جڑا اسکی کمر پر
‘اوئے تیری جیل کا بھاگا ہوا پیشہ ور مجرم نہیں ہوں میں جب چاہا مار دیا’
‘اچھا میر اگلے ہفتے آپ تینوں نے آنا ہے اور آپ دونوں گھر والوں کو لے کر آئیے گا ساتھ ٹھیک ہے’ بی جان نے کہا
‘جی بی جان’ دونوں ہم آواز ہوئے

💜💜

‘واہ واہ واہ کیا بات ہے کیا خوب حرکت کرکے آئی ہو تم’ پریشے نے طنز کیا ‘اور اگر انہیں پتہ چل جاتا کہ تم ڈرامے کر رہی تھیں تو’
‘کچھ نہیں ہوتا پری ڈارلنگ لالہ رخ بہت پہنچی ہوئی چیز ہے پتا چل جاتا تو کیا ہم انہیں اپنے سنگھم کے دوپ میں آکر دھو دیتے’ لالی ہوا میں اڑی لیکن یہ کیا پری نے اسے نیچے پھینک دیا
‘تم سنگھم ہاہاہاہاہا سنگھم شکل دیکھو اپنی اگر اسکے سامنے کاکروچ آجائے نہ تو وہ اپنے جوتے سے مسل دے نہ کہ ڈر کر چیخ نے لگ جائے ہا سنگھم’ پری نے مزاق اڑایا
‘بس تم جلتی رہو’ لالی بولی
‘ایسے لوگوں سے نہیں جلتی میں’
‘مطلب کچرا رانی سے جلتی ہو تم’
‘ہیں اس سے کیوں جلوں میں’
‘کیونکہ وہ رانی ہے اور تم بھنگن’
“لالییییییی”
پری لالی کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور لالی وہ تو تھی ہی بندریا کبھی ادھر چڑھ جاتی کبھی ادھر دونوں کی ہنسی کی آوازیں گھر میں گونج رہی تھیں شبانہ بیگم بھی مسکرائیں اور دل ہی دل میں انکی نظر اتاری
لیکن جب نظر لگنی ہوتی ہے نہ تو مائیں جتنی کوششیں کرلیں کچھ تو اتر بھی جاتی ہیں لیکن کچھ نظریں بلا بن جاتی ہیں جیسے بہت جلد یہ گھر کسی کی نفرت کی آگ میں جلے گا

نظر لگی ہے اسے یا پھر اسکو عشق ہوگیا ہے
کیا عجیب بات کرتے ہو
دونوں ہی تو صورت میں وہ برباد ہے

روز کی طرح یہ رات بھی قیام پذیر ہوئی نئی صبح لانے کیلئے

جاری ہے…………