Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 16
از قلم انعم رئیس

میر نے جو لفافہ اپنے کونسٹیبل کو دیا تھا اس میں ایک تصویر روہن کی(بقول میر کے لیکن وہ جنید کی تھی) اور یو ایس بی تھی جس میں طارق خان کے مرنے کی پوری وڈیو تھی اس میں رحیم صاحب اچھے سے دکھ رہے تھے
میر نے کونسٹیبل کو رابیعہ کے بوائے فرینڈ روہن کی پک رحیم صاحب کی جگہ فوٹوشاپ کرنے کو کہا تھا چونکہ اس وقت رابیعہ کا بوائے فرینڈ جنید بھی تھا اسلئے اسکی جگہ جنید کی پک ایڈیٹ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے غلط فہمی میں جنید مارا گیا
💜💜

آج دو ہفتے ہوگئے تھے جنید اور فوزیہ بیگم کے انتقال کو میر نے اپنے آپکو سنبھال لیا تھا گیلانی ہاؤس میں بھی جنید کے انتقال کی خبر پھیل گئی تھی سب بہت اداس تھے
میر پولیس اسٹیشن آیا ہوا تھا سول ڈریس میں بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک ہی پینٹ سنجیدہ چہرہ سے سامنے رکھی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہا تھا
حارث نے اسکے سامنے جنید کے مرڈر کے دن ملے تمام ایویڈینس رکھے تھے میر نے گن نکالی اور میگزین چیک کی چلی ایک تھی لیکن غائب دو تھیں پھر ان پر ملے فنگر پرنٹس دیکھے اور پھر آئی ڈی کارڈ دیکھا تو دماغ نے کچھ کلک کیا ہاں وہی لڑکی وہی معصومیت آنکھوں میں شرارت آئی ڈی کارڈ پر نام پڑھا تو لالہ رخ زمان شاہ لکھا تھا ان سب کے بعد وہ پہلی بار مسکرایا حارث نے حیرت سے اسکی مسکراہٹ دیکھی تھی
جلی ہوئی لیڈیز شال غور سے دیکھی تو ہنستے ہوئے ہونٹ سکڑے وہی شال جو اس نے اس دن بھی اوڑھ رکھی تھی اسکے ساتھ کچھ غلط ہوا تھا کیا پیشانی پر بل ابھرے
‘سر یہ موبائل مسٹر جنید غزالی کا ہے دوسرا موبائل بلکل خراب ہوچکا ہے لیکن اُس موبائل کی سم لالہ رخ نامی لڑکی کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور سر اس سم پر لاسٹ کال مسٹر جنید کی ہی تھی تقریباً 11 بجے’
علی کے مطابق 11:30 بجے کا وقت تھا جنید کی موت کا حارث نے جنید کا موبائل اسکے سامنے بڑھایا جو اسنے پکڑ لیا
میر نے فون آن کیا اور لاسٹ کال دیکھی تو وہ لالہ رخ کے نمبر پر کی گئی تھی اس سے پہلے میر کی اپنی کال تھی
‘سر مجھے آپ کو کچھ اور بھی بتانا ہے’ حارث نے اجازت مانگی
‘ہمم کہو’ میر اس کی طرف متوجہ ہوا
‘سر آئی ڈی کارڈ پر موجود تصویر میں جو لڑکی ہے سر وہ اس دن جنازے میں وہیں موجود تھی اور سر میرے خیال سے ڈاکٹر علی انہیں بہت اچھے سے جانتے ہیں کیونکہ یہ مس وہاں اپنا چہرہ کور کرکے آئیں تھیں لیکن ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر اپنے چہرے سے پردہ ہٹالیا تھا اور ڈاکٹر علی بھی ان سے بہت اچھے سے بات کررہے تھے اور سر یہ رو بھی رہیں تھیں کچھ تو ہے جو یہ جانتی ہیں کیونکہ سر انکا لیفٹ ہینڈ جلا ہوا تھا تھوڑا سا’ حارث نے دھماکا کیا تھا اسکے سر پر اگر اس دن وہ وہاں تھی تو اسے کیوں نہیں دکھی اور جنید اور علی اسے کیسے جانتے ہیں آخر
‘لالہ رخ زمان شاہ ساری ڈیٹیلز نکالو اسکی اور شام تک میری ٹیبل پر ہونی چاہیئے ناؤ ڈس مس’ میر نے لالی کی پک پر آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا
‘سر’ حارث چل گیا تھا
‘آئی وش لالہ رخ تمہارا ان سب میں کوئی لینا دینا نہ ہو ورنہ میر گیلانی سے الجھنا تمہارے لئے مشکل پڑ جائے گا’ میر آنکھیں بند کرکے بولا
کچھ دن پہلے کی اپنی اور جنید کی باتیں یاد آئیں
(‘میں مان ہی نہیں سکتا کہ تو نے کسی کو دھوکا دیا ہے’ میر نے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے کہا
‘امی بھی نہیں مانی تھیں لیکن گناہ تو اب کرچکا ہوں’ وہ سنجیدہ تھا
‘جنید تم تم نے کیوں’ میر کو سمجھ ہی نہیں آیا
جنید نے اسے سب بتایا یہاں بھی اس نے رابیعہ کا ذکر نہیں کیا تھا ساری بات سن کر میر نے گہری سانس کھینچی
‘تم بے وقوف ہو یا جان بوجھ کر بے وقوف بن کر مزا آتا ہے’ میر نے اسکی عقل پر ماتم کیا
‘بس یہ چھوڑ تو یہ بتا میں کیا کروں’ جنید نے التجائیہ نظروں سے دیکھا
‘کیا کروں کا کیا مطلب ہے جاکر معافی مانگو اس سے’ میر نے دھموکا جڑا اسکی کمر پر
‘ہاں یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے ڈر لگتا ہے اس سے’ جنید نے تصور میں لالی کو اپنی پٹائی کرتے دیکھ کر کہا میر نے تو جھٹکے سے اسے دیکھا یہ موصوف کب سے ڈرنے لگے
‘چڑیل کو دھوکا دیا تھا کیا جو ڈر لگ رہا ہے’ میر نے آنکھیں سکڑ کر کہا
‘چڑیل سے بھی زیادہ پہنچی ہوئی چیز ہے پتا ہے لیڈی ڈون کہتے ہیں اسے یونی میں ہاتھ پاؤں توڑنے میں تو مہارت رکھتی ہے اور جہاں کچھ غلط ہو پہنچتی بھی سب سے پہلی وہی ہے یونی میں جن لڑکوں نے اپنی دہشت جمائی ہے وہ بھی لالہ رخ سے ڈرتے ہیں اور یہاں تک کہ میں بھی’ اسنے سب میر کو بتایا میر تو اسکی اتنی تعریف پر دنگ رہ گیا تھا “لیڈی ڈون” زیر لب بڑبڑایا بھی
‘اب بھگتو ایسی لڑکی کے ساتھ الجھنے کی ضرورت ہی کیا تھی’ میر اسکو بول کر ایک سائٹ پر ہوگیا تھا)

💜💜

‘کیا تھا وہ شخص اسکی آواز میں اتنا سحر کیسا تھا ہاں وہ شاید ساحر تھا لوگوں کو اپنے جادو میں جکڑنے والا لیکن ہم کیوں جکڑے گئے’ لالہ رخ اپنے جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر میر کو سوچ رہی تھی
‘انکی آنکھیں بےحد لال تھیں وہ شاید میر تھے جنکا ذکر ارمان نے کیا تھا لیکن ارمان نے یہ کیوں کہا تھا کہ دوستی نبھادی ہے کچھ تو کیا ہے اس لال آنکھوں والے شخص نے……’ لالی مسلسل بڑبڑارہی تھی اچانک روکی
‘ہیں لال آنکھوں والا شخص کیا ہوتا ہے انکا نام بھی ہے میر’ اسکا نام لیتے ہوئے دل عجیب طرز میں دھڑکا
سر جھٹک کر کھڑی ہوئی اور اپنی آستین سے جلا ہوا ہاتھ چھپاتی ہوئی کمرے سے باہر آگئی جہاں سب بیٹھے تھے فصیحہ بھی آئی ہوئی تھی اسنے سب کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا
‘ہیں یہ غالباً فصیحہ ہی ہے نہ’ لالی نے اسے ٹچ کرتے ہوئے پوچھا وہ جو پہلے ہی دانیال کی نظروں سے کنفیوژ ہورہی تھی اب جھنجھلائی
‘لالی نہ کرو مجھے آلریڈی تمہارے بھائی کی نظریں پریشان کررہی ہیں تم اسے کہو نہ کہ نہ دیکھے مجھے شرم آرہی ہے سب کے سامنے’ فصیحہ لالی کے کان میں گھس کر برے برے منہ بناتی ہوئی بول رہی تھی جسے دیکھ کر دانیال محضوظ ہورہا تھا
‘بس اتنی سی بات ابھی کہتے ہیں بھائی کو روکو’ وہ اسکو تسلی رہتی ہوئی دانیال کے پاس آئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
‘شرم نہیں آتی اسے اس طرح دیکھتے ہوئے بیچاری شرم سے لال ہورہی ہے اگر دیکھنا ہی ہے تو ملاقاتیں ہوتی ہیں زرا وہ کرلیں’ لالی نے اسے اوپشن دیا
‘تم مدد کروگی میری’ دانیال کے تو گویا دل کی مراد پوری ہوگئی تھی
‘ہاں بس اس کیلئے کچھ رشوت لگے گی’ لالی اپنے مطلب کی بات پر آئی
‘افف…بھوکی کہیں کی کیا چائیے’ دانیال نے منہ بنایا
‘موبائل کیونکہ ہمارے پس نہیں ہے ٹوٹ گیا ہے’ لالی بولی
‘موبائل کیسے ٹوٹا تمہارا اور اگر موبائل نہیں ہے تو آج جو میسج میں نے کیا تھا وہ وصول کیسے ہوا’ دانیال کو شک ہوا کہ وہ جھوٹ تو نہیں بول رہی
‘سچ کہہ رہے ہیں ہم جھوٹ نہیں بول رہے اور فصیحہ سے ملاقات کرنی ہے یا نہیں’ لالی نے اسکی بات کو گول گھمایا
‘کرنی ہے’ دانیال جلدی سے بولا
‘مطلب موبائل بھی پکا ہمارا’ لالی چہکی
‘ہاں ہماری ماں’ وہ بھی اسی کے انداز میں بولا
‘اوکے تھوڑی دیر میں چھت پر آجائیے گا’ لالی کہتی ہوئی فصیحہ کے پاس آئی اور اسکو لے کر چھت پر چلی گئی 5 منٹ بعد دانیال بھی انکے پیچھے گیا
پری ہونک بنی یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھی دانیال کو پیچھے جاتے دیکھا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ کیا ہورہا ہے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی وہ بھی تو آخر لالی کی بہن تھی
💜💜

‘میں نے تیری چھت بہت بار دیکھی ہے’ فصیحہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے یہاں کیوں لائی ہے
‘ہاں رک نہ ہاں ہوگیا’ لالی نے دانیال کو دیکھ لیا تھا
‘کیا ہوگیا’ فصیحہ بولی
‘ہم چائے لے کر آتے ہیں تو بیٹھ’ لالی نو دو گیارہ ہوئی فصیحہ بھی کندھے اچکا کر ریلنگ سے نیچے دیکھنے لگی
‘اہم اہم’ دانیال کھنکھارا
فصیحہ جھٹکے سے پیچھے موڑی تو دانیال اسکے بہت قریب کھڑا تھا
‘وہ وہ آآ…آپ یہی…یہاں’ فصیحہ تو اچانک گھبرائی گئی
دانیال نے لب دبا کر مسکراہٹ روکی اور اسکی طرف قدم بڑھائے فصیحہ پیچھے ہوتی ریلنگ سے لگ گئی دانیال نے بھی اسکے دائیں بائیں بازو رکھ کر فرار ہونے کی راہیں بند کیں فصیحہ تو جیسے چھپ گئی تھی
‘تو ڈئیر وائفی ڈر گئی’ دانیال نے اسکے کان میں سرگوشی کی
‘نن…نہیں میں نہیں ڈڈ…ڈرتی’ وہ بڑی مشکل سے بول رہی تھی
‘نہیں ڈرتیں’ وہ بول کر اسکے اور نزدیک ہوا دانیال کی سانسیں فصیحہ کا چہرہ جھلسا رہی تھیں
‘چچچھوڑیں لالی آجائے گی’ اس نے اسے دور کرتے ہوئے کہا لیکن کہاں دانیال اور کہاں وہ چھوئی موئی سی لڑکی ٹس سے مس نہیں ہوا وہ
‘شششش نہیں آئے گی وہ’ اسنے اسکے کان کے پاس سرگوشی کی اور پھر اس کے کان کی لو کو لبوں سے چھوا فصیحہ کی دل کی دھڑکنوں نے تو دو سو کی اسپیڈ پکڑ لی تھی
بس تبھی دی پری نے انٹری ماری
‘اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ رحم’ پری نے ان دونوں کو دیکھ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھا ‘کیا دیکھ لیا میں نے اب میری آنکھیں گناہگار ہوجائیں گی’ پری نے دوہائی دی لالی جو اوپر آرہی تھی پری کو دیکھ کر دانتوں تلے زبان دبائی
فصیحہ اور دانیال بھی جھٹکے سے ایک دوسرے سے دور ہوئے تھے دانیال سر کھجاتا ہوا باہر نکل گیا پیچھے فصیحہ کے گال شرم کی وجہ سے لال ہوگئے تھے
‘سکون نہیں ہے تمہیں کباب میں ہڈی کہیں کی’ لالی نے پری کو ایک تھپڑ رسید کیا
‘کیا ہے مجھے کیا پتا تھا کہ چھت پر کوئی ہے میں تو ایسے ہی یو نو ٹہلتے ٹہلتے آگئی’ پری نے شرمندہ ہوئے بغیر کہا
‘پتا ہے اچھے سے ہمیں تمہاری یہ جو شکل ہے نہ اس پر ڈرامے سوٹ نہیں کرتے’ اسنے اسکی معصوم چہرے پر چوٹ کی ادھر پری نے فصیحہ کا چہرہ دیکھا تو مسکراہٹ دبائی اور لالی کو بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا لالی نے فصیحہ کی طرف دیکھا تو “اوو” کہا
فصیحہ تھوڑی دیر پہلے ہونے والے لمحات میں کھوئی مسکرا رہی تھی جب اس نے پری کی آواز سنی جو شاید اسے بلا رہی تھی
‘بھابھی آپ شرماتی بھی ہیں’ پری نے اسے چھیڑا
‘ہاں تمھاری طرح بےشرم نہیں ہے وہ’ لالی نے اسکو چھیڑنے کے بجائے پری کو لتاڑا
‘افف…کیا کرنے آئے تھے ہم’ پری نے دانت کچکچائے
‘اوہ ہاں سوری… فصو بھابھی’ لالی نے بھی چھیڑا
‘یار تم تو نہ کہو بھابھی’ فصیحہ نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے
وہ ابھی اسے اور تنگ کرتے کہ نیچے سے شبانہ بیگم نے کھانا کھانے کیلئے بلایا
رات اسی طرح ہنسی مذاق میں گزر گئی
💜💜

صبح میر پولیس اسٹیشن میں موجو تھا
لالہ رخ کی فائل میر کے سامنے پڑی تھی حارث نے اُس حادثے کے دو ایویڈینس اور لاکر دکھائے تھے ایک دو سیکنڈ کی وڈیو کلپ تھی اور دوسرے ایویڈینس میں ایک سرینج تھی
دو سیکنڈ کی ویڈیو کلپ سٹارٹ کی تو اس میں لالہ رخ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی بس اور کچھ نہیں تھا اس میں
‘سر اس وڈیو کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی نے مین فوٹیج ایڈٹ کی ہے کیونکہ اس وڈیو کہ اسٹارٹ ہونے کا ٹائم الگ ہے اور ختم ہونے کا الگ یہ کلپ یا تو غلطی سے رہ گئی ہے یا پھر پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے انہیں’ وہ بول کر خاموش ہوا اور میر کے چہرے کو دیکھا جو خطرناک حد تک سنجیدہ تھا
‘مجھے لگتا ہے ان دونوں کے علاؤہ وہاں کوئی اور بھی تھا کیونکہ اس سرینج کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ وہ کسی لڑکی کے بلڈ کی ہے’ علی اندر آتا ہوا بولا اسے صرف یہ پتا تھا کہ اس سب میں کوئی لڑکی بھی ہے
‘اور اس سرینج میں تھا کیا کس چیز کی سرینج تھی یہ’ میر نے رومال سے اس سرینج کو پکڑ کر کہا
‘ہاں اس سرینج میں ڈرگز تھے جو زیادہ تر دماغ کو سن کرنے کیلئے یوز کیے جاتے ہیں اسکا ہلکا سا بھی ڈوز کسی کو بھی ہلاسکتا ہے’ علی نے سرنج اس سے لیتے ہوئے پلاسٹک بیگ میں ڈالی
‘مطلب ہیوی ڈوز ہے تو اسکا یقیناً کوئی ریکشن بھی ہوگا’ میر کچھ سوچتے ہوئے بولا اس کے زہن میں حارث کی کہی ہوئی بات گھوم رہی تھی کہ اسکا جلا ہوا ہاتھ
‘نہیں اسکا کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ سب کی سکنز الگ ہوتی ہیں اس لیے اس ڈرگ کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس سے کوئی ریکشن نہ ہو’ علی نے اسکی سوچ کو جھٹلایا
‘haris you may go now’
میر نے اسے باہر جانے کا کہا وہ سر کہتا ہوا باہر چلا گیا
‘لالہ رخ کو جانتے ہو’ میر کی سنجیدہ سی آواز علی کے کانوں میں پڑی
‘لالہ رخ زمان شاہ’ علی نے تصدیق چاہی
‘ہمم’
‘ہاں جانتا ہوں’
‘کب سے’
‘ساڑھے تین ہفتوں سے’ علی نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا اس سب میں لالی کا کیا کام
‘کیسے کب اور کہاں ملی مجھے سب بتاؤ’ میر نے تفصیلات مانگیں
علی نے اسے حرف بہ حرف سب سچ بتایا میر نے اسکو افسوس سے دیکھا
(گدھا کہیں کا جنید بھی گدھا تھا اور یہ اس سے بھی بڑھا گدھا لوگوں پر بھروسہ کرنے میں تو یہ لوگ ماہر ہیں) میر نے صرف سوچ نہیں بلکہ بولا بھی
‘گدھے کھانے کے علاؤہ اور کچھ نہیں سوجھتا عقل بند کہیں کا کسی پر ایسے بھروسہ کرتے ہیں’ وہ دھاڑا بلکہ اسے ایک تھپڑ بھی جڑا
علی اپنے گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا ایسا کیا کردیا اس نے میر کے غصے کو سوچ کر اسنے گلہ تر کیا
‘میرا دل کررہا ہے تمہیں شوٹ کردوں’ میر غصّے سے پاگل ہورہا تھا
‘آخر ہوا کیا ہے’ علی بھی آخر پوچھ بیٹھا
‘ہوا کیا ہے واؤ ہوا کیا ہے دیکھو زرا یہ’ میر نے اسکا یونی آئی ڈی کارڈ جلی ہوئی شال وڈیو کلپ اور جنید کا موبائل دکھایا
علی تو آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہا تھا اور پھر اس نے میر کو دیکھا
‘نہیں نہیں میر وہ لڑکی ایسی نہیں ہے میں جانتا ہوں اسے میں نے آج تک کسی پر بھروسہ نہیں کیا لیکن اس لڑکی میں کچھ تو تھا ایسا بے حد بہادر پاگل ہے یہ ایسا نہیں کرسکتی یہ کسی نے اسے ٹریپ کیا ہے’ علی نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی
‘تم الّو کے پٹھے نکلو یہاں سے شکل مت دکھانا اپنی دفع ہو جاؤ یہاں سے’ میر نے اسے دھکے مار کر اپنے کیبن سے نکالا علی بھی کہاں بیٹھنا چاہتا تھا اسے بھی راہِ فرار چاہئے تھی میر کے غصے کو دیکھ کر اسکے نکالنے کی دیر تھی وہ سر پر پاؤں رکھ کر دوڑا
“حارث” میر اپنے کیبن سے نکل کر دھاڑا پورے پولیس اسٹیشن میں خاموشی چھا گئی تھی حارث بھاگ کر اس کے پاس آیا
‘لالہ رخ ٹھیک بارہ بجے مجھے میرے آفس میں چاہئے نہ ایک منٹ اوپر نہ ایک منٹ نیچے’ میر کی دھاڑ پر سب اچھلے
‘سس…سر’ حارث بھی ڈر گیا تھا اور پھر لیڈی آفسسرز کو لے کر نو دو گیارہ ہوا

جاری ہے…………