No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 31 (3rd last)
از قلم انعم رئیس
‘اور یہ چھکا’ لالی نے ایک زبردست شاٹ مارا تھا کہ لالی کی ٹیم ہم آواز ہوکر چیخی
لالی گھر واپس پیدل ہی آرہی تھی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو بچے کرکٹ کھیل رہے تھے بس پھر کیا تھا پہنچ گئی لالی شاہد آفریدی بننے
‘سنو ٹڈے اب تم آؤ بولنگ کرنے’ لالی نے ایک چھوٹے سے لڑکے کو کہا
‘لیکن میں تو فیلڈنگ کررہا ہوں’ اسنے کیپ صحیح کرتے ہوئے کہا
‘کچھ نہیں ہوتا آجاؤ آج نہ ہم جم کر کھیلیں گے’ لالی جوش سے بولی
پھر کھیل سٹارٹ ہوا لالی بیڈ پکڑے وکٹ کے سامنے کھڑی تھی اسکے پیچھے ایک اور لڑکا کھڑا تھا اس چھوٹے لڑکے نے بھاگتے ہوئے بول کرائی لالی نے بیڈ گھمایا اور بول اسکے بیڈ کو چھوتی ہوئی گزری لالی رن بنانے کے لیے بھاگی ادھر دو لڑکے بول کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور ادھر لالی کو رن بنانے تھے سامنے سے دوسرا لڑکا اب لالی کی جگہ پر آگیا تھا اور لالی اسکی جگہ پر اور وہ دو لڑکے بھی بول اٹھا کر واپس پھینک چکے تھے
اب لالی واپس اپنی جگہ پر تھی اور پھر بول کرائی گئی لالی نے اس بار بھی چھکا مارا تھا لیکن بول کسی کے گھر میں چلی گئی تھی اور گلاس ونڈو توڑ گئی تھی
‘اوہ شٹ’ سارے لڑکے سر پر ہاتھ رکھ کر کھڑے لالی کو دیکھ رہے تھے جو ناخن منہ میں ڈالے حیران و پریشاں سی کھڑی تھی
‘آپ نے چھکا مارا ہے اب آپ ہی لے کر آئیں گی ہماری بول’ ان میں سے ایک لڑکا لالی کو کھسکتے ہوئے دیکھ کر بولا
‘چھکا ہم نے مارا لیکن بول تو تمہاری ہے نہ اب تم جانو اور تمہاری بول اللّٰہ حافظ’ ابھی وہ جاتی کہ اس گھر سے ایک انکل باہر نکلے جو غصے سے سب کو گھور رہے تھے
‘کس نے کیا ہے یہ’ وہ غصے سے دھاڑے تھے تو سب لڑکوں نے لالی کی طرف اشارہ کیا لالی اپنی جگہ چور سی کھڑی تھی وہ اسے حیران سے دیکھنے لگے
‘Are you Mentally unstable?’
انہوں نے لالی کو دیکھ کر پوچھا
‘ہاں تھوڑی سی’ لالی کو منہ سے بے ساختہ نکلا تو لڑکوں نے قہقہ لگایا
‘شٹ آپ تم لوگوں کی شکایت تو میں تم لوگوں کے پیرنٹس سے کروں گا اور تم تمہارے پیرنٹس کہاں ہے’ انہوں نے سب لڑکوں کو کہنے کے بعد لالی سے پوچھا
‘جی وہ تو نہیں ہیں’ لالی نے معصومیت سے کہا
‘تو کس کے ساتھ رہتی ہو’ انکا لہجہ تھوڑا دھیما ہوا تھا
‘ہم اپنے شوہر کے ساتھ رہتے ہیں’ وہ شرماتی ہوئی بولی تو انہیں ایک اور جھٹکا لگا وہ اسے چھوٹی بچی سمجھ رہے تھے
‘تو آپکے شوہر کون ہیں’ انہوں نے اب پیار سے پوچھا تھا لڑکی سرپھری تھی
‘ایس ایس پی ہیں’ لالی معصوم بہت تھی
‘واٹ تم میر گیلانی کی بیوی ہو’ وہاں صرف ایک ہی ایس ایس پی میر گیلانی تھا اسلئے پہچان گئے تھے
یہاں انہیں ایک اور شاک لگا تھا یہ لڑکی اس بے رحم انسان کی بیوی تھی انکو اس لڑکی ہر ترس آیا تھا اگر انہیں زرا بھی معلوم ہوتا کہ یہ لڑکی معصومیت کا ڈھونگ رچا رہی ہے تو وہ کبھی اس پر ترس نہ کھاتے
‘انکل وہ ہماری بول دے دیں’ وہی معصومیت سب لڑکوں کے کان کھڑے ہوئے
‘میرا نقصان کون بھرے گا’ وہ سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے بولے
‘ایس ایس پی صاحب سے کہہ دیں گے وہ بھر دیں گے اب آپ ہماری بول دے دیں’ وہ جلدی سے بولی تو انہوں نے بول اسکے حوالے کی اور خود اندر چلے گئے
‘یہ لو بھئی تمہاری بول اب خوش’
لالی انہیں بول دیتی ہوئی خود آگے بڑھی کہ اچانک کسی سے ٹکرا گئی کندھے سے جھولتا ہوا پرس زمین بوس ہوا تھا لیکن لالی کی نظر صرف اس لڑکی کی آنکھوں پر تھی گرے چمکتی ہوئی آنکھیں چہرے پر رومال بندھا تھا وہ لڑکی جھکی اور لالی کا پرس اٹھاکر اسکے ہاتھ میں تھمایا اور آگے بڑھنے لگی لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا
‘رابیعہ خان’ لالی سنجیدہ ہوئی تو رابیعہ نے چہرے سے نقاب ہٹایا
‘چہرہ شناس کب سے ہوگئیں’ رابیعہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
‘جب سے تم جیسے لوگوں سے پالا پڑا ہے’ لالی کی نظریں صرف اسکی آنکھوں پر تھیں اور رابی کی نظریں اسکے دائیں ہاتھ پر جہاں اسکے مارے ہوئے چاکو کا نشان اب بھی موجود تھا جب کہ اسکے تھوڑا اوپر جلنے کا نشان بھی تھا
‘اس کیلئے سوری اور مجھے تمہارے گھر کے بارے میں بھی پتا چلا تھا افسوس ہوا کافی (جبکہ چہرے پر اطمینان تھا) لیکن میں کیا کرتی تمہیں راستہ سے ہٹانے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا’ اسکا لہجہ بے تاثر تھا رابیعہ نے لالی کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ اسکے ہمراہ ہوئی دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں
‘یہاں کیوں آئی ہو رابیعہ’ لالی اپنی آستین نیچے کی جو کرکٹ کھیلتے ہوئے اس نے اوپر چڑھائی تھی
‘کچھ بزنس کے سلسلے میں اور کچھ اپنی منزل حاصل کرنی تھی’ وہ زمین کو دیکھتے ہوئے چل رہی تھی اسکی آنکھوں میں کوئی بھی احساس نہیں تھا
‘اور تمہاری منزل کیا ہے’ لالی بے ساختہ پوچھ بیٹھی تھی رابیعہ کی نظروں نے گیلانی ہاؤس کو دیکھا تھا لالی نے اسکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تو چونکی
‘میری منزل مجھ سے بہت قریب ہے کیونکہ میں چھیننا جانتی ہوں’ وہ عجیب سے لہجے میں بولتی ہوئی آگے بڑھ گئی جبکہ پیچھے کھڑی لالی اسکے لہجے پر غور کیے بغیر نہ رہ سکی
💜💜
تو بول پیا
میں سنتی ہوں
تو دل کو توڑ کے ریزہ کر
میں پھر پلکوں سے چنتی ہوں 💔
روشنی بیگم ہاتھ میں پکڑیں رپورٹس بےیقینی سے دیکھ رہی تھیں جو ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر سے ملیں تھیں
‘کیسی بدنصیب ماں ٹھرونگی میں جو اپنے بچے کو جنم دینے کے بعد اسے سینے سے نہیں لگا سکے گی’ وہ رو رہی تھیں
‘اسابیل میں اگر خالی ہاتھ رہوں گی تو مجھے پورا یقین ہے وہ رب تمہیں بھی کوئی خوشی حاصل نہیں ہونے دے گا یہ تمہارے گناہوں کا سایہ ہے جو آج تمہاری فیملی پر پڑرہا ہے جس لڑکی کی زندگی کے پیچھے تم پڑے ہو میں اس لڑکی کو تمہارے جینے کی وجہ دونگی پھر دیکھتی ہوں کیسے جیتے ہو تم’ روشنی بیگم کا دل تھا کہ بھر آیا تھا کتنی خوبصورت خبر ملی تھی جب انہیں کہ وہ ماں کے درجے پر فائز ہونے والی ہیں وہ سیدھا اسابیل کے فارم ہاؤس آئیں تھیں اسے یہ نیوز دینے تب انہوں نے اسابیل اور رابیعہ کی باتیں سن لی تھیں لیکن وہ اس لڑکی کو نہیں جانتی تھیں کہ کون ہے وہ لڑکی بس نام جانتی تھیں اسکا کوئی لالہ رخ ہے
روشنی بیگم اٹھیں اور اپنی الماری سے وہ سفید کفن نکالا دو سال پہلے ہی انہیں پتا چل گیا تھا کہ انہیں بلڈ کینسر ہے انہوں نے یہ بات اسابیل کو نہیں بتائی تھی اپنا علاج کروا رہی تھیں وہ لیکن آج جو رپورٹس ملیں تھیں تو انہیں لگا سب ختم ہوگیا ہو رپورٹس کے مطابق ان کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا یہ بہت زیادہ پوسیبل تھا کہ وہ ڈلیوری کے وقت انکی جان جاسکتی ہے لیکن یہاں جان کی پرواہ تھی بھی کسے وہ تو بس اپنی اولاد کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی تھیں لیکن شاید قدرت کو یہ منظور نہیں تھا
انہوں نے اس کفن میں سے ایک لمبی چوڑی سی پٹی پھاڑ لی تھی وہ کچھ بہت دور کا سوچ رہیں تھیں صرف ایک عورت تھی جسکو وہ لالہ رخ کے حوالے سے جانتی تھیں اسابیل نے نام لیا تھا انکا اپنی باتوں میں وہ ایک وکیل تھی آئمہ اکرم یہ وہیں تھیں جنہوں نے شاہ ہاؤس لالی کی ذات کی سچائی کا پروانہ بھیجا تھا یہ وہ وکیل تھیں جو کوثر نواب سے جڑی تھی کونسی ایسی سچائی نہیں تھی جو انہیں نہیں پتا تھی یہ اپنی دوست سے کیا وعدہ نبھانے چلی تھیں جو کوثر نے آئمہ سے کیا تھا کہ لالی کو سچ بتانا لیکن تب جب اسابیل عثمانی میدان میں اتر جائے اسابیل سامنے آیا تھا تو وہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں تھیں بس زرا چھپ گئیں تھیں اب وقت تھا ان سے رابطے کا حقیقتوں کو سامنے لانے کا جنگ شروع کرنا کا وہ جنگ جو ایک باپ بیٹی میں ہونے والی تھی
روشنی بیگم نے وہ کفن کا ٹکڑا ہاتھ میں دبوچا اور کفن کو واپس رکھ کر الماری بند کی اور اس ٹکڑے کو قرآن شریف کے زلدان میں رکھ دیا تھا اور اسے چوم کر بند کیا
💜💜
‘کیسا لگا اپنے باپ سے مل کر’
آج ایک اور پیپر ملا تھا لالی کو اسکے پرس سے اور اسکے وسط میں یہ ایک لائن لکھی تھی
لالی جھنجھلا گئی تھی کونسا باپ اسکا باپ تو مرچکا ہے تو پھر یہ بہن بننے کی مبارک باد اور باپ کا کیا کنیکشن ہے افف کوئی تو ہے جو اسے کوئی اشارہ دے رہا ہے لیکن کون…
تبھی اچانک زہن میں جھماکا ہوا کچھ دیر پہلے والی اپنی اور رابیعہ کی ملاقات یاد آئی اسکا پرس گرا تھا اور اسی نے اٹھا کر دیا تھا مطلب یہ وہی کررہی ہے لیکن وہ ایسا کر کیوں رہی ہے وہ اتنی پاگل نہیں ہے جو اسکے پیچھے اپنا وقت برباد کرے گی اور پھر وہ گیلانی ہاؤس کو اتنا گھور کیوں رہی تھی
وہ ان سب باتوں سے جھنجھلاتی ہوئی اٹھی (ہونہہ…نری بکواس) اپنا موبائل اٹھایا اور صوفے پر آڑھی ترچھی ہوکر بیٹھی کم لیٹی زیادہ وہ فیسبک اسکرول کررہی تھی تبھی ایک جگہ اسکا ہاتھ تو کیا دل بھی رک گیا تھا اتنے دنوں بعد اپنے گھر والوں میں سے کسی کو دیکھا تھا دانیال اور زمان صاحب ساتھ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے لالی نے اس پر لوو رئیکٹ دیا تھا اپنا بازو سیدھا کیا اور اس پر اپنا سر رکھا ٹانگیں نیچے لٹک رہیں تھیں اور وہ خود بس دانیال کی پروفائل میں لگی فیملی پکس دیکھ رہی تھی کتنے مکمل تھے وہ لوگ اسکو پتا ہی نہیں چلا کب وہ تصویریں دیکھتی دیکھتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی
💜💜
دوسری طرف دانیال کو فیس بک سے نوٹیفکیشن ملا تھا اس نے چیک کیا تو وہ لالہ رخ تھی وہ بغیر پلکیں جھپکے اسکی پروفائل دیکھ رہا تھا جہاں میر کھڑا مسکرا رہا تھا اور اسکے ساتھ کولیج میں شاید لالہ رخ کی تصویر لگی تھی کیونکہ صرف مسکراہٹ دکھ رہی تھی
دانیال نے لالی کو میسج کیا اسے ہائے کہا حال احوال پوچھا لیکن وہ تو گہری نیند میں سو رہی تھی اسکی ڈی پی پر گرین ڈوٹ تھا جو اسے آن لائن دکھا رہا تھا تو پھر وہ اسکے میسج کیوں نہیں دیکھ رہی تھی کیا وہ اس سے ناراض تھی لیکن کیا پتا وہ سو رہی ہو دانیال نے ساری مخفی سوچوں کو جھٹک کر فصیحہ کو کال کرنے لگا
‘ہیلو’ فصیحہ کی پیاری سی آواز دانیال کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ لے آئی تھی
‘کیسی ہو’ گھمبیر آواز میں کہا تو فصیحہ نے دل تھاما اور تصور میں اسکا ڈمپل سوچنے لگی
‘ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں’ وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
‘ہمم ٹھیک ہوں تم گھر کیوں نہیں آرہی ہو’ دانیال نے دل کی بات پوچھی
‘وہ امی نے کہا تھا کہ شادی سے پہلے بار بار سسرال جانا اچھا نہیں لگتا اسلئے’ وہ بات بناتے ہوئے بولی
‘اسی لئے کہہ رہا تھا رخصتی کروالیتے ہیں لیکن تم نہیں مانیں’ وہ مسکراہٹ دباتا ہوا بولا گالوں پر ڈمپل اٹکلیاں کررہا تھا یہ ڈمپل اسے خدا کی طرف سے تحفے میں ملا تھا کیونکہ شبانہ بیگم اور زمان صاحب دونوں ہی ڈمپل لیس تھے لیکن پریشے اسکے صرف دائیں طرف ڈمپل تھا
‘مجھے نہیں کروانی کوئی رخصتی’ وہ منہ بسورتے ہوئے بولی جبکہ اسکی بات پر دانیال کے چہرے پر سختی در آئی تھی
‘چپ میں چاہوں نہ تو تمہاری رخصتی ابھی اسی وقت کرواسکتا ہوں لیکن تمہیں ڈھیل دی ہوئی ہے کہ تم خود کو ریڈی کرو اس رشتے کیلئے اور میری بات کان کھول کر سن لو رخصتی کے بعد میں تمہیں زرا ڈھیل نہیں دوں گا میں نہیں چاہتا ہماری ازدواجی زندگی میں گیپ آئے’ وہ فون بند کرچکا تھا کس قدر بےباک تھا وہ فصیحہ کہ گالوں پر جابجا لالی بکھری تھی
💜💜
وہ واپس آیا تو دیکھا کہ وہ محترمہ صوفے پر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہیں میر اپنی وردی میں ملبوس آستینیں اوپر چڑھاتا ہوا اسکے قریب آیا اور دو زانو ہوکر بیٹھا چہرے پر ایک عجیب سی شاطرانہ مسکراہٹ تھی شاید جیتنے کی وہ لالی کو غور سے دیکھ رہا تھا ہر وقت شیرنی کے روپ میں رہنے والی ابھی معصوم سی ہرن لگ رہی تھی کوئی گڑیا موبائل اسکے چہرے کے سامنے پڑا تھا جس پر اسکا بایاں ہاتھ تھا جبکہ دایاں بازو سر کے نیچے تھا
میر نے اسے بازوؤں میں بھرا تو اس نے نیند میں ہی مسکرا کر اسکے گلے میں اپنے بازو ڈال دیے گویا خود سپردگی کا اعلان کیا ہو
میر نے مسکراتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا اور کمفرٹر اوڑھایا جسے وہ اپنے بازوؤں میں بھر کر کروٹ لے کر سو گئی صبح سے چل چل کر اور پھر کرکٹ کھیل کر تھک گئی تھی اسکے کرکٹ کی خبر تو میر کو بھی ہوگئی تھی آہم آہم انکل سے تو میر انہیں ایکسکیوز کرتا ہوا آگیا تھا
میر اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا محبت کیا عشق ہوگیا تھا لیکن پھر بھی رشتے کی شروعات نہیں ہوئی تھی دونوں کے درمیان کنٹرول لائن مطلب پلو لائن ابھی بھی بنی ہوئی تھی کبھی کبھار تو وہ بہک جاتا تھا لالی کو دیکھ کر ایسا خمار چڑھتا تھا کہ خود پر کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا تھا لیکن وہ کرلیتا تھا کیونکہ وہ جذباتوں میں بہتا نہیں تھا وہ میر گیلانی تھا کنٹرول کرنا جانتا تھا
💜💜
ایک ہفتہ گزر گیا تھا لالی نے رابیعہ کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ تو ایسی غائب ہوئی کہ جیسے کبھی ہو ہی نا دوسری طرف آئمہ اکرم لاہور پہنچ گئی تھیں اور روشنی بیگم سے بھی مل چکی تھیں ساری باتیں ڈسکس ہوچکی تھیں لیکن ایک بات تھی جس کے پیچھے وہ لوگ خوار ہورہے تھے کہ لالہ رخ کون ہے اور کہاں ہے آئمہ اکرم صرف اتنا جانتی تھیں کہ وہ شاہ ہاؤس میں ہے لیکن وہ تو وہاں بھی نہیں تھی انکی انفارمیشن کے مطابق لالی کی شادی ہوچکی تھی کسی پولیس والے کے ساتھ اور آج روشنی بیگم نے آئمہ اور لالی کو ریسٹورنٹ بلایا تھا آئمہ پہنچ گئی تھیں اور لالی صدا کی لیٹ
‘تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے اور وہ تیسرا کون ہے’ وہ وکیل تھیں تفتیش کرنا انکی عادت تھی
‘تم اپنی لالہ رخ کو ڈھونڈ رہی ہو اور میں تمہیں اپنی لالہ رخ سے ملوانا چاہتی ہوں کافی زہین اور پیاری لڑکی ہے تمہاری مشکلات کا حل نکال ہی لے گی’ انکے لہجے میں اکسائٹمینٹ تھی جب سے لالی ان سے ملی تھی تب سے وہ کول ہوگئیں تھیں
انہی سب باتوں میں لالہ رخ نے ریسٹورنٹ میں قدم رکھا تھا وہی مسکراتی ہوئی آنکھیں سر پر ہمیشہ کی طرح اسکارف کندھوں پر شال ڈالے پیرٹ گرین کلر کا ٹاپ اور وائٹ کلر کے ٹائیڈس پہنے وہ باوقار سی چلتی ہوئی انکی ٹیبل کی طرف بڑھ رہی تھی آئمہ اکرم کی اس کی طرف پیٹھ تھی جبکہ روشنی بیگم اسے دیکھ کر کھڑی ہوئیں تو آئمہ اکرم بھی پلٹی تھیں اور لالی کو دیکھ کر بے تحاشہ چونک گئی تھیں دماغ کے پردے پر کوثر کا عکس لہرایا تھا ایسا لگا خود کوثر چل رہی ہو لیکن وہ ڈری سہمی سی تھی اور یہ روعب و دبدبے کی مالک تھی چال میں کیسا غرور تھا اسکے ہاں یہ چال ڈھال تو اسابیل عثمانی کی تھی وہ لوگ کب سے اسے ڈھونڈ رہے تھے اور ایک یہ تھی خود چل کر آئی تھی
‘لالی ان سے ملو یہ ہیں میری دوست ایک کام کے سلسلے میں یہاں آئی ہیں’ وہ لالی سے ہائی فائی کرنے کے بعد آئمہ سے بولیں تو آئمہ سوچوں سے باہر آئی اور لالی کو غور سے دیکھنے لگی
لالی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا جسے سیکنڈ کے ہزاروے حصے میں تھاما گیا تھا
‘ہم لالہ رخ گیلانی ہیں شادی شدہ ہیں لیکن بچے نہیں ہیں کیونکہ ابھی ہمارے اور انکے درمیان ایسا کچھ ہوا ہی نہیں’ اسکی بات پر آئمہ دل کھول کر مسکرائی تھیں جبکہ روشنی سٹپٹا گئی تھیں بہت بےباک تھی وہ دانیال کا اثر جو چڑھا تھا اس پر ‘ویسے آپس کی بات ہے (وہ بیٹھتے ہوئے بولی) ہم بہت بےشرم ہیں لیکن ایس ایس پی صاحب بہت شریف ہیں ہاہاہا’ وہ اپنی بات پر قہقہ لگاتے ہوئے بولی حالانکہ میر کی قربت ہر تو لالی کی جان جاتی تھی
‘تم اسی شہر کی ہو’ وہ بات کو تھوڑا گھماتی ہوئی بولیں
‘نہیں ہم کراچی کے ہیں’ وہ سمجھی نہیں تھی جو وہ پوچھنا چاہ رہی تھیں
‘اور وہاں کس کے ساتھ رہتی تھیں مطلب تمہارے گھر میں کون کون ہے’ وہ سنبھلتی ہوئی بولیں تو روشنی چونک گئیں تھیں لیکن لالی تو صرف مسکرا رہی تھی وہ مطمئن تھی
‘ہمارے پیرنٹس نہیں ہیں لیکن جو ہمارے گارڈیئنس تھے وہ تقریباً پیرنٹس ہی تھے’ لالی کی اس بات پر روشنی ایک بار پھر چونکیں یہ بات تو انہیں پتا ہی نہیں تھی کہ اسکی کسی نے پرورش کی ہے تو کیا لالی وہی لالہ رخ ہے… اوہ مائی گاڈ مطلب لالی انکی سوتیلی بیٹی تھی لیکن ابھی کنفرم نہیں ہوا تھا
‘اور تمہاری ماما کا نام کیا تھا مجھے واقعی بہت افسوس ہوا سن کر’ یہ عقیل باتوں کو گھمانا بہت اچھے سے جانتے ہیں
‘انکا نام کوثر تھا اور ڈیڈ کا نام اسابیل’ وہی مسکراہٹ لیکن آنکھوں میں حسرت تھی لیکن ادھر روشنی کے چہرے پر پُر سکون مسکراہٹ تھی وہ جسے دوست کہتی تھیں جس پر بھروسہ کرتی تھیں آج وہی انکی سوتیلی بیٹی تھی مطلب بیٹی تھی اپنے کیے گئے فیصلے پر اب ہوتا بھروسہ ہوگیا تھا وہ سہی کر رہیں تھیں انہوں نے آئمہ کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے انہیں دیکھ رہی تھی مطلب ابھی لالی کو کچھ مت بتاؤ
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ دونوں جانے کی باتیں کرنے لگیں جبکہ لالی کا بھوک سے برا حال ہورہا تھا اسلئے وہ دونوں جاچکی تھیں لیکن لالی اب ہیٹ بھر کر کھانا کھا رہی تھی
جاری ہے………
