No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 18
از قلم انعم رئیس
لالی اپنے گھر کے باہر روکی رکشے سے اتری اور خود کو کمپوز کیا چہرے پر مسکراہٹ سجائی اب وہ ایسی ہوگئی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں پھر گھر میں داخل ہوئی
‘اسلام و علیکم’ لالی نے گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کیا سب کے چہرے لالی کو دیکھ کر پُرسکون ہوئے
‘کیا ہوا ہے سب اتنا پریشان کیوں ہیں خیریت’ لالی نے سب کو دیکھتے ہوئے پوچھا
‘تم آج لیٹ آئی ہو نہ اس لئے پریشان ہوگئے تھے سب کہاں تھیں؟’ پری نے اسکو مطمئن کیا
‘ہاں وہ پیپرز ہونے والے ہیں نہ تو اسی لئے لائبریری میں تھے’ لالی نے جھوٹ بولا
‘تو فون نہیں کر سکتی تھیں’ شبانہ بیگم بھڑکیں
‘امی فون نہیں ہے ہمارے پاس بھائی سے کہا تھا وہ نیا لادیں گے’ لالی نے آرام سے پوری بات بتائی
‘فون کہاں گیا تمہارا’ اب کی بار سوال دانیال کی طرف سے تھا اسکو لالی کا پہلے کا جواب بہانا لگا تھا
‘بتایا تو تھا کہ وہ ٹوٹ گیا ہے’
”تو سم کہاں ہے تمہاری’ ایک اور سوال
‘وہ فون میں تھی’
(اللہ ہمارے آج صبح سے ہم سے سوال جواب ہورہے ہیں ہمیں بات بات پر جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے)
‘اور فون کہاں ہے’ دانیال کے ماتھے پر بل ابھرے
‘وہ تو ٹوٹ گیا نہ’
‘کیا تم ایک ہی بات کو گھما رہی ہو سچ بولو فون کہاں ہے اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو مجھے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے لا کر دکھاؤ’ دانیال بس اسے جانچ رہا تھا کیونکہ جو اسے پتا چلا تھا وہ ناقابلِ یقین تھا
‘وہ تو گگ…گر گئے’ لالی کا اطمینان ڈگمگا رہا تھا
‘لالی بات بات پر جھوٹ بولنا کہاں سے سیکھا تم نے’ شبانہ بیگم اور پری تو بس ان دونوں کی شکلیں دیکھ رہے تھے ‘لالی تم میرے کمرے میں آؤ مجھے ضروری بات کرنی ہے ابھی اور اسی وقت’ دانیال کی بات پر لالی نے تھوک نگلا اور اسکے پیچھے چلدی
💜💜
‘کہاں سے آرہی ہو’ دانیال نے پوچھا
‘لائبریر……’ لالی نے بولنا چاہا
‘جھوٹ نہیں لالہ رخ……پولیس اسٹیشن گئیں تھیں نہ تم؟’ دانیال کا لہجہ تیز ہوا
‘گئے نہیں تھے وہ لوگ لینے آئے تھے’ جتنا تیز دانیال کا لہجہ اتنا ہی ہلکہ لالی کا لہجہ
‘کیوووں’ وہ غررایا
‘کک…کسی کا قتل ہوا ہے’ اب جھوٹ چھپانے کا فائدہ نہیں تھا
دانیال نے آنکھیں پھاڑے سے اسے دیکھا
‘کسی کے قتل سے تمہارا کیا لینا دینا’
‘وہ کسی نہیں وہاں کے ایس ایس پی کا بہترین دوست اور’ وہ روکی
‘اور’
‘اور ہمارے ٹیچر رہ چکے ہیں’ لالی نے سر جھکایا
‘تو اس سب سے تمہارا کیا لینا دینا’ اب دانیال نے آرام سے پوچھا
‘ہمارے سر رہ چکے ہیں تو اسلئے ان سب سے پوچھ گچھ ہورہی ہے جو آخری وقت میں ان سے ملے تھے امی کو نہیں بتانا چاہتے تھے ورنہ پریشان ہوجاتیں اور رہی بات فون کی وہ ہم سے گر گیا ہے کہیں’ لالی نے آخر میں اپنے دانتوں کی نمائش کی
‘میں تو ڈر ہی گیا تھا خیر تم جاؤ فریش ہو جاؤ’
‘ایک منٹ پہلے فون دیے گا اپنا’ دانیال نے سے اپنا فون دیا تو لالی نے تھوڑی دیر میں دے نے کا کہہ کر چلی گئی
علی کو کال کی جو چند سیکنڈز میں اٹھا لی گئی
‘علی بھائی روکیں کال مت کاٹیے گا پہلے ہماری بات سن لیں پلزززز’
‘ہمم کہو’ علی کی فون میں سے آواز بھری
‘ہم آپکے ہوسپٹل آجائیں کچھ ضروری بات کرنی ہے’
‘6 بجے’ علی نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹ دیا
وہ لمبی سانس خارج کرتی ہوئی واشروم چلی گئی فریش ہونے لیکن علی کا نمبر ڈیلیٹ کرنا نہیں بھولی تھی
💜💜
لالی ہوسپٹل پہنچ گئی تھی ریسیپشن سے علی کا پوچھا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ موصوف ایک گھنٹہ پہلے ہی نکل چکے ہیں
‘اتنی بھی کیا ناراضگی علی بھا…’ وہ بول ہی رہی تھی کہ اسکا فون بجا
(دانیال نے اسے نیو فون دے دیا تھا اور اسکی پرانی سم بھی بند کروا دی تھی اور سی نمبر پر نیو سم دیجسٹرڈ کروائی تھی)
اس نے فون پر وہ اننون نمبر دیکھا اور فون اٹھایا
‘ہیلو کون’ لالی نے بات شروع کی
‘تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہیں اسی پرانی فیکٹری پر واپس پہنچو’ فون ڈسکنیکٹ ہوا
لالہ رخ ہلکا سا بڑبڑائی
‘رابیعہ خان’ وہ آواز پہچان گئی تھی
‘اب کونسی نئی چال ہے تمہاری’ وہ سر جھٹکتی ہوئی آگے بڑھی اور رکشہ روکا
‘پرانی فیکٹری جانا ہے بھائی کتنے لوگے؟’ لالی نے رکشے والے سے پوچھا
‘دو سو روپے’
‘دو سوووو اتنے سارے پیسے کس خوشی میں’ لالی کی تو سوئیں دو سو روپے پر اٹک گئی تھی
‘آپکو وہاں جانا ہے اس خوشی میں’ رکشے والا بھی بحث کے موڈ میں تھا
‘وہاں جانے کی کونسی خوشی خیر چلو لے لینا’ لالی رکشے میں بیٹھ گئی تھی
💜💜
‘حارث امان اللہ کو تم نے لالہ رخ پر نظر رکھنے کےلئے کہہ دیا تھا نہ’ میر نے انٹرقوم کے ذریعے حسث سے پوچھا
‘جی سر مجھے آپکو اسی بارے میں بتانا تھا آپ پلز امان اللہ سے بات کرلیں وہ کچھ ضروری انفارمیشن دینا چاہتا ہے آپکو’ حارث نے امان اللہ کے بارے میں بتایا
‘اچھا ٹھیک ہے میں اس سے بات کرتا ہوں’ میر نے انٹرقوم رکھا اور اپنا فون اٹھاکر امان اللہ کو کال کی
‘کانسٹیبل اینی اپ ڈیٹ’
‘سر مس لالہ رخ چھ بجے کے قریب گھر سے نکلیں تھیں پہلے ڈاکٹر علی کے ہوسپٹل میرے خیال سے ان سے ملنے گئیں تھیں لیکن کچھ ہی دیر بعد واپس آگئیں شاید وہ ہوسپٹل میں نہیں تھے اب سر وہ اسی پرانی فیکٹری کی طرف جارہی ہیں’ امان اللہ بول کر خاموش ہوا
‘پیچھے ہی رہنا اسکے کہیں آگے راستہ نہ بدل دے اور وہاں پہنچ کر اندر مت جانا خطرہ ہوسکتا ہے’ میر نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹا جہاں اسکے دوست کی بات آجائے وہاں وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا
💜💜
انعم رئیس: روکیں روکیں اب ہمیں یہاں سے تھوڑا فلیش بیک میں جانا ہوگا کچھ بہت ضروری پیچھے چھوٹ گیا ہے تو چلتے ہیں فلیش بیک میں
یہ اس وقت کا منظر ہے جب جنید کو گولی لگی تھی اس نے لالی کو فون کرنے سے پہلے کسی اور کو بھی فون کیا تھا اور وہ کوئی اور نہیں علی تھا
‘جنید تم کہاں ہو یار تم نے مجھے آنٹی کو ہوسپٹل لانے کا کہا تھا لیکن تم آئے ہی نہیں’ علی نے جنید کی کال اٹھاتے ہی بولنا شروع کردیا
‘علی تم میری بات ٹٹھیک سے سننا’ جنید کے عجیب سے لہجے نے علی کی بولتی بند کروائی
‘ہاں بولو کیا ہوا خیریت’ علی کا لہجہ بھی سنجیدہ ہوا
‘علی تو میرے گھر جائے گا ابھی اور میرے روم میں جاکر بیڈ کی لیفٹ سائیڈ کی ٹیبل سے نیند کی گولیاں نکالے گا اور’ جنید کی ہچکیاں شروع ہوگئیں تھیں وہ رو رہا تھا
‘کیا ہوا ہے یار کیوں رو رہا ہے تو سب ٹھیک تو ہے اور گولیوں کا کیا کرنا ہے’ علی کی پریشان سی آواز سنائی دی
‘تو وہ گولیاں امی کو کھلائے گا ایک یا دو نہیں اتنی گولیاں کہ وہ میرے پاس آجائیں مطلب اس دنیا سے دور چلی جائیں’ جنید نے ہمت سے کام لیا تھا اس وقت وہ جانتا تھا اس کے بعد اسکی ماں اکیلی ہوجائے گی
‘جنید……تو پاگل ہوگیا ہے کہیں نہیں جارہا تو آنٹی کو کچھ نہیں ہوگا’ علی کچھ پل تو بول ہی نہیں سکا
‘میں جا رہا ہوں یار’ وہ یہ بولتے ہوئے بہت رویا تھا ‘اس لئے اپنی امی کو بھی ساتھ لے کر جاؤں گا مجھے پتا ہے وہ میرے بغیر نہیں رہ پائیں گی’
‘جنید کیا ہوا ہے کہاں ہے تو تو خودکشی کررہا ہے کیا’ علی کے آنسو بہہ نکلے تھے اسکی بات پر سمجھ نہیں آرہا تھا وہ ایس کیوں کہہ رہا ہے
‘نہیں یار کچھ نہ کردہ گناہوں کی سزا مل رہی ہے محبت کے ہاتھوں وہ جان لینے پر تلی ہے میری یار تجھے قسم ہے میری جو میں نے کہا ہے تو وہی کرے گا’ روتے روتے فون ڈسکنیکٹ کردیا تھا اس نے پھر درد بے تحاشہ ہوا تو لالی کو کال کی تھی
علی جنید کے گھر گیا اور اسکی ایک ایک بات اسکی ماں کو بتائی اسکی ماں تو اس بات پر ہی خوش ہوگئی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کہ پاس جارہی ہے تو مرنے کی خوشی کیوں نہ ہوتی انہوں نے وہ گولیاں کھالی تھیں اور خاموشی کا لبادھا اوڑھے سو گئیں تھیں ……ہمیشہ کیلئے
علی جس وقت جنید سے بات کررہا تھا اس سے تقریباً 5 منٹ پہلے وہ لالی سے بات کررہا تھا وہ بتا رہی تھی کہ آج دل عجیب سا ہورہا ہے تو وہ نماز پڑھنے چلی گئی تھی
وہ رات اپنے اندر ڈھیروں راز لیے ہوئے تھی
دوسری طرف رابیعہ کو علی سے خطرہ ہوا تھا اس نے لالی کو سائڈ پر لگایا لیکن وہ پھر بھی اس رات کی ہر بات علی کو بتانا چاہتی تھی مطلب اسکا سچ تو دونوں کو ایک ساتھ ٹھکانے لگانا تھا رابیعہ نے
اس لئے اسنے پہلے علی کو کوئی بہانہ کرکے ہوسپٹل سے باہر بلایا اسکے بعد اسکے سر پر کسی بھاری روڈ سے وار کیا تو وہ وہیں گر گیا رابیعہ کے بندوں نے اسے فیکٹری پہنچایا
پھر رابیعہ نے لالی کو کال کرکے وہیں بلایا
اب ایسا تو اب ایسا ہی سہی
💜💜
‘رابیعہ اب کونسا نیا کھیل کھیل رہی ہو تم ایک جان لے کر سکون نہیں ملا جو اب اور کھیل کھیل رہی ہو’ لالی چیخی فیکٹری میں ابھی بھی ہلکا اجالا تھا مغرب ہونے والی تھی
سنسان فیکٹری میں آج ایک تماشا اور لگنا تھا
وہ آگے بڑھی تو ٹھٹھکی آنکھیں پھٹنے کو ہوئیں تھیں دماغ ماؤف ہونے لگا تھا کیونکہ آج جنید کی جگہ پر علی تھا وہی جگہ جہاں جنید کا مرڈر ہوا تھا
‘نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا ہم علی بھائی کو کچھ نہیں ہونے دیں گے ایک اور فیملی کو اجڑنے نہیں دیں گے’ لالی بھاگتی ہوئی علی کے پاس آئی اسے سر پر چوٹ لگی تھی
لالی ہر جگہ اپنا بیگ لے کر جاتی تھی جس میں ضرورت کا سامان ہوتا تھا وہ آج بھی لائی تھی
بیگ میں سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی ہاتھ میں لے کر علی کے منہ پر ڈالا علی کو ہوش آنا شروع ہوا
‘علی بھائی’ لالی نے اسکے چہرے پر آرام سے ہاتھ رکھ کر جگانے کی کوشش کی علی کو ہوش آگیا تھا وہ اٹھ کر بیٹھا لیکن سر کی چوٹ شدید تھی
‘تم…تمہارے پاس اور پانی ہے’ علی نے لالی کو بولا
‘ہاں ہاں یہ لیں’ لالی نے اسے پانی کی بوتل دی
علی نے کچھ پانی پیا اور باقی کا پانی سر آگے کرکے سر پر ڈالا ٹھنڈا پانی تھا خون روکنا بند ہوگیا تھا
‘اور کیا ہے تمہارے پاس اس وقت’ علی نے لالی کے بیگ کو دیکھ کر کہا
‘ہاں فرسٹ ایڈ باکس بھی ہے پاپا کہتے ہیں اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہیے کسی کو بھی ضرورت پڑ سکتی ہے ہم ابھی دیتے ہیں’ لالی نے اسکی طرف باکس بڑھایا علی نے اس میں سے ایک ڈیٹول کی بوٹل اٹھائی زخم صاف کرنے کے لیے اور ایک روئی لی اور لالی کی طرف بڑھایا
‘یہ یہ صاف کردو’
‘ہاں ہاں کیوں نہیں بلکہ ڈریسنگ بھی کردیتے ہیں’ لالی نے تھوڑی ہی دیر میں اسکی ڈریسنگ کردی تھی یہ سب کرنے میں دس منٹ لگے تھے
لالی نے اس سے کچھ کہنا چاہا لیکن کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی
‘بھائی رررابی…’ وہ بول رہی تھی کہ علی بول پڑا
‘رابیعہ میں جانتا ہوں جلدی چھپو’ علی کہتے کے ساتھ ہی پیچھے کی طرف گیا لالی بھی سارا سامان اٹھاکر بیگ میں ڈال رہی تھی اتنے میں رابی اسکے پاس پہنچ گئی تھی
‘میں نے تم سے منع کیا تھا نہ کہ تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی لیکن تمہیں شاید میری بات سمجھ نہیں آتی لگتا ہے جنید کا حشر بھول گئی ہو کوئی بات نہیں اب نہیں بھولو گی’ رابیعہ دل کشی سے مسکراتی ہوئی کہہ رہی تھی
‘کیا کروگی ہمیں بھی مارو گی ایک اور جان لوگی پھر خود کو بچانے کیلئے دوبارہ قتل کروگی اتنے قتل کرنے سے اچھا ہے تم خود کیوں نہیں مر جاتیں’ لالی غررائی
‘ابھی تو مجھے جینا ہے اسلئے تمہاری یہ آخری خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی’ رابی نے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھنا چاہا لیکن لالی نے پکڑ لیا
‘آخری خواہش نہیں ہماری جان ہماری تو پہلی خواہش ہی یہی ہے’ لالی نے کہتے کے ساتھ ہی اسکا ہاتھ مروڑ کر کمر پر لگایا اور ایک ہاتھ سے اسکی گردن دبوچی
وہ ابھی کچھ اور کرتی کہ باہر کسی کی گاڑی روکنے کی آواز آئی پیچھے چھپا علی بھی چونکا اور پھر آنے والی سچوئیشن کیلئے خود کو تیار کیا
رابی نے لالی کے ہاتھ پر چاکو مارا اور وہاں سے بھاگ گئی جو چاہتی تھی وہ ہوگیا تھا
💜💜
میر فیکٹری پہنچ چکا تھا امان اللہ اور وہ ساتھ اندر داخل ہوئے تو لالی سامنے ہی کھڑی تھی
علی نے میر کو دیکھا تو بھاگتا ہوا آیا
‘علی تو یہاں کیا کررہا ہے اور یہ سر پر کیا ہوا ہے’ میر نے اسکا سر آگے پیچھے سے دیکھا پڑی اوپر سے لال ہوگئی تھی
‘ہلکی سی لگی ہے یہ زیادہ لگ گئی ہے اور یہ کس نے مارا اور یہ یہاں کیا کررہی ہے’ میر نے لالی کی طرف اشارہ کیا
علی نے لالی کی طرف دیکھا تو وہ نہ میں سر ہلا رہی تھی علی نے اثبات میں سر ہلایا
‘ہاں بس کچھ نہیں ہوا کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی اب سب ٹھیک ہے اور لا……’ وہ کچھ کہتا اور میر کچھ سنتا کہ ایک شورِ قیامت برپا ہوا
💜💜
رابیعہ نے لالی کے گھر پر آگ لگائی تھی رشتوں میں آگ لگائی تھی
اس نے لالہ رخ کو کرکٹرلیس ثابت کیا تھا اسنے ایسے ایسے ثبوت ڈھونڈے تھے کہ لالی گناہگار ثابت ہوئی تھی رابیعہ نے لالی کی جنید میر علی اور کچھ یونیورسٹی کے لڑکوں کے ساتھ پکس لیں تھیں چھپکے سے جو بلکل سچی تھیں کیونکہ یہ تصویریں تب لیں تھیں جب ایکسیڈینٹلی لالی کی ان سب سے ملاقات ہوگئی تھی لیکن علی جنید اور میر کے ساتھ بہت کلوزلی لی تھیں کیونکہ لالی ان سے ملتی رہی تھی
لالی کا کردار مضبوط تھا اگر اسکی ہسٹری بھی مضبوط ہوتی
‘یہ تربیت کی ہے تم نے اپنی بیٹی کی’ زمان صاحب چلائے شبانہ بیگم پر
‘وہ نہ میری بیٹی ہے اور نہ ہماری بیٹی ہے وہ جسکی بیٹی ہے تو اس سے یہ سب ایکسپیکٹ کر سکتے ہیں’ شبانہ بیگم تنزیہ مسکراہٹ ہنسیں
‘تربیت تو تم نے کی ہے’ زمان صاحب کو انکا کسی اور بیٹی کہنا اچھا نہیں لگا تھا
‘تربیت میں نے کی ہے لیکن فطرت تو اسکی وہی رہے گی گندہ خون دوڑتا ہے اسکی رگوں میں’ شبانہ بیگم پل بھر میں بدلیں تھیں
وہ دونوں اور دانیال اس وقت گاڑی میں موجود تھے اور اسی فیکٹری کے راستے پر تھے
‘مجھے یقین نہیں آرہا وہ میری بہن ہے’ دانیال کا غصہ سوا نیزے پر تھا
‘تمہاری صرف ایک ہی بہن ہے پریشے اور کوئی نہیں’ شبانہ بیگم پھر چلائیں
‘صحیح کہہ رہی ہیں آپ اسکا تو گلا میں اپنے ہاتھوں سے دباؤں گا’ دانیال کی آنکھوں میں سرد تاثر تھے
لگتا ہے آج پھر کوئی غیرت کے نام پر قتل ہونے نکلا ہے
💜💜
‘امّی’ لالی بھاگ کر شبانہ بیگم کہ پاس گئی
‘خبردار لالہ رخ تم اپنا امی کہنے کا حق کھو چکی ہو’ شبانہ بیگم کی آواز اونچی ہوئی
پیچھے کھڑے ہوئے وہ تینوں سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے
‘کیا کررہیں تھیں تم ان تینوں کے ساتھ یہاں اس بند فیکٹری میں’ دانیال نے لالی کو بازؤوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا لالی نے تو بس اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں صرف ایک تاثر تھا جو آجنبی کو دیکھ کر ابھرتا تھا
میر نے امان اللہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا کیونکہ علی اور وہ اب سب سمجھ گئے تھے کیا ہورہا ہے
‘آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے ہمیں تو کسی نے بلایا تھا یہاں’ لالی نے سچ بولا
شبانہ بیگم نے وہ ساری تصویریں لالی کے منہ پر ماریں لالی تو حقّہ بقّہ کھڑی تھی اپنے آس پاس پھیلی تصویروں کو دیکھا تو پیروں تلے زمین کھسکی اتنا گھناؤنا الزام
میر اور علی نے بھی تصویریں دیکھیں تو انکا تو دماغ گھوم گیا ساری اس اینگل سے لی گئیں تھیں کہ قصوروار وہ بھی ٹہررہے تھے لیکن ہمیشہ سے قصوروار لڑکی کو ٹھہرایا گیا ہے اس بار بھی لالہ رخ پھنسی تھی
‘میں نے تو ہمدردی میں تمہیں پالا تھا کم از کم اسی کا ہی مان رکھ لیتیں لیکن نہیں تمہیں تو اپنے اندر دوڑتا ہوا گندہ خون عزیز تھا جو ایک بھاگی ہوئی ماں کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تم نے’ شبانہ بیگم غصّے میں ہوش کھو رہی تھیں
لالہ رخ نے خالی خالی نظریں اٹھاکر اس رحم دل عورت کو دیکھا جس نے اسے جنم نہیں دیا تھا لیکن پالا تھا اور پیدا کرنے والے سے تو پالنے والا بڑا ہوتا ہے
‘نہیں یہ سب جھوٹ ہے ہم ہم سس…سچ بتاتے ہیں آپ کو مم…میر گیلانی بتائیں گے سچ’ لالی بھاگ کر میر کے پاس آئی اور اسکے آگے ہاتھ جوڑے ‘ہماری عزت بچالو بب…بتاؤ انہیں کہ ہم ایسے نہی ہیں’ لالی روئی
میر کی آنکھوں کے سامنے جنید کا عکس لہرایا کانوں میں اسکی باتیں گونجیں دل جو کہہ رہا تھا سچ بولو اب خاموش ہوگیا تھا کیونکہ شیطان ہاوی ہورہا تھا اور کہہ رہا تھا بدلہ لو
‘میں کیا سچ بولوں ڈارلنگ یہ سب سچ ہی تو ہے’ میر نے اسکے قدرے قریب جھک کر کہا لالی کو خطرے کی بو محسوس ہوئی علی میر کی بات پر سن رہ گیا اسکا دوست آج پہلی بار ناانصافی کررہا تھا
لالہ رخ نے سر جھٹکا سمجھ گئی تھی کہ یہ اسکا ساتھ نہیں دے گا علی کو پھنسانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہ دوست کو چنتا یا ہمیں اسکے لیے مشکل ہو جاتا
‘اے لڑکے کون ہو تم’ زمان شاہ نے میر سے پوچھا
‘آپکی بیٹی کا عاشق’ میر کی بات پر لالہ رخ نے آنکھیں میچیں علی بولنا چاہ رہا تھا لیکن میر نے اسکا ہاتھ پکڑ رکھا تھا یہ قسم تھی کہ وہ نہیں بولے گا
‘یقین نہیں آرہا تمہاری پرورش میں نے کی ہے’ شبانہ بیگم بول کر آگے آئیں اور ایک زوردار تھپڑ لالی کو مارا
‘چٹاخ’
‘میں تم سے اپنی سرپرستی واپس لیتا ہوں آج سے تم صرف لالہ رخ ہو اور کچھ نہیں’ الفاظ تھا یا کچھ اور لالہ رخ کو لگا سب ختم ہوگیا تھا جیسے
‘نہیں ایسے کیسے اسکے عاشق سے کہیں نکاح کرے اس سے خون نہیں پالا تو ہے اسے’ شبانہ بیگم نخوت سے بولیں
لالی تو بس خاموش کھڑی ان سب کو دیکھ رہی تھی کہ یہ لوگ کتنا آگے جاتے ہیں آج اسے پتا چلا تھا کہ کتنی بے مول ہے وہ
‘میں آپکی بیٹی سے نکاح کرنے کیلئے تیار ہوں’ میر نے لالی کا ہاتھ پکڑ کر کہا لالی مسکرائی
(اب کسی کے حوالے بھی کردیں آپ امی اتنا حق تو آپکا بھی بنتا ہے آخر ایک گندے خون کو پالا ہے آپ نے) لالی دل ہی دل میں اپنا مزاق اڑا رہی تھی
جس فیکٹری میں آج سے دو ہفتے پہلے ایک قتل ہوا تھا آج یہاں پر کسی کی موت ہوئی تھی لیکن عجب بات تو یہ تھی کہ اس موت کہ ڈولے کو اٹھانے کیلئے کوئی موجود نہیں تھا نہ کسی نے فاتحہ پڑھی نہ کسی نے ماتم کیا ارے کس بات کا ماتم مرگئی انا للّٰہ پڑھ لیا ثواب مل گیا بس اور کیا چاہئے
جاری ہے………….
