No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
محبت عشق دھوکا اور فریب
قسط 26
از قلم انعم رئیس
تو چیز بڑی ہے مست مست
تو چیز بڑی ہے مست
میں چیز بڑی ہوں مست مست
‘ٹھیک سے لگاؤ یار ڈھمکے’ عمر نے بہروز کو
کھینچ کر کشن مارا پیچھے میوزک سسٹم پر سونگ لگا ہوا تھا
بہروز نے کل سب کو آئسکریم کھلانی تھی لیکن وہ رفو چکر ہوگیا تھا اسلئے اب اسے سزا مل رہی تھی
‘تو تو لگالے’ بہروز جل کر بولا اور لالی کو التجائیہ نظروں سے دیکھا لیکن لالی تو گانے کے بولوں پر جھوم رہی تھی
کلیوں جیسا حسن جو پایا
ہر ادا میں نور ہے آیا
ساتھ میرے اور ست ہتھر گایا
بلیم دوں رب کو کیوں ایسا بنایا
‘بلکل ہی کوئی خراب ڈھمکے لگاتے ہو تم اس ڈھمکے پر تو کوئی تمہیں ایک ڈھیلا نہ دے’ وجدان جو کب سے اسکا عجیب سا ڈانس دیکھ رہا تھا آخر میں چڑ کر بولا
‘عمر جاؤ اور اسے زرا بتاؤ کیسے لگاتے ہیں ڈھمکے اس نے تو ڈھمکے کو دھمکی بنا دیا ہے’ لالی نے بہروز کو چڑایا اور پھر عمر نے بہروز کی جگہ لی
تیرا جس سے پڑ گیا پالا
اچھوں کو غلط کر ڈالا
تیرا…نہیں تیرا کوئی دوش دوش
تیرا حسن ہی زبردست دست
تو چیز بڑی ہے مست مست
‘واہ دیکھو زرا اسے کچھ سیکھو اس سے اس نے تو شیلا کی جوانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا’ ریان نے عمر کو فلائنگ کس بھیجی تو وجدان نے ہاتھ میں بوتل پکڑی اور اس کے پاس چلا گیا
نہیں تجھ کو کوئی ہوش ہوش
اس پر جو بن کا جوش جوش
نہیں تیرا…نہیں تیرا کوئی دوش دوش
مدہوش ہے تو ہر وقت وقت
تو چیز بڑی ہے مست مست
وجدان ہارا ہوا جواری اور شرابی لگ رہا تھا تو عمر بھی لیلیٰ سے کم نہیں تھا
انکھیاں فریبی شیطانی ہیں
عشق میں تیرے مرجانی ہے
اتنا کوئی خود کو بچائے
یہ آگ دلوں میں لگ جانی ہے
‘کیا بات ہے’ لالی نے دو انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹی ماری
‘آگ لگادی’ ریان نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
جادو ایسا کرڈالا
نہ ہوش کسی نے سنبھالا
تیرا نہیں تیرا کوئی دوش دوش
تیرا حسن ہی زبردست دست
لڑکیاں بھی ساری موجود تھیں لیکن وہ خاموش تھیں کیونکہ وہ حیران تھیں اور وجہ لالی تھی جو بات بات پر سیٹی مار رہی تھی
گانا ختم ہوا تو سب آکر بیٹھ گئے
‘ویسے تم کیا پاٹ ٹائم جاب کرتے ہو ڈھمکوں کی’ رواحہ نے ستائشی انداز میں عمر کو دیکھا
‘نہیں وہ تو بس ایسے ہی’ عمر نے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا
‘عمر تم نہ بہروز کی ڈھمکیوں کو زرا ڈھمکوں میں بدلو اتنے برے ڈھمکے لگاتا ہے یہ’ سحرش کا تو دل ہی خراب ہوگیا تھا
‘ایک بات بتاؤ تم لوگ آفس نہیں جاتے کیا’ لالی نے وجدان ریان اور بہروز سے پوچھا
‘جب دل کرتا ہے تب جاتے ہیں’ ریان نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا
‘تو کل سے ریگولر جانا شروع کرو’ لالی نے کہتے ہوئے ہاتھ جھاڑے
‘کیوں’ ان سب کی ایک ساتھ آواز نکلی
‘پہلی بات ہم تم سب سے رشتے میں بڑے ہیں اسلئے ہماری بات مانا کرو’ لالی نے گردن اکڑا کر کہا ‘اور دوسری بات تم لوگوں کا نکاح ہوچکا ہے ابھی شادی ہونے میں وقت ہے اسلئے کام دھندا کرو ورنہ ہم لڑکیاں نہیں دیں گے’ لالی نے صاف صاف لفظوں میں رخصتی سے منع کیا
‘لیکن میرا تو نہ کوئی رشتہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی نکاح’ بہروز سکون میں تھا لیکن باقی سب تھوڑا گھبرا گئے تھے
‘تمہاری پوکٹ منی فہیم چاچو سے کہہ کر بند کرواتے ہیں کہیں گے کہ یہ ساری پوکٹ منی اپنی گرل فرینڈ پر اڑاتا ہے اور چاچو کو تم سے زیادہ ہم پر یقین ہے’ لالی نے بھی دوبدو جواب دیا
‘تو منظور ہے’ لالی نے سب سے پوچھا سب نے جھکی گردنوں سے سر ہلایا
لالی نے نظر اٹھا کر دروازے کو دیکھا جہاں قرۃ بیگم اور ساجدہ بیگم کھڑی تھیں انہوں نے ہی لالی سے ان سب کو آفس بھیجنے کا کہا تھا کیونکہ یہ سب انکے ہاتھ آکر نہیں دیتے تھے اب وہ دونوں مطمئن تھیں
💜💜
‘یہ خدمات کا بخش کون کسے بخشے گا یہ تو خدا ہی جانے لیکن آپ نے ہمیں کیوں بلوایا یہاں اتنے لوگوں میں بلانا ہی تھا تو زرا اکیلے میں بلاتے’ سنینا نے آنکھ دبا کر کہا
‘رابیعہ خان کو جانتی ہو’ میر نے رابیعہ کی تصویر اسکے سامنے رکھی
رابیعہ کی تصویر نے سنینا کے چہرے کی ہوائیاں اڑائیں
‘نہیں’ اسنے صاف جھوٹ بولا
‘تو اسے تو جانتی ہی ہونگی’ میر نے اب لالی کی تصویر رکھی تھی سامنے
‘ہاں یہ تو ہمارے یونی کی ہے’ اس بار اس نے سچ کہا تھا لیکن آدھا
‘تو مس رابیعہ بھی تو آپکی ہی یونی کی ہیں’ میر نے آنکھوں کو ترچھا کرکے پوچھا
‘ہو گی لیکن میں نے نہیں دیکھا کبھی اسے’ سنینا نے اطمینان سے کہا
‘تو پھر یہ کیا ہے’ میر نے اسکی اور رابی کی ایک وڈیو اسے دکھائی جس میں وہ رابیعہ سے کافی فرینک ہوکر مل رہی تھی
‘مجھے یاد نہیں’ وہ لاپرواہ ہوئی
‘اچھا اچھا کوئی بات نہیں لیکن یہ یہ کچھ سمجھ نہیں آتا’
میر نے سنینا کی برتھ ڈے پارٹی کی پکس دکھائیں جس میں وہ دونوں ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں اور رابی اسے گفٹ دے رہی تھی اور وہ گفٹ کیا تھا میر اچھے سے جانتا تھا اسی میں 9mm گن تھی
‘آپ نے میرا ٹائم ویسٹ کرنے کے لیے بلایا ہے کیا’ وہ چڑتی ہوئی بولی
‘محترمہ زرا ٹھنڈ رکھیں کوئی بلی چوہا نہیں مرا ایک جیتا جاگتا انسان مرا ہے’ میر غرایا اور ایک ہاتھ ٹیبل پر مارا
‘کیا کون؟’ وہ حیران ہوئی
‘قتل ہوا ہے جنید فروز غزالی کا ملٹی نیشنل کمپنی کے ایم ڈی کا اور اس قتل میں جو جو ملوس ہے اسے تو میں بیچ چوراہے پر پھانسی لگاؤں گا’ اسکی آنکھوں میں بدلا تھا آگ تھی جنون تھا اور شاید کہیں دور تھوڑا دکھ بھی تھا
‘تو اس سب سے میرا کیا تعلق’ وہ پھر لاپرواہ ہوئی جب کے دل میں میر کی آنکھوں کا ڈر بیٹھ گیا تھا ایک خوف تھا جو ڈگمگا رہا تھا
‘دعا کرنا کہ اس سب سے تمہارا کوئی تعلق نہ ہو نہیں تم مجھے جانتی نہیں ہو’ وہ اٹھ کھڑا ہوا ٹیبل سے موبائل اور چابیاں اٹھائیں اور ایک نظر اسے دیکھا
‘میری نظروں سے کوئی بچ نہیں سکتا اگر تم بے قصور ہو تو یہیں رہ کر اپنی سچائی کا یقین دلاؤ گی’ وہ اسے قائل کررہا تھا یہ اپنے جال میں اسے پھنسا رہ اتھا یہ تو صرف میر جانتا تھا وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا
جبکہ سنینا کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا دل بری طرح کانپا تھا اسکا ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور ہونٹوں سے لگایا اور خود کو کمپوز کیا اور اپنا فون اٹھایا اور کسی کو کال ملائی
‘ایس ایس پی میر گیلانی جنید مرڈر کیس میں رابیعہ خان سے ہوتا ہوا مجھ تک پہنچ گیا تو سمجھو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے اسلئے محتاط رہو’ سنینا نے کچھ اور باتیں کرنے کے بعد فون کاٹا
💜💜
(دو ہفتے پہلے)
رابیعہ خان لاہور جانے کیلئے نکل رہی تھی اس نے سنینا کو بھی لاہور میں شفٹ کروادیا تھا ان دونوں کے تو فرشتوں کو بھی دور دور تک اندازہ نہیں تھا کہ وہاں لالہ رخ بھی ہے
رابیعہ نے اپنی ساری پیکنگ کرلی تھی وہ یہ گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے لاہور جارہی تھی بچا ہی کیا تھا اب یہاں اب اگر کچھ تھا تو وہ صرف لاہور میں تھا اس نے اپنے بزنس کی ایک اور برانچ کا افتتاح کرنا تھا لاہور میں جسکے سلسلے میں کئی بار عارف بھی جاچکا تھا اور اب وہ بھی جارہی تھی
وہ ائیرپورٹ پر تھی جب کسی نے اسکے منہ پر رومال رکھ کر اسے بے ہوش کیا تھا اور وہ جو چڑیل اور ناگن جیسے الفاظ سن چکی تھی اپنے لئے اس حملے سے نہیں بچ سکی تھی لیکن بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے اس شخص کو دیکھ لیا تھا اور پہچان بھی گئی تھی منہ سے ہلکی سی سرگوشی نما آواز ابھری
“اسابیل عثمانی”
💜💜
لالہ رخ نازش کے بچوں کے ساتھ فیملی پارک گئی تھی آیت اسکی گود میں تھی جبکہ ارمغان اسکی انگلی پکڑے چل رہا تھا
لائٹ پنک کرتی کے ساتھ بلو جینس سر پر سکارف کیے کرتی کے ساتھ والے دوپٹے کو گول گھما کر گلے میں ڈال رکھا تھا وہ معصوم سی گڑیا دو دو نمونوں کو اپنے ساتھ لے کر چل رہی تھی
‘آئیتریم تانی ہے لالی (آئسکریم کھانی ہے لالی)’ ارمغان نے آئسکریم ہاؤس کی طرف اشارہ کیا
‘پہلے بولنا تو سیکھ لے’ لالی نے اسکا مزاق اڑایا
‘آتا ہے مدھے بولنا’ وہ تو برا ہی مان گیا تھا
‘اچھا چلو آئیتریم کھاتے ہیں’ لالی نے اسی کے انداز میں کہا
‘ہیلو وعلیکم بھیا جی’ لالی نے اس آئسکریم والے کو اپنی طرف متوجہ کروایا
‘جی کیا’ وہ حیران ہوا
‘جی کچھ نہیں بس آپ ان دونوں کو ان کی پسندیدہ آئسکریم دے دیں بلکہ ایک ہمیں بھی دیں ‘ لالی نے آیت اور ارمغان کی طرف اشارہ کیا اور پھر ایک ٹیبل پر جاکر بیٹھ گئے
میر جو چند کونسٹیبلز کے ساتھ اسی پارک میں ایک کیس کے سلسلے میں آیا تھا وہاں لالی کو دیکھ کر ٹھٹھکا اور پھر جب نظر بچوں پر پڑی تو بات سمجھ میں آئی
‘اکیلے اکیلے آئسکریم کھانا گناہ ہے اسلئے ہمیں بھی کھلاؤ’ لالی اپنی آئسکریم کھانے کے بعد اب انکی آئسکریم پر آئی تھی
‘نو’ آیت اور ارمغان نے نہ میں سر ہلایا
‘یہ جو جس کے پیسوں پر عیاشیاں کررہے ہو نہ وہ ہمارے ہیں’ لالی نے چبا چبا کر کہا
‘جھوت می ماموں تے ہیں (جھوٹ میر ماموں کے ہیں)’ آیت نے اسے جھوٹا ثابت کرنا چاہا وہاں آتے میر نے بھی اسکی بات سن لی تھی وہ لالی کا جواب سننے کے لیے وہیں رکا
‘اوہ تمہارے میر ماموں نے آج تک ہمیں ایک روپیہ تو کیا ایک چوّنی تک نہیں دی یہ ہماری پوکٹ منی کے پیسے ہیں جو ہم نے جمع کرکے رکھیں ہیں’
لالی نے دل کی بھڑاس نکالی پیچھے کھڑے میر کو بے حد سبکی محسوس ہوئی وہ جو اسکے نام پر آئی تھی آج تک کبھی اس نے اس سے ایک روپیہ نہیں مانگا تھا کیا اسکی ضروریات نہیں تھیں
‘میم پیمنٹ کردیں’ آئسکریم پارلر کے ایک لڑکے نے آکر اس سے پیسے مانگے
لالی جو پہلے ہی غصّے میں بھری بیٹھی تھی پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی’کتنے ہوئے’
‘ایک ہزار چار سو روپے’ وہ بڑے اطمینان سے بولا
‘کیاااا ایک ہزار چار سو روپے کس بات کے’ وہ تو صدمے میں چلی گئی تھی
‘آئسکریم کے’ وہ لڑکا لالی کے تیور دیکھ کر ڈرگیا تھا
‘آئسکریم کے نام پر لوٹ رہے ہو تم معصوم لوگوں کو’ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی
‘میم دیکھیں ان بچوں نے جو آئسکریم کھائی ہے وہ مہنگی والی تھیں’ اس لڑکے نے صفائی پیش کی تو لالی نے ان دونوں آفتوں کو گھورا جو ابھی بھی بڑے مطمئن انداز میں آئسکریم کا صفایا کررہے تھے
میر وردی میں ملبوس تھا بڑے اطمینان سے چلتا انکے قریب آیا دونوں بچوں نے میر کو دیکھا تو لپک کر اسکے پاس گئے میر نے دونوں کے سر پر بوسہ دیا اور پھر اپنی شیرنی کے پاس آیا جو ابھی بھی لڑرہی تھی
‘کتنے پیسے ہوئے ہیں’ میر نے اپنا والٹ نکالتے ہوئے کہا لالی جو لڑنے میں مگن تھی میر کی طرف پلٹی
‘سر ایک ہزار چار سو روپے’ اس لڑکے نے کہا
‘میں دے دیتا ہوں’ میر نے پیسے نکالے تو لالی نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ تھا
‘آپ کیوں دیں گے آئسکریم آپ نے کھائی ہے جو آپ دیں گے’ لالی کا ارادہ اب شاید میر سے لڑنے کا تھا
‘میں دے دیتا ہوں اٹس نوٹ آ بگ ڈیل’ میر جانتا تھا اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے اسلئے آرام سے ٹہر ٹہر کر بات کرنے لگا
‘نہیں پیسے تو ہم ہی دیں گے ہم کسی کا احسان نہیں لینا چاہتے’ لالی نے کہتے ساتھ ہی اپنی جینس کی پوکٹ سے پندرہ سو نکالے اور ویٹر کو دیے اور باقی کے پیسوں کی اسے ٹِپ دی
ارمغان اور آیت کی طرف آئی تو وہ دونوں اپنا منہ اور ہاتھ گندے کرچکے تھے بلکہ میر کے کپڑوں پر بھی آئسکریم لگا چکے تھے
لالی نے ان دونوں کے ہاتھ منہ صاف کیے جب کے میر اسی کو ہی دیکھ رہا تھا
وہ انتہا کی خوددار تھی بات عزت پر آجائے تو انا کو بھی ٹھوکر مار دیتی تھی اسکا ضمیر اتنا مضبوط تھا کہ کوئی بھی اسے اپنے اشاروں پر نہیں چلا سکتا تھا
‘مراکبے میں چلے گئے ہیں کیا’ لالی کی آواز سے وہ حال میں لوٹا
‘کیوں’ میر نے پوچھا
‘کب سے گھورے جارہے ہیں لاہور کا فیملی پارک ہے یہ کراچی کا ہِل پارک نہیں’ لالی نے اسے شرم دلائی
‘اپنی بیوی کو ہی گھور رہا ہوں’ میر نے آرام سے کہا
‘یہ ہمیشہ ایسی باتوں پر ہی بیوی کیوں یاد آتی ہے’ لالی نے خطرناک تیوروں سے اسے گھورا
‘ماموں’ آیت کی آواز پر میر کا دل کیا اسے چوم لے صحیح وقت پر بچایا تھا اس نے اسے
‘چلو بھئی گھر چلیں’ لالی نے آیت کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا اور پھر ارمغان کو کرسی سے اتار کر کھڑا کیا
میر دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا تھا اسلئے ان لوگوں کو دیکھ نہیں سکا پارک گھر سے قریب تھا دس منٹ کا راستہ تھا پیدل چلنے میں
💜💜
اسابیل عثمانی
یہ کبھی بدلا ہی نہیں وہی عیاش بگڑا ہوا رئیس زادہ ہی رہا اس نے کؤثر کو گھر سے بھگایا نہیں تھا بلکہ اسکا کڈنیپ کیا تھا کیونکہ کؤثر کو تو کبھی اس سے محبت تھی ہی نہیں
اسابیل نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا لیکن وہ نہیں مانیں تھیں بس پھر وہ انا کا پجاری اس بات کو اپنی انا پر لے گیا اور کؤثر کو اگواہ کرلیا اور اسکو زیادتی کا نشانہ بنایا کؤثر کو اس بارے میں زرا علم نہیں تھا کہ اس سب کے پیچھے کون ہے
شبانہ بیگم سب جانتی تھیں سب سچ سارے جھوٹ سارے جرم اور سارے ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے انہوں نے
وہ جب اپنی عزت لٹا کر گھر پہنچی تھیں تو سب نے انہیں رکھنے سے انکار کردیا تھا لیکن انکا سگا بھائی ملک سے باہر تھا
ایسے میں زمان صاحب نے انہیں اپنے گھر کی چھت دی تھی اور بھائی ہونے کا مان دیا تھا کچھ عرصے بعد جب وہ پریگننٹ ہوئیں تو انکے لیے اسابیل عثمانی کا رشتہ آیا جو بھی تھا لیکن وہ محبت کرتا تھا ان سے
کؤثر نے شرط رکھی تھی شادی کی کہ وہ جب تک اس بچے کو جنم نہیں دیں گی تب تک شادی نہیں کریں گی اسابیل عثمانی بھی مان گیا تھا
کؤثر نے جب لالہ رخ کو جنم دیا تو انہیں سچائی کا علم ہوا تو اسنے یہ بات اپنے سگے بھائی کو بھی بتادی تھی اور یہ بات اسابیل بھی جان گیا تھا کؤثر اس کیلئے خطرہ بن گئی تھی
ابھی اس بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا شبانہ بیگم بھی نہیں
اسلئے اسابیل نے اسکی گاڑی میں بومب فٹ کروایا تھا اور اپنے تمام ڈاکیومنٹس کؤثر کے بھائی کے پاس رکھے تھے تاکہ مرنے کے بعد سب کو لگے کہ اسابیل عثمانی بھی ان کے ساتھ مرچکا ہے وہ تو لالی کو بھی مارنا چاہتا تھا لیکن شاید خدا کو کچھ اور منظور تھا لالی شبانہ بیگم کے پاس ہی رہ گئی تھی جب انکی گاڑی میں بومب بلاسٹ ہوا
اور اس بومب بلاسٹ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کؤثر اور اسابیل عثمانی مرچکے ہیں اور انکا بھائی لاپتا ہے سارے شک اس پر گئے تھے کہ بہن کی محبت میں اس نے اسابیل عثمانی کو ماردیا
لیکن شاید کؤثر کو اندازہ ہوگیا تھا انکے ساتھ کیا ہونے والا تھا اسلئے انہوں نے شبانہ بیگم سے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو انکی بیٹی کو وہ اپنی بیٹی بناکر پالیں اور اسے کبھی بھی یہ بات نہیں پتا چلنے دیے گا کہ وہ ایک ناجائز اولاد ہے
جاری ہے…………
