58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode (part 2)

منزلیں لاپتہ
ثمرین شیخ
لاسٹ ایپیسوڈ
دو سال بعد!!!!!
پاکستان
علینہ کی شادی ابرار سے چھ مہینے پہلے ہی ہوچکی تھی
اور صنم کی منگنی اخضر سے
سونیا کی موت کے بعد شائستہ بیگم کو پاگل پن کے دورے بڑنے لگ پڑے جن کا علاج چل رہا تھا مگر
تقریباً ایک سال پہلے شائستہ بیگم اپنی نگرانی میں بیٹھی نرس کا سر پھاڑ کر حویلی سے بھاگ گئیں تھیں انہیں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تھی مگر وہ نہیں ملیں
اور
زاویار اپنے دو سال پہلے ہوئے ایکسیڈنٹ کی وجہ ایک بازو سے معذور ہوچکا تھا جس کا علاج وہ امریکہ میں کروا رہا تھا ایکسیڈنٹ کے بعد جب اس نے اپنا چہرہ دیکھا تو خوف کا مارے اس کی چیخیں نکل گئیں دوسروں کو خوبصورتی پر جج کرنے والا اپنی خوبصورتی پر مغرور آج اپنا چہرہ شیشے میں نہیں دیکھ پارہا تھا
ڈاکٹرز نے بازو کی ریکوری کی امید دلائی تھی مگر فیس سرجری جان لیوا ہوسکتی تھی اب زارون کو ساری زندگی اسی چہرے کے ساتھ گزارنی تھی


پیرس!!!!!

جی ناظرین آج ہمارے سامنے ہیں مسز خان
بزنس کلاس کی ٹاپ ٹرینڈ
اتنی ینگ ایج میں اتنی سسیکس فل بزنس ویمین
جی تو مسز خان آپ نے اتنے تھوڑے عرصے میں اپنا نام بنایا
آف کورس آپ اتنے بڑے بزنس مین کی وائف ہیں تو کیا اس شہرت کے پیچھے مسٹر خان ہاتھ ہے یاں آپ کی محنت
اینکر کے سوال پر ساحر کے ماتھے پر بل پڑے وہی
حانم کے ایکپریشن پر سکون تھے
فرسٹ آف آل میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس کی وجہ سے میں آج یہاں ہو اور دوسرا آپ لوگوں نے تو سنا ہوگا کہ ایک کامیاب شخص کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر میری کامیابی کے پیچھے میرے خان کا ہاتھ ہے ان کا سپورٹ ہی تھا جو آج میں یہاں ہوں اپنے بابا کا خواب پورا کر رہی ہوں
حانم نے اپنے لفظوں سے اسے معتبر کیا ۔۔۔
اور بتائیں آپ نے اتنے بڑے ٹینڈر کمپلیٹ کیے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

مسز خان آپ یوتھ کو کیا پیغام دینا چائیں گی سپیشلی لڑکیوں کو جو اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہیں
یاں پھر اپنی زندگی سے کوئی ایکسپیرینس اینکر زور و شور سے حانم سے سوال کر رہے تھے

میری زندگی میں تین کٹھن راستے آئے
ریجیکشن ، موو اون اور سیکنڈ چانس
یہ وہ کٹھن راستے ہیں جس پر چلنے پر دل اور قدم دونوں ہی ڈگمگا جاتے ہیں مگر میں نے انہیں پار کیا کیونکہ میرے ہاتھوں کو میرے ہم سفر نے تھاما تھا جس نے کبھی مجھے ڈگمگانے نہیں دیا جس نے کبھی میری حوصلہ شکنی نہیں کی ہمیشہ یہ ہی کہا کہ تمہارا ساحر سائیں تمہارے ساتھ ہے
میں نورِ حانم اسعد حاکم
نور حانم ساحر حماد خان
نورِ ساحر ایک پیاری سی مسکراہٹ آئی
یہ کہوں گی اگر ایک عورت زاد بغیر کسی مجبوری کے تن تنہا ہی اپنے خواب پورے کرنے گھر سے نکل پڑے تو اسے اپنے راستے میں ملے ہر دوسرے مرد میں شکاری دِکھے گا اور خود شکار۔۔۔۔
مگر جب یہ ہی خواب کسی محافظ کہ حصار میں رہ کر پورے کرو گی تو کسی کی اتنی مجال نہیں ہوگی کہ کوئی تمہے آنکھ اٹھا کر دیکھے
محافظ صرف شوہر نہیں باپ اور بھائی بھی ہوتے ہیں
جب اپنے محافظ کے شانہ بہ شانہ چلنے کی ریس میں اس سے دو قدم آگے نکل آؤ گی تو نقصان تو تمہارا ہوگا نہ۔۔۔۔

مگر اگر تم خود ہی ایک قدم پیچھے چلو گی تو وہ ہمسفر تمہے اپنا کندہ دے گا اپنے ساتھ لے کر چلے گا اور پھر جب کوئی مصیبت آن ٹپکے گی تو وہ خود کسی مضبوط دیوار کی طرح تمہارے آگے کھڑا اس مصیبت کے سامنے ڈٹ جائے گا

محبتوں كے سفیر آءیں گے
كر یقین باضمیر آءیں گے
وہ سناتا ھے كب سے افسانے
ھم تو لكھی تحریر لاءیں گے
ظلمتوں كے حصار ٹوٹیں گے
كرنیں وہ بےنظیر لاءیں گے
ھم الٹ دیں گے شام كا منظر
شاہ بن كے اسیر آءیں گے
سید علی عباس

حانم جواب دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ساحر پر سکون سی مسکراہٹ لیے اس کے تھکے تھکے سے چہرے کو دیکھ رہا تھا
پھر آگے کو بڑھا
گارڈز نے بھی ان دونوں کے لیے راستہ صاف کیا
نو مور کوسٹنز
مسز خان صرف لاسٹ کوسٹن
آپ کی لو میرج ہوئی تھی کہ ارینج میرج
کسی منچلے اینکر نے پوچھا تو حانم بھی رک گئی
پھر مسکرا کر ساحر کو دیکھتی شرارتی لہجے میں گویا ہوئی
“فورسڈ میرج”
اتنی سے بات ساحر کے ہونٹوں پر بھی تبسم پھیلا گئی

حانم ساحر کے ساتھ گاڑی میں آکر بیٹھی
اللّٰہ سائیں
ساحر نے گاڑی کے شیشے پر کے اے سی فل تیز کیا
حانم شیشے بند ہونے کے بعد اپنا حجاب ڈھیلا کرتی سیٹ کے ساتھ اپنا سر لگاتی آنکھیں موند گئی
بہت تھک گئی ہو پہلے گھر چلیں ساحر نے اس کا ہاتھ پکڑا
اوہو ۔۔۔ حانم نے نفی میں سر ہلایا
نہیں ساحر سائیں عینی نے مجھے کچا کھا جانا ہے پہلے ہاسپٹل چلیں وہ تو کہہ رہی تھی میرے بغیر اپنے بے بی ہی نہیں دیکھے گی
حانم نے مسکرا کر اسے بتایا ۔۔۔
زی کی کال آئی تھی ٹریپلیٹس ہوئے ہیں تینوں ہی بیٹے ہیں
ساحر نے زارون کی کال کے بارے میں بتایا
واؤ ماشاء اللہ
اب تو مجھے بی ان تینوں کو دیکھنے کی آکسائیڈ منٹ ہو رہی ہے


ساحر اور حانم اس وقت پیرس کے بیسٹ ہاسپٹل میں موجود تھے جہاں ایک طرف بیڈ اور دوسری طرف ایک
بڑا سارا بےبی کاٹ پڑا تھا حانم فورا کاٹ کی طرف لپکی تو عینی اپنے ہونٹ باہر نکال گئی
ظالم عورت میں نے تمہارے انتظار میں بھی اپنے بچے بھی نہیں دیکھے اور تم مجھے ہی نظر انداز کر گئی
عینی کی روہانسی آواز پر حانم اپنی زبان ہونٹوں تلے دبا گئی
اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پیارا سا گڈا ساحر کی طرف بڑھایا اور خود عینی کے گلے لگ گئی بہت بہت مبارک ہو میری جان اللّٰہ سائیں نے اتنے پیارے بیٹوں سے نوازا ہے
تمہے بھی مبارک ہو بچوں کی آنی عینی نے بھی حانم کے گرد بازو باندھے
چلو ہٹو مجھے میرے بچے دکھاؤ ماں صدقے میں نے ابھی تک انہیں پکڑا بھی نہیں
تبھی کمرے میں۔ زارون داخل ہوا جس کے ہاتھ میں ڈھیر سارے بالونز اور چاکلیٹس تھیں جنہیں اس نے عینی کی طرف بڑھایا
تھینک یو سو مچ عینی اتنے خوبصورت تحفے کے لیے زارون نے بیبی کاٹ سے ایک بچہ پکڑ کر عینی کو دیا جسے اس نے نرمی سے تھام لیا عینی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے سرخ و سفید رنگت کے بچے کو دیکھا جس نے اپنی نیلی آنکھیں کھولیں پھر مسکرا کر آنکھیں موند گیا جیسے اپنی ماں کے لمس کو محسوس کیا ہو
عینی نے بے ساختہ اس کی نیلی آنکھوں پہ پیار کیا
ساحر نے بھی اپنے ہاتھ میں پکڑے بچے کو زارون کو تھمایا جس کی خود کی آنکھیں بھی نم تھیں دوسرا بچہ بھی اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھیں پٹر پٹر کھولے آس پاس دیکھ رہا تھا
عینی یہ دونوں آپس میں کتنے ملتے ہیں اور ان کی آنکھیں بھی تمہاری طرح نیلی ہیں مگر یہ دیکھو یہ تیسرا ان دونوں سے مختلف ہے اور آنکھیں بھی سیاہ ہیں حانم نے تیسرا بے بی عینی کے سامنے کیا جو واقع ان دونوں کی نسبت زیادہ شارپ تھا اور جاگ رہا تھا
کہیں میرا بچہ کو نہیں ایکسچینج ہوگیا عینی نے چونک کر کہا تو زارون کا دل چاہا اپنا سر پیٹ کے نہیں عین کیوں ہوگا ہمارا بچہ ایکسچینج
دیکھیں نہ زی اس کی آنکھیں نہ آپ کی طرح ہیزل ہیں نہ میری اور اپنے بھائیوں کی طرح نیلی
افف اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ یہ ہمارا بچہ نہیں ہے
اس کی آنکھیں اپنے دادا بو پر گئیں ہیں بابا کی آنکھیں بھی سیاہ تھیں زارون نے نم آنکھوں سے کہا۔۔۔۔
پھر ساحر نے تینوں کے کانوں میں باری باری آذان دی اور
ان کے نام تجویز کیے
ان دو نیلی آنکھوں والوں میں سے ایک کا نام زین اور دوسرے کا زرک اور سیاہ آنکھوں والے کا نام حانم نے ثمر رکھا تھا جو سب کو ہی پسند آیا تھا


چند سالوں بعد۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ باندھ کر اپنے سامنے کھڑے ڈیرھ فٹ کی ملکہ عالیہ کے آگے کھڑے تھے
جی ملکہ عالیہ
چار سالہ نورِ سحر
جس کی خفا خفا سی سرمئی آنکھیں اور پھولے پھولے گال
ان دونوں کو اس پر پیار کرنے پر اکسا رہے تھے
ان کا جرم اتنا تھا کہ آج دونوں ہی اپنی مصروفیات کی وجہ سے نور سحر کو عین کی طرف نہیں لے جا سکے۔۔۔
ساحر نے جھک کر اس کے پھولے گال پر پیار کرکے سوری کہا مگر مقابل شان بے نیازی سے اپنا گال رگڑ گئیں یہ خفگی جتانے کا مخصوص طریقہ تھا
اس بار حانم نے گال پر پیار کرکے سوری کہا
تو میڈم پھر اپنا گال رگڑ گئیں
اس بار دونوں نے ساتھ پیار کیا
سوری نہ نورِ سحر دونوں نے اپنے کانوں کو پکڑا
میں نلاج ہوں
(میں ناراض ہوں )نورِ سحر پھر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنے گال رگڑ گئیں
معاملہ گھمبیر ہے حانم نے ساحر کے کان میں سرگوشی کی تو ساحر نے اسبات میں سر ہلایا
دونوں نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اس ڈیرھ فٹ کی ملکہ عالیہ کو گدگدانہ شروع کردیا جس کی چیخیں کمریں میں گونجی
(اتھا تھا چھولیں نہیں ہو نلاج )
اچھا اچھا چھوڑیں نہیں ہو ناراض
دونوں نے اسے چھوڑ کر اس کے گال پر پھر پیار کیا اس بار نور سحر نے بھی گال نہیں صاف کیے
آپ مجھے نہیں لگ تے دیے نہ عین آنی تے دھر
(آپ مجھے نہیں لے کر گئے نہ عین آنی کے گھر )
مجھے زین ادا اور زرک ادا تے ساتھ تھیلنا تھا
نورِ سحر ابھی بھی تھوڑی تھوڑی ناراض تھی
صبح پکا بابا سائیں کی جان ساحر نے بے ساختہ اسے
بھینجا اس کی اور حانم کی تو جان تھی اس میں اور صرف ان کی ہی نہیں پاکستان میں اپنے ماموں خالہ دادا دادی نانی آغا سائیں سب کی ہی جند تھی وہ
اگر وہ عین کی دیوانی تھی تو عین خود نور سحر کی دیوانی تھی
زین اور زرک تو اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے
زارون کی بھی پری تھی اگر کوئی کھاڑ کھاتا تھا تو وہ تھا ثمر زارون تھا
سحر اور ثمر کی کبھی نہیں بنی تھی

پلومش نور سحر نے حانم اور ساحر دونوں کے آگے اپنا ننھا ہاتھ کیا تو دونوں ہی اس کی ننھی ہتھیلی چوم گئے پرومس چلو اب سونا ہے پھر تبھی صبح جلدی اٹھیں گے
۔۔۔۔


عین عین کہاں ہیں تمہارے فتنے صبح صبح حسب معمول زارون کی آوازیں اور ان تینوں کا چوہوں کی طرح کیچن میں عینی کے پیچھے چھپنا
کیا ہوا ہے زی
عینی جانتے بوجھتے زارون کو تپا گئی
آج نہیں بچتے یہ تینوں کہاں چھپ کر بیٹھے ہیں نہ میری بیلٹ مل رہی ہے نہ ٹائی نہ والٹ
زین زرک ثمر سامنے آجاؤ تینوں نہیں تو آج تمہاری سویٹ ہارٹ بھی نہیں بچا پائی گی تم لوگوں کو زارون کبھی فریج کے پیچھے تو کبھی بڑے والے کیبنیٹ کھول کر ان تینوں کو ڈھونڈ رہا تھا جب تینوں دوڑتے ہوئے زارون کو ٹکر مارتے
“سویٹ ہارٹ سیو اس”
“سویٹ ہارٹ سیو اس” کا نعرہ لگاتے عین کی آغوش میں چھپے مگر بچارا زارون ان تینوں کی ٹکر سے لڑکھڑایا جس کی وجہ سے شلف پر پڑے باؤل پر زور سے اس کا ہاتھ لگا اور باؤل میں پڑا خشک آٹا زارون کو کسی ہارر مووی کی چڑیل کی طرف سفید کر گیا
ہاہاہہاا زارون کو اس حالت میں دیکھ کر عین سمت تینوں بچوں کے قہقہے گونجے میں ابھی بتاتا ہوں زارون کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ چاروں وہاں سے لان کی طرف دوڑے
اب کہاں جاؤ گے تم لوگ
زارون نے عین شین اور زرک کو پکڑ لیا
سوری زی سوری عین نے زرک اور زین کو خود میں چھپایا
سویٹ ہارٹ واٹر پائپ کے پاس کھڑے ثمر نے عین کو آواز دی اور پانی چلا کر زی کی طرف کردیا
اور دوڑ کر عینی کے پاس گیا زی اب بھیگ تو چکا ہی تھا اس لیے پانی کا پائپ ان چاروں کی طرف کرکے انہیں بھی آپ ے ساتھ ہی بھگو گیا
لان میں ان پانچوں کی کھلکھلاہٹیں گونج رہیں تھیں جو سب کچھ بھلائے پانی میں بھگو رہے تھے ۔۔۔۔۔


سحر صاحبہ مشکل سے سوئیں تھیں
حانم اپنے اور ساحر دونوں کے لیے کافی لے کر ٹیرس میں آگئی جہاں ساحر جھولے پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا
یہ لیں ساحر سائیں
حانم نے کپ اس کی طرف بڑھایا
ساحر نے بھی کپ پکڑ کر اس کے لیے جگہ بنائی
حانم نے گہری سانس لے کر اس خوشبو میں بسی ہواؤں کو خود میں انڈیلا
تھینک یو !!!!
حانم نے چاند کی طرف دیکھ کر کہا
کس لیے ساحر نے بھی نظریں چاند کی طرف مرکوز کر دیں
میرے ساتھ اس لاپتہ منزل کے مسافر بننے کے لیے
مجھے میری منزل تک پہنچانے کے لیے
مجھے مان اور عزت دینے کے لیے
مجھے محبت دینے کے لیے
میری زندگی میں آنے کے لیے
حانم نے اس کے شانے پر سر رکھا
اچھا ان سب کے لیے تو پھر تمہارا بھی تھینک یو ساحر نے محبت سے چور لہجے میں کہا
کس لیے ؟؟
میرا سکون بننے کے لیے
میری روح بننے کے لیے
میرا سفر بننے کے لیے
یہ بات تو تہہ تھی شاہد حانم ساحر سے ان مان بھری باتوں میں نہیں جیت پائے گی
مگر یہاں کمپیٹیشن تو نہیں تھا
یہ تو زندگی تھی
ابھی وہ کوئی اور بات کرتے اندر سے فل والویوم میں کارٹون کی آوازوں کے ساتھ نورِ سحر کی کھلکھلاہٹوں کی
آوازیں بھی آرہی تھی مطلب صاف تھا ملکہ عالیہ جاگ چکی ہیں
دونوں اپنی کافی وہی چھوڑ کر اندر کی طرف دوڑے
جہاں ان کی جند جان اپنی شرارتوں سے ان کی زندگی حسین بنانے والی تھی
زندگی حسین تھی
زندگی حسین ہے اگر غم کو بھی اسی طرح شکر اور صبر کے ساتھ گزارو جس طرح خوشی کے موقع کو گزارتے ہو ۔۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔