Rate this Novel
Episode 23
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 23
ثمرین شیخ
تم ہو وہ لڑکی جس کے آگے زاویار جھک گیا
اپنا ایک گھنٹہ زمین پر ٹکائے زاویار آج حانم سے اپنی محبت کا اعتراف کر رہا تھا ۔۔
حانم میں جتنی ہمت تھی اس نے اپنے دائیں ہاتھ کا تھپڑ زاویار کے منہ پر جڑا
زاوی ابھی اس کے ایک تھپڑ سے نہیں سنبھلا تھا کہ دوسرا تھپڑ حانم نے اس کے بائیں گال پر رسید کیا
ن۔۔ور
نورِ ساحر نام ہے میرا تمہاری اتنی اوقات کہ تم مجھے پرپوز کرو میرا دل کرتا ہے تمہیں سولی پر لٹکا دوں گھٹیا انسان بھگوڑے تمہاری تو۔۔۔۔۔
یس یس !! یس
کراؤڈ کے یس یس کے شور پر حانم ہوش کی دنیا میں واپس آئی
نور پلیز
ایک گھنٹہ زمین پر ٹکائے زاویار ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا
یہ کیا طریقہ ہے مسٹر زاویار
نور میں تم سے محبت کرتا ہوں اور اس بات کا میں پوری دنیا میں اعلان کردینا چاہتا ہوں
حانم نے آس پاس دیکھا ایک آدھ لوگ ان کی ویڈیو بھی بنارہے تھے
مسٹر زاویار کسی عزت دار لڑکی کو پرپوز کرنے کا یہ طریقہ ہے حانم بھڑک اٹھی
نہیں نور میں تمہاری بہت عزت کرتا ہوں زاویار سیدھا کھڑا ہوگیا
مسٹر زاویار ایک بات یاد رکھنا اگر دو ہم دونوں کی کوئی کپل فوٹو سوشل میڈیا میں ائی نہ تو تم میرا چہرہ دیکھنے کے لئے ترس جاؤ گے
یہ سب رسکی تھا حانم نے ہوش سے کام لیا
ن۔نہین نہیں جیسا تم کہو گی ویسا ہی ہوگا نور جو تم
کہو گی
زاویار نے با قائدہ ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے ویڈیو ڈیلیٹ کروائی۔۔۔
نور پلیز مجھے بتاؤ تمہارا کیا جواب ہے
اچھا اور میں کہوں میرا جواب نہ ہے تو حانم نے پراسرار لہجے میں پوچھا
تو میں تمہاری نا کو ہاں میں بدلنے کے لئے کچھ بھی کروں گا زاویار نے جیسے اس کا چیلنج ایکسیپٹ کیا
ok than wait for me to agree
ٹھیک ہے پھر میری رضامندی کا انتظار کرو
مگر اس کے کچھ رولز ہیں حانم نے احسان کرنے والے انداز میں کہا
کیسے رولز ؟؟ زاویار نے چونک کر کہا
سب سے پہلے تو تم مجھے آفس میں بالکل تنگ نہیں کرو گے ہم ویسے ہی رہیں گے جیسے ابھی ہیں
دوسرا یہ فضول کے لنچ ڈنر تو بالکل بھی ارینج کروگے
اور آج جو احمقانہ حرکت تھی وہ تو ہر گز نہیں
حانم کا لہجہ عجیب بے زاری لیا ہوا تھا مگر زاویار تو اس کا لہجہ سرے سے ہی فراموش کیے ہوئے تھا
مجھے منظور ہے !!!
ہممم اوکے دین بیسٹ اوف لک مسٹر میر زاویار
تمہاری اولٹی گنتی شروع ہوتی ہے
اسے وش کرکے دوسری بات دھیرے سے بڑبڑاتی وہاں سے نکلنے کے پر تولنے لگی
میں چھوڑ دیتا ہوں زاویار بھی اس کے پاس آیا
آپ آپ میرے شوفر بھی بنے گے حانم نے بظاہر ہنس کر کہا
نہیں وہ زاویار خجل ہوگیا ۔۔۔
حانم اپنے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو اسے کیچن سے کھٹ پٹ کی آواز آئی ایک لمحے کے لیے حانم کو چوڑ کا خیال آیا لمحے کے ہزارویں حصے میں حانم نے کی ریک کے نیچے پڑے ڈیکوریشن پیس کو ہاتھ میں تھاما اور جلدی سے کیچن کی طرف بڑھی اس سے پہلے وہ بھاری بھرکم شو پیس سے ساحر کا سر پھاڑتی ساحر نے ایک ہی جست میں اس کا ہاتھ تھام لیا
نور!!!
ساحر سائیں
آہ۔۔۔۔۔ اللہ میں تو ڈر ہی گئی تھی
حانم نے شو پیس کیچن کے شیلف پر رکھا خود شیلف سے ٹیک لگا کر گہرے گہرے سانس لینے لگ پڑی
خود کو کمپوز کرنے کے بعد حانم نے ساحر کے ہاتھ پانی کا گلاس پکڑا جو اس نے حانم ہی کے لیے بھرا تھا
بیٹھ کر پیو
اففف پتا میں کتنا ڈر گئی کہ پتا نہیں کون گھس گیا میرے فلیٹ میں حانم نے کرسی میں بیٹھتے ہوئے کہا
خیر آپ یہاں پر کیا کر رہے تھے
نکاح کے بعد سے حانم اور ساحر کے پاس اپنے اپنے فلیٹ کے علاوہ ایک دوسرے کے فلیٹ کی چابی بھی موجود تھی ۔۔۔
میں تمہارا انتظار کر رہا تھا پھر سوچا کیوں نہ پاستہ بنا لیا جائے پہلے تو تم زبردستی بنواتی تھی آج میں نے بنالیا
ویسے بھی میں نے لنچ ٹھیک نہیں کیا تھا اور اب تو ڈنر ٹائم ہوگیا
خیر لنچ سے یاد آیا تم تو نور العین کے ساتھ لنچ کرنے گئی تھی کیسا گزرا دن تمہارا
م۔میرا ۔۔ہم اچھا گزرا دن
انجوائے کیا حانم نے نظریں چرائیں ان فیکٹ میرا پیٹ تو بہت زیادہ بڑھ گیا ہے مجھے نہیں لگتا پاستے کے لیے گنجائش ہوگی
حانم اس سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی
کوئی بات نہیں پھر تم جا کر ریسٹ کرو میں سب سمیٹ کر فلیٹ لاک کرکے چلا جاؤ گا ۔۔
آپ اسے ڈش آؤٹ کریں میں آئی
حانم فورا کمرے کی طرف بڑھی
باتھ لے کر واش روم سے باہر آئی آج کے واقع نے اس کے اعصاب جھنجھلا دئیے تھے اوپر سے اس کا ساحر سے جھوٹ بولنا شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر وہ کتنی ہی دیر وہ انہیں باتوں کو سوچتی رہی سب سے بڑا تو اسے ساحر سے جھوٹ بولنے کا گلٹ تنگ کر رہا تھا
ہوش تو اسے تب آیا جب اپنے فلیٹ کا دروازہ لاک ہونے کی آواز آئی
بے دھیانی میں حانم کی نظر گھڑی پر پڑی وہ گھنٹے سے شیشے کے سامنے کھڑی تھی
وہ فوراً کمرے سے باہر نکلی
پاستہ ڈش میں ڈھکہ ہوا پڑا تھا
ساحر سائیں شٹ !!! حانم تم کیسے کر سکتی ہو ساحر سائیں کے ساتھ ایسا
کیا وہ ناراض ہوگئے یک دم حانم کا دل اداس ہوا
وہ اپنے کمرے میں آکر چت بستر میں گڑی ایک آنسو اس کی آنکھ سے ہوتا اس کے نم بالوں میں جذب ہوگیا
ساحر کافی دیر حانم کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کے حانم کا نظریں چرانا بھی محسوس کر چکا تھا جب کافی دیر بعد بھی حانم باہر نہیں آئی تو ساحر کھانا ڈھانپ کر اس کے فلیٹ کو لاک کرکے اوپر آگیا
بھوک تو اڑ ہی چکی تھی اس لیے چپ چاپ آکر بستر پر دراز ہوگیا دماغ میں ہزاروں باتوں کے ساتھ شکوے نے بھی حنم لیا مگر دل سے ایک ہی آواز آئ تھی
نورِ ساحر تمہاری ہے
صبح حانم کی جلد ہی آنکھ کھل گئی تھی کچھ سوچ کر فورا بستر سے اٹھی اور کیچن کی طرف بڑھی
ساحر سائیں آپ کو تو منا ہی لوں گی
کیا ناشتہ بناؤ حانم نے فورا یو ٹیوب اون کیا
اففف اللّٰہ کتنے اوکھے اوکھے ناشتے ہیں
بلا ساحر سائیں کو کیا پسند ہوگا حانم نے اپنے ہاتھ کی انگلی اپنی تھوڑی کے نیچے رکھ کر سوچنے والے انداز میں کہا
ہاف فرائی یگ اور ایواکاڈو ٹوسٹ
حانم اللّٰہ کا نام لے کر شروع ہوجا ہو کین ڈو اٹ
بریڈ پر بٹر لگا کر اسے ٹوسٹرمیں ڈالا اور فریج سے ایواکاڈو
نکال کر اس کے سلائس کرنے لگی
اوو یہ تو ایزی تھا نور ساحر بہت جلد تم بھی ایک بہترین شیف بنو گی
اب ایگ کی باری
ہائے اللہ یہ بس قطرہ سا اوئل ڈالنا ہے پین میں حانم نے ہاف فرائی ایگ کی ویڈیو دیکھ کر بولا
چلو دیکھ لیتے
ارے یہ تو دو قطرے ہوگئے کچھ نہیں ہوتا خیر ہے حانم نے سر جھٹک کر شلف سے انڈا پکڑا
اللّٰہ خیر اللہ کا نام لے کر انڈا پین میں ڈالا سر کرکے چند چھینٹیں اس کے ہاتھ پر گڑی
اللہ سائیں ماما سائیں حانم نے بے ساختہ کہا
آفووو پھر گہرا سانس لے کر اپنے کام جھٹ گئی
فائنلی ایک گلاس میں جوس ڈال کر اس نے ٹرے میں رکھا
جہاں ہاف فرائی ایگ کے ساتھ دو بٹر ایواکاڈو ٹوسٹ رکھے ہوئے تھے
حانم ٹرے اٹھا کر اوپر والے فلیٹ کی طرف بڑھی
ساحر کے فلیٹ کے دروازے کے باہر کھڑی ہوکر وہ چابی سے دروازہ کھولنے لگی جب وہاں سے جیک گزرا
حانم نے ترچھی آنکھ کر کے جیک کو دیکھا پھر اپنا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر اپنا سر ہلا کر اسے ڈرایا
بے چارہ جیک دروازہ کے ساتھ لگتا گرتا پڑتا وہاں سے دوڑا
ہاہاہاہا حانم ساحر کے فلیٹ میں داخل ہوئی
واؤ ساحر سائیں تو بہت نفاست پسند ہیں صاف ستھرے فلیٹ کو دیکھ کر حانم نے کہا
حانم جھجھکتی ہوئی ساحر کے کمرے کی طرف بڑھی اندر وہ اڑا تڑچھا لیٹا ہوا تھا
ساحر سائیں آٹھ جائیں آفس نہیں جانا
حانم نے آواز دی مگر جواب ناداد
ساحر سائیں حانم نے اب زرا آونچی آواز دی
مگر اب بھی وہاں سے کوئی حرکت نہیں ہوئی
حانم نے اس کے بازو سے ہلایا ساحر سائیں آٹھ جائیں آفس نہیں جانا
حانم اسے ہلا کر وہاں سے ہٹنے لگی جب ساحر نے اس کا ہاتھ پکڑا
سس۔۔۔ اور حانم کی سسکی پر ایک دم اٹھ کر بیٹھا اپنے سامنے کھڑی حانم کو دیکھ کر آنکھیں جھپکی پھر اس کے چہرے پر درد کے آثار دیکھ کر اثر نے حانم کا ہاتھ چھوڑا
وہ تو اس سب کو خواب سمجھ رہا تھا
سوری
مگر اس کا سرخ ہوتا ہاتھ دیکھ کر تشویش میں آیا
یہ کیا ہوا ہے نور اب زرا نرمی سے ہاتھ تھامہ
افف ساحر سائیں اسے چھوڑیں اور یہ لیں ناشتہ میں نے خود بنایا ہے
پکڑیں کہیں ٹھنڈا نہ ہو جائے
حانم نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی ٹرے ساحر کے سامنے کی
ساحر خاموشی سے حانم کو دیکھ رہا تھا
حانم اس کی خاموشی نوٹ کرکے اداس ہوئی
آئی ایم سوری ساحر سائیں مجھے کل ایسا نہیں کرنا چائیے تھا آپ نے ویٹ ۔۔۔۔
ابھی حانم اور کچھ بولتی ساحر نے سائیڈ ٹیبل کے دراز میں پڑے فرسٹ ایڈ باکس میں سے برنال نکال کر حانم کے ہاتھ پر لگائی
تم کتنی لاپروا ہو نور ساحر اپنا ہاتھ بھی جلا لیا اور اوپر کچھ لگایا بھی نہیں
حانم ایک دم خاموش ہو گئی
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
