Rate this Novel
Episode 2
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 02
ثمرین شیخ
حانم کو جب ہوش آیا تھا وہ اپنے بستر پر موجود تھی ابھی بھی اسی سرخ جوڑے میں ہی تھی
بھوری آنکھیں اوپر دیوار پر لگے پنکھے کو بلاوجہ ہی گھور رہی تھی اور چہرہ بالکل سپاٹ
بیڈ سے تھوڑے سے فاصلے پر کرسی پر ایک وجود بیٹھا تھا جو یقیناً میر حاکم سائیں ہی تھے
بنا پلکے جھپکے مسلسل ایک ہی جگہ دیکھنے پر حانم کی آنکھوں پر مرچیں لگنے لگ پڑی ایک آنسو اس کی بائیں آنکھ سے نکل کر کنپٹی سے ہوتا اس کے بھورے بالوں میں کھو گیا
حانم درد سے پھٹتے سر کے ساتھ بیڈ سے اتری اور خاموشی سے واش روم کی جانب بڑھ گئی
میر حاکم کو اپنی “نورے” کا یو نظر انداز کرنا دکھ میں مبتلا کرگیا
مگر وہ بھی خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے چلے گئے
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر
راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے۔۔۔۔۔
دو دن ہوگئے تھے حانم بالکل کمرے میں بند ہوکر رہ گئی سب ہی پریشان تھے خاص طور پر ثمینہ بیگم حانم اور حالہ دونوں کے آگے شرمندہ تھیں اور زاویار کو بھی کہیں دفعہ فون ملا چکی تھی مگر وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہورہا تھا
حانم کی حالت کے زیر نظر سب اسے وقت دینا چاہتے تھے اس لیے اسے زیادہ تنگ نہیں کیا یہ کوئی چھوٹی موٹی بات تو تھی نہیں
ملازموں میں بھی حانم کا ہی ٹوپک سرگرم رہتا کوئی اس کے لیے دکھی تھا تو کسی کو تفریح کے لیے موضوع مل گیا تھا
حالہ بیگم بھی غم کی کرچیاں دل میں سمیٹے لوگوں کی ہمدردی میں چھپے طعنے ضبط سے برداشت کر رہی تھی
کتنے سفاک جملے تھے لوگوں کے کہ
ماں بھری جوانی میں بیوہ ہوگئی اور بیٹی نکاح کے چند منٹ بعد ہی طلاق یافتہ
حانم !!!! حالہ بیگم حانم کے کمرے میں آئی جو اپنے بابا سائیں کی تصویر کو سینے سے لگائے لیٹی تھی
حانم میرا بچی تھورا سا کھانا کھالو
مما مجھے بھوک نہیں ہے
حانم تم نے کل کا دودھ کا گلاس پیا ہے تمہاری طبیعت خراب ہوجائے گی میری جان
نہیں لگ رہی بھوک مما کیا کرو آپ اس میں بھی زبردستی کریں گی
آپ پلیز دروازہ بند کر کے جایئے گا
حانم !!! حالہ بیگم کی آواز بھر آئی میرا کیا قصور ہے حانم بس یہ ہی خواہش تھی کہ مرنے سے پہلے تمہاری خوشیاں دیکھ لوں تم شادی کے بعد میری آنکھوں کے سامنے رہو
لوگوں کی اپنی بیوگی پر باتیں سن سن کر میں تھک چکی تھی حانم مگر شاہد تمہاری خوشیوں کو میری ہی نظر لگ گئی
حانم تڑپ اٹھی اور ان کے گلے لگی نہیں ماما سائیں آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں
یہ سب میرے نصیب میں لکھا تھا میں ہی پاگل ہوں جو ابھی تک دکھ منا رہی ہوں
منہ تو وہ چھپائے جس کی غلطی ہے
آپ بتائیں کیا بنا کر لائیں ہیں
واؤ میری پسندیدہ بریانی
چلیں اب اپنے پیارے ہاتھوں سے کھلا دیں حانم نے آنکھوں کو جھپک جھپک کر ان میں آئی نمی کو اندر دھکیلا
حانم آغا سائیں بہت پریشان ہیں نہ کھانا کھا رہے ہیں نہ دوائی لے رہے ہیں
حانم ان کی طرف اسبات میں سر ہلاتی کمرے سے باہر نکل گئی
حانم کے کمرے سے باہر نکلتے حالی بیگم نے بیڈ پر اسعد سائیں کی تصویر اٹھائیں
سائیں بہت بڑی زمہ ساری سونپ کر چلے گئے ہیں آپ میں تو آپ کے پاس آنے کی خواہش بھی نہیں کر سکتی
حانم آغا سائیں کے کمرے میں آئی
بیڈ سے تھوڑے سے فاصلے پر کرسی پر حاکم سائیں بیٹھے ہوئے تھے
ہمیشہ کی طرح میر حاکم سائیں کے گھٹنوں پر ہاتھ دھرے ان پر پیشانی ٹکائے آنکھیں موند گئی
نورے!!!!
میر حاکم سائیں اپنے گھٹنوں پر وزن محسوس کرکے جاگے اپنی نورے کو اس حالت میں دیکھ کر لب بھینج گئے
نورے!!!
مگر اس بار بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا
نورِ حانم!!!! خوف کے زیر اثر حانم کے سر پر دھرا ان کا ہاتھ کانپا
ان کی خوفزدہ آواز سن کر نور تلخی سے مسکرائی
دادا سائیں!!!
میرا بچہ مجھے معاف۔۔۔۔
دادا سائیں آپ کو پتا ہے یہ تحکم یہ غصہ یہ غرور ہمیں وراثت میں ملا ہے آنکھیں ابھی بھی بند تھیں
جیسے زاویار!!!! ۔۔۔۔۔
سائیں لگانے کی زہمت نہیں کی گئی
زاویار کے اندر آپ کے آگے نہ جھکنے کی انا ۔۔۔۔
آپ کی برابری کرنے کا جنون ۔۔۔۔۔
(پر میں کیوں پس گئی اس میں )دل کی دہائی
آپ کے اندر ہمیں باغی بنانے کا غرور ۔۔۔۔۔۔
میر حاکم سائیں کے گھٹنے پر اپنا سر رکھے ان سے ہی خفا ہوئے شکواہ کر رہی تھی
نورے!!!
تو پھر آپ نے کیسے سوچ لیا میں معاف کردوں گی اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو میں بھی اسی خاندان کا خون ہوں اور مجھ میں بھی انا ہے
بہت ہوگیا سوگ اب میں اپنے خواب پورے کروں گی
مگر اس بار بند دروازے میں نہیں کُھلی فضاؤں میں
صحیح کہتے تھے سب وہ بہت بہادر تھی۔۔۔۔
تھی…. تو کیا ،،،،،،
تھی تو ایک لڑکی نہ
صنف نازک !!!
مگر اب بس نہ تو وہ لوگو کے فضول طعنے سنے گی اور نہ ہی ان کی ہمدردی میں کی گئی باتیں
اب وہ ہوگی اور اس کا خواب جس کو پورا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا
میں کھانا بھیجواتی ہوں دادا سائیں آپ دوائی وقت پر کھالیجئے گا
زمین سے اٹھ کر وہ دروازے کی طرف بھری
میر حاکم سائیں کو نورے کی پائل کی آواز دور جاتی ہوئی محسوس ہوئی
وہ اس سے یہ نہ پوچھ سکے کہ آج انہیں دوائی وہ خود نہیں کھلائے گی
لاڈ سے !!
سختی سے !!!
حانم باہر لان میں آگئی سیاہ سادے سی شلوار کمیز میں اس کی دودھیا رنگت دمک رہی تھی بھوری آنکھیں ہلکی ہلکی سرخی مائل ہوئی دلکش لگ رہی تھی
حانم حویلی کے وسیع لان میں پیچھے حصے بنے شیلٹر کے نیچے آگئی یہاں زیادہ حویلی کی خواتین کا آنا جانا تھا
لان کے بیچ و بیچ بنا یہ شیلٹر دھوپ اور بارش سے بچانے کے لئے تھا اور بیٹھنے کے لیے بھورے رنگ کی کرسیاں اور ٹیبل لگائے گئے تھے
حانم نے ہاتھ بڑھا کر ہوا میں گھلی بارش کی نمی کو محسوس کیا بارش رفتہ رفتہ تیز ہونے لگی ہوا کے تیز جھونکے اسے شال کو سختی سے اپنے گرد باندھنے پر مجبور کرگئے
حانم دو قدم چلتی کھلے آسمان کے نیچے آگئی بارش کے شبنمی قطرے اسے فوراً بھگونے لگ پڑے
بارش کے قطرے اس کی بھوری آنکھوں سے بے مول ہوتے نمکین پانی کے قطروں کے ساتھ مل کر ان کا بھرم رکھ گئے
تیری دنیا سے ربا یہ صلہ ملا ہے
خوش رہیں خدائی تیری تجھ سے نہ گلا ہے
جی لوں گا میں کسی بھی طرح دل کو سمجھائے
بارشوں میں رو لوں گا میں آنسو چھپائے
کوئی نہ ستائے مجھے کوئی نہ ستائے
تو رنگ مولا رنگ دے نصیباں مارا ہو
ہے جگ خودغرض بڑا
میں جگ سے ہارا ہوں
ان بارشوں میں کھوئی وہ اپنی اب تک کی زندگی یاد کرنے لگ پڑی
وہ بچپن میں اپنے بابا سائیں کی موت کے بعد سے سب سے زیادہ دادا سائیں کے قریب ہوگئی تھی
اور بچوں میں ساحر سائیں کے ساتھ اس کی گہری دوستی تھی زاویار تو دو ماہ بعد ہی اپنی خالہ کے پاس کینیڈا چلا گیا تھا اسے باہر پڑھنا تھا اس لیے اس سے کبھی بات ہی نہیں ہو پائی ساحر پچپن سے ہی روڈ نیچر کا تھا مگر اس کی بھی صرف حانم سے ہی بنتی اور کوئی نہ تو اس سے بات کرتا تھا نہ ہی خود ساحر سائیں کو شوق تھا ۔۔۔۔
وہ نورا صنم علینہ سب کتنا کھیلتے تھے
اس کی شرارتیں آغا سائیں کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے معاف کردیں جاتی
بچپن میں ایک دفعہ حانم نورا صنم اور علینہ کے ساتھ
اپنے گاؤں کے باغ دیکھنے گئی تھی
وہ تینوں تو پھلوں اور پھولوں سے بڑھے باغ کو دیکھ کر اس کی خوبصورتی میں ہی کھو ہوئی تھی جبکہ حانم کا الٹا دماغ کچھ اور سوچ رہا تھا
ہانی کیا کر رہی ہو علینہ نے اسے اپنی شال کے نیچے سے گلیل نکالتی دیکھ کر پوچھ اس سے پوچھا
یار بھوک لگ رہی ہے کیوں نہ کچھ پھل کھا لیے جائیں
تینوں اس کی مسکین صورت دیکھ کر چونکیں
حانم بی بی نہ کریں کیوں سانس سوکھا رہیں ہیں
نہیں نہیں آدی سائیں مالی کاکا آگئے تو ڈانٹ پٹے گی
کس میں اتنی ہمت میر حاکم سائیں کی پوتی کو ڈانٹے
میں نورِ حانم اسعد حاکم سائیں ہوں حانم نے گردن اکڑا کر کہا
حانم کے اتنا لمبا نام بولنے پر دونوں نے مسکراہٹ دبائی
حانم نے گلیل سے سیدھا نشانہ درخت پر لٹکے رسیلے آم کی طرف کیا اور نشانہ لگتے ہی آم زمین پر جا گڑا
واہ آدی سائیں آپ کا نشانہ کتنا اچھا ہے
یے نہ ساحر سائیں سے زبردستی سیکھا ہے میں نے
حانم نے ایک اور نشانہ کیا مگر اس بار وہ آم کے قریب سے گزرتے درخت کے پچھلے حصے میں بندھے کتے کی آنکھ پر لگ گیا
بھاؤ بھاؤ کتے کی درد سے تڑپتی دھار پر حانم بھی اچھلی کتا تیز رفتاری سے حانم کی طرف لپکا مگر بھیچ میں ہی بڑا پتھر کھا کر زمین پر گڑا
حانم نے دیکھا ساحر ہاتھ میں بڑے بڑے پتھر پکڑے کتے کو ان سے دور بھگا رہا تھا
تینوں لڑکیاں ہی ساحر کے پیچھے چھپی ہوئی تھیں
دوسرے پتھر پر ہی کتا وہاں سے بھاگ گیا
ساحر ادا سائیں نورا صنم کے ساتھ ساتھ کا بھی گلا خشک ہوا
مگر نورِ حانم کتے کے دور جانے سکون کی سانس لیتی ساحر کے پاس آئی
ساحر سائیں آپ کو کیسے پتا لگا ہم یہاں ہیں
نورِ حانم کے اتنے پر سکون انداز میں پوچھنے پر وہ سر جھٹک کر رہ گیا
میں تم ۔۔۔۔تم لوگوں سے قطے غافل نہیں ہوں
چلو اب حویلی اور آج کے بعد اکیلی مجھے ادھر نظر نہ آؤ اس کی آواز میں سختی تھی
جی وہ تینوں حقیقتاً سہمی ہوئی تھی
تم بھی وہ نورِ حانم کی جانب دیکھ کر بولا مگر اب آواز میں سختی نہیں تھی مگر وہ جواباً
اپنی بھورے آنکھیں مٹکا گئی
تقریباً شام کا وقت تھا گاؤں کے لوگوں کو زیادہ تر جلدی سونے کی عادت تھی اس لیے سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے
گھر کے باہر لگی لال ٹینوں کی مدہم سی روشنی میں ایک عکس نمودار ہوا لال گھوگھنٹ میں وہ عکس اس وقت خوفناک لگ رہا تھا اس کے پیروں سے چھن چھن آتی پائل کی آواز ماحول کو اور خوفناک کر رہی تھی
صغراں ماسی اور اس کا بیٹا اپنے چھوٹے سے برآمدے میں اس منظر کو دیکھ کر چیخیں مارنے لگے
چڑیل چڑیل آس پاس کے لوگ بھی اس کی آواز سن کر ادھر اکٹھے ہوگئے
مگر تب تک وہ وجود وہاں سے ہوا کی طرح غائب ہوگیا
سردار سائیں میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے میرے بیٹے کی قسم میں نے سرخ گھونگھٹ والی چڑیل کو اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس کی پائل
صغراں ماسی نے جھرجھری لی
دادا سائی۔۔۔۔۔ نورِ حانم جو ان کے کمرے آنے لگی تھی وہقں صغراں ماسی کو اپنے بیٹے کے ساتھ دیکھ کر دروازے پر ہی رک گئی
اچھا صغراں ماسی تم آج رات اپنے بیٹے کے ساتھ ہماری حویلی کے کواٹر میں رک جاؤ صبح میں راشد کو بھجوا گا دیکھنے کے لیے
شکریہ سردار سائیں اللّٰہ سائیں آپ کو سلامت رکھے
نورِ حانم وہاں سے جانے لگی جب آغا سائیں نے اسے آواز دی
نورے
حانم آنکھیں میچ کر اندر داخل ہوئی فوراً ان کے پاس زمین پر بیٹھی
دادا سائیں صغراں ماسی جھوٹ بول رہی ہے
مگر اس نے تو مجھے کچھ کہا ہی نہیں
حانم اپنی جلد بازی اور اپنی زبان اپنے دانتوں تلے دبا گئی
دادا سائیں بھولا( صغراں کا بیٹا )لڑکیوں کو تنگ کر رہا تھا انہیں چڑیل کہ رہا تھا اور تو اور نوراں کے بال بھی کھینچے مگر جب میں نے صغراں ماسی کو بتایا تو وہ کہنے لگی
“میرا بھولا تو بڑا معصوم ہے “
ٹیڑے میرے منہ بناتی انہیں ہنسنے پر مجبور کر گئی
مگر نورے آج کے بعد تم اس وقت حوالے سے باہر گئی تو میں تم سے ناراض ہوجاؤں گا اب ان کا لہجہ سخت تھا
حانم کی مسکراہٹ تھمی نہیں دادا سائیں آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا آپ مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا ۔۔۔
ہممم ان کا ہاتھ پھر حانم کے سر پر تھا
بچپن میں جس جس چیز کی خواہش ہوتی حانم کی پوری کہ جاتی
گھڑ سواری سیکھنا ہو یاں شہر جا کر پڑھائی
……….
حانم دھیرے دھیرے قدم چلتی آغا سائیں کے کمرے میں آئی جو اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے کسی کتاب کے مطالعہ کرنے میں مصروف تھے
حانم ان کے پیچھے کھڑے ہوکر ان کے کندھے دبانے لگی
نورے میر حاکم نے کتاب بند کرکے مسکراتے ہوئے حانم کو پکارا حانم اپنے مخصوص انداز میں ان کے گھٹنے پر سر ٹکائے بیٹھ گئی
پتا نہیں اسے کیا سکون ملتا تھا جب وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے
دادا سائیں !!!!
حانم کی آواز میں لجاہٹ تھی وہ سمجھ گئے تھے ان کی لاڈلی ضرور کچھ نہ کچھ منوانے آئی ہے
نورے ،،،،،
دادا سائیں ہماری حویلی کے استبل میں کتنے خوبصورت گھوڑے ہیں
نہیں حاکم سائیں نے صاف انکار کیا
پلیز۔پلیز دادا سائیں پکا پھر کبھی نہیں کہوں گی
نہیں نورے وہ باغی گھوڑے ہیں تمہیں چوٹ لگ جائے گی
نہیں لگتی نہ دادا سائیں آپ کی نورے بہت بہادر ھے
نورے ،،،، انہیں نے آنکھیں دیکھائی
پلیزززز معصوم سے منہ بنا کر آنکھیں گیلی کی اور بس !!!
اچھا ٹھیک ہے مگر تم کس سے سیکھو گی
وہ نیم رضا مند ہوئے ساحر سائیں سے پلیز دادا سائیں
ساحر کے نام پر ان کا چہرہ سپاٹ ہوا
اچھا مگر اگر تمہیں ذرا سی بھی چوٹ لگی تو بھول جانا
اوکے میرے پیارے دادا سائیں
نور حانم عقیدت سے ان کے ہاتھوں پر پیار کرتی وہاں سے دوڑ گئی
اور پھر کچھ دنوں بعد پھر دادا سائیں مجھے پڑھنا ہے آگے پلیز پلیز
گاؤں میں انٹر کے بعد کوئ یونیورسٹی نہیں تھی مگر حانم نے حاکم سائیں سے ضد کرکے شہر میں دو سال لگا کر اپنا بی بی اے پورا کیا تھا گو کہ یہ اس کے لیے مشکل تھا روز شہر آنا جانا مگر اسے پڑھائے کا شوق تھا
سو اس کی یہ بات بھی مان لی گئی تھی
گھر کے سب بڑے آغا سائیں کے کمرے میں موجود تھے
جی آغا سائیں آپ نے ہمیں یاد کیا
ہاں جواد سائیں سناو گاؤں کے کیا حالات ہیں پچھلے جرگے کا فیصلہ ہوگیا ہے
جی آغا سائیں لڑکی کا قصور تھا اور اسے سخت سزا مل ہے جواد سائیں نے ایک حقارت آمیز نظر آنسہ بیگم پر ڈال کر بات جاری کی
ہمممم ۔۔۔۔میں نے تم لوگوں کو یہ بتانے کے لیے بلایا ہے کہ میر زاویار سائیں اگلے ہفتے واپس آرہے ہیں
کیا زاویار سائیں ثمینہ بیگم اپنے بیٹے کے آنے کی خبر سن کر خوشی سے نہال ہوئی
یہ تو بہت اچھی خبر ہے آغا سائیں جاوید سائیں بھی اپنے بھتیجے کی آنے کی خبر سن کر خوش ہوئے
جیسا کہ تم لوگ جانتے ہو وہ حویلی کا پہلا وارث ہے اس گاؤں کی گدی کا حقدار بھی اس کے آتے ہی میں اسے گدی نشین کرنا چاہتا ہوں
اور دوسری بات سب ایک دفعہ پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے
میری خواہش ہے کہ میر زاویار سائیں کی شادی نورِ حانم سے ہو
کسی کو کوئی اعتراض؟؟؟
یہ خبر سن کر جہاں ثمینہ بیگم خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں
وہی شائستہ بیگم کے ماتھے پر تیوریاں چڑھیں
اور آنسہ بیگم کے بھی چہرے پر ایک سایہ سا آکر کر لہرایا
نہیں آغا سائیں نورِ حانم میری بھتیجہ ہے اور مجھے اپنے بچوں جتنی عزیز بھی
حالہ بہو آغا سائیں کی آواز پر وہ چونکی
آغا سائیں میرے لیے بہت بڑی بات ہے اس سے بڑھ کر مجھے کیا چائیے کہ میری بیٹی میرے سامنے رہے گی مگر بچوں کی خواہش
ہمممم۔۔ تم فکر مت کرو دونوں کی رضامندی پر ہی ہوگا
مگر دادا سائیں میں ابھی آگے پڑھنا چاہتی ہوں
تم پڑھ لینا ویسے بھی ابھی صرف نکاح ہوگا آغا سائیں نے اس کے اعتراض پر کہا
نورے تمہارے دادا سائیں تمہارے لیے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کرسکتے تمہے یقین نہیں
نہیں مجھے خود سے بڑھ کر آپ پر یقین ہے دادا سائیں
مگر وہ کنفیوز ہوئی
کھل کر کہو نورے مجھ سے چھپانے کی ضرورت نہیں
مطلب ( مجھے تو عرصہ ہوئے اسے دیکھے اس سے بات کیے میں کیسے) وہ یہ بات دل میں ہونے کے باوجود بھی ان سے نہ کہ سکی اتنی بے باک نہیں تھی وہ
آپ ادھر سے رضامندی لے لیں پھر جب نکاح ہوگا بتا دیجئے گا میں تیار ہوجاؤں گی
اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اس نے اپنے دادا سائیں پر چھوڑ دیا
جیتی رہو میری نورے اللّٰہ سائیں تمہے ہر خوشی سے نوازے
اس کے سر پر دست شفقت رکھ کر وہ وہاں سے چلے گئے
زاویار کے واپس آنے کی خبر اسے ہوگئی تھی
کچھ فطری جھجھک تھی وہ اس کے سامنے جانے سے کترا رہی تھی اس کی طرف سے رضامندی مل چکی تھی پھر کیوں کیوں اس نے ایسا کیا اس کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے اس کے دماغ پر
۔۔۔۔۔۔۔
بادل گرجنے کی آواز پر وہ ہوش میں آئی بارش اسے مکمل بھیگا چکی تھی
اس کی غیر ارادی طور پر نظر اپنے مہندی سے سجا ہاتھوں پڑی
وہ وقت یاد آیا جب صنم وغیرہ اسے چھیڑ رہے تھے
ادی سائیں اللّٰہ آپ کے ہاتھوں پر مہندی کا رنگ کتنا گہرا آیا ہے لالہ سائیں تو آپ کے ہاتھ چپ۔۔۔۔۔ بے شرم
حانم تلخی سے مسکرادی
جاری ہے۔۔۔۔۔
