58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

میروں کی حویلی میں آج جشن کا سماں تھا ہوتا بھی کیوں نہ آج میر خاندان کے پہلے پوتے کا نکاح تھا خاندان کی لاڈلی پوتی سے آج حویلی کے ساتھ ساتھ گاؤں میں بھی جشن کا ماحول بنا ہوا تھا
آخر کیوں نہ ہوتا اس گاؤں کے ہونے والے سردار کا نکاح تھا


مولوی صاحب آگئے ہیں آغا سائیں
اخضر ان کے پاس آیا
ساحر سائیں کہا ہیں ؟میر حاکم سائیں نے اپنے چھوٹے پوتے سے استفسار کیا
گستاخی معاف آغا سائیں مگر اس سے میرے بیٹے کی خوشی برداشت نہیں ہے اس لیے غائب ہے میر جواد حقارت سے کہتے وہاں سے چلے گئے
اخضر کے بولنے سے پہلے ہی میر جواد سائیں بول پڑے
خیر چھوڑو آغا سائیں آج کے دن اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے بات درگزر کر گئے
اخضر سائیں تم اپنے ادا سائیں کو بلا کر لاؤ میر حاکم سائیں نے مسکرا کر اس سے کہا
جی آغا سائیں میں ابھی بلا کر لایا وہ بھی خوشی خوشی اندر کی جانب بڑھا
میر حاکم سائیں سے ان کی خوشی چھپائی نہ چھپ رہی تھی
ان کے پوتے نے ان کا مان رکھ لیا تھا وہ سرشار سے تھے
مگر یہ تو وقت نے بتانا تھا کہ کس نے کتنا مان رکھا تھا


قبول ہے !!!!
مائک سے اس کی گھمبیر آواز گونجی
جو زنان خانے تک بھی پہنچی تھی
تیسری دفعہ” قبول ہے” کہتے ہی میر حاکم سائیں نے اپنے پوتے کو گلے لگایا
نکاح بہت بہت مبارک ہو میر زاویار جواد سائیں
میر حاکم سائیں کے چہرے کی چمک اس بات کی گواہ تھی کہ وہ کتنا خوش ہیں اس نکاح پر
مگر ان کے چہرے کی چمک سے کہیں زیادہ چمک میر زاویار کی آنکھوں میں تھی
مگر یہ چمک نکاح کی تو نہیں لگی تھی
یہ چمک عجیب سی تھی
باغی سی!!!!
اپنے وجیہہ چہرے پر جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس نے دوبارہ مائک پکڑا
میں میر زاویار سائیں، میر حاکم سائیں کا پوتا اس خاندان کا پہلا چشم و چراغ ،،،،
اس گاؤں کا ہونے والا سردار ،،،،
اس کی آواز جو ہی گونجی مردان خانے میں خاموشی چھاہ گئی
میر حاکم سائیں نے فخر سے اپنے پوتے کا تحمکانہ انداز دیکھا
جس کا نکاح ۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کی چمک کچھ اور واضح ہوئی تھی میر حاکم سائیں کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا
جس کے دادا نے جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی پر اپنی پینڈو پوتی سے میرا زبردستی نکاح کردیا مگر ۔۔۔۔
میں بھی انہی کا پوتا ہوں
میں میر زاویار سائیں اپنے پورے ہوش وحواس میں اپنی چند سیکنڈ پہلے کی دلہن کو طلاق دیتا ہوں
زاویار
ثمینہ جواد حاکم چیخی۔۔۔
میں حانم کو
طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں
دادا سائیں ادھر ہی موجود ہوں میں اب میرا دوبارہ نکاح کروا کر دیکھائیں
ہونٹوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ لیے وہ بھرے مجمعے میں ان سے مخاطب ہوا جن کے کندھے کبھی جھکے نہیں تھے
آپ شاہد بھول گئے تھے میں کون ہوں ؟؟؟
تمسخر اڑایا لہجہ


کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟؟
مولوی صاحب کی آواز پر اس نے گھونگھٹ کی آڑ میں چونک کر اپنے دائیں کندھے پر موجود ہاتھ کو دیکھا
وہ ہاتھ اس کی ماں کا تھا جو اسے تسلی دینے کے لیے رکھا گیا تھا بے شک نکاح اس کی مرضی سے ہورہا تھا وہ خوش تھی بلکہ یہ کہنا مناسب تھا کہ مطمئن تھی
مگر جو بھی ہو ان لمحات میں ایموشنل ہونا فطری بات تھی
ق۔قبول ہے
ایک آنسو اس کی نرم و ملائم گال سے پھسل کر تھوڑی سے ہوتے نکاح کے کاغذات پر گڑا
اس کے کندھے پر اس کی ماں کی گرفت بھی مضبوط ہوئی
یقیناً وہ بھی رو رہی ہوں گی
مگر ان کے آنسو بھی خوشی کے ہوگے اپنی بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہونے کی خوشی !!!!
لڑکی کی طرف سے نکاح مکمل ہوتے ہی اس کی ماں نے اسے گلے لگایا
ابھی اس کی کزنز اسے مبارک باد دیتیں باہر سے اس کی آتی آواز پر کمرے میں سانپ سونگھ گیا
اور پھر اسے ہر چیز چکراتی نظر آئی

اپنے کانوں میں اپنی دوستوں رشتے داروں کی بہت پہلے کہی گئی آواز سنائیں دیں

کتنے خوش نصیب ہیں ادا سائیں ان کی شادی تم
سے ہورہی ہے ۔۔۔۔۔
میرا زاوی خوش نصیب ہے اس کی قسمت میں
تم ہو ۔۔۔۔۔۔
یاری لالہ اور تمہاری جوری پرفیکٹ ہے ۔۔۔۔۔
تم جیسی نڈر اور بہادر ہی ہمارے شیر پوتے کے
لیے صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔
پھر دماغ اور آنکھیں اندھیرے میں کھو گئی

چھوٹی بی بی بے ہوش ہوگئی نورا کی آواز مردان خانے تک گونجی


میر حاکم سائیں کا تعلق راجن پور کے گاؤں سے تھا زندگی میں انہیں ہر طرح کی آسائش میسر تھی کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں جدی پشتی رائس اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تمام تر جائیداد کے اکلوتے وارث اور اس سے بھر کر گاؤں کے گدی نشین
پورے گاؤں میں میروں کا سکہ چلتا تھا
وجاہت اور طاقت سے مالامال سونے پہ سہاگا دولت نے ان کے کم تعلیم ہونے کے عیب کو بھی ڈھانپ دیا خیر اس وقت تعلیم کی اتنی کوئی اہمیت بھی نہ تھی
میر حاکم سائیں اپنے نام کی طرح حکم چلانے والے اپنی وجاہت اور دولت کی وجہ سے جتنے مغرور تھے ان کی شریک حیات صفیہ بانو اتنی ہی نیک صاف اور نرم دل تھیں
صفیہ بانو ان کی چچا زاد تھیں جن سے ان کی شادی ان کی ہی خواہش پر ہوئی تھی ۔
اللّٰہ نے انہیں اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازا پہلے دو بیٹے جواد اور جاوید پھر دو بیٹیاں شائستہ اور آنسہ اور پھر سب سے آخر میں آغا سائیں اور اماں سائیں کا لاڈلہ میر اسعد حاکم سائیں ہوبہو میر حاکم سائیں کی کاپی وہ ہی وجاہت وہی ذہانت مگر دو باتیں اس کی حاکم سائیں سے مختلف تھی پہلی وہ رحم دلی کے معاملے میں وہ اماں سائیں پر گیا تھا اور دوسری اسے پڑھائی کا جنون تھا۔۔۔۔۔


وقت تو مانو پر لگا کر اڑا تھا جواد سائیں کی شادی خاندان میں ہی ثمینہ بیگم کے ساتھ ہوئی جن کی دو اولادیں ہیں میر زاویار اور بیٹی صنم جواد اس کے بعد جاوید سائیں ان کی شادی بھی خاندان میں ان کی پسند سے ہما بیگم سے ہوئی اور ان کی چار اولادیں ہیں پہلے علینہ جاوید اخضر جاوید اور پھر دو جڑواں بیٹیاں امیمہ اور آمنہ
پھر تیسرے نمبر پر شائستہ بیگم عمر میں وہ آنسہ بیگم سے دو سال بڑی تھی مگر آنسہ بیگم کی شادی ان سے پہلے ہوئی تھی جن کا ایک ہی بیٹا تھا ساحر، ساحر کی پیدائش کے دو سال بعد ہی آنسہ بیگم بیوگی کی چادر اوڑھے واپس میر حویلی آگئی پھر شائستہ بیگم کی شادی بھی ان کے خاندان میں ثمینہ بیگم کے ماموں زاد منہ بولے بھائی سے ہوئی ان کی بھی دو اولادیں تھیں سونیا اشرف اور ابرار اشرف وہ زیادہ تر میر حویلی میں ہی پائی جاتی تھیں اور سب سے آخر میں اسعد حاکم سائیں جن کی شادی حالہ سے ہوئی تھی جو آغا سائیں کے دوست کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ اسعد کی یونیورسٹی فیلو بھی تھی انہیں کی طرح نرم دل پڑھی لکھی اور چنچل سی!!!!
ان کی ایک بیٹی تھی نورِ حانم جس میں میر اسعد کی جان بستی تھی
نورِ حانم تھی بھی بہت پیاری معصوم جس سے ملتی اس کو اس پر بے ساختہ پیار آتا
ثمینہ بیگم تو نورِ حانم کو اتنی سی عمر میں ہی اپنی بیٹی مان چکی تھیں


دس سالہ نورِ حانم اپنی چھوٹی کزنوں کے ساتھ کھیل رہی تھی امیمہ اور آمنہ بھی اپنی ننھے ننھے ہاتھوں سے تالیاں بجاتی کھلکھلا رہی تھیں جب کچھ یاد آنے پر حانم اپنے پھولے پھولے گالوں لان کا چکر لگانے لگ پڑی
کیا ہوا ہے ہانی آپی سات سالہ صنم حانم کے پاس آئی صنم بابا سائیں ابھی تک نہیں آئے انہوں نے مجھے آج پارک کے جانے کا وعدہ کیا تھا
حانم اداسی سے کہتی جھولے پر بیٹھ گئی
آجائیں گے چاچو سائیں تم فکر نہ کرو نو سالہ علینہ بھی اپنی گڑیا چھوڑ کر حانم کے پاس آئی
ہمممم
مما مما سائیں حانم سے جب اور انتظار نہ ہوا تو وہ حالہ بیگم کے پاس پہنچی ہمم بولو حانم کیوں تنگ کر رہی ہو حالہ بیگم جو صغراں سے کام کروا رہی تھی حانم کے بار بار بلانے پر جھنجھلائی
مما سائیں بابا سائیں ابھی تک کیوں نہیں آئے ؟؟؟
وہ ضروری کام سے گئے ہیں حانم اب جاؤ کھیلو مجھے تنگ مت کرو
حانم نے اپنے ہونٹ باہر نکالے
اس سے پہلے اس کے آنسو بہتے ثمینہ بیگم نے اسے اپنے پاس بلایا
کیا ہوا میری ہانی پری کو
بڑی مما سائیں بابا سائیں نے مجھ سے آج پارک کے کر جانے کا وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک نہیں آئے
وہ دادو سائیں کو کسی کام سے لے کر گئے ہیں میری جان آجائیں گے تھوری دیر تک ثمینہ بیگم نے اس کی نرم گال کو پیار سے سہلاتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے
ٹھیک ہے بڑی مما سائیں حانم نے جھک کر ثمینہ بیگم کی گال پر پیار کیا اور وہاں سے بھاگ گئی


شام کا وقت ہوگیا تھا اب حانم کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا جب ایمبولینس کی آواز پر سب ہی دہل کر حویلی کے لان میں آئے جہاں دو وجود سفید چادروں میں پڑے تھے
آغا سائیں لڑکھڑا گئے ایک ان کی لاڈلی اولاد دوسری ان کی جان عزیز شریک حیات
اسعددددد !!!!
حالہ کی چیخ دل دہلا دینے والی تھی اس سے پہلے ثمینہ بیگم انہیں حوصلہ دیتی ان کے قریب آتی وہ شدید شکر کھا کر گری..
سب ہی رو رہے تھے جاوید جواد سب ہی غم سے نڈھال تھے آنسہ بیگم اپنی والدہ اور جان عزیز بھائی کی موت کے صدمے میں بالکل خاموش ہوگئیں شائستہ بیگم دھاڑے مار کر رو رہی تھی
حانم ویران نظروں سے اپنے بابا سائیں اور بی بی سائیں کو دیکھ رہی تھی ابھی کل بی بی سائیں نے خاص اس کے لیے اس کی پسند کا حلوہ بنایا تھا بابا سائیں بھی اس کے پاس تھے اب۔۔۔

نورِ حانم !!
جی بی بی سائیں حانم فوراً سارے کام چھوڑ کر ان کے پاس میری چندا میں نے تمھارے اور ساحر کے لیے گاجر کا حلوہ بنایا ہے گاجر کا حلوہ حانم خوشی سے اچھلی ابھی وہ حلوے کا باؤل پکڑتی جب بھیچ میں ہی اسعد سائیں نے باؤل پکڑ لیا واہ اماں سائیں میرا فیورٹ حلوہ اسعد سائیں نے حلوے کا چمچ بھر کر منہ میں رکھا
بابا سائیں حانم نے اپنے ہونٹ لٹکائے مطلب میڈم رونے کے لیے تیار تھی
اسعد سائیں کیوں میری پیاری پوتی کو تنگ کر رہے ہو مصنوعی خفگی سے ڈانٹا
واہ پیاری پوتی اور بیٹا؟؟
صحیح کہتے ہیں اصل سے سود پیارا ہوتا ہے
اسعد سائیں !!!.
سوری اماں سائیں مگر آپ کی بہو اور پوتی کو چھیڑنے کا اپنا ہی مزہ ہے
بابا سائیں
ارے میرا بچہ میری جان میرا شیر بیٹا اسعد سائیں نے فوراً حانم کو گود میں بٹھا کر حلوہ کھلایا
اب وہ اس کے موبائل پر کارٹون دیکھتی اس کے ہاتھ سے حلوہ کھانے میں مصروف ہوگئی تھی
ساحر سائیں ادھر آؤ دور کھڑے ساحر کو خود کو اور حانم کو یوں حسرت سے دیکھتا پا کر اسعد بے چین ہوا ادھر آؤ میرا بچہ آپ بھی کھاؤ آپ کا بھی فیورٹ حلوہ ہے
جی بابا سائیں
ساحر سائیں کو بھی گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے
اسعد سائیں کے موبائل میں مگن سی لگی حانم نے اس کے علم میں اضافہ کیا
اسعد نے تیرہ سالہ ساحر کو بھی اپنے ہاتھوں سے حلوہ کھلایا جس کا چہرہ خوشی کے مارے کھل اٹھا


حانم کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ روئے چیخے یاں یہاں سے بھاگ جائے
وہ اٹھ کر اسعد سائیں کے پاس آئی چہرہ غیر واضح تھا اس نے جھک کر ان کے ماتھے پر پیار کیا
بابا سائیں میں پارک جانے کی ضد نہیں کروں گی آپ یہاں سے اٹھ جاؤ آپ کے کپڑے گندے ہو جائیں گے
بی بی سائیں دیکھیں نہ بابا سائیں اٹھ نہیں رہے آپ آپ نہ گاجر کا حلوہ بناؤ پھر دیکھنا بابا سائیں اٹھ جائیں گے بابا سائیں پلیز بی بی سائیں آپ اٹھ جائیں
حانم آپی صنم علینہ بھی حانم کو روتا دیکھ کر رونے لگی
ہما بچے بچو کو کمرے میں لاجاؤ جی ادا سائیں ہما بیگم سب بچوں کو کمرے میں لے گئی مگر حانم وہاں سے ہل ہی نہیں رہی تھی
نورِ حانم آنسہ بیگم نے پیار سے اس کے سر ہاتھ پھیرا حانم ان کے گلے لگی رونے لگ پڑی تھوڑی ہی دیر بعد وہ ان کی گود میں ہی سو گئی
ساحر سائیں حانم کو دیکھ رہا تھا ایک اسعد ہی تو تھا اس گھر میں اس کی ماں کے علاوہ جو اس سے پیار کرتا تھا
اسے حانم پر بھی ترس آیا باپ کی شفقت سے محرومی کتنی اذیت ناک ہوتی ہے وہ جانتا تھا
حانم مت رو بارہ سالہ زاویار بھی اپنے چاچو سائیں کی حالت کو دیکھ کر رو رہا تھا حانم کو۔بے تحاشہ روتے دیکھ کر اس کے پاس آیا


حالہ بیگم کے لیے یہ صدمہ کافی گہرا تھا مگر انہوں نے
نورِ حانم کے لیے جینا تھا اپنی بیٹی کے لیے اسعد کی لاڈلی کےلئے اس لیے اپنے زخم دل میں چھپائے انہوں نے حوصلہ کیا مگر حانم تو ابھی چھوٹی تھی وہ کہاں سے صبر کرتی رو رو کر خود سخت بیمار کرلیا تھا سب ہی حانم کی بیماری کی وجہ سے بہت پریشان تھے ڈاکٹرز بھی بلا ناغہ اسے چیک کرکے جاتے مگر اس کی ایک ہی رٹ تھی اسے بابا سائیں چائیے
حانم بیٹا سوپ پی لو تھوڑا سا لان کے سفید سوٹ میں حانم کے سرہانے اپنی سوجھی ہوئے آنکھیں لیے بیٹھی حالہ بیگم نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا
نہیں پینا نہیں کھانا مجھے بابا سائیں چائیے مجھے بابا چائیے مجھے بابا چائیے
کہاں سے لا کر دوں میں ہاں کہاں سے لا کر دوں حالہ بیگم ہزیانی انداز میں چیخی پھر حانم کو گلے لگائے رونے لگیں ۔۔۔


تھوڑی دیر بعد حانم کے کمرے کا دروازہ کھٹکا
حالہ بیگم جو حانم کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی دروازے کی جانب متوجہ ہوئیں
کون ؟؟
آہو ۔۔۔۔ میر حاکم سائیں کے گلا کھنکھارنے کی آواز پر حالہ بیگم نے اپنا دوپٹہ چہرے کے آگے کیا
حانم بھی فوراً اٹھ کر بیٹھی
آغا سائیں !!!
مجھے نورِ حانم سے بات کرنی ہے اکیلے میں
جی بہتر حالہ بیگم کمرے سے باہر چلی گئی
نورِ حانم آغا سائیں کی آواز میں نرمی تھی
ج۔جی
آغا سائیں اسی کرسی پر بیٹھ گئے جہاں کچھ دیر پہلے حالہ بیگم بیٹھی تھیں
میرے پاس آؤ میرا بچہ آغا سائیں کا یہ روپ شاید وہ پہلی ہی تھی جو دیکھ رہی تھی نہیں تو جب سے اس نے ہوش سنبھالا ہے آغا سائیں کو سخت ہی پایا ہے ایسا نہیں تھا کہ وہ صرف اپنے پوتوں سے محبت کرتے تھے انہیں اپنے سب بچے عزیز تھے مگر وہ سب کو حدود میں رکھنے کے قائل تھے
نورِ حانم انہوں نے پھر پکارا حانم ان کا گھٹنوں پر ہاتھ دھرے اس پر پیشانی ٹکائے رونے لگ پڑی
آغا سائیں نے بھی اپنا ہاتھ نورِ حانم کے سر پر رکھ دیا
“دادا سائیں” بابا سائیں کیوں چلے گئے” نورے” وہ ہمارے پاس ہے ہمارے دل میں تمہارے دل میں تمہیں اس طرح روتے دیکھ کر تکلیف میں ہوگا اور تمہاری بی بی سائیں وہ بھی تمہیں روتے دیکھ کر اداس ہو جائیں گی
اس دن میر حاکم سائیں نور حانم کے لیے” دادا سائیں” اور
نور حانم ان کے لیے “نورے” بن گئی تھی ….