58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 15
ثمرین شیخ

علینہ اپنے کمرے میں آئی اور اپنا پینٹنگ کا سامان الماری میں رکھ کر الماری بند کرکے اس کے ساتھ اپنی پشت لگا کر کھڑی ہوگئی
سامنے شیشے میں اسے ابھی تھوڑی دیر پہلے کا ہوا منظر دکھنے لگا
میری تصویر بناؤ گی ؟؟
میں کوئی جن ہوں جس سے تم ڈر جاتی ہو
اپنے ابرار بھائی کی شادی اپنی حانم سے !!!
تمہے بھی مبارک ہو تمہاری تو بیسٹ فرینڈ ہے نورِ حانم!!!!
اللّٰہ سائیں میری حانم کو خوش رکھنا اس کی زندگی کے ہر دکھ دور کر دینا
ایک آسودہ سی مسکراہٹ کے ساتھ علینہ نے ایک سچے دوست کی طرح حانم کو دعا دی۔۔۔


پیرس !!!!

زارون نور العین کے ڈسچارج پیپرز بنوا لایا تھا اب وہ دونوں نور العین کے آرفینیج جارہے تھے
عینی یہاں چند ضروری کاغزات جمع کروانے ہیں پھر ہم یہاں سے کسی اسلامک سینٹر چلیں گے
اسلامک سینٹر کیوں ؟؟
عینی نے نا سمجھی کے ساتھ زارون کو دیکھا
آف کورس ہم دونوں کے نکاح کے لیے زارون نے اسٹیرنگ گھماتے ہوئے کہا
ن۔نکاح ابھی اتنی جلدی عینی ہکلائی
تو پھر کب ؟؟؟ زارون نے گاڑی کو۔بریک لگایا
دیکھو عینی میں جانتا ہوں ابھی نکاح زرا جلدی ہے مگر میں تمہے اس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا
میں چاہتا ہوں میں قانونی اور شرعی حیثیت سے تمہیں اپنے ساتھ رکھ سکوں تمہاری دیکھ بال کر سکوں اور پھر جب وہ دونوں واپس آجائیں تو ہماری شادی پوری دھوم دھام کے ساتھ ہوگی
نور العین اس کی بات سمجھتے ہوئے اسبات میں سر ہلا گئی
میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا مجھے نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر ایسے بے شک ہم دونوں اکیلے ہیں مگر تھوڑے سے وقت میں نور مجھے بہت عزیز ہوگئی ہے اور خان سر انہوں نے ہمیشہ مجھے اپنی بہن سمجھا ہے ان دونوں کے بغیر اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ میں اپنی زندگی کی اتنی بڑی خوشی میں ان کو شامل کرنا چاہتی ہوں
ہوگیا تمہارا زارون نے سنجیدگی سے اسے دیکھ کر کہا
جی کیا مطلب…
مطلب یہ ڈئیر عینی جن کے لیے تم نکاح پوسٹ پونڈ کر رہی ہو وہ دونوں وہاں اپنے نکاح کے چھواڑے کھا چکے ہیں زارون نے تپ کر کہا
کیااااا نور العین چیخی
آہ آہستہ لڑکی کیوں مجھے شادی سے پہلے بہرہ کرنے پر تلی ہو
کیا واقعی نور اور خان سر کا نکاح ہوگیا ہے مجھے بتائیں نہ پلیز زی سر
افف پہلے یہ زی سر کہنا بند کرو
اٹس زارون اوکے
اچھا نہ زارون بتائیں کیسے ہوا ان کا نکاح ایمرجنسی میں ہوا مگر تم یہ بات کسی کو بھی نہیں بتاؤ گی سپیشلی آفس میں تو بالکل بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
آورفن ہاؤس سے چند ضروری کاروائیاں پوری کرنے کے بعد وہ لوگ اسلامک سینٹر میں گئے وہاں دونوں کا نکاح ہوا جس میں سے ایک گواہ آرفن ہاوس کی ہیڈ بھی تھیں جنہوں نے اپنی بھرپور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا
زارون نور العین کو اپنے گھر لے آیا
واؤ زی آپکا گھر کتنا پیارا ہے
میرا نہیں ہمارا گھر اچھا اوپر جاکے فرسٹ رائٹ پر میرا کمرہ ہے ساتھ والا کمرہ میں دینی سے کہہ کر صاف کروا دیتا ہوں تم تھوری دیر ریسٹ کرو میں آفس سے ایک چکر لگا کر آیا
ہمم اوکے ۔۔۔۔


زاویار جب سے آفس آیا تھا اس کی نظر اس دشمن جاں کو تلاش کر رہی تھیں جو حقیقتاً اس کی جان کی دشمن بنی ہوئی تھی دو دن سے وہ غیر حاضر تھی دل میں کہیں نہ کہیں یہ خوف بھی تھا کہ کہیں اسے کچھ ہو تو نہیں گیا یہ ہی بات اس کا دل دہلا دینے کے لیے کافی تھی۔۔۔
ابھی پرسوں کی ہی بات تھی جب اس نے نور حاکم کو دوسری مرتبہ کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا اس وقت وہ بالکل آپے سے باہر ہوگیا تھا مگر جب تک وہ ان تک پہنچتا وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تھے
پھر وہ غصے میں ہی اپنے دوستوں کے ساتھ بار میں چلا گیا اور زندگی میں پہلی بار اس نے حرام مشروب کو جوس سمجھ کر منہ لگایا تھا غصے میں اتنا پاگل ہوگیا تھا کہ محسوس ہی نہیں کر پایا کہ وہ کیا پی رہا ہے
تقریباً پوری رات ادھر بار میں گزارنے کا بعد اسے میٹنگ کا یاد آیا تھا دکھتے سر کے ساتھ ریش ڈرائیونگ کرتے وہ اپنے گھر کی طرف نکلا مگر راستے میں ہی اس کی گاڑی کے ساتھ کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا
مگر زاویار بنا رکے گاڑی چلاتا گھر پہنچا اور سیدھا بستر پر دراز ہوگیا
تھوڑی دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو کافی وقت ہوگیا تھا نشہ بھی کافی حد تک اتر چکا تھا
جب وہ آفس پہنچا تو اسے ڈیزی سے پتا لگا کہ ٹیم آ چکی ہے اور اندر میٹنگ ہورہی ہے
اور پھر جب اسے پتا لگ کہ کمپنی کو اتنا بڑا ٹینڈر نور حاکم کی وجہ ملا ہے
زاویار اس کی قابلیت کا قائل ہوگیا
مے آئی کم ان سر
اتنے میں ریسیپشنسٹ زاویار کے کمرے میں آئی
یس کم ان مس ڈیزی
جی سر آپ نے مجھے بلایا
یس مس نور حاکم دو دنوں سے آفس کیوں نہیں۔ آرہی ہیں
جی سر ان کی لیو ہے سر دو ہفتوں کی
واٹ !!! زاویار اپنی چئیر سے اٹھ کھڑا ہوا کس نے ایپرو کی ان کی لیو
سر وہ سر زی اور سر خان کے سائن ہیں
بغیر مجھ سے پوچھے بغیر مجھ سے اجازت لیے وہ کیسے چھٹیوں پر جا سکتی ہیں
زاویار کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا
کیا ہورہا ہے یہ سب اتنے میں زارون آفس میں آیا
کیوں چلا رہے ہو تم زاویار؟؟؟
زارون کے ماتھے پر بل پڑے
نور حاکم اور مس نور العین دونوں لیو پر ہیں
زاویار نہیں معا دونوں کا نام ساتھ لیا
ہمم ہیں تو
کس سے پوچھ کر چھٹیاں کر رہیں ہیں یہ دونوں
فرسٹلی زاویار نور العین کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے سو وہ میڈیکل لیو پر ہیں جس کی اپروول میں نے دی ہے اور دوسری بات مس نور حاکم آؤٹ اوف کنٹری گئیں ہیں لیو لے کر
کس کی اجازت کے ساتھ ان کی لیو ایپرو ہوئی میں باس ہوں اس کمپنی کا زاویار نے اپنا غصے سے ٹیبل پر ماڑا جس کی وجہ سے ڈیزی ڈر کر اچھلی
خان کی اجازت کے ساتھ تم شاہد بھول رہے ہو زاویار اس کمپنی کے ففٹی پرسنٹ شیئرز کا اونر ہے خان تمہے تو اس کی اجازت کی ضرورت ہوسکتی ہے اسے نہیں
اور نیکسٹ ٹائم مجھ سے تمیز سے بات کرنا دوست ہونے کا لحاظ کرجاتا ہوں میں مگر ضروری نہیں کہ ہر بار لحاظ کروں ۔۔۔۔


دوپہر کے وقت حانم کی آنکھ کھلی
میں آج اتنی دیر کیسے سو گئی کسی نے اٹھایا بھی نہیں۔۔
حانم کی نظر اس کے کمرے میں لگی وال کلاک پر پڑی جہاں دو بجے ہوئے تھے
آہ۔۔۔۔ ایک دم سے بستر سے اٹھنے پر اس کا سر چکرا گیا
اس سے پہلے حانم گرتی دو شفیق ہاتھوں نے حانم کو تھام لیا
بابا سائیں حانم بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑے اسعد حاکم کو دیکھ رہی تھی
حانم گڑیا !!! حانم بے قرار ہو کر ان کے گلے لگی کہاں چلے گئے تھے بابا سائیں آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں بابا سائیں یہ دنیا بہت بڑی دوھکے باز ہے یہ ہمیں جینے نہیں دیتی بابا سائیں پلیز واپس آجائیں
ہم کسی کو نہیں بتاتے بابا سائیں مگر ہم آپ کو ہر وقت یاد کرتے ہیں پلیز بابا سائیں آ۔آپ ہمارے پاس واپس آجائیں ۔یا یا آپ ایسا کریں مجھے اپنے ساتھ لے جائیں مجھے نہیں رہنا یاں پر
کسی کے سامنے نہیں رونے والی نور حانم اس شفیق آغوش میں چھپ کر بلک اٹھی یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں بندھ
نور حانم میر اسعد نے اسے پھر پکارا
جی بابا سائیں حانم بھی ہمہ تن غوش ہوئی
میرا بہادر بچہ
انہوں نے حانم کے چہرے پر ہاتھ پھیرا
نہیں ہوں میں بہادر بابا سائیں مجھے آپ چائیے نہیں ہوں میں بہادر حانم نے انہیں زور سے تھامہ کہ کہیں وہ اسے چھوڑ نہ جائیں
بابا سائیں آپ مجھے لے کر جائیں گے نہ اپنے ساتھ اس فریبی دنیا سے دور
حانم نے کسی ضدی معصوم بچے جیسی فرمائش کرتے ہوئے آس کے ساتھ ان کا پر نور چہرہ دیکھا
جو دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلا گئے
بابا سائیں حانم کا گلا رندھا
میری نور حانم بہت زمہ دار ہے اب تم اکیلی نہیں ہو میری بچی اگر تم بھی میرے ساتھ آگئی تو تم سے جڑے لوگوں کا کیا ہوگا
میری ایک بات یاد رکھنا میری جان جو ہوتا اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی کوئی نہ مصلحت اور ہماری آزمائش ہوتی ہے اچھا مسلمان تو وہ ہی ہے نہ جو اپنے رب کی رضا میں راضی ہو جو اس کے فیصلے کو دل سے قبول کرے اس کے بالوں کو دھیرے دھیرے سہلاتے اسے پر سکون کر رہے تھے
میری بات مانیں گی نہ میری حانم گڑیا
بابا سائیں حانم اسبات میں سر ہلا گئی
میں آپ کی ہر بات مانوں گی بابا سائیں با آپ مجھے چھوڑ کے مت جائیے گا حانم نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ کہا
مگر جوب نادار
بابا سائیں آپ سن رہیں ہیں نہ
مگر ابھی بھی وہاں خاموشی تھی
بابا سائیں حانم چیختی ہوئی آٹھ بیٹھی
مگر کمرے میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا
بابا سائیں حانم کانپتے قدموں کے ساتھ بیڈ سے اتری اور وضو کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھی
بے شک سکون اللہ کے زکر میں ہے
نماز ادا کرنے کے بعد حانم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے
اے میری پاک پروردگار اے پیرے مالک و مولا
اے رب رحیم مجھ پر اپنا رحم کر مجھے بخش دے میں بہت گناہ گار ہوں میرے گناہ اپنے سوہنی حبیب کے صدقے معاف کردے میرے دل میں سکون بڑھ دے میرے بابا سائیں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کر میری ماما سائیں کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا کر
اس کے رخساروں سے بہتے وہ شفاف موتی اس کے چہرے کے نور میں اضافہ کر رہے تھے
حانم کو اپنی ایک دفعہ کی پڑھی حدیث یاد آئی
اے ابن آدم !!
ایک میری چاہت ہے
اور ایک تیری چاہت ہے
ہوگا تو وہی
جو میری چاہت ہے
پس اگر تو نے
سپرد کر دیا اپنے آپ کو اس کے
جو میری چاہت ہے
تو وہ بھی تجھے دوں گا
جو تیری چاہت ہے
اگر تو نے مخالفت کی اس کی
جو میری چاہت ہے
تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں
جو تیری چاہت ہے
پڑھ پھر بھی ہوگا وہی
جو میری چاہت ہے
اے مالک مجھے تیرا ہر فیصلہ دل وجان سے قبول ہے مجھے اس رشتے کو نبھانے کی ہمت دے اللّٰہ پاک تاکہ میں روز محشر آپ کے سامنے سرخرو ہو سکوں
جاہ نماز سمیٹ کر حانم کمرے سے باہر نکل کر بیٹھک میں آگئی جہاں جواد سائیں شائستہ بیگم سے باتیں کر رہے تھے
ہمم خوش نصیب ہیں جو ہمیں شائستہ سائیں جیسی بہن ملی جس نے ہمیشہ ہمارے فیصلوں پر سر خم کیا جاوید سائیں بھی مسکراتے ہوئے بولے
جب حانم آنسہ بیگم کے ساتھ بیٹھ کر ان کے شانوں پر بازوں کا ہار بنا گئی
ٹھیک کہا آپ نے تایا سائیں خوش نصیب تو میں بھی ہوں جو مجھے اتنی اچھی اور پیار کرنے والی پھوپھو سائیں ملیں
آنسہ بیگم نے حانم کو پیار بھری نظروں سے دیکھا
ساحر کو بھی حانم کا سب کے بھیچ آ کر آنسہ بیگم کو گلے لگانا بہت اچھا لگا مگر حانم کی سرخ ہوتی بھوری آنکھیں دیکھ کر بے چین ہوا
مگر سوائے اس کی سرخ آنکھوں سے نظریں چڑانے اور بے چین ہونے کے وہ کر ہی کیا سکتا تھا ۔۔۔

ارے میری بچی ادھر آؤ دو دن سے تم سے بات ہی نہیں ہو سکی شائستہ بیگم فورا حانم کے سر ہوئیں ارے حانم بچے تہماری یہ آنکھیں کیوں لال ہورہیں ہیں
تم روہی ہو میری جان شائستہ بیگم نے اسے گلے لگایا
کیا ہوا ہے نورے آغا سائیں بھی پریشان ہوئے ۔۔۔
کچھ نہیں دادا سائیں آنکھوں میں صابن چلا گیا تھا
حانم نے آنکھوں کو سہلاتے ہوئے کہا
مت چھیڑو اور درد کریں گی ،،،، ساحر صرف دل میں ہی سوچ سکا سب کے درمیان کیسے کہ سکتا تھا ۔۔۔۔


جی تو سب یہی پر جمع ہیں تو میں نے سوچا کیوں نہ بات کر لی جائے
کیسی بات شائستہ سائیں ثمینہ جواد سائیں نے چائے کا کپ پکڑتے پوچھا
جی تو بات یہ ہے کہ میں حانم کو اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں
ان کی بات پر جہاں ساحر نے مٹھیاں بھینج لی وہی دوسری طرف ابرار نے بھی پہلو بدلا وہ نظریں گھما کر علینہ کو ڈھونڈ رہا تھا جو ابھی تک بیٹھک میں نہیں آئی تھی
جی تو شائستہ ادی سائیں حانم آپ لوگوں کی ہی بیٹی ہے مجھے پتا ہے کہ آپ سونیا اور حانم میں کوئی فرق نہیں کرتی یہ بھی ان دونوں کی بہن ہے حالہ بیگم نے شائستہ بیگم کی بات کو گھماتے ہوئے کہا
ارے نہیں نہیں حالہ تم غلط سمجھ رہی ہو میرا مطلب ہے حانم کو میں اپنی بہو بنانا چاہتی ہوں اپنے ابرار کے لیے میں نے حانم کو چنا ہے میں تو پہلے بھی یہ ہی چاہتی تھی مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا خیر اب بھی وقت سر کے نہیں گزرا
کیوں چھوٹی بھابھی سائیں
م۔میں کیا کہوں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ میری حانم کا ہوگا اگر اس کی طرف سے انکار ہوا تو معزرت میری طرف سے بھی انکار ہے
کیوں آغا سائیں
آغا سائیں سے کیوں پوچھ رہیں ہیں آپ چھوٹی بھابھی سائیں ان کی طرف سے تو ہاں ہے
حانم بچے آپ بتاؤ ۔۔۔۔
سب کی نظریں حانم کی طرف مڑی مگر حانم آغا سائیں کی طرف دیکھ رہی تھی
ابھی حانم کچھ کہتی نورا وہاں آئی
سائیں جی سائیں کچھ لوگ آنسہ بی بی سائیں سے ملنے آئیں ہیں
جاری ہے ۔۔۔۔