Rate this Novel
Episode 30
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 30
ثمرین شیخ
تو پیسے بھیج رہی ہے کہ وائرل کرو تیری تصویریں فون
کے اس طرف سے مقابل کی مکروہ آواز گونجی
پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو بیوی ہوں میں تمہاری
سونیا گڑگڑائی۔۔۔
ہووو۔۔۔بیوی جو مجھ سے خلع لینا چاہتی ہے میں بھی دیکھتا ہوں تو کسیے مجھ سے آزادی لیتی ہے کوئی نہیں مدد کرے گا تیری نہ تیرے گھر والے نہ تیارا باپ اب تو صرف میری غلام ہے پتا لگا گیا ہے میں نے تو کہاں چھپ کر بیٹھی ہے آرہا ہوں صبح لینے پیسوں کا انتظام کر کے رکھنا نہیں تو اس دن کی مار تو یاد ہی ہوگی
اگر ایسا کرنا تھا تو کیوں کی شادی مجھ سے اس دن انکار کردیتے سونیا چیخی
مجھے لگا تھا اتنے امیر خاندان کی ہے کچھ تو دیں گے تجھے مگر تیرے گھر والوں نے تو کھالی ہوکر ہی تجھے رخصت کر کے میرے سر ڈال دیا اب فون رکھ دماغ نہ خراب کر۔۔۔
نہیں۔ نہیں سونیا فون دیوار پر مار کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی وہ مکار شخص اسے پیسوں کے عوض بلیک مل کر رہا تھا
پھر درشتگی سے اپنے آنسو رگڑتی اٹھی اور سیڑھیاں اترتی نیچے کی جانب بڑھی
سونیا نیچے آئی تو شائستہ بیگم صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی
اسے بے ساختہ ہی پانی ماں سے نفرت ہوئی آج سونیا کا حال میں کھڑی تھی اور اس کی ماں کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا
وہ ایک آخری نفرت انگیز نظر ان پر ڈال کر کیچن کی جانب بڑھی
زاویار نے حویلی میں کام کرنے والی کو پیسے دے کر شائستہ بیگم کی رہائش کا پتا لگوایا وہ جلد از جلد ادھر پہنچنا چاہتا تھا اپنے ضمیر کے گلٹ سے آزادی چاہتا تھا اور آزادی پانے کا ایک ہی راستہ تھا سارا مدعا سونیا اور صنم کے سر پر ڈالنا ۔۔۔۔
صنم ہنوز ڈائری کو ہاتھ میں ہی پکڑے بیٹھی تھی اسے اپنے ہاتھ میں جلن بھی محسوس نہیں ہورہی تھی
جب کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا ..
حانم کی رخصتی کے بعد حالہ بیگم بھی میر حویلی ہی واپس آگئیں گو کہ آنسہ بیگم نے بھی حانم کے ساتھ انہیں خان ولا میں رکنے کو کہا تھا پہلے تو مجبوری تھی مگر اب انہیں اپنی بیٹی کے سسرال رہنا مناسب نہیں لگا سو وہ
انہیں خوبصورتی سے انکار کرتی اپنے سسرال آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخضر عجیب سی کیفیت میں لان میں ٹہل رہا تھا آج کے ہوئے واقع کے بارے میں آغا سائیں اور دونوں مردوں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی تھی مگر اخضر نے تو سب دیکھا سنا تھا اسے حیرانگی بھی ہورہی تھی کہ صنم اور سونیا اس حرکت میں بھی ملوث تھیں سونیا سے تو اسے کوئی غرض نہیں تھا وہ کیسی ہے کیونکہ شہر میں رہنے کی وجہ سے وہ بہت آزاد خیال تھی اور شائستہ پھوپھو سائیں کی پوری شہ ملی ہوئی تھی اسے مگر صنم بھی ایسی تھی
صنم اس سے عمر میں چار ماہ بڑی تھی
مگر وہ اسے پسند کرتا تھا اور یہ بات اپنے گھر والوں کو بھی بتانے والا تھا مگر اسے لگا ابھی نہ تو اس کی عمر ہے اور نہ ہی صنم کی مگر پچھلے چند مہینوں سے ہوئے ناگریز واقعات کی وجہ بہت کچھ بدل گیا تھا
اب جب اسے آغا سائیں نے گاؤں کا سردار بنا دیا تھا وہ صنم والی بات جلد گھر والوں سے کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور اسے پورا یقین تھا کہ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا
مگر آج کے ہوئے واقعے پر اس کا دماغ سن ہوگیا
اب یہ کیا نیا معاملہ تھا
اخضر اس کا جواب صبح صنم سے لینے کا مکمل ارادہ رکھتا تھا
اپنی پیشانی ملتے اخضر کی بے دھیانی میں لان سے نظر سماتی صنم کے کمرے کی کھڑکی پر نظر گئی جہاں سے سرمئی دھواں نکل رہا تھا
اخضر کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا وہ پوری تیزی سے اوپر کی طرف دوڑا
اخضر نے زور سے صنم کے کمرے کے دروازے پر ہاتھ مارا تو وہ کھلتا چلا گیا
تم پاگل ہوگئی ہو اخضر نے اس کے سرخ ہوتے ہاتھ سے آدھی سر چکی ڈائری پکڑ کر زمین پر پھینکی
اگر جلنے کا اتنا ہی شوق ہے تو یہ شوق کیچن میں جا کر پورا کرو اتنی سی آگ سے تمہارا کچھ نہیں ہوگا اخضر نے غصے سے طنز بھرے لہجے میں کہا
صنم نے کھالی نظروں سے اخضر کو دیکھا اسے اتنا بھی ہوش نہیں تھا کہ اس کا ڈبٹہ سر پر نہیں ہے
پھر صنم نے اپنی کھالی ویران نظریں ادھ جلی ہوئی ڈائری پر ڈالی پھر وحشت زدا ہوکر ڈائری اٹھائی اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے لگی
سب اسی کی وجہ سے ہوا ہے نہ سونیا اسے پڑھتی نہ اسے مجھے بلیک میل کرنے کا موقع ملتا
کاغز کے ایک ایک ٹکڑے کے چیتھڑنے کرنے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔
زاویار غصے سے کھولتا ان کے گھر کے باہر موجود زور زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا
اہ سونیا دیکھ باہر کون آیا ہے
صوفے پر بیٹھی شائستہ بیگم نے سونیا کو آواز لگائی مگر جواب ناداد
سونیا کہاں مر گئی دیکھ باہر کون آیا
ایک تو منحوسوں کو چین نہیں اتنی رات کو کون آگیا ؟؟
شائستہ بیگم سونیا کو بھاڑ میں جھونک کر خوف ہی دروازہ کھولنے باہر کی جانب بڑھی
دروازے کھولنے پر اپنے سامنے کھڑے زاویار کو دیکھ کر گویا ان کے منہ سے پھول ہی برسنے لگے
ہائے میرا زاوی بیٹا آیا ہے
مجھے پتا تھا میرا بچہ اپنی پھوپھو سائیں کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا اس لیے مجھے لینے آگیا
شائستہ بیگم شروع ہوگئیں
مگ زاویار ان کے پیار کو نظرانداز کیے اندر کی جانب بڑھا
سونیا ،،،،
سونیا زور زور سے چیختا سونیا کو تلاش کرنے لگ پڑا
پھوپھو کہاں ہے سونیا آج نہیں میں چھوڑو گا اسے
زاویار سیدھا اوپر کی طرف بڑھا مگر سونیا کا کہی آتا پتا نہیں جب شائستہ بیگم کی چیخ پر وہ نیچے کیچن میں آیا
وہاں سونیا زمین پر گڑی ہوئی تھی اور اس کے دائیں ہاتھ کی کلائی سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا
ہائے سونیا میری بچی شائستہ بیگم ادھر ہی بیٹھی ماتم کرنے لگ پڑی
ہٹیں زاویار نے ایمبولنس کو کال ملائی۔۔۔۔
صنم چپ کر جاؤ
کیوں چاہتی ہو تمہاری آواز پر سب ادھر اکٹھے ہو جائیں اخضر نے سختی سے کہا تو صنم اپنی سسکیاں دبانے کے لیے اپنی ہتھیلی منہ میں دے گئی
بس کر جاؤ صنم
آپ ۔۔آپ نہیں جانتے اخضر سائیں اگر آپ مجھے جان جائیں تو یہاں میری ہمدردی میں آنے کی بجائے جان سے مارنا پسند کریں
صنم نے ازیت سے کہا
اگر ایسا ہے تو میں تمہاری اصلیت جاننا بھی نہیں چاہتا یا یہ سمجھ لو مجھے تمہارے فیصلے میں خوش فہم رہنا ہے
وہ کتنی آسانی سے اتنی بڑی بات کہہ کر اس کے کمرے سے باہر نکل گیا پیچھے صنم ساکت و جامد بیٹھی رہ گئی ۔۔۔۔
حانم کو کافی دھوم دھام سے خان ولا لایا گیا تھا
رسمیں کرنے کے بعد اسے کمرے میں بھیج دیا گیا
حانم کب سے بیٹھی ساحر کا انتظار کر رہی تھی جو جانے کہاں رہ گیا تھا
اب پتا نہیں کہاں رہ گئے حانم بے زاری سے گھڑی کی طرف دیکھتی تو کبھی ہاتھوں کہ چوڑیوں کو چھیرتی
ایک منٹ میرا بریسلٹ حانم نے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کو آگے پیچھے کیا مگر وہاں بریسلٹ نہیں تھا جو ساحر نے اسے دیا تھا
بریسلٹ کہا چلا گیا حانم اٹھ کھڑی ہوئی میرا بریسلٹ پورے کمرے میں پھڑتی وہ بریسلٹ ڈھونڈ رہی تھی
کبھی زمین پر بچنے دبیز قالین پر پاؤں پھیرتی تو کبھی دروازے کے پاس جا کر دیکھتی
اللّٰہ جی میرا بریسلٹ حانم روہانسی ہوئی
نہ بالکل نہیں ۔۔۔خان سر پیسے دیں گے تو ہی اندر جانے دوں گی عینی اپنے دونوں ہاتھ کمر میں رکھے ساحر کے کمرے کے دروازے کے آگے دیوار بن کر کھڑی تھی
یہ کیا بات ہوئی حال میں تم لڑکی والوں کی طرف تھی تب بھی خان کی جیب ہلکی کی اب یہاں آکر لڑکے کی بہن کا رول پلے کر رہی ہو یہ تو نہ انصافی ہے خان ایک روپیہ نہ دینا اسے
کیوں کیوں آپ چپ رہیں یہ میرا اور میرے بھائی کا معاملہ ہے
عینی کے اتنے مان سے بھائی کہنے پر ساحر نے اپنی جیب سے پیسے نکال کر عینی کی طرف بڑھائے
یےےےے ۔۔۔۔ خان سر زندہ باد
عینی سائیڈ پر ہٹی اب آپ مت بلائیے گا مجھے زارون کو منہ چڑھا کر وہاں سے نکلتی بنی
پیچھے ساحر اور زارون دونوں ہی اس کے پچپنے پر
مسکرا دیے
چل بھائی تو اپنے راستے میں اپنے ابھی تمہاری تازہ تازہ بنی بہن کو منانا بھی ہے
زارون ساحر کے گلے لگ کر اس طرف گیا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے عینی گئی تھی
ساحر سلام کرتا کمرے میں داخل ہوا تو حانم پریشان سی کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی تھی
کیا ہوا نورِ اتنی پریشان کیوں ہو اور یہاں پر کیوں کھڑی ہو؟؟؟
ساح۔ر ساحر سائیں حانم کی آنکھیں نم ہوئیں
نور پلیز مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے ؟؟؟
ساحر پریشان ہوا
ساحر سائیں مجھ سے آپ کا بریسلٹ گم گیا
حانم روہانسے لہجے میں کہتی اسے پیاری لگی تو
یہ آنسوؤں بریسلٹ کا گم ہونے کے ہیں ساحر نے پوچھا
حانم اسبات میں ہر ہلا گئی
آپ نے مجھے پہلا گفٹ دیا تھا میں نے وہ کھو دیا
میں نے پہنا ہوا تھا پتا نہیں کہاں چلا گیا میں نے جان کر نہیں گمایا
کالم ڈاؤن نور وہ بریسلٹ ان آنسوؤں سے زیادہ قیمتی نہیں تھا۔۔۔
مگر مجھے وہ چائیے آپ مدد کریں ادھر ہی کہیں گڑا ہوگا حانم پھر سے دروازے کے پاس گئی
روکو ساحر نے اپنی شیروانی کی جیب سے وہ بریسلٹ نکالا
یہ ۔۔یہ آپ کے پاس کہاں سے آیا مجھے یاد ہے میں نے خود تیار ہوتے وقت پہنا تھا
ہاں جب تم نے زاویار کو تھپڑ مارا تھا تب اس کی ہک ٹوٹ گئی تھی اور یہ وہیں گڑ گیا تھا
مگر یہ تو ٹھیک ہے حانم نے بریسلٹ کی ہک دیکھی جو سہی تھی
ہاں میں اسے ہی کروانے گیا تھا تبھی لیٹ ہوگیا
شکر ہے حانم نے سکون کی سانس لی ۔۔۔۔
حانم نے بریسلٹ ساحر کی طرف بڑھایا جس نے وہ حانم کے ہاتھ پر پہنا دیا
میں یہ اتار دوں یہ جیولری بہت تنگ کر رہی ہے اتنی ہیوی ہے یہ
ہاں ایک منٹ ساحر نے اپنی الماری میں سے سرخ رنگ کا بوکس نکالا اور اسے حانم کی طرف بڑھایا
یہ لو تمہاری منہ دکھائی
منہ دکھائی اس میں کیا ہے حانم نے اشتیاق سے وہ باکس تھاما اور اسے جیسے ہی اوپن کیا اس کی آنکھوں میں بے ساختہ ہی خوشی کے مارے نمی آگئ
ساحر سائیں وہ بس اتنا ہی کہ سکی
مجھے مورے نے جب کہا کہ تمہارے لیے کوئی تحفہ خرید لوں تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ تمہے ایسا کیا دوں کہ تمہے وہ ہمیشہ یاد رہے
پھر میرے دل نے گواہی دی کہ تم جیسی نیک شریک سفر کے لیے قرآن پاک سے افضل اور پیارا تحفہ کیا ہوسکتا ہے
بے شک اس سے افضل کیا ہوسکتا ہے حانم نے نم آنکھوں سے اس باکس میں پڑے قرآن پاک کو عقیدت سے چوما
میری یہ ہی خواہش ہے کہ میں تمہے یہ تحفہ دنیا میں بھی دوں اور آخرت میں بھی کیونکہ مجھے تمہارا ساتھ اس فانی دنیا کے علاوہ ابدی دنیا میں بھی چائیے
تم بہت تھک گئی ہوگی اتنا ہیوی ڈریس ہے تم جاؤ چینج کرلو تب تک میں بھی وضو کرکے آیا پھر ساتھ نماز پڑھتے ہیں آپنے رب کے آگے سجدہ شکر بجا لاتے ہیں جس نے ہمیشہ ہمیں نوازا ہے ۔۔۔۔۔
حانم تھوڑی دیر بعد سادہ سے سوٹ میں دھلے ہوئے چہرے کے ساتھ کمرے میں آئی تو ساحر نے دو جائے نماز آگے پیچھے بچھائیں ہوئیں تھیں
حانم چل کر اس کے قریب آئی
پھر حانم نے اپنی نئی زندگی کی پہلی نماز اپنے ساحر سائیں کی امامت میں پڑھی
بے شک وہ خوش نصیب تھی اس کا شوہر اس کا ساتھ آخرت میں بھی چاہتا تھا
اور وہ لوگ قابل رشک اور خوش قسمت ہوتے ہیں جن کہ
ہم سفر ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنوار دیتے ہیں ۔۔۔۔
سوری یار عین
مان جاؤ نہ میں مزاق کر رہا تھا
زارون بچارا اسے منا رہا تھا جو اس کی کسی بات کو خاطر میں ہی نہیں لا رہی تھی
جائیں زی مجھ سے بات مت کریں میں ناراض ہوں آپ سے
اچھا اگر ابھی پائین ایپل پیزا آرڈر کرکے دوں تب بھی نہیں
مانو گی
زارون نے لالچ دی
جی تب بھی نہیں مگر عینی ابھی بھی نہیں مانی
اچھا یار سوری نہ مان جاؤ
چپ کرکے سو جائیں صبح ولیمہ بھی ہے نور کا اور مجھے فریش اٹھنا ہے ۔۔۔
آئی ایم سوری شی از نو مور
ان کا خون بہت زیادہ بہت زیادہ بہہ گیا تھا ہم ان کو نہیں بچا سکے ۔۔۔۔
زاویار لب بھیج گیا
شائستہ بیگم ادھر ہی بیٹھتی چلی گئیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔
