Rate this Novel
Episode 9
حانم آفس سے واپس آئی تو اسے اوپر والے فلیٹ سے کھٹ پٹ کی آواز آئی
ایک پل کو حانم چونکی پھر اپنا دروازہ بند کرکے اوپر کی طرف دوڑی
ساحر سائیں ،،،،،،
مگر وہاں کھڑے جیک کو دیکھ کر چونکی
جیک تم یہاں پر کیا کر رہے ہو ؟؟؟؟
حانم نے ساحر کے فلیٹ کے دروازے کے باہر کھڑے جیک کو دیکھ کر بولا
تم مجھ سے بات مت کرو ڈئیر میں تم سے ناراض ہوں
جیک نے غصے سے منہ موڑا
اور وہ کیوں ؟؟؟
حانم نے بازو آگے لپیٹ کر استفسار کیا
ساحر پورے” ٹو ویکس” سے یہاں ہر نہیں ہے اور تم نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا
جیک دو انگلیاں کھول کر حانم کو اشارہ کرکے خفگی سے بولا
کیا ہورہا ہے یہاں پر
ساحر کی آواز پر جہاں حانم چونک کر مڑی وہی
جیک غصیل محبوبہ کی طرح ایک ہاتھ کمر اور دوسرا منہ پر رکھ کر بولا
آگئی تمہے” ٹو ویکس” کے بعد یاد
ساحر نے جیک کے عجیب سے انداز کو دیکھا
ابھی وہ زاویار کے ساتھ سر کھپا کر آیا تھا اب یہ نیا عجوبہ نوٹ آگین ،،،،
جبکہ حانم اپنا قہقہ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہو گئی تھی…
دیکھیں مسٹر جیک !!!!
واٹ ساحر کال میں جیکی سب کے لیے جیک مگر تمہارے لیے جیکی
حانم جب زیادہ برداشت نہ کر پائی تو اس کا بلند قہقہ ہوا میں گونجا ساحر اسے گھور کر رہ گیا
مگر حانم آس پاس کی پروا کیے بغیر ہنسی جارہی تھی
جیک ؟؟جیکی ؟؟؟؟
ساحر کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا
اففف جو بھی تم ہو جاؤ یہاں سے اس وقت میرا دماغ گھوما ہوا ہے
ون منٹ ایک کال لے لوں
ابھی ساحر کچھ اور بولتا جیک کا موبائل رنگ ہوا
جیک نے اپنی ریڈ جینس کی پاکٹ سے فون نکال کر کال اٹینڈ کیا
آہاں !! یا یا ہم آہاں اپنے ناخنوں سے کھیلتا نزاکت سے بولا
ہممم میں نے تو کہا تھا مجھ سے اچھا ہئیر سپا جینی کو کوئی نہیں دے سکتا یا ۔۔ اوکے ڈارلنگ آئی ایم کمنگ
جی تو ساحر ڈئیر کیا کہہ رہے تھے
دیکھو مجھے غصہ نہ چڑھاؤ میں لڑکی۔۔۔۔میں ۔میرا ہاتھ اٹھ جائے گا
ساحر کو سمجھ نہ آئی اسے کیسے بھگائے یہاں سے
افف تم تو غصے میں بھی ہینڈسم لگتے ہیں
آئی ایم گوئینگ
یہ مت سمجھنا تمہارے کہنے پر جارہا ہوں ایک امپورٹنٹ کلائینٹ آیا ہے
نہیں تو میں تم سے اب بھی ناراض ہوں
منہ موڑ کر خفگی سے وہاں سے چلا گیا
جیک کے جانے کے بعد ساحر نے سکون کا سانس لیا جب نظر حانم پر پڑی جس کا ایک ہاتھ منہ پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے دروازے کا سہارا لیا ہوا تھا ۔۔۔
سرخ رنگت اس بات کی چغلی کر رہی تھی کہ جناب اپنا قہقہ ضبط کیے کھڑی ہیں
ساحر نے سر جھٹک کر اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا
بس اس کے یہ کرنے کی اتنی سی دیر تھی حانم زور زور سے ہنستی صوفے پر بیٹھی
اللّٰہ اکبر
اللّٰہ کی یہ کیا دیکھ لیا میں نے ہاہاہاہا
بس بھی کر جاؤ اب
میں کیا کروں میری ہنسی ہی نہیں رک رہی حانم اپنے گالوں کو دباتے بولی جو اب دُکھ رہے تھے
ہم تو کیسی جارہی ہیں سٹڈیز اور آفس ساحر نے کھوجتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا
ساحر نے دوسرے صوفے پر بیٹھ اس سے پوچھا وہ زاویار کو پیرس میں دیکھ کر تشویش میں تھا اس لیے شی سے ملے بغیر ہی حانم سے ملنے گھر
دونوں ہی اے ون حانم نے آکسائیٹڈ ہوکر کہا
ہممم۔ ۔۔ یہ تو اچھی بات ہے کوئ مسئلہ تو نہیں ہوا
آفس میں
نظریں ابھی بھی حانم پر تھی
جس کے اکسپریشن عام سے تھے
نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں ہوا بلکہ سر زی بہت اچھے ہیں
ہمممم۔۔۔۔
ساحر گہری سوچ میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
پاکستان!!!!!
اسلام علیکم آغا سائیں شائستہ بیگم آغا سائیں کے کمرے میں آئیں
وعلیکم السلام آؤ شائستہ بچے کیسی ہو اور اشرف سائیں کیسے ہیں
آغا سائیں نے مسکراتے ہوئے ان کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اللّٰہ سائیں کا بہت کرم ہے آغا سائیں سب ٹھیک ہیں
ہممم شکر اللّٰہ سائیں کا
اچھا آغا سائیں میں آپ سے ایک ضروری کام کے سلسلے میں آئی ہوں بلکہ یہ سمجھ لیں کچھ مانگنے آئی ہوں
کیا چاہیے شائستہ سائیں میرا سب کچھ تم بچوں کا ہی تو ہے
نہیں آغا سائیں میں آپ سے آپ کی عزیز چیز مانگنے آئی ہوں
میں حانم اپنے ابرار کے لیے مانگنے آئی ہوں آپ کو تو پتا ہے نہ مجھے اسعد سائیں سے کتنی محبت تھی میرا بھائی بھری جوانی میں ہمیں چھوڑ گیا مگر اب میں۔اس کی امانت اس کی آخری نشانی کو سینے سے لگانا چاہتی ہوں
مگر حانم کی ماں بھی اس پر حق رکھتی ہے
حالہ کو کیا مسئلہ ہوگا آغا سائیں اس کو تو خوشی ہوگی اس کی بیٹی کا گھر بس جائے گا اسے اور کیا چائیے اور جہاں حانم کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق وہ تو آپ کے پاس ہے حانم تو سب سے زیادہ آپ ہی کہ قریب ہے
دیکھیں آغا سائیں میں تو نیکی ہی کرنا چاہتی ہوں
آپ تو جانتے ہیں نہ حانم کی طلاق کے بعد لوگوں کو موقع مل گیا میروں کی بچی پر باتیں کرنے کا مگر میں اپنی بچی کے دکھ ختم کرنا چاہتی ہوں
شائستہ بیگم نے مصنوعی آنسو لا کر آخری پتہ پھینکا
حانم کی طلاق والی بات سن کر آغا سائیں بھی بے بس ہوگئے اچھا میں دیکھتا ہوں
آغا سائیں مجھے ہاں میں ہی جوب چائیے
اللّٰہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے
اچھا میں چلتی ہوں ابرار باہر انتظار کر رہا ہوگا
لالا ہممم۔ہمم لالا
آج موسم کتنا اچھا ہے نہ صنم میں سوچ رہی ہوں کیو نہ پکوڑے بنا لو علینہ کیچن کے اوپر والے کیبنٹ سے بیسن نکالتے بولی
اچھا زرا ریک سے چھوڑی تو پکڑانا میں پیاز کاٹ لوں
علینہ نے وہی کھڑے کھڑے ہاتھ پیچھے کرکے صنم سے چھوڑی مانگی
اففف صنم دو بھی چھوڑی بیسن گھل گیا ہے
یہ لیں
آہ۔۔۔۔
مردانہ آواز پر چھوڑی پکڑتے علینہ کے ہاتھ ڈگمگائے اور تیز دھار چھوڑی اس کی انگلی پر گہرا کٹ لگا گئی
سس زخم سے خون نکل رہا تھا اور علینہ کی آنکھوں سے آنسو
شش کچھ نہیں ہوا ابرار نے اس کا ہاتھ پانی کے آگے کیا
چھوڑیں پلیز علینہ نے کسمسا کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑوانا چاہا
پلیز کوئی دیکھ لے گا تو غلط سمجھے گا
ابرار جو پانی پینے کی غرض سے کی ن میں ہی چلا آیا تھا
اپنے چھوٹے مامو کی بیٹی کو اکیلے خود سے باتیں کرتے دیکھ مسکراہٹ دبا گیا وہ صنم کو پانے پیچھے سمجھ کر اس سے باتیں کر رہی تھی مگر صنم صاحبہ تو غائب تھیں
ابرار نے گہرا سانس لے کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
وہ جانتا تھا یہاں کے لوگوں کے لیے یہ واقع بڑی بات تھی
ریلیکس چھوڑ دیا ہے یہ نائف بہت تیز ہے نیکسٹ ٹائم احتیاط کیجیے گا علینہ
ابرار بغیر پانی پیے ہی کیچن سے باہر نکل گیا
کیا مما مگر آپ نے آغا سائیں سے اس حانم کا رشتہ کیوں مانگا بھائی سے میں قطع ہی اس لڑکی کو اپنی بھابھی نہیں بناؤ گی پہلے سب اس کے گھن گاتے ہیں اب آپ چاہتی ہیں بھائی بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے
سونیا کو جب یہ بات پتا لگی تھی کہ شائستہ بیگم نے ابرار کے لیے حانم کا ہاتھ مانگا ہے وہ تو آپے سے باہر ہو گئی تھی
تم چپ کرو سونیا میں نے کچھ سوچ کر ہی ایسا کیا ہے نہ
کیا سوچ آخر کیا سوچ کر آپ نے اس حانم کا رشتہ لیا مجھے بھی بتائیں
حانم آغا سائیں کی لاڈلی ہے
پتا ہے مجھے سونیا نے منہ بنایا
مگر وہ اسعد کی اکلوتی اولاد ہے مطلب اسعد کے نام کی ساری جائیداد کی اکلوتی وارث اسکے علاوہ آغا سائیں بھی تو اسے بہت کچھ دیں گے اور سب سے بڑی بات ایک دفعہ حانم کا نکاح ابرار سے ہوجائے میں ابرار کو اس گاؤں کا گدی نشین کرو ہی لوں گی
اور تم نے کو بدلے لینے ہیں تم بھی لے لینا مگر خدا کے واسطے بہت مشکل سے آغا سائیں کو منا کر آئی ہوں رنگ میں بھنگ مت ڈالنا شائستہ بیگم نے نخوست سے کہا
واہ ماں آپکا دماغ تو بہت تیز چلتا ہے
تم ابھی شائستہ میر کو جانتی نہیں ہو شائستہ بیگم نے تکبر سے کہا ۔۔۔۔۔
حالہ بیگم دھیرے دھیرے قدم لیتی اپنے کمرے میں آگئیں
شکر اللّٰہ کا وقت سے پہلے ہی سارا سچ ان کے سامنے آگیا تھا اب انہیں ایک کام کرنا تھا چکر کھاتے سر کے ساتھ کے لیے انہوں نے ہاتھ فون پکڑنے کے بڑھایا
ہیلو ۔۔۔۔۔۔
علینہ ادی یہ کیا ہوا
صنم نے علینہ کے بینڈیج لگے ہاتھ کو تھام کر فکرمندی سے کہا کچھ نہیں صنم ہلکا سا کٹ لگ گیا تھا
آپ دھیان رکھا کریں ادی سائیں
میری پیاری چھوٹی ہے نہ علینہ نے صنم کی گال کھینچی
اففف ادی سائیں اب اتنی بھی چھوٹی نہیں ہوں میں
ہممم ٹھیک کہہ رہی ہے صنم اتنی بھی چھوٹی نہیں ہے
سونیا جانے کہاں سے آئی تھی وہاں
معنی خیزی نظروں سے صنم کو دیکھ کر بولی جو نظریں جھکا گئی
ہممم سونیا مگر میرے لیے میری چھوٹی ہی ہے
علینہ نے سونیا کے عجیب انداز کو محسوس نہ کیا
جاوید سائیں!!!!
ہممم بولو ہما جاوید میر زمین کے کاغذات دیکھ رہے تھے ہما بیگم کے بلانے پر ان کی جانب متوجہ ہوئے
جاوید سائیں آپ نے آغا سائیں سے بات کی ؟؟؟
کیسی بات ہما سائیں ہم سمجھے نہیں
گاوں کی سرداری کی بات
گاؤں کی سرداری ؟؟؟ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی کھل کے بتاؤ
دیکھیں نہ سائیں
زاویار خاندان کا بڑا ہوتا تھا اس حساب سے سردار اس نے بننا تھا مگر وہ تو بھاگ گیا
باقی نواسوں میں سب سے بڑا ساحر اس کو آغا سائیں تو کیا نہیں جیٹھ سائیں نے ہی نہیں بننے دینا سردار اس سے پہلے شائستہ ادی سائیں ابرار کی بات کریں آغا سائیں سے آپ اخضر کی بات کریں نے وہ پوتا ہے اصولً وہ گدی تو اب ہمارے اخضر کی ہے نا
مگر اخضر ابھی چھوٹا ۔۔۔۔۔
اتنا بھی چھوٹا نہیں ہے سائیں پورے ستارہ سال کا ہے
اچھا میں صبح ہی بات کروں گا آغا سائیں سے
جاری ہے۔۔۔۔۔
کیسے ہیں پیالے ریڈرز 😂
اگلی قسط پڑھ کر آپ لوگوں کی کانپیں ٹانگ جائیں گی 😝
