58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

حانم نے اللّٰہ کا نام لے کر دروازہ نوک کیا
کم ان !!!
اندر سے بھاری مردانہ آواز سن کر حانم اندر کی جانب بڑھی
زی جو فائلز دیکھنے میں مصروف تھا اپنے سامنے غیر شناسہ لڑکی دیکھ کر چونکہ
جی آپ کون؟؟
وہ میں یہاں انٹرویو دینے آئی ہوں حانم نے اپنی فائل اس کی ٹیںل پر رکھ کر کنفیوژن سے کہا
انٹر ویو مگر …..
ابھی وہ کچھ کہتا کہ اس کے فون پر خان کی کال آئی
ایکسکیوزمی!!!
ہیلو ہاں ہاں اچھا ٹھیک ہے اوکے اللّٰہ حافظ
جی تو بیٹھیں
مس نور حاکم!!!!!
زارون نے حانم کی فائل پکڑ کر اس پر لکھا اس کا نام کال کیا
نور حاکم ۔۔۔۔
جی تو بتائیں اپنے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر سے رائٹ جا کر پہلا کیبن میری سکریٹری ہے کہ نور العین وہ تمہے کام سمجھا دے گی میں اسے فون کردوں گا


حانم کیبن کی طرف بڑھی وائٹ لانگ ٹاپ اور بلیو جینز میں بیٹھی ایک لڑکی فون پہ بات کرتی نظر آئی
اوکے ۔۔اوکے سر آئی ول ہینڈل ۔۔۔۔
یو نور حاکم
نور العین نے سنجیدگی سے حانم کو اوپر سے نیچے تک دیکھا
حانم کو لگا وہ بھی اسے پہلی ریسیپشنسٹ کی طرح حقارت سے دیکھے گی
کچھ کہے تو سہی ابھی نورِ حانم کو جانتی نہیں
آئی ایم نور العین زی سر کی پی۔اے نائس ٹو میٹ یو سویٹ گرل
نور العین نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ حانم کی طرف بڑھایا
حانم نے بھی مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔


ساحر اگلی دوپہر کو حویلی پہنچا تھا اور سیدھا آنسہ بیگم کے کمرے میں گیا
مورے مورے وہاں بیٹھی صنم اس کے پاس آئی
ساحر سائیں ابھی میں نے دوا کھلا کر سلایا ہے آپ شور نہ کریں
تمہارا بہت بہت شکریہ صنم تم نے مورے کا خیال رکھا
ساحر بستر پر دراز آنسہ بیگم کے پاس گیا
کوئی بات نہیں ساحر سائیں پھوپھو سائیں کا دھیان رکھنا میرا فرض تھا
تم چاہو تو جا سکتی ہو میں ہوں اںمب مورے کے پاس
ساحر نے آنسہ بیگم کے بالوں پر ہاتھ پھیرا
جی۔۔۔
اپنی پریشانی میں ساحر یہ محسوس نہ کر سکا کہ
ہمیشہ کی طرح ادا یاں لالہ تو صنم نے کہا ہی نہیں


صنم کمرے میں آکر گول گول گھمانے لگی
اففف ساحر سائیں پھر دونوں ہاتھوں سے چہرا ڈھانپ لیا
شکریہ کہنے کی کیا ضرورت ہے آگے بھی تو پھوپھو سائیں۔ کا دھیان میں نے ہی رکھنا ہے
ہاہاہا۔۔۔۔۔
کیا بات ہے چھوٹی کشن اتنا مسکرایا کیوں جارہا ہے خیریت
سونیا صنم کی کھلکھلانے کی آواز پر اس کے کمرے میں آئی
صنم سٹپٹائی نہیں۔ توں
اچھا اب اپنی دوست سے چھپاؤ گی
سونیا نے صنم کا ہاتھ پکڑ کر مصنوعی افسردگی سے کہا
ساحر سائیں آئیں ہیں
اوہو ساحر سائیں
جی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ صنم کمرے سے باہر نکل گئی
او ہو صنم بی بی آپ کے تو پر نکل آئے ہیں
ہمیں کیا مزہ تو تب آئے گا جب منہ کی کھاؤ گی کیونکہ ماموں سائیں اور آغا سائیں تو ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے
سونیا کی شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بالوں کی لٹ کو انگلی میں گھمایا


مورے ساحر دھیرے دھیرے ان کے بال سہلا رہا تھا
میرا بچہ کیسا ہو میری جان پہلے تو پھر بھی حویلی میں مل جاتے تھے اب تو بالکل بھی نظر نہیں آتے
آنسہ بیگم نے ساحر کے چہرے پر ہاتھ رکھا
مورے بہت ضروری کام تھا مجھے دوسرے ملک گیا ہوا تھا میں
دوسرے ملک !!!
جی مورے بس سمجھ لیں میری زندگی ک مقصد ہے نہیں تو آپ کو چھوڑ کر میں کبھی نہ جاؤں
آپ بتائیں میری مورے تو اتنی بہادر ہے تو پھر بیمار کیسے ہوگئی آپ ۔۔۔
نہیں میری جان اپنے بچے کو دیکھ لیا ہے نہ میں نے اب میں صحیح ہوں
مورے آپ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہیں
ساحر نے ان کے ہاتھوں کو عقیدت سے چوم کر کہا
نہیں بیٹا سائیں آنسہ بیگم نے نظریں چرائیں
مورے کیا گھر والوں میں سے کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟؟
نہیں بیٹا سائیں کو کچھ کہتا ہی تو نہیں ہے آنسہ بیگم کی آنکھیں بھر آئیں مورے آپ بتا کیوں نہیں دیتی سارا سچ آغا سائیں کو کیوں جل رہیں اس آگ میں مجھے بھی قسم میں باندھ لیا ہے
ساحر نے بے بسی سے کہا
بیٹا کیا فایدہ اب گڑھے مردے اکھاڑنے نے کا جب گھر والوں کی ضرورت تھی ان کے اعتبار کی ضرورت تھی تب انہوں نے کچھ نہیں کیا اب عمر کے اس حصے میں کسے سزا دلواؤں ۔۔۔
مورے یہ غلط ہے ساحر نے ان کے آنسو صاف کیے


آغا سائیں کو جب آنسہ بیگم کی بیماری کا پتا لگا تھا تو وہ خود کو نہیں روک پائے دوپہر کا وقت تھا عورتیں ساری کیچن میں تھیں اور جاوید اور جواد ڈیڑھے پر
آغا سائیں کے قدم آنسہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھے مگر اندر بیٹھے ساحر کو دیکھ کر وہ تھمے
ساحر یہاں ہے تو نورے ؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر سائیں آغا سائیں کی آواز پر ساحر اور آنسہ بیگم چونکے
تم۔یہاں ہر کیا کر رہے ہو؟؟؟
آغا سائیں مورے کی طبیعت خراب تھی اس لیے میں واپس آیا ہوں
ادھر اور بھی لوگ ہیں ساحر سائیں مگر ادھر نورے اکیلی
آغا سائیں نے سنجیدگی سے کہا
ہوں گے ادھر بہت سے لوگ آغا سائیں مگر دھیان رکھنے والا میں اکیلا ہی ہوں ساحر واپس آنسہ بیگم کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
ساحر سائیں ،،،،
جی مورے
تمہارا حانم کے ساتھ کیا تعلق؟؟
مورے حانم بھی اسی ملک میں پڑھ رہی ہے جہاں میں جوب کے سلسلے میں جاتا ہوں
اچھا تم تو ادھر آگئے حانم اکیلی ہوگی بچے
مورے آپ فکر مت کریں میرے اس سے بات ہوتی ہے وہ ٹھیک ہے
آپ اپنی فکر کریں اور میں آپ کے جوس منگواتا ہوں
بہت ہی پیاری بچی ہے حانم اکثر میرے ساتھ وقت گزارنے آجایا کرتی بہت بڑا ہوا اس کے ساتھ
زبردستی کی شادی کا صلہ ایسا ہی ہوتا ہے
میرا بس چلے تو میں اسے اپنی بیٹی بنا لوں
آنسہ بیگم کی بات پر ساحر کا دل زور سے دھڑکا
مگر ان کی اگلی بات پر دل دھڑکنا ہی بھول گیا
مگر گھر والے ایسا نہیں ہونیں دیں گے


دو ہفتے ہوگئے تھے ساحر کو گئے ہوئے اور دو ہی ہفتے ہوگئے تھے حانم کو اس کمپنی میں جوب کرتے ہوئے
زیادہ لوگوں سے تو نہیں سر زی کی سیکریٹری نور العین سے اس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی
دو ہفتوں میں ساحر کی کال بلاناغہ آتی رہی تھی
پہلے جب وہ ادھر تھا تب تو اسے اتنی فیل نہیں ہوا مگر اس کے جانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ اس کا کتنا خیال رکھتا تھا
اتنے دن ایک ہی روٹین کی وجہ سے حانم بور ہوگئی تھی اس لیے کل نور العین اسے sceaux ٹاؤن لے گئے تھی بہار کے موسم میں پیرس آئے اور سکیوکس ٹاؤن نہیں دیکھا تو کیا دیکھا اور بلاشبہ نور العین کی بات سچ تھی وہ جگہ بہت خوبصورت تھی
مزہ آرہا ہے ؟؟؟
نور العین نے حانم کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر پوچھا
افکورس
اور تم بتاؤ اپنے بارے میں کچھ دونوں آئسکریم پارلر میں گلاس وال کے ساتھ والی ٹیبل میں بیٹھ گئی
میرے بارے میں نور العین نے آئسکریم کے کپ پر اپنی انگلی کی ٹپ رکھی میں میرا تعلق اورفنیج سے ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے خود کو یتیم کھانے میں ہی پایا ہے
اس کی ادارنے نے تعلیم دلوائی پھر میری ملاقات زی سر سے ہوئی اینڈ انہوں نے مجھے جوب دے دی
اووو ایم سوری حانم کو دکھ ہوا
نو نو اٹس اوکے
ویسے تم سر زی کے نام پر بلش کیوں کرتی ہو حانم نے ماحول کو بدلنا چاہا
ن۔نہیں نہیں تو ایسی تو کوئی بات نہیں ہے
نور العین نے ادھر ادھر دیکھا
نور ،،،،
حانم نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تمہارے گالوں پر کچھ لگا ہے لال لال
کیا ؟؟؟ نور العین نے اپنے گالوں۔ پر ہاتھ پھیرا
چھوڑو بلش ہے
اففففف نور حاکم
نور العین نے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی
بائے دا وے سر زی بہت اچھے ہیں مگر جو دوسرے سر ہیں وہ تھوڑے عجیب ہیں فلرٹی ٹائپ
ہاہاہاہا سر زاوی نہیں وہ سب کے ساتھ فری ہیں ابھی نیو نیو جوئن کیا نہ انہوں نے
اچھا
اب تم اپنے بارے میں بھی بتاؤ نور العین نے حانم کو اشارہ کیا
اپنے بارے میں کچھ خاص نہیں
نور ،،،،،،
نور العین نے منہ پھلا یا
ویسے تمہے بلاتی ہوں تو لگتا ہے خود کو ہی کہہ رہی ہوں نور العین نے ہنس کر کہا
ویسے میرا پورا نام نورِ حانم اسعد حاکم ہے
اچھا مگر تمہاری گائک پر تو نور حاکم لکھا ہے
یس نور حانم کی جگہ نور حاکم پرنٹ ہوگیا اور پھر میرے پاس ٹائم نہیں تھا کریکٹ کروانے کا اور یہ نام بھی ٹھیک ہے
او آئی سی۔۔۔۔
اب بتاؤ اپنے بارے میں تم بات نہ گھماؤ
اچھا بابا حانم نے اسے اپنی لائف کے بارے میں بتایا زاویار والی بات چھوڑ کر
اوووو تم گاؤں کے سردار کی پوتی ہو
مگر انہوں نے تمہے اتنی دور کیسے آنے دیا آئی مین میں نے سنا ہے ان گاؤں میں بچے سپیشلی لڑکیوں کے لیے پڑھائی آلاؤ نہیں اور تم اتنی دور آئی اپنے بابا کا خواب پورا کرنے کے لیے نور العین نے اشتیاق سے اسے دیکھا
ارے نہیں اب وہاں بھی انٹر تک کی سٹڈی کے لے کالجز ہیں اور اتنی سختی بھی نہیں ہے


آئسکریم کھانے کے بعد حانم اور نور العین گلاس بوٹل شوٹ والے کارنیول میں لے آئی
میرا نشانہ ہمیشہ مس ہوجاتا ہے
نور العین نے منہ بنا کر گن حانم کی طرف بڑھائی
ٹک ٹک ٹک حانم نے تینوں ہی گلاس باٹلز کو صحیح شوٹ کیا
واؤ حانم تمہارا نشانہ کتنا اچھا ہے
ویلکم ویلکم مس عینی حانم اپنا ایک ہاتھ باندھ تعریف سمیٹنے کے انداز میں جھکی
اوو عینی ساؤنڈ گوڈ
ہاہاہاہا
دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس دی


زاوی کہاں کھو گیا
ایبک نے زاویار کا کندھا ہلایا جو حانم کو ہی دیکھ رہا تھا
ہاں کچھ نہیں
پتا نہیں جب سے آیا ہے چپ ہے
ڈیویڈ نے بھی کین سے آپ کے کر کہا
کچھ نہیں یار چلو ۔۔۔۔


حانم آفس سے واپس آئی تو اسے اوپر والے فلیٹ سے کھٹ پٹ کی آواز آئی
ایک پل کو حانم چونکی پھر اپنا دروازہ بند کرکے اوپر کی طرف دوڑی
ساحر سائیں ،،،،،،


آفس ٹائم ختم ہوچکا تھا کولیگز بھی آہستہ زاویار آفس سے باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا مگر اپنی گاڑی سے تھوڑے فاصلے پر ساحر کو کھڑا دیکھ کر چونک گیا
ساحر !!!!
زاویار کے قدم ساحر کی طرف بڑھے
اوو ہو کزن سائیں تم یہاں پر کیا کر رہے ہو ؟؟؟
زاویار نے اپنی گاڑی کی چابی سے اپنی کنبٹی سہلاتے ہوئے سوچنے والے انداز میں کہا
او مزدوری کرنے کرنے آئے ہو مگر تمہے لگتا ہے علم نہیں ہے یہاں پر کھیتی باڑی نہیں ہوتی
اور آتی ہی کیا ہے تمہے
مگر سوچنے والی بات ہے تم یہاں آ کیسے گئے
اوو ہاں آغا سائیں نے ہی بھیجا ہوگا مگر ان کو خدمت خلق کا بہت شوق ہے مگر اس بار ان کے پیسے ضائع ہی ہوئے ہیں
زاویار نے اپنی تھوری پر گاڑی کی چابی مس کی پھر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اور مخاطب ہوا
یہ کمپنی دیکھ رہے ہو مالک ہوں میں یہاں کا اگر صاف صفائی والی نوکری چائیے تو بتا دینا اب اتنا تو میں کر ہی سکتا ہوں آفٹر آل ہمارے ہی ٹکڑوں میں پل رہے ہو
ساحر خاموشی سے زاویار کی بکواس سن رہا تھا مگر اس کی اگلی بات نے اسے آگ لگا
ویسے کیسی ہے میری پینڈو کزن پلس سابقہ بیوی
زبان سنبھال کر بات کرو میر زاویار اور اس کا نام اپنی گندی زبان سے مت ہی لو اس وقت میں وہاں پر نہیں تھا اگر ہوتا تو تجھے یوں چوروں کی طرح منہ چھپا کر بھاگنے نہیں دیتا
ساحر نے زاویار کا گریبان پکڑا
تجھے کیوں آگ لگ رہی ہے تو شادی کرلیتا کچھ تو ہمارے احسان اُتارتا اس کے ہاتھوں سے اپنا گریبان چھڑواتا زاویار سائیڈ پر ہٹا ۔۔۔
ساحر غصے سے سر جھٹکتا اپنی گاڑی میں جا بیٹھا

جاری ہے