58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode (part 1)


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 31
ثمرین شیخ

صبح چار بجے فجر کے وقت حانم کی آنکھ کھلی
ساحر سائیں فجر کا وقت ہوگیا ہے اٹھ جائیں حانم ساحر کو آواز دیتی وضو کرنے کے لیے اٹھی
حانم نماز کی طرح حجاب باندھ کر کمرے میں آئی تو ساحر کسلمندی سے اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا
اففف ساحر سائیں دیر ہورہی ہے حانم نے اسے بازو سے تھام کر کھڑا کرنا چاہا جو اس کے لیے بہت مشکل تھا
میں جاہ نماز بچھا رہی ہوں جلدی کریں اور پھر آپ نے مسجد بھی جانا ہے دیر مت کریں
حانم الماری سے جاہ نماز نکالتے ہوئے بولی
تھوڑی دیر بعد ساحر بھی وضو کرکے باہر آیا حانم نے دو جاہ نماز آگے پیچھے بچھائیں ہوئیں تھیں
دونوں نے ساتھ سنت ادا کیں پھر ساحر فرائض کی ادائیگی کے لیے مسجد چلا گیا جبکہ حانم اپنی نماز مکمل کرنے لگی ۔۔۔۔۔


ساحر نیچے گیا تو حماد خان بھی وضو کرکے مسجد جانے کے لیے تیار تھے ساحر کو آپ ے سامنے دیکھ کر خوشی سے مسکرائے کیسا ہے میرا شیر وہ پر جوش ہوکر ساحر کے گلے ساحر بھی گہری مسکراہٹ کے ساتھ ان کے گلے سے لگ گیا
اللّٰہ نے بہت کرم کیا تھا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے بابا واپس آجائیں گے وہ کبھی ان کے گلے بھی لگے گا
مگر اللّٰہ بے نیاز وہ تب نوازتا ہے جب جس کی کوئی امید نہیں ہوتی جس کا کوئی گمان نہیں ہوتا
چلیں نماز کے لیے دیر ہورہی ہے وہ دونوں گھر سے باہر نکلے ۔۔۔۔


فجر کے وقت زاویار سونیا کی میت کو حویلی لایا تھا
ہاسپٹل والے اس کی باڈی کو ریلیز ہی نہیں کر رہے تھے کیونکہ یہ سوسائیڈ کیس تھا وہ لوگ پولیس کو کال کرنا چاہ رہے تھے مگر ہاسپٹل کے نئے اور چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگ زاویار کے رعب میں آگئے تھے
حویلی میں اتنی صبح ایسے سونیا کی لاش کا آنا ان اکسپیکٹڈ تھا سب ہی سکتے میں چلے گئے تھے
شائستہ بیگم عجیب عجیب حرکتیں کرتی تو کبھی بے ہوش ہو جاتی
سب حویلی آگئے تھے ابرار اور اشرف صاحب بھی سوائے خان ولا والوں کے آغا سائیں نے انہیں یہ بات بتانے کے لیے سختی سے منع کیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ حانم کو کسی بھی طرح کا ذہنی دباؤ یا پریشانی ہو ابھی تو حانم کی نئی زندگی شروع ہوئی تھی ۔۔۔۔
تو فل۔وقت کے لیے یہ خبر حانم سے چھپالی گئی تھی
خیر اس کی تدفین کے بعد سب ہی خاموش ہوگئے تھے کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس نے خود خوشی جیسا انتہائی قدم کیوں اٹھایا
صنم تو پہلے ڈری سہمی رہنے لگ پڑی تھی اپنے سامنے سونیا کی لاش دیکھ کر اس کا حال اور ہی برا ہونے لگ پڑا
اور وہ ادھر ہی پانے ہوش کھو بیٹھی


ساحر جب نماز پڑھ کر واپس آیا تو حانم کو۔زمین پر بیٹھے اپنی گود میں قرآن پاک رکھے اس کی تلاوت کرتے پایا
سورت یٰس کی تلاوت اس کے کانوں کو سرور پہنچا رہی تھی
کچھ حانم کی قرآٔت میٹھی تھی کچھ وہ حروف سحر انگیز تھے ساحر وہی کھڑے کھڑے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا
اسے اپنی رگ و پے سکون سا اترتا محسوس ہوا
حانم کے خاموش ہونے پر وہ جیسے ہوش میں آیا
شاہد وہ سورت مکمل کر چکی تھی اب قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ رہی تھی جب ساحر اس کے پاس آیا اور اسکے ہاتھ سے قرآن پاک لے کر اسے چوم کر اس کی مخصوص اونچی جگہ پر رکھا
تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے نور
لہجہ کھویا کھویا تھا
کیا۔تم مجھے روز ہی کسی ایک سورت کی تلاوت کرکے سناؤ گی
ساحر نے فرمائش کی
انشاء اللہ
حانم نے بھی فوراً حامی بھر لی
ساحر سائیں آپ کو یاد ہے نہ آج کے پلین
حانم شیشے کے پاس کھڑی ہوکر اپنا حجاب کھولنے کے ساتھ اپنے بالوں کو سلجھانے لگی
آف کورس یاد ہے سب کچھ تیار بھی ہے
ساحر نے حانم کے لمبے بھورے بالوں کی طرف دیکھ کر کہا جن کی خوشبو کمرے میں پھیل گئی تھی حانم کے کھلے بال وہ دوسری دیکھ رہا تھا
پہلی بار اس نے نکاح کے بعد جب اس نے پیرس میں حانم کو پرپوز کیا تھا تب دیکھے تھے مگر تب اندھیرا تھا
تمہارے بال بہت خوب صورت ہیں نور ساحر
بنا کسی تردید کے تعریف کی گئی
حانم کے لبوں پر تبسم پھیلا


تھوڑی دیر میں وہ دونوں ساتھ نیچے اترے تو ناشتے کی ٹیبل پر موجود آنسہ بیگم اور عینی نے بے ساختہ ماشاءاللہ کہا تھا ہلکے نارنجی رنگ کے ہلکی امبرائیڈری والے سوٹ میں وہ ہلکا سا میک اپ کیے حانم بہت خوبصورت لگ رہی
تھی
او آؤ بچوں بیٹھو میں ناشتہ لگواتی ہوں
ابھی آنسہ بیگم کا اتنا ہی کہنا تھا کہ علینہ اخضر اور حالہ بیگم کے ساتھ آغا سائیں خان ولا میں داخل ہوئے
ناشتہ کیوں ہم لائے ہیں نہ اپنے بچوں کے لیے ناشتہ نوراں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ٹوکرے کیچن میں جا کر رکھے
اس کی کیا ضرورت تھی آغا سائیں آنسہ نے کہا
ارے کیوں ضرورت نہیں یہ تو رسم ہے
چلو کھانا لگواو بچوں کو بھوک لگی ہوگی
۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد حالہ بیگم حانم کے پاس آئی میری جان کیسی ہو؟
انہوں نے پیار سے حانم کی تھوڑی چھوئی
میں ٹھیک ہو مما سائیں
تم خوش ہو نہ حانم ؟؟؟
میری آنکھوں میں جلتے دیے دیکھ کر بھی کسی دلیل کی کوئی گنجائش رہتی ہے
حانم نے گہری مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہا
ہمیشہ خوش رہو میری جان سدا آباد رہو تمہارے سر کا سائیں تمہاری حفاظت کرے ڈھیروں دعائوں کے ساتھ
آغا سائیں اخضر اور حالہ بیگم وہاں سے رخصت ہوگئے
جبکہ علینہ کو حانم نے ادھر ہی روک لیا


لینو یہ تمہاری آنکھیں کیوں ریڈ ہورہیں
تم ٹھیک ہو حانم علینہ کی آنکھیں نوٹ کرکے بولی
آہ۔ہاں ہاں وہ الرجی ہوگئی تھی تمہے تو پتا ہے نہ میری آنکھیں کتنی سینسٹو ہیں علینہ نے نظریں چرائیں
ہاں دھیان رکھا کرو اور صنم کیون نہیں آئی
صنم وہ صنم کے نہ سوٹ میں کوئی مسئلہ آگیا تھا تو چاچی سائیں کے ساتھ وہ ٹھیک کروانے چلی گئی تمہے تو پتا ہے نہ اس کا
اچھا چلو چھوڑو میں تمہے اس کا سوٹ دکھاتی ہوں اور آگے کا پلین بھی بتاتی ہوں ۔۔۔۔
ہممم۔۔چلو


حانم ہاتھ میں ہلدی کی چھنی لے کر لاونج میں آئی جہاں بیٹھی عینی فروٹ سیلڈ کھاتے ہوئے ٹیوی دیکھ رہی تھی
علینہ بھی اس کے پاس ہی اگئی
لینو تجھے پتا ہے نہ ہلدی لگانے سے فیس کتنا گلو کرتا ہے
حانم نے چور نظروں سے عینی کو دیکھا جس کا دھیان ابھی بھی ٹیوی پر تھا
ہاں حانم سائیں اس سے رنگ بھی پیارا ہوتا ہے میں نے تو ابھی کل لگایا تھا دیکھو کتنا اچھا ریزلٹ آیا ہے علینہ نے تو باقاعدہ اپنے گورے بازو آگے کیے
اچھا واقع عینی بھی فروٹ سیلڈ کا باؤل میز پر رکھ کر ان کی طرف اشتیاق سے مڑی
یس ادھر آؤ عینی میں تمہے بھی لگا دوں آفٹر آل دلہن کی بیسٹی ہو تمہے بھی روپ آنا چاہیے
تم کھاؤ ہم خود لگا دیں گے
کھاؤ کھاؤ علینہ نے سیلڈ کا باؤل واپس اس کی طرف بڑھایا
تم ایسا کرو آنکھیں بند کرلو ایسے زیادہ ریلیکس رہو گی
ہمم اوکے
حانم نے اپنے موبائل کا کیمرہ اوپن کیا اور ویڈیو پر لگا دیا
اور بھاگ کر کیچن میں کھڑی آنسہ بیگم کو باہر لے آئی
افف یار اب تو کافی دیر ہوگئی کھول لوں آنکھیں اور یہ کیا ہلدی سے میرے ہاتھوں پر ڈیزائن بنارہے ہو گدگدی ہورہی ہے مجھے
عینی نے جھنجھلا کر کہا
نور یار میں تھک گئی ہوں
بس کچھ دیر اور پھر نکھار نہیں آئے گا زی سر کے ساتھ اچھی کیسے لگی گی
حانم نے پتہ پھینکا
نہیں نہیں تم کرو میں نے کی ہیں آنکھیں بند
اس کی جلد بازی پر علینہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔


آج دو بیوٹیشنز کو بلایا گیا تھا ایک حانم کے لیے دوسری نور العین کے لیے
یار یہ سب کیا ہورہا ہے پہلے تم لوگوں نے مجھے بغیر بتائے مہندی لگا دی اب بیوٹیشن اور یہ اتنا ہیوی ڈریس میں کوئی دلہن ہوں عینی اپنے سامنے اتنا ہیوی ڈریس دیکھ کر جھنجھلائی آج کی نسبت اس کا کل والا ڈریس قدرے ہلکا تھا مگر اسے اس میں ہی اپنی نانی یاد آ گئی تھی کجا کے وہ یہ ڈریس پہنتی تھی
نہیں نور پلیز یہ بہت ہیوی ہے
عینی نے آپ ے سامنے پڑا کریم گولڈن کلر کا لہنگا دیکھا جس پر شیشے اور موتی کا بھاری کام ہوا ہوا تھا اور ساتھ اس کے جیولری بھی خاصی فینسی تھی عینی کو تو اپنی موت نظر آرہی تھی
عینی تمہے میری قسم اگر تم نے یہ ڈریس نہیں پہنا تو میں آج اپنے ولیمے پر ہی نہیں جاؤں گی
افف ایک تو تمہاری ایموشنل بلیک میلینگ
عینی ڈریس چینج کرکے آئی
واؤ عینی ماشاءاللہ اللّٰہ سائیں نظر بد سے بچائے بہت خوبصورت لگ رہی ہو
تم
تم بھی نور ٹی پنک کلر کی ہیوی میکسی میں مہارت سے ہوئے میک اپ میں حانم حسین تر لگ رہی تھی سر پر اس نے حجاب کروایا تھا جو اس کی خوبصورتی اور وقار کو بڑھا رہا تھا ۔۔۔
حانم نے اپنے ہاتھوں میں پنک اور وائٹ اور عینی کے ہاتھوں میں سرخ گجرے ڈالے عینی کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ آج اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے
افف شکر ہے ڈبٹہ سادا ہے عینی نے ہلکی کڑھائی والے سرخ ڈبٹے کو دیکھ کر شکر کیا


تھوڑی دیر میں وہ لوگ فارم ہاؤس میں پہنچے
حانم اور ساحر ساتھ ساتھ ایک حسین اور مکمل کپل لگ رہے تھے بیک وقت کہیں رشک اور حاسد نظریں ان کی جانب اٹھیں
وہ دونوں سٹیج پر پہنچ کر بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہوگئے
ساحر نے مائک تھاما لیڈیس اینڈ جینٹل مین پلیز اٹینشن
آج اس خوشی کے موقع پر ہم آپ لوگوں کو مدعو کرتے ہیں
آپ میرے دوست کے نکاح میں شامل ہوں اور اس کی خوشی کو بھی دوبالا کریں
حانم اپنی میں کسی سنبھالتے سٹیج سے اتر کر عینی کی طرف بڑھی اور اسے تھام کر سٹیج پر لے آئی جہاں سیاہ رنگ کی شیروانی میں زارون تیار کھڑا تھا
زارون بے چارہ حیران اس کو خود ساحر نے زبردستی شیروانی پہنائی تھی

عین نے بے یقینی سے سب کو دیکھا ہوش تو اسے تب آیا جب حانم نے اسی کے سرخ ڈبٹے سے اس کے چہرے کو ڈھانپہ
کیا آپ کو قبول ہے ؟؟؟
زارون آج اسے تمام گواہان کے بیچ سپنوں کے بیچ اسے قانونی اور شرعی طور پر دوبارہ قبول کر چکا تھا
سائن کرتے وقت عینی کے ہاتھ کپکپائے جنہیں حانم نے تھاما
عینی کھڑی ہو کر زور سے حانم کے گلے لگی
شادی مبارک ہو میری جان ایک ویڈیو بھیجی ہے دیکھ لینا حانم نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔


آج تمام رسموں کے ساتھ عینی زارون کی دلہن بنی تھی
دونوں ہی اتنی محبت پا کر بے حد خوش تھے یہ لوگ ان کے اپنے نہیں تھے نہ ہی ان سے کسی قسم کا کئی خون کا رشتہ تھا پھر بھی بعض دفعہ احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں
عینی اور زارون اس وقت کمرے میں بیٹھے حانم کی بھیجی ویڈیو دیکھ رہے تھے جس میں
عینی میڈم ریلیکس سی آنکھیں بند کیے فروٹ کھا رہیں تھیں ایک لڑکی اس کے پیروں پر مہندی لگا رہی تھی ایک اس کے ہاتھوں پر اور حانم علینہ وغیرہ عینی کے منہ پر ہلدی لگا کر اس کے سر سے پیسے وار وار کر رکھ رہے تھے
اففف یہ کتنے تیز ہیں نہ میری بند آنکھوں میں میری رسم کر لی عینی بے یقینی سے ہنسی
ہنس تو زارون بھی رہا تھا
واقع یہ سرپرائز ان دونوں کے لیے ہی ورلڈ بیسٹ سرپرائز تھا ۔۔


ساحر سائیں آج کتنا مزہ آیا نہ حانم اپنی جیولری اتارتی آکسائٹمنٹ سے بولی
ہممم زی سر اور عینی کے ایکسپریشن تو دیکھنے والے تھے حانم نے قہقہ لگایا
حانم ساحر اٹھ کر اس کے پاس آیا
جی حانم مصروف سے انداز میں اپنی جیولری اتارتی ہوئی بولی
سونیا نے سوسائڈ کر لی ہے ۔۔۔
حانم کے ہاتھ تھمے
ک۔کیا اااا؟؟
سونیا نے سوسائیڈ کرلی ہے کل رات کی آج صبح ہی اس کی تدفین ہوئی ہے
سو۔سا۔۔۔ مگر کیوں ؟ اور کسی نے مجھے بتایا کیوں نہیں حانم نے دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھے
اس بات کا ابھی پتا نہیں لگا نہ ہی کسی نے پولیس میں کیس کیا ہے سب کا یہ کہنا ہے اس نے اپنی وین کاٹ لی تھی اور گھر والوں کو آغ سائیں نے مع کیا تھا تاکہ ہمیں پریشانی نہ ہو آج کے دن
افف اللہ حانم کا سر ہی چکرا گیا
حانم اسے معاف کردو تاکہ اس کا آگے کا سفر آسان ہو جائے
ہممم میں نے اسے معاف کیا ساحر سائیں۔
میں نے اسے معاف کیا اللّٰہ سائیں آپ بھی اسے اس کے اس قدم پر معاف کردیں
رو مت نورِ ساحر یور ٹئیرز ہرٹ می


آج وہ ہار گیا تھا سب کچھ ہی ختم ہوگیا نور حاکم
بلکہ نور حانم ساحر اب ساحر خان کی ہوچکی تھی اسے اس نے اپنی انا میں گنوادیا
کاش وقت واپس لوٹ آتا
کاش نور اس کی ہوجاتی
کاش وہ اس سے ملتا ہی نہ
کاش اسے نور سے محبت ہی نہ ہوتی
کاش !!!! وقت پچھتاوے اور کاش کہ اس کے پاس رہ ہی کیا گیا تھا
تم میری نہیں تو کسی کی بھی نہیں
انہیں پچھتاؤں میں ڈوبے وہ بے دھیانی میں گاڑی غلط رخ کو موڑ گیا اور اس کی گاڑی سامنے موجود درخت پر جا لگی
نور !!!!! آخری الفاظ اس کے نور ہی تھے ۔۔۔۔


آغا سائیں آپ تو جانتے ہیں میری نوکری کی نوعیت مجھے اور ابرار کو جانا ہے مگر اس سے پہلے میں اپنے ابرار کے لیے علینہ کا رشتہ مانگنے آیا ہوں
ابرار واقع اس سے بہت محبت کرتا ہے اور اسے بہت خوش رکھے گا اس بات کی گارنٹی آپ مجھ سے لیں لیں آغا سائیں ۔اشرف صاحب آغا آئیں کے پاس بیٹھ گئے
نہیں ہر گز نہیں میں اس عورت کے بیٹے کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی ہر گز نہیں کروں گی ہما بیگم بھڑکیں
تو جاوید سائیں نے انہیں گھورا آغا سائیں میں واقع علینہ کے معاملے میں سنجیدہ ہوں اگر آپ کو مجھ میں کوئی کوتاہی نظر آئی تو میں اور میرا سر ہوگا آپ کو چائیے کرئیے گا ابرار کی آنکھوں میں اس کے لفظوں کی سچائی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی
علینہ سائیں کو بلاؤ جو فیصلہ میری بچی کا ہوگا میرا بھی وہ ہی فیصلہ ہوگا ۔۔۔۔


جاری ہے