Rate this Novel
Episode 24
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 24
ثمرین شیخ
تم کتنی لاپروا ہو نور ساحر اپنا ہاتھ بھی جلا لیا اور اوپر کچھ لگایا بھی نہیں
حانم ایک دم خاموش ہو گئی
آئی ایم سوری ساحر سائیں مگر میں ایسا نہیں چاہتی تھی وہ مجھے پتا نہیں لگا کیسے نیند آگئی
کوئی بات نہیں نور یقین تم کل تھکی ہوئی ہوگی نہیں تو وہ پاستہ تمہارا فیورٹ تھا تم کیسے چھوڑ سکتی ہو اسے
خیر میں زرا فریش ہو آئوں پھر ٹیسٹ کرتا ہوں کہ مس شیف نے کیسا بنایا ہے بریک فاسٹ ساحر بیڈ سے اٹھتا
واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
پاکستان!!!!!
شائستہ بیگم ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی ملازمہ سے اپنے پاؤں دبوا رہیں تھیں جب سونیا اپنا بیگ گھسیٹتے اندر آئی
سونیا۔۔۔۔
شائستہ بیگم سونیا کی ابتر ہوتی حالت دیکھ کر اس کی طرف لپکی جس کا ایک گال سوجھا ہوا تھا اور آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑے ہوئے تھے
سونیا میری بچی شائستہ بیگم اس کے گلے لگنے کو آگے بڑھی جب سونیا نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ انہیں خود سے دور جھٹکا
دور رہیں آپ مجھ سے
سونیا میں تیری ماں
کوئی ماں نہیں ہے میری آپ صرف ڈائن ہیں ڈائن میری اس حالت کی زمہ دار ہیں آپ دور رہیں مجھ سے سونیا پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی
یہ کیسا شور ہے ؟ شور کی آواز سن کر گھر کی خواتین اور آغا سائیں باہر آئے
آغا سائیں دیکھیں کیسے اس وحشی نے میری بچی کو مارا ہے کتنا روئی تھی میں کہ نہ کرواؤ اس سے میری بچی کی شادی میری پھول سی بیٹی شائستہ بیگم پھر سونیا کے قریب آئیں
پھول جیسی بچی آپ کی اور آنسہ کیا وہ ماں کی بیٹی نہیں تھی یاں اس کے پاس دل نہیں تھا اللہ سائیں نے اس نیک کی قسمت میں نیک شوہر لکھا تھا اور تمہاری بیٹی کی جو حرکتیں تھیں اسے ویسا ہی شوہر ملا ہے اب پھر واپس آ گئی ہے ہم سب کے سر پر عزاب بننے مگر آغا سائیں اب یہ عورت اور اس کی بیٹی اس گھر میں نہیں رہے گی ہماری بھی جوان بیٹیاں ہیں اب یہ تو یہ دونوں ادھر رہیں گی یہ ہم ہما جاوید بھی سونیا کا ہال دیکھ کر بول پڑیں
جی آغا سائیں پہلے ہی اس سونیا نے میری صنم کو بھی جانے کیا پٹی پڑھائی تھی
اچھا بھابھی سائیں تمہاری صنم کوئی دودھ پیتی بچی ہے جو باتوں میں آگئی شائستہ نے طنزیہ انداز میں کہا
بس کر جاو شائستہ بہت ہوگیا تمہارا اب میں تمہے ایک لمحہ یہاں برداشت نہیں کرسکتا
آغا سائیں کی دھاڑ پر سناٹا ہوا
آغا سائیں وہ باہر وہ سونیا بی بی سائیں کو لینے ۔۔۔۔۔
نوراں نے وہاں آکر جھجھکتے ہوئے کہا
نہیں ۔نہیں آغا سائیں میں آپ کے پاؤں پکڑتی ہوں پلیز مجھے اس شخص کے ساتھ نہ بھیجیں آپ جو سزا دیں گے مجھے قبول ہوگی پلیز یہ ظلم مت کریں آپ آپ میرا قتل کردیں مگر اس شخص کے ساتھ نہ بھیجیں میں میں نے نہیں جانا
سونیا زارو قطار روتی آغا سائیں کے قدموں میں گڑی شائستہ بیگم کے بھی دل کو کچھ ہوا
نہیں جائے گی میری بیٹی یہاں سے شائستہ بیگم نے سونیا کو تھاما
جائے گی ضرور جائے گی تمہاری بیٹی بھی اور تم بھی ہم تمہے اب اس حویلی میں اور برداشت نہیں کرسکتے ہیں
یہاں سے دور چلی جاؤ اور پھر جو جی میں آئے کرو ہمیں کوئی غرض نہیں
جاوید سائیں بھی وہاں آئے
کیوں نکالیں گے آپ ہمیں نہیں نکال سکتے حصہ ہے میرا اس حویلی میں شائستہ بیگم بھڑکی
بس کر جائیں ماں خدا کے لیے بس کر جائیں پیسہ پیسہ پیسہ کیا کریں گی آپ اس کا قبر میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے آپ کی دولت کے لیے ہوس نے مجھے آپ جیسا بنا دیا ہے کاش میں بھی بھائی کے ساتھ چلی جاتی
مامو سائیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں آپ چائے ایک کمرہ ہی دے دیں مگر یو گھر سے نہ نکالیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں سونیا روتے ہوئے ہاتھ جوڑ گئی
بہت بہت مبارک ہو حالہ اللّٰہ سائیں نے کرم کیا آنسہ بیگم حالہ بیگم کے گلے لگیں
ادی سائیں یہ میرے پاک رب کی شان ہے نہیں تو میں نے تو بالکل ہی امید چھوڑ دی تھی
نہیں حالہ نا امیدی کفر ہے آنسہ بیگم نے اسے اپنے ساتھ لگایا
بے شک رب کائنات ہمیشہ ہم گناہ گاروں کو نوازتا ہے
بے شک حالہ بیگم نے بھی نم آنکھوں سے کہا
واہ کیا بات ہے یہاں تو نندھ بھاوج میں تو آپس میں پیار ہورہا ہے
تبھی حماد خان وہاں آئے
جی خان سائیں میں آج بہت خوش ہوں حالہ کی رپورٹس بہت اچھی آئیں ہیں ڈاکٹرز کا کہنا ہے اس کے کینسر کی پکڑ ہوچکی ہے اب بس صرف چند مہینے دوائیاں کھانی پڑیں گی
آنسہ بیگم کے لہجے میں صاف خوشی عیاں تھی ۔۔
ماشاءاللہ یہ تو اچھی بات ہے بہنا حماد خان نے حالہ کے سر پر ہاتھ رکھا
شکریہ حماد ادا سائیں
اچھا میں یہ خبر حانم کو دے کر آئی
حالہ بیگم اپنے کمرے کی طرف بڑھی
آنسہ !!!
آنسہ جو مسکرا کر حالہ بیگم کی خوشی دیکھ رہیں تھیں حماد خان کے پکارنے ہر چونکی
جی خان سائیں
خان کی خانم سائیں جب شوہر کام سے آتا ہے تو اس کے لیے اپنے ہاتھوں سے چاہے شاہے بنائی جاتی ہے۔۔۔
جی میں ابھی بنا کر لائی آنسہ مسکرا کر کیچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
ہائے کیسی ہو نور عینی حانم کے کیبن میں آئی
میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کیسی ہو
میں تو بہت اچھی وہ ی نے کھلکھلا کر کہا
ہاہاہاہا حانم بھی جواب میں ہنس دی جب اس کی نظر عینی کے ہاتھ میں تیسری انگلی میں پہنی انگھوٹھی پر پڑی
واؤ عینی یہ تو بہت خوبصورت ہے
نور نے عینی کا ہاتھ پکڑا
زی نے دی ہے کل عینی نے شرما کر کہا
اوہو زارون سر نے دی ہے یہ تو بہت پیاری ہے
نور کل مجھے اور زی کو بہت مزا آیا ہماری طرف سے ایک بار پھر خان سر کو تھینکس کہنا
تھینکس؟؟؟ مگر کس لیے حانم نے نا سمجھی سے پوچھا
ارے تمہے نہیں بتایا خان سر نے کل انہوں نے مجھے اور زارون کو لنچ ٹریٹ دی تھی خود تو ان کی میٹنگ تھی نہیں تو وہ کہ رہے تھے کہ تم اور وہ بھی ضرور ہمیں جوائن کرتے خیر کل لنچ کے بعد ہم نے تھوری واک کی پھر زی نے مجھے پرپوز کرنے کے سٹائل میں رنگ دی ۔۔۔۔
عینی اور بھی بہت کچھ بتا رہی تھی مگر حانم تو اسی بات میں اٹکی ہوئی تھی
” ساحر سائیں میں آج نور العین کے ساتھ جارہی
ہوں لنچ کرنے وہاں سے گھر چلی جاؤں گی آپ فکر
مت کیجئے گا “
کیا کوئی کسی پر اتنا بھی ٹرسٹ کر سکتا ہے جتنا ساحر سائیں اس پر کرتے ہیں
پہلے میں نے ان سے جھوٹ بولا جسکا انہیں پتا بھی تھا کہ میں جھوٹ بول رہیں ہوں پھر میں نے ان کا دل دکھایا حانم کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں
نور کیا ہوا ؟؟ عینی نے چونک کر حانم کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر پریشانی کے ساتھ پوچھا
کچھ نہیں بس آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے میں زرا چیک کرکے آئی حانم وہاں سے اٹھی ۔۔۔۔
اس کا رخ ساحر کے آفس کی طرف تھا
حانم اندر گئی تو زاویار پہلے سے ہی اندر موجود تھا
مس نور آپ یہاں زاویار اسے دیکھ کر چونکہ مگر حانم اسے اگنور کیے ساحر سے مخاطب ہوئی
سا ۔خان سر مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے
یس میں ۔۔۔۔ سر ابھی وہ بھی اکیلے میں حانم نے ایک نظر زاویار کو دیکھا
دیکھنے کا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو جائیں
اوکے مسٹر زاوی آپ یہاں سے جاسکتے ہیں باقی بات بعد میں ہوگی
زاویار ایک نظر ساحر کو دیکھ کر مٹھیاں بھینج کر وہاں سے چلا گیا
سر۔۔۔۔
مس نور
یہ سب کیا ہورہا ہے ساحر سائیں حانم کی آواز بھرائی ہوئی تھی
ساحر ایک دم چونکا کیا ہوا ہے نورِ ؟
ساحر پریشان ہوا
آپ۔۔۔ حانم کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا ساحر فورا اپنی چئیر سے اٹھ کر اس کے قریب آیا
کیا ہوا نور مجھے بتاؤ
نہیں حانم زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگ پڑی ساحر حانم کا ہاتھ پکڑ کر آفس سے باہر لے گیا اسے گاڑی میں بٹھایا اور خود گاڑی چلانے لگ پڑا ۔۔۔۔
حانم گاڑی کی سیٹ سے اپنی پشت لگا کر آنکھیں موند گئی
اور گاڑی کے رکنے پر حانم نے آنکھیں کھولیں
ساحر اس کا ہاتھ تھام کر اپنے فلیٹ میں لے آیا
حانم کو صوفے پر بٹھا کر خود زمین پر پنجوں کے بل بیٹھ کر اس کے ہاتھ تھام گیا
کیا ہوا ہے نور مجھے بتاؤ کیوں رو رہی ہو؟؟
حانم نے شکوہ کناں نظروں سے ساحر کو دیکھا
آپ کو پتا تھا نہ کہ میں نے جھوٹ کہا ہے کہ میں نور کے ساتھ جارہی ہوں پھر بھی آپ نے مجھ سے نہیں پوچھا
کیوں ساحر سائیں کیوں نہیں پوچھا آپ نے مجھ سے
ساحر خاموشی سے اسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا
میں کچھ پوچھ رہی ہوں ساحر سائیں کیوں نہیں پوچھا آپ مجھ سے پوچھنے کا حق رکھتے تھے
حانم نے اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑوائے
آپ بتائیں مجھے ساحر سائیں
آپ کو پتا ہے میں کل نور العین کے ساتھ نہیں زاویار سر کے ساتھ لنچ پہ گئی تھی
حانم نے سنجیدگی سے ساحر کو دیکھ
آپ کو پتا ہے اس شخص نے مجھے کل پرپوز کیا ہے
ساحر کی گرفت حانم کے ہاتھوں پر سخت ہوئی
اس کے کسے ہوئے جبڑے اس کے اشتعال میں آنے کا ثبوت تھے
وہ شاہد اس کا ضبط آزما رہی تھی
آپ نے مجھ سے کیوں چھپایا ساحر سائیں کہ سر زاوی ہی میر زاویار ہے اب حانم کے لہجے میں شکوہ تھا کرب تھا
مجھے جواب چائیے ساحر سائیں اب کہ حانم نے ساحر کے ہاتھ تھامے
ساحر نے اس کے کرب زدہ لہجے پر تڑپ کر اس کی طرف دیکھا
نور مجھے نہیں پتا تھا
مجھے نہیں پتا تھا کہ کہ زاویار اس آفس کا باس ہے
نہیں پتا تھا کہ جسے ٹونٹی پایو پرسنٹ کی پارٹنرشپ زارون نے دی تھی وہ میر زاویار ہے
مجھے نہیں پتہ تھا تم جب اس آفس میں جوب کرنے لگی تو میں پاکستان چلا گیا تھا جب وہاں سے واپس آیا تو مجھے زاویار آفس کے باہر ملا اس نے جب مجھے بتایا کہ وہ اس آفس کا باس ہے مجھے لگا کہ وہ میرے صرف چڑا رہا ہے مجھے تب بھی معلوم نہیں تھا
مگر ۔۔۔۔۔
پھر مجھے زارون سے پتا لگا کہ وہ یہاں کا شیئر ہولڈر ہے مجھے اس وقت صرف تمہاری فکر تھی
کہ تم اس کو دیکھ کر اپنا فیصلہ نہ بدلو راہ فرار نہ چن لو اپنے خواب کو نہ ادھورے چھوڑ دو
مگر حیرانی مجھے تب ہوئی جب گزاروں اور تم آپس میں بالکل عام سے رویہ کے ساتھ مل رہے تھے
پھر مجھے پتا لگا کہ تم لوگ آپس میں دوسرے کو نہیں جانتے مجھے پیار کو تو ویسے ہی میں نے آفس سے نکلوا دینا تھا اس لئے میں نے تمہیں بتایا کہ کہیں تمہارے خواب کے راستے میں رکاوٹ نہ بن جائے یہ بات
اور جا رہ گئی تم سے نہ پوچھنے کی بات تو مجھے تم پر یقین تھا کہ میروں کی نور حانم اسعد حاکم کبھی ہمارا سر جھکانے والا کام نہیں کرے گی
ساحر کے لہجے میں مان تھا
نور حانم تو کمزور ہوسکتی ہے مگر نور ساحر نہیں
حانم روتے ہوئے اس کے شانے پر اپنی پیشانی ٹکا گئی
کیا کوئی کسی پر اتنا اندھا اعتبار بھی کرسکتا ہے ساحر سائیں سر ہنوز شانے پر تھا حانم نے بھیگے لہجے میں رشک کے ساتھ کہا ہاں اسے خود پر رشک ہورہا تھا اپنی قسمت پر رشک ہورہا تھا
میں نے پہلے بھی کہ تھا نورِ ساحر کہ میرے نزدیک محبت کا پہلا اصول اعتبار ہے اور تمہارے جھوٹ کو جاننے کے باوجود تم پر یقین کرنا میری محبت کا امتحان تھا !!!!
آپ مجھ پر اعتبار کرتے ہیں مگر مجھے آپ کا ساتھ بھی چائیے ساحر سائیں حانم سیدھی ہوئی
ایک لڑکی کے لیے اس کا کردار بہت معنے رکھتا ہے ساحر سائیں اور ہر لڑکی کو اپنے کردار کو صاف کرنے کے لیے آپ جیسا ہم سفر نہیں ملتا
ہر کردار کے سوراخ کے لیے پیوند نہیں ملا کرتے
میں سزا دینا چاہتی ہوں ساحر سائیں ایسے لوگوں کو جو اپنی انا میں کسی کی زندگی برباد کر دیتے ہیں آپ میرا ساتھ دیں گے نہ حانم نے اس کی سرمئی آنکھوں میں جھانکا تھا اس کی بھوری آنکھوں میں آس کے دیے روشن تھے
مجھے پاکستان میں پتا لگا تھا صنم کے ہاتھ میں تصویر دیکھ کہ میر زاویار کون ہے میں حیران ہوگئی تھی
پھر ان کا رویہ خود کے ساتھ یاد آیا
اس لیے میں اس کے ساتھ گئی تھی
تاکہ جان سکوں ہو سب کیا فریب تھا اس شخص کے اتنے اچھے رویے کے پیچھے کیا مکاری چھپی ہے میں کل سب صاف اور واضح کرنے گئی تھی مگر ۔۔۔
مگر میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ شخص مجھے پرپوز کردے گا اس س
وقت میرا دل کر رہا تھا اسے اتنا ماروں اتنا ماروں کو وہ اپنی ،شناخت بھول جائے
پھر خیال آیا کہ قسمت بھی کیا چیز ہے نہ کیسے کیسوں کو کہاں لا پٹکتی ہے
اس شخص کے حقارت آمیز الفاظ میرے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح برستے ہیں جن کا ازالہ اسے کرنا پڑے گا
غیر مرائی نقطے کی طرف دیکھتے ہوئے حانم نے اٹل لہجے میں کہا تھا
نور ساحر تم اپنے ساحر سائیں کو اپنے ہر فیصلے پر ہر راستے میں اپنے ساتھ پاؤ گی۔۔۔۔
ساحر نے جیسے بات ہی ختم کردی
کہاں گئے تھی تم نور حانم جب آفس آئی تو نور العین اسے ہولی
کہیں نہیں یار بس گھر گئی تھی وہ میرا فون گھر رہ گیا تھا
اچھا ابھی نور العین کوئی اور بات کرتی حانم کا فون بجا
ہیلو اسلام علیکم جی مما سائیں
جی کیا ؟؟؟ حانم اپنی چئیر سے اٹھی میں میں بتا نہیں سکتی مما سائیں میں کتنا خوش ہوں اوکے اوکے میں سائیں کو بھی بتا کر آئی
اففففف عینی میں کتنا خوش ہوں حانم نور العین کے گلے ملی
میری مما سائیں عینی میری مما کو کینسر تھا مگر اب وہ ٹھیک ہیں۔ ان کی رپورٹس بہت اچھی آئیں ہیں
واؤ نور یہ تو بہت اچھی خبر ہے تمہیں تو بہت بہت مبارک ہو
ہاں میں سائیں کو بتا کر آئی
حانم ساحر کے آفس میں گئی
ساحر سائیں ساحر سائیں
کیا ہوا ہے حانم ساحر مما حانم سانس لینے لگ پڑی
کیا ہوا ممانی سائیں کو
ان کی رپورٹس بہت اچھی آئیں ہیں میں بہت خوش ہوں ساحر سائیں ڈاکٹرز نے بہتری بتائی ہے حانم خوشی کے مارے اس کے ہاتھ سے پکڑ چکی تھی جب زاویار اور زارون اندر آئے
حانم سائیڈ پر ہوئی
زاویار نے خون آشام نظروں سے اس منظر کو دیکھا
میں چلتی ہوں حانم وہاں سے چلی گئی
اففف نورِ حوصلہ ہی نہیں ہے تجھ میں
آج حانم خوش تھی بہت خوش پہلے تو اس نے ساحر کو منا حل یا دوسرا صاحب سب کو شیئر کرکے اپنے دل کا بوجھ اتارا
اور اب مما سائیں کی خبر
وہ اپنا سامان سمیٹ رہی تھی جب زاویار ادھر چلا آیا
میں بھی سوچ ہی رہی تھی کہ اب تک دن اتنا اچھا کیسے گزر گیا حانم اسے دیکھ کر دل ہی دل میں بڑ بڑائی
نور تم ساحر سے دور رہا کرو
نور نے ائی برو اچکائیں
اس نے تمہارا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
تم مجھ پر شک کر رہے ہو
حانم کا لہجہ سپاٹ تھا
نہیں نور مگر تم خان سے دور رہو وہ اچھا انسان نہیں ہے
کیوں انہیں کیا مسئلہ ہے وہ بھی میرے باس ہیں تمہاری طرح
میری بات الگ ہے نور وہ گاؤں کا ایل مینیرڈ بندہ ہے مجھے وہ بالکل اچھا نہیں لگتا
آپ کی بات الگ کیسے ہوئی آپ میں کوئی ہیرے جڑے ہوئے ہیں اور گاؤں کے پینڈوں کی کیا بات کی میں بھی گاوں
کی ہوں میرا تعلق بھی گاؤں سے ہی ہے میں بھی گوار ہوئی پھر
حانم کو تیز چڑا اب یہ غصہ گاؤں والوں کو گوار کہنے کا تھا یہاں ساحر کی برائی کرنے کا
نہیں وہ ۔۔نہیں کیا اگر خان سر المینرڈ ہوتے تو آج آپ سے اونچی پوسٹ پر نہیں بیٹھے ہوتے
حانم نے اسے شیشہ دیکھایا
سر جھٹک کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔۔
