Rate this Novel
Episode 14
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 14
ثمرین شیخ
علینہ نے اس کے چہرے پر مزاق کے تاثرات جانچنے چائے مگر وہاں سنجیدگی تھی
اہم اہم اتنے میں اسے اپنے پیچھے سے سونیا کے کھانسنے کی آواز آئی
جو دونوں کو زو معنی نظروں سے گھور رہی تھی
اوو تو یہ بات ہے سونیا دل ہی دل میں بڑبڑائی
کیا ہو رہا ہے بھائی؟؟؟
ہمیں بھی تو بتائیں ایسی کونسی باتیں ہورہی ہیں
کچھ خاص نہیں سونیا میں تو بس علینہ کی بنائی پینٹنگ دیکھ رہا تھا
ہممم بہت خوبصورت بنا لیتی ہو
معنی خیزی انداز میں کہا
علینہ نے چونک کر دیکھا
پینٹنگ!!!
بھائی میں تمہیں بلانے آئی تھی ماما بلا رہی ہیں
اچھا اوکے چلو ابرار سونیا کو ساتھ لیے مڑا
پیچھے علینہ سر جھٹک کر بڑبڑاتے ہوئے اپنی پینٹنگ صحیح کرنے لگ پڑی
اہم اہم بھائی صاحب اِدھر اُدھر نظر نہ گھمائیں تو ہی آپ کے لیے اچھا ہے۔۔
سونیا نے ابرار کے کندھے پر تھپکی دے کر کہا
کیا مطلب کیا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے ابرار نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا
ایسا ہونا بھی نہیں چائیے بھائی نہیں تو آپ دونوں کا دل ٹوٹ جائے گا
سونیا نے مصنوعی ہمدردی کے ساتھ کہا
کیا مطلب ابرار کے قدم اس کی عجیب و غریب بات پر تھمے
مطلب یہ کہ مما نے آغا سائیں کے ساتھ مل کر آپ کا رشتہ گھر والوں کی چہیتی نور حانم کے ساتھ تہہ کردیا ہے
واٹ!!!
ابرار کا سر گھما یہ کہا بکواس ہے مما مجھ سے پوچھے بغیر ایسا کیسے کر سکتی ہیں
تو آپ کسی اور کو پسند کرتے ہیں ؟؟؟ سونیا نے بے تابی کے ساتھ پوچھا
آف کورس نوٹ مگر میں حانم سے بھی شادی نہیں کرسکتا میں ابھی جا کر مما سے بات کرتا ہوں وہ کسیے کر سکتی ہیں ایسا ۔۔۔۔
ابرار کے وہاں سے جانے کے بعد سونیا کے قدم پھر حویلی کے پچھلے حصے کی طرف بڑھے جہاں علینہ اپنے کام میں مشغول تھی ۔۔۔
ہیلو علینہ !!!
جی ؟؟؟ علینہ سونیا کو واپس اپنے سامنے دیکھ کر بدمزہ ہوئی
تم ابھی تک یہاں پر کھڑی ہو وہاں گھر والے اتنا بڑا فیصلہ کرنے والے ہیں
سونیا نے ڈرامائی انداز میں کہا
کیسا فیصلہ ؟؟؟؟علینہ نے مصروف سے انداز میں کہا
ابرار بھائی کی شادی کا اب آخر وہ ہی بڑے ہیں ہم سب میں
یکلخت علینہ کے ہاتھ تھمے اور دل دھڑکا
اچھا کس کے ساتھ علینہ نے خود مصروف دکھانے کی کوشش کی مگر سامنے بھی چالاک سونیا تھی وہ اس کے ہاتھوں کا تھمنا محسوس کر کی تھی
ارے آپ ی نور حانم کے ساتھ
بچاری کے ساتھ پہلے ہی اتنا برا ہوا مما کے تو لاڈلے بھائی کی بیٹی ہے
سونیا اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی مگر علینہ خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
کزن سائیں کہا کھو گئی؟؟؟
بہت بہت مبارک ہو تمہے سونیا
علینہ نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
تمہے بھی تو مبارک ہو علینہ حانم تمہاری کتنی اچھی دوست ہے
سونیا نے نمک چھڑکنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی
اچھا علینہ میں چلتی ہوں تم بھی آجاؤ
ہاں میں یہ سمیٹ کر آئی علینہ نیچھے جھک کر پینٹ برش اٹھانے لگی ۔۔۔
پوری رات زارون ہاسپٹل میں ہی رہا تھا کیونکہ نور العین کا دائیاں بازو فریکچرڑ ہوا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے ماتھے کے سٹیچیس بھی ابھی نہیں کھلے تھے اس لیے ایک رات کے لیے اسے ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ رکھا گیا تھا۔۔۔
صبح جب زارون نور العین کے لیے ناشتہ لے کر اس کے روم میں آیا تو نور العین نرس سے لڑ رہی تھی
کیا ہوا ہے عینی ؟؟؟
زارون ان کے قریب آگیا
سر ہم نے پیشنٹ کے سٹیچیس کھولنے ہیں مگر یہ مان ہی نہیں رہی
کیوں عینی تم۔کیوں نہیں کھولنے دے رہی سٹیچیس پھر زخم ٹھیک کیسے ہوگا شی نے فکر مندی کے ساتھ کہا
نہیں نہیں۔۔نہیں مجھے نہیں کھلوانے ان کا۔ہاتھ اتنا سخت ہے یہ بہت دباتی ہیں مجھے درد ہوتی ہے
بچاری نرس نور العین کی بات پر خجل ہوگئی
دیکھیں میڈم میں کہہ رہی ہوں نہ کی نہیں پین ہوتی میں آہستہ سے کروں گی پھر آپ کا پلاسٹر بھی چیک کرنا ہے میں نے
عینی کچھ نہیں ہوتا انہیں چیک کرنے دو زارون نور العین کے پاس آکر بولا
اچھا مگر آرام سے
نور العین نے آنکھیں زور سے میچ کر زارون کی شرٹ کا کف مٹھی میں بھینج لیا ۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد نور العین نے آنکھیں کھولیں تو نرس اس کے زخم پر بینڈیج لگا رہی تھی
ہوگیا؟؟؟ نور العین نے بے یقینی سے نرس کو دیکھ کر پوچھا
جی میڈم بس اتنی سی بات تھی نرس نے پیشہ وارانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا
آہ ۔۔۔شکر عینی نے سکون کا سانس لیا
سر آپ انہیں ناشتہ کروا کر یہ میڈیسن دین
اور آپ اپنا بازو زیادہ موو مت کیجئے میں ڈال کو بلا کر لاتی ہوں وہ ہی آپ کو آگے بتائیں گے
میڈیسن کا پتہ زارون کو دے کر نور العین کو تاکید کرتی روم سے باہر نکل گئی
اوکے تھینک یو زارون نے نرس کے ہاتھ سے میڈیسن پکڑی
زارون چئیر کھینچ کر نور العین کے پاس ہی بیٹھ گیا
جی تو میڈم کیا سوچا آپ نے ؟؟؟
کس بارے میں؟؟؟ نور العین جان کر بھی انجام بنی
اسی کے بارے میں جس کے بارے میں میں نے کل تم سے پوچھا تھا
اووو اس کے بارے میں نور العین نے اپنا اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی اپنی تھوڑی پر رکھی۔۔
جی میڈم اسی کے بارے میں زارون نے دانتوں کو پیس کر کہا
میں نے تو ابھی کچھ بھی نہیں سوچا آپ نے ہی کہا تھا جتنا مرضی ٹائم لے لوں سوچنے کے لیے
نور العین نے مسکراہٹ دبا کر کہا
اففف زارون کہاں پھس گیا ہے یہ کمینہ دل
تو اس کا مطلب اگر تم پوری زندگی ہی لے لی سوچنے کے لیے تو
تو کیا آپ پوری زندگی انتظار کرلینا
نور العین اسے فل تپا رہی تھی اور بیچارہ زارون تپ بھی رہا تھا
اففف نور العین زارون جھنجھلا گیا
اچھا اچھا سیریس
مجھے آپ سے چند سوال کرنے ہیں اس کے بعد میں آپ کو اپنے جواب کے بارے میں بتا دوں گی
زارون بھی سیدھا ہوا
اچھا پوچھو۔۔
سب سے پہلے تو آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟
مطلب یہ کیسا عجیب سا سوال ہوا بندہ شادی کیوں کرتا ہے ؟؟؟
زارون نے منہ بسورا عینی سے سنجیدگی کی امید جو کر بیٹھا تھا ۔۔
افف میرے سوال کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ مجھ سے ہی کیوں شادی کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟ مینز میرے سے بھی پیاری اور زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں آپ کو مل سکتی ہیں تو میں ہی کیوں
نور العین بہت سنجیدگی سے اس سے سوال کر رہی تھی
زارون بھی سیدھا ہو کر بیٹھا
تم ہی کیوں ؟؟
کیا تم معزور ہو
کہ پڑھی لکھی نہیں ہو ؟؟
نہیں مطلب میں اورفن ہاؤس۔۔۔
یتیم تو میں بھی ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ تم اورفن ہاؤس میں رہتی ہو
زارون نے اس کی بات کاٹ دی
تو پھر ؟؟؟اس سے پہلے نور العین کچھ کہتی زارون بول پڑا
تم کیا سننا چاہتی ہو ؟؟
ن۔نہیں ۔میں کیا سننا چاہوں گی
کچھ نہیں میں بس وجہ۔۔۔۔
میں محبت کرتا ہوں تم سے نور العین
نور العین ایک دم ساکت ہوئی
(دل بھنگڑے ڈال رہا تھا مگر چہرہ ساکت تھا )
ہاں میں تم سے محبت کرتا ہوں آج سے نہیں جب سے تمہے دیکھا ہے تب سے
یہ بات میں تمہے نکاح کے بعد بتانا چاہتا تھا مگر کچھ باتوں کا وقت سے پہلے اشکار ہوجانا ضروری ہوتا ہے
آپ نے کبھی بتایا نہیں
نور العین کے منہ سے پھسلا
سچ کہوں تو میری جوب مجھے ابھی اجازت نہیں دے رہی تھی
جوب کون سی جوب خود باس ہیں آپ کمپنی کے آپ کو اگر یاد ہو تو
زارون سے اظہار سننے کے بعد نور العین سرشار سی واپس اپنی ٹون میں آئی
ہاں میں کمپنی کا اونر ہوں مگر اس کے علاوہ بھی میں ایک جوب کرتا ہوں
اور ویسے بھی میں نے تمہے کتنی ہنٹ دیے
کون سے ہنٹ ؟؟؟ نور العین نے آئی برو اُچکائی
تمہے جوب دی تھی میں مفت میں تو نوکرایاں نہیں بانٹ رہا تھا اور تو اور میں ہر امپلوئے کو تو پک اینڈ ڈراپ سروس نہیں دے رہا ہوتا۔۔
یہ ہنٹ تھی اففف اللّٰہ نور العین بے دھیانی میں اپنے ماتھے پر ہاتھ مار گئی
سسس آہ۔۔۔۔ سسکی لیتی آنکھیں میچ گئی
افف عینی
کیا زور کی لگی ہے ؟؟؟
تو اور میں ڈرامے کر رہی ہوں
نور العین نے دائیں آنکھ کھول کر زارون کو گھورا
نہیں نہیں میں ڈاکٹر کو بلاؤ
نہیں ضرورت نہیں بس بھوک لگ رہی ہے
نور العین نے معصومیت سے آنکھیں ٹپٹپائی
زارون نظریں چڑا گیا
کیا کھاؤ گی میں ابھی لے آتا ہوں
میں پائن ایپل پیزا نور العین نے زبان ہونٹوں پر پھیری
پائن ایپل پیزا اِئیو۔۔۔۔۔
آپ ابھی سے میرے کھانے میں نقص نکالنے لگے ہیں شادی کے بعد تو آپ مجھ میں بھی نقص نکالے گے
نور العین نے سو سو کرتے ہوئے کہا …
شادی کے بعد ؟؟؟ مطالب تمہاری طرف سے ہاں ہے
یےےےے میں ابھی تمہارے لیے پائن ایپل پیزا لے کر آیا تم بس دس منٹ روکو میں ابھی گیا اور ابھی آیا۔۔۔
زارون خوشی سے اچھلتا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
پیچھے عینی اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپانے کے چکر میں اپنے دائیں بازوں پر کھینچ پروا گئی
اور شائستہ بیٹا سائیں کیسے ہیں اشرف سائیں اور کب کی واپسی ہے ان کی دبئی سے
جواد سائیں نے شفقت سے اپنی بہن سے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
جی ادا سائیں وہ کہہ رہے تھے کل پرسوں تک وہ پاکستان آجائیں گے اور سیدھا حویلی ہی آئیں گے کافی عرصہ ہوگیا ہے آپ سب سے اور آغا سائیں سے ملے ہوئے
یہ تو اچھی بات ہے آغا سائیں بھی خوش ہوئے
آغا سائیں میں نے اشرف سائیں سے بات کی تھی ہم بچوں سے اب شہر میں نہیں رہا جاتا ویسے بھی میرے ابرار بیٹا سائیں کو بھی گاؤں میں ہی اچھا لگتا ہے اور سونیا کی دونوں سہیلیاں ہی ادھر اس حویلی میں ہیں تو میں سوچ رہی تھی اسی گاؤں میں ایک گھر لے لیتے ہیں اشرف سائیں تو کام کے سلسلے سے زیادہ تر دوسرے ملکوں میں ہی رہتے ہیں
ارے یہ کیسی بات کردی شائستہ سائیں یہ اتنی بڑی حویلی کس لیے ہے پھر تمہے گاؤں میں گھر لینے کی کیا ضرورت ہے دونوں بھائیوں نے اپنی بہن کی بات پر احتجاج کیا
بیٹا سائیں تمہارے لالہ صحیح کہہ رہیں ہیں اتنی بڑی حویلی کے ہوتے ہوئے بھی تم لوگ ایک ہی گاؤں میں رہتے ہوئے الگ اور اکیلے ہی رہو گے
ہر گز نہیں ۔۔۔
نہیں آغا سائیں ایسے اچھا تھوڑی نہ لگتا ہے اشرف سائیں نے بھی کہا ماننا ہے
تم اشرف سائیں کی فکر مت کرو اسے ہم منا لیں گے تم بس اپنا چند ضروری سامان لے آؤ جاوید سائیں کے ساتھ جا کر باقی
ماشاء اللہ سب کچھ حویلی میں موجود ہے۔۔۔
نہیں آغا سائیں شادی شدہ عورتیں میکے میں رہتی ہوئی اچھی تھوڑی نہ لگتی ہیں
تو کیا ہوگیا شادی شدہ ہو اس گھر سے تعلق تھوڑی نہ ٹوٹ گیا ہے تمہارا یہ گھر آج بھی تمہارا ہے
جواد سائیں شائستہ بیگم کے پاس آکر بیٹھے۔۔
آنسہ بیگم اپنے بہن بھائیوں کا آپس میں پیار دیکھ کر اپنی گیلی آنکھیں میچ گئیں
جاری ۔۔۔۔۔
