58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 10
ثمرین شیخ

پیرس !!!!

چلو حانم میں تمہے آفس چھوڑ دوں
ساحر سائیں آپ نے نہیں جانا آفس اتنی چھوٹیاں کریں گے تو باس اصلی۔کی ہی چھوٹی کر دیں گے
تم میری چھوڑو اور جلدی سے لیفٹ میں بڑھو اس سے پہلے۔۔۔۔۔
آپ کی ناراض گرل فرینڈ نہ آ جائے
حانم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے جملہ پورا کیا
بہت بولنے نہیں لگی تم
آپ سے ہی سیکھا ہے حانم نے بتیسی دکھائی


حانم کو آفس چھوڑ کر گاڑی گھما گیا ابھی ساحر کو ضروری کام تھا اس لیے فلحال وہ ابھی آفس نہیں جا پارہا تھا ۔۔۔۔


ساحر کو تنگ کرکے پتا نہیں اسے کیوں مزہ آتا تھا
پھر اس کے ایکسپریشن یاد کرکے پہروں ہنستی
آو ہو نور جان آپ تو بہت مسکرا رہی ہیں
کیبن میں داخل ہوتے ہی اسے نور العین نے ہو لیا
نہیں کچھ خاص نہیں حانم سیریس ہوئی عینی کا کیا پتا بات کو کہا سے کہا لے جائے
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
کچھ نہیں عینی حانم نے نظریں فائل کی طرف جھکا لیں
کچھ تو ہے ڈئیر پتا میں لگا لوں گی
اف او عینی میں ویسے ہی ہنس رہی تھی تم بھی نہ
اوو زی سر گڈ آفٹر نون
حانم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کھڑے ہو کر کہا
او کم اون نور اب تم مجھے زی سر زی سر کہہ کر چراؤ گی اور میں چپ ہو جاؤں گی بات کو گھماؤ نہیں مجھے بتاؤ
اہم اہم مس نور العین
زارون کے کھانسنے پر عینی ہڑ بڑا کر مڑی
زی سر !!!
جی زی سر بائے دا وے مس نور حاکم آپ کو میرے نام سے کیوں چرائیں گی
زارون نے بظاہر سنجیدہ انداز میں پوچھا مگر دل میں من ہی من ہنس رہا تھا
چراء نہیں نہیں سر آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ڈرا میں ڈرانے کا کہہ رہی تھی
اچھا تو میں آپ کو کوئی ڈریکولا لگتا ہوں جو آپ مجھ سے ڈریں گی
جی ۔۔۔ ن۔نہیں نہیں سر عینی بری طرح سٹپٹا گئی
ہمممم تو پھر کیا
ابھی زارون اس کی اور کلاس لیتا ایک کولیگ نور العین کے پاس آیا
زاوی سر بلا رہے ہیں مس نور کو
نور العین نے دل ہی دل میں شکر کرتی زاویار کے آفس کی طرف بڑھی


مے آئی کم ان سر ؟؟
یس ،،،،
زاویار ڈیسک چئیر کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا دروازہ نوک ہونے پر سیدھا ہوا
سر آپ نے بلایا نور العین نے اس کی چئیر کے پاس آتے ہوئے کہا
آر یو نور حاکم
زاویار نے سنجیدگی سے کہا
نو۔۔۔۔ نور العین نے ناسمجھی سے کہا
تو پھر یہاں پر کیا کر رہی ہو اب کی بار زاویار کا لہجہ سخت تھا
سر اآپ
گیٹ آؤٹ اور نور حاکم کو بھیجو
سر
آئی سیڈ گیٹ آؤٹ


کیا ہوا ہے عینی حانم روتی ہوئی نور العین کے پاس آئی
جو سو سو کر رہی تھی
عینی بتاؤ
سر زاوی نے ڈانٹا ہے
کیوں حانم کے ماتھے پر بل ڈلے
انہوں نے اس کولیگ سے نور حاکم یعنی تمہے بلانے بھیجا تھا اس نے غلط فہمی میں مجھے بلا دیا میں جب ان کے کیبن میں گئی تو انہوں نے مجھے غصے سے اپنے کیبن سے نکال دیا
بہت اکڑ سے اس نئے سر میں مجھے بہت زہر لگتا ہے
حانم کو بھی غصہ چڑھا
تم کہا جارہی ہو عینی نے حانم کا ہاتھا پکڑا
اس نئے باس کا دماغ سیٹ کرنے سمجھتا کیا ہے خود کو
پلیز نور کنٹرول سر کا آج موڈ بہت خراب ہے
دیکھا جائے گا


زاویار ڈیسک پر پڑے پیپر ویٹ کو اضطراب کی کیفیت میں گھما رہا ابھی تھوڑی دیر پہلے آفس آتے ہوئے اس نے نور حاکم کو کسی لڑکے ساتھ دیکھا تھا تب سے ہی اس کا دماغ گھوما ہوا تھا
نور پورے آفس میں صرف نور العین کے ساتھ ہی بات کرتی تھی یاں زارون کیونکہ وہ باس تھا کبھی کسے لڑکے سے زیادہ فری ہوتے نہیں دیکھا تھا تو ابھی گاڑی میں وہ لڑکا کون تھا جس کا ساتھ وہ ہنس کر باتیں کر رہی تھی
سب سے بڑی بات اسے خود پر بھی غصہ آرہا تھا کہ آج سے پہلے تو کبھی اسے اس طرح کی سچویشن سے نہیں گزرنا پڑا کہ اسے کسی سے جیلیسی ہو
تب ہی دروازہ نوک کرکے کوئی اندر آیا


ہیلو خان ہمم کہاں ہے تو آج آفس نہیں آیا
ایک ضروری کام تھا تو مل آج آفس میں
زارون اپنے کیبن سے باہر نکلتے ہوئے فون پہ بولا
مس نور العین ،،،،،
ی۔یس سر نور کو روتا دیکھ کر زی اس کے پاس چلا آیا
Why are you crying??
N..nothing sir
Tell me
کسی سٹاف میمبر نے کچھ کہا ہے
نہیں سر
پھر مس نور العین بتائیں مجھے کیوں رو رہی ہیں آپ
سر وہ سر زاویار ۔۔۔۔۔۔
ہممم پہلے تو آپ اپنے آنسو صاف کریں بالکل بچوں کی طرح رو رہی ہیں
اینڈ دوسرا میں زاویار سے بات کرتا ہوں
ہر بندے کی اپنی سیلف ریسپیکٹ ہوتی ہے اس طرح کسی سے بات کرنے کی اجازت میں اسے بھی نہیں دیتا


حانم دروازہ نوک کرکے اندر آگئی
اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے
یس سر آپ نے بلایا
انداز ایسا تھا کہ جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیوں بلایا
میں ۔۔۔۔ جی سر آپ نے ہی اور آپ کا ایسا بھی کیا خاص کام تھا جو آپ نے میری جگہ نور العین کے آنے پر اسے ڈانٹ دیا
ہر بندے کی سیلف ریسپیکٹ ہوتی ہے اور مجھے وہ لوگ زہر لگتے ہیں جو خود کو بیت اعلیٰ سمجھتے ہیں آپ کی وجہ سے بچاری میری دوست رو رہی تھی
حانم تو اس پر جھپٹنے والے انداز میں بولی
دیکھیں نور
واٹ سر اب بتائیں بھی ایسے بھی کیا۔بات تھی جو مجھ سے ہی ہونی تھی۔۔۔


زاویار کا تو سر ہی گھوم گیا
مگر وہ اسے کہہ بھی نہیں پارہا تھا
وہ اتنا بے بس کیوں ہورہا تھا
مس نور میں اس وقت غصے میں تھا
تھا تو کیا سر آپ کسی بھی انسلٹ کردیں گے
مس نور ریلیکس!!!
میں معافی مانگ لوں گا آپ کی دوست سے آپ یہ پانی پیئے
زاوی نے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا
نو تھینکس !!!!
لٹھ مار انداز میں جواب دیا
کوئی کام تھا
جی میں نے کل جو فائلز دی تھی چیک کرنے کے لیے
ہوگئی؟؟؟
جی ہوگئی ہے
اوکے گریٹ وہ میرے کیبن میں لے کر آؤ۔۔۔۔
چاہنے کے باوجود بھی زاویار حانم سے اس لڑکے کا نا پوچھ سکا ۔۔۔۔


زی ۔۔
زاویار زارون کے کیبن میں آیا
ہممم زاروں نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
مجھے ضروری کام ہے
اچھا
زاویار زی کا سنجیدہ لہجہ محسوس نہ کرسکا یاں شاہد محسوس کرکے بھی اگنور کرگیا
زارون کو زاویار کا رویہ عینی کے ساتھ بہت برا لگا تھا


ساحر کو اپنے گھر والوں کے قاتلوں کے خلاف ایک کلو تھا اسی مسئلے کی وجہ سے ساحر آفس کو وقت نہیں دے پارہا تھا
مگر زارون کی ایمرجنسی کال پر اسے آفس آنا پڑا
ہممم زی
وہ سیدھا زی کے آفس میں آیا
ہاں خان کیسے ہو تم
میں ٹھیک تو بتا کیا بات تھی
بات کو چھوڑ پہلے تو یہ بتا آنٹی کیسی ہیں؟؟
اللّٰہ کا شکر ہے مورے اب بہتر ہیں
اچھا زی پلین کا کیا بنا
پلین ایک دم کلاس کا بنا ہے بس اب ایکشن کی باری ہے
ہممم
خان ،،،،
زی کی سنجیدہ آواز پر ساحر نے اسے دیکھا
تجھے مجھ پر یقین ہے نہ
آف کورس زی تم پر یقین ہے تو تمہے یہ بات بتائی ہے
خان مجھ پر یقین رکھیں میں جو بھی کروں گا تمہارے لیے بہتر ہوگا
ساحر نے بھی اب سنجیدگی سے زی کو دیکھا پھر سر اسبات میں ہلا گیا
اچھا تو یہ بتا تو نے بات کرلی نور العین سے
ساحر نے اس کی ٹیںل سے فائنل اٹھا کر اس سے پوچھا
وہ ۔۔۔ یار نہیں زی نے سر کھجایا تو تو جانتا ہے نہ میرا کام کس طرح کا ہے
تو کیا ساری زندگی ہی اسے نہیں بتاؤ گے
بال دیکھو سفید ہورہیں یہ نہ ہو کہ بوڑھے ہوجاؤ اور وہ تمہے منہ بھی نہ لگائے
یہ چھوڑو خان صاحب آپ بتائیں اب تو آپ ٹھیک ٹھاک سیٹھ بن جائیں گے آگے کیا کرو گے
تمہے تو پتا ہے نہ زی مجھے اس دولت میں کوئی انٹرسٹ نہیں میرا مقصد مجرموں کو موت دینا ہے
اچھا جی تو بھابھی جی کو جھونپڑی میں رکھو گے
بھابھی جی ساحر چونکہ
ارے ہماری نور حاکم صاحبہ
ایسی کوئی بات نہیں ہے زی ساحر نے نظروں کا زاویہ بدلہ
اچھا جی خان صاحب کافی عرصے سے جانتا ہوں تمہے
دی موسٹ گرلز الرجک مسٹر ساحر حماد خان کی اچانک سے کزن پیرس میں آتی ہیں پھر بغیر ڈگری کہانیوں جوب بھی مل جاتی ہے اور تو کہہ رہا ہے ایسا کچھ نہیں۔

یہ زاویار میر کی فائل۔یہاں پر کیا کر رہی۔ہے
زی کی اگلی بات بولنے سے پہلے ہی ساحر نے چونک کر زاویار کی فائل کی طرف اشارہ کیا
تو اسے جانتا ہے خان؟؟؟
میر زاویار میرا کزن ہے
کیا زارون شوک ہوا
اور تو کسیے جانتا کے اسے ساحر نے پیپر ویٹ ہلاتے کہا۔۔۔
آفس کے پچیس فیصد شیئرز اسی نے خریدے ہیں
25 فیصد شیئرز ؟؟؟
حانم!!!
زی کیا کوئی بات یوئی تھی میرے پیچھے ساحر ایک دم سیدھا ہوا اسے تو لگا تھا کہ زاویار اونچی اونچی چھوڑ رہا
ہے
اور حانم
کیا حانم اور زاویار کی ملاقات ہوئی تھی میری غیر موجودگی میں ؟؟؟
کون حانم ؟؟؟
میرا مطلب ہے نور میری کزن
ہاں ہوئی تھی مگر ان دونوں میں سے کسی کے رویے سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ دونوں کزنز ہیں

کیا وہ اس سے اپنی اور زاویار کی ملاقات چھپا رہی ہے یاں معاملہ کچھ اور ہے
ساحر اور ہی الجھ گیا
ساحر تو کچھ پریشان لگ رہا ہے کیا کوئی مسئلہ ہے مجھے بتا
زی یہ۔۔۔۔۔۔۔
او مائی گاڈ یہ بندہ اس حد تک بھی جا سکتا ہے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا پہلے ہی مجھے زارون پر غصہ تھا
تم ابھی میروں کی اصلیت سے واقف نہیں ہو
ساحر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا
اففف مجھے بالکل بھی نہیں پتا تھا میں ڈیڑھ دو سال سے جانتا ہوں زاویار کو لا ابالی سا ہے مغرور بھی ہے مگر اس حد تک جا سکتا ہے
اچھا میں اب چلتا ہوں
اب تو اوف ٹائم بھی شروع ہوگیا ہے


حانم سامان سمیٹ رہی تھی جب ساحر اس کے کیبن میں آیا
ساحر سائیں!!!
ہوگئی ہو فری تو آجاؤ میں گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا۔ہوں ۔۔۔
اوکے میں آئی
……….

تم سر خان کو کیسے جانتی ہو ؟؟؟ نور العین ساحر کو حانم کے پاس سے جاتے دیکھ کر اس کے پاس آئی
سر خان ؟؟؟
حانم نے نا سمجھی کے ساتھ نور کو دیکھا
ارے وہ وہی وائٹ شرٹ بلیک پینٹ والے سر خان ۔۔۔
مگر وہ تو ساحر سائیں،،،،
مطلب یہاں کے باس سر خان
ساحر سائیں
اچھا عینی میں چلتی ہوں تم سے فون پر بات کروں گی اوکے بائے۔۔۔
اففف یہ لڑکی ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہے
نور العین نے سر جھٹکا اور کام پر جھٹ گئی آج زیادہ ہی کام تھا اسے


مس نور العین؟؟؟؟
عینی سامان سمیٹ رہی تھی کہ جب زی ادھر آیا
یس سر
آپ کا کام نہیں ہوا ابھی
یس سر بس ہوگیا ہے کام
اچھا تو چلیں میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ٹائم کافی ہوگیا ہے
اٹس اوکے سر میں چلی جاؤں گی
نوٹ اوکے میں باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں آپ کا جلدی آئیں