Rate this Novel
Episode 21
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 21
ثمرین شیخ
کچھ دنوں بعد!!!
شائستہ بیگم کی حالت عجیب سی ہوگئی تھی مگر ان کا غرور ابھی تک نہیں ٹو رہا تھا
ابھی بھی نوکروں پر رعب جماتیں
سونیا کا نکاح تو ہوچکا تھا سو اسے اسی وقت اس لڑکے کے ساتھ رخصت کردیا گیا تھا
گھر میں اول تو کوئی شائستہ بیگم کو بلاتا نہیں تھا اگر کوئی بات ہو بھی جائے تو شائستہ بیگم اسے کاٹ کھانے کو دوڑتی
آغا سائیں بھی بہت بیمار رہنے لگ پڑے تھے
بچی صنم اسے کوئی بھی نہیں بلا رہا تھا اسے احساس ہوا کہ وہ سونیا کہ پیچھے لگ کر اپنے ساتھ کیا کر چکی ہے
ثمینہ بیگم نے تو اسے دن اتنی کھڑی سنائیں تھیں کہ وہ کسیے کسی پاک دامن پر بہتان لگا سکتی ہے انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ انہیں اپنی پرورش پر شرم آتی ہے ان کے دونوں بچے ہی ایسے نکلے اس سے اچھا تھا کہ کو بے اولاد رہتی
علینہ بھی صنم کے پاس سے گزرتی تو حقارت سے منہ موڑ لیتی صنم صرف خود کو کوس کر ہی رہ جاتی ۔۔۔۔
اس طرف خان ولا میں ماحول پر سکون تھا زارون اسی دن واپس اپنے کیس کی وجہ سے پیرس چلاگیا تھا حالہ بیگم کو ساحر اور حانم خان ولا میں ہی لے آئے تھے ان کا علاج ویسے ہی جاری تھا ڈاکٹرز کی طرف سے مثبت تاثرات ملے تھے ۔۔۔ آنسہ بیگم تو جیسے دوبارہ جی اٹھیں تھیں ان کے خان سائیں زندہ تھے سلامت تھے ان کے پاس ان بیٹا تھا ان کے پاس اب ان کی بہو بھی تھی باقی وہ سفاک لوگوں سے ان کی جان چھوٹ چکی تھی اب انہیں زندگی میں اور کچھ نہیں چائیے تھا ۔۔۔۔۔
حانم اور حالہ بیگم ایک کمرے میں رہتے تھے حانم ان کا اچھے سے خیال رکھتی تھی
سب ٹیوی لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے جب آنسہ بیگم نے بات شروع کی حالہ سائیں خیر سے اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے اس لیے میں چاہتی ہوں کیوں نہ بچوں کے نکاح کا با قائدہ اعلان کرتے ہوئے ان کی پوری رسموں کے ساتھ رخصتی ہوجائے
چائے پیتی حانم کو ٹھسکا لگا ساحر اپنی مسکراہٹ چائے کے کپ کی آر میں چھپا گیا کیا ہوا حانم بچے آنسہ بیگم فوراً پانی کا گلاس لے کر اس کی پشت پر آئیں اس میں کوئی شک نہیں تھا انہیں اس واقعے کے بعد سے حانم اور بھی زیادہ عزیز ہوگئی تھی
وہ پھوپھو سائیں میری پڑھائی ابھی جاری ہے میں نے اپنے بابا سائیں کا خواب پورا کرنا ہے ایسے میں رخصتی۔۔۔ حانم نے جھجھک کر کہا
میرے بچے آپ ضرور اپنے بابا سائیں کا خواب پورا کریں حماد خان نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا مگر ہم چاہتے ہیں کہ باقاعدہ رسم کے ساتھ آپ کے نکاح کا اعلان ہوجائے باقی اس سے آپ کی پڑھائی اور خواب میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی کیوں چھوٹے خان
جی بابا سائیں جیسے آپ لوگوں کا حکم
ساحر کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اب وہ اس کی تھی تو پھر کس بات کا ڈر اور ویسے بھی حانم کے خواب اسے حانم سے زیادہ عزیز تھے
ٹھیک ہے جیسے آپ لوگوں کی مرضی مگر میں چاہتی ہوں اس فنکشن سے پہلے ایک دفعہ ہم پیرس سے ہوں آئیں ایک تو وہاں میری دوست ہے جسے میں انوائیٹ کرنا چاہتی ہوں اور دوسرا ہماری کمپنی نے ایک بہت بڑا آڈر لیا تھا جو تقریباً پورا ہونے والا ہے کیوں ساحر سائیں حانم نے وجہ بتا کر ساحر کو پوچھنے والے انداز پر مخاطب کیا
جی مورے نورِ ٹھیک کہ رہی ہے تب تک آپ لوگ تیاریاں کر لیجئے گا
حانم جہاں ساحر کے سب کے سامنے نورِ کہنے پر جھینپ گئی وہی سب ساحر کی بات سے متفق ہوئے جی بیٹا ٹھیک ہے آپ لوگ ہوں آئیں پیرس سے پھر
۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحر سائیں!!!
حانم نے اپنے کمرے کی طرف جاتے ساحر کو دیکھ کر اسے پکارا
جی نورِ ساحر
پہلے وہ اس کے تم تم کی رٹ سے چڑ جاتی تھی اب اس کے نورِ ساحر کہنے پر جھینپ جاتی تھی اور شاہد ساحر بھی یہ محسوس کرچکا تھا تبھی اسے بارہا نور ساحر کہ کر اس کے چہرے پر آئے رنگوں سے حفظ اٹھاتا تھا
ساحر سائیں آپ نے ٹکٹ بک کروا لی ہے ہماری مجھے تو لگتا ہے اس بات عینی نے خفا ہوجانا ہے مجھ سے اور وہ کھڑوس زاوی سر حانم نے کان کر ساحر کی آنکھوں میں دیکھ کر زاوی سر بولا تھا تاکہ وہ اس کے ایکسپریشن جان سکے
جس کی مسکراہٹ زاوی کے نام پر تھمی
تمہے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا آفٹر آل تم کمپنی کے باس کی بیوی ہو
ہممم آپ مجھے بتادیں کب کی فلائٹ ہے تاکہ میں اپنی پیکنگ کر لو
فلائٹ کل دوپہر کی ہے تم کر لو پیکنگ
ہممم اوکے ۔۔۔
حانم اپنے کمرے میں آگئی اس نے آگے کے لیے بہت کچھ سوچ رکھا تھا
اس دن جب اس نے زاویار کی تصویر دیکھی تھی تو وہ بری طرح چونک گئی تھی اس کے آفس کا باس ہی اس کا کزن اور سابقہ شوہر تھا
مگر زاویار کے رویے نے اسے حیران کیا تھا وہ تو اس سے ایسے بات کرتا تھا جیسے ان کی پہلی ملاقات ہو
پھر اسے خیال آیا کہ جس طرح اس نے کبھی زاویار کو نہیں دیکھا تھا ہو سکتا ہے زاویار نے بھی اسے نہیں دیکھا ہو تو وہ بغیر اس سے ملے اسے دیکھے اسے دھتکار کر چلا گیا
یاں یہ اس کی کوئی چال ہو
کاش میں نے اس شخص کی تصویر پہلے دیکھ لی ہوتی
حانم کو اپنی مہندی والا دن یاد آیا جب صنم اسے چھیڑ رہی تھی
صنم کیا مسئلہ ہے اگر دکھانی ہے تصویر تو دکھاؤ نہیں تو اس کو میرے سامنے سے گم کرو
میں کیوں دکھاؤ آدی سائیں کل آپ نے ویسے ہی لایؤ دیکھ ہی لینا ہے
دفعہ ہوجاؤ تم حانم تنگ آگئی
اچھا یہ لے دیکھ لیں
نہیں اب نہیں دیکھنی میں نے اس دن حانم نے بھی اس کی تصویر نہیں دیکھی
اور اوپر سے ساحر سائیں کا پاٹنر زاویار کیسے ہو سکتا ہے چلو میں نے انہیں نہیں دیکھا انہوں نے مجھے نہیں دیکھا مگر ساحر سائیں اور وہ تو آپس میں ایک دوسرے سے مل اور دیکھ چکے تھے
ان سب باتوں کا جواب تو اسے اب پیرس جا کر ہی ملنا تھا
پیرس !!!
آج ڈیڑھ دو ہفتے ہونے کو ائے تھے مگر نور حاکم کا کچھ اتا پتا نہیں تھا
زاویار پاگل ہوا جارہا تھا
آج نور العین بھی زارون کے ساتھ آفس آئی تھی زارون کے لاکھ منع کرنے کے باوجود مگر چلنی تو پھر عینی کی ہی تھی
میں پھر کہہ رہا ہوں نور العین اگر تم نے زیادہ برڈن لیا تو میں آج کے بعد تمہارا آفس جانا ہی بند کردوں گا
زارون جب عینی سے خفا ہوتا تھا اسے نور العین ہی بلاتا تھا
اووو سر زی آپ کو اپنے سٹاف کا کتنا خیال ہے آپ کو چاہے آپ ہم سے نظر ہٹا کر اپنی معصوم بیوی پر دھیان دیں
لیفٹ میں موجود دنوں بچوں کی طرح کر رہے تھے
مسز زی میں اپنی بیوی پر ہی دھیان دے رہا ہوں زارون نے اس کے بازو میں اپنا بازو اڑایا نور العین اس کے پوزیسو انداز پر مسکراہٹ دبا گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاویار لیفٹ سے زارون اور نور العین کو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اینٹر ہوتے دیکھ کر چونک گیا
زارون نور العین کو اس کے کیبن کے پاس چھوڑ کر ایک ضروری کال اٹینڈ کرنے چلا گیا
نور العین ادھر ہے تو اسے نور حاکم کا بھی پتا ہوگا
اوو مس نور العین آج آفس آئیں ہیں میڈیم آپ آج بھی نہ آتی
زاویار نے طنزیہ انداز میں کہا
نور العین دانت پیس کر رہ گئی
جی سر میں ہی اگئی اس ڈوبتے آفس کو بچانے سامنے بھی نور العین تھی
اوو آپ کا احسان ہے ویسے آپ کس سے لیو لے کر گئیں تھیں اتنے دنوں کے لیے
سر میں سر زی اور سر خان سے لیو لے کر گئی تھی آپ کو کئی پرابلم ہے
زاویار نے اس کے لاپروا انداز میں جواب دینے پر مٹھیاں بھینج لیں
یم نے یہاں خیراتی ادارہ نہیں کھولا ہوا جو آپ لوگوں کو سیلیری بھی دیں اور اتنی لمبی لیو بھی
میں آپ سے سیلیری نہیں لیتی اور نہ ہی آپ کے انڈر کام کرتی ہوں سو آپ مجھ سے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے
عینی نے سختی سے کہا
خوامخواہ ہی یہ بندی سب پر رعب جما رہا ہوتا ہے
مجھے پتا ہے کس کے انڈر اور انڈر کام کرتی ہو تم
ویسے میرا معصوم دوست پھس کیسے گیا
زاویار کا لہجہ حقارت آمیز ہوا تھا
زاویار زارون نے ایک مکا زاویار کے منہ پر مارا تمہاری ہمت کیسی ہوئی نور العین سے اتنی گھٹیا بات کرنے کی
زارون اس لڑکی نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے اس دن بھی تو اس کے لیے مجھ سے لڑ گیا تھا
جس لڑکی کی بات کر رہا ہے نہ تو وہ میری بیوی ہے اور تو میرا کچھ بھی نہیں لگتا
ایسے کیسے کچھ بھی نہیں لگتا اس کمپنی کا ٹونٹی فائز پرسنٹ کا مالک ہوں میں
اس کا انتظام بھی میں بہت جلد کرتا ہوں تو دوست کہلانے کا بھی لائک نہیں ہے چلا جا میری نظروں سے اس سے پہلے تجھے دھکے مار کر نکالوں یہاں سے ۔۔۔۔
زاویار وہاں سے چلا گیا
زی آپ ٹھیک ہیں عینی نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا
ہمم میں ٹھیک ہوں زارون نے پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے پکڑا
اور اپنی پینٹ کی پاکٹ سے فون نکالا اور کسی کو کال ملائی
ہیلو ہاں جو کام میں نے تمہیں دیا تھا کیا تم نے وہ کر لیا ہے
اوکے مجھے اس کے پیپرز آج ہی چاہیے
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ دونوں اپنے فلیٹ پر پہنچے تھے
حانم اور ساحر حانم کے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر آگئے
آہ۔۔۔۔ ویلکم بیک حانم نے اپنے دونوں بازو کھول کر گہرا سانس لیا
ساحر بھی اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر بیٹھ گیا
پچھلی بار جب وہ حانم کے فلیٹ پر آیا تھا تو کافی انکمفرٹیبل تھا ایک جھجھک تھی تب اس کا حانم کے ساتھ کوئی گہرا رشتہ نہیں تھا مگر اب حانم اس کی محرم تھی وہ بنا جھجھک اس کے پاس آسکتا تھا
اففف اللّٰہ میں بہت تھک گئی ہوں حانم نے پانی کا گلاس ساحر کے آگے رکھا خود دوسرے صوفے پر گڑنے والے انداز میں بیٹھی
اچھا پھر تم آرام کرو میں زارون سے مل کر آتا ہوں ساحر نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھ کر بولا
ابھی حانم کچھ کہتی اس کے فلیٹ کا دروازہ زور زور سے کھٹکا ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
کون ہوگا دروازے پر؟؟ 🤔
زاو۔۔۔۔😳
جس نے کہا نہ کہ شورٹ ہے اس سے کٹی 🙅🏻♀️
کبھی لونگ ریویو دیا ہے 🌚🌚
