58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 25
ثمرین شیخ

حانم گاڑی میں آکر بیٹھی اور دروازہ زور سے بند کیا
اس کی اتنی ہمت کہ ہمیں گاؤں کا پینڈو کہے گا خود کیا ہے پڑھا لکھا جاہل گدھا وہ میں منہ میں بڑبڑانے لگی
نور آر یو اوکے ؟؟
ساحر نے حانم کے اتنی زور سے گاڑی کا دروازہ بند کرنے پر استفسار کیا
ساحر سائیں اس وقت میں بہت غصے میں ہوں مجھ سے کچھ مت پوچھیں
حانم نے تپے ہوئے لہجے میں کہا
ساحر بھی کندھے اچکا کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگ پڑا
کچھ دیر یوں ہی خاموشی سے گزر جانے کے بعد حانم پھر بول پڑی
ساحر سائیں ہاؤ مین ہو ار
آپ کو پتہ ہے نا میں اس وقت غصے میں ہوں آپ پوچھ بھی نہیں رہے مجھے کیا ہوا ہے
حانم نے آنکھیں چھوٹی کرکے دکھی لہجے میں کہا
مگر تم نے ہی تو کہا ہے کہ تم سے اس وقت کچھ بھی نہ پوچھو ساحر بوکھلا ہی گیا
ہاں توں وہ میں نے کہا ہے نا
پوچھنا تو آپ کا فرض بنتا ہے حانم نے منہ موڑ کر خفگی کے ساتھ کہا
اچھا تو نورِ ساحر کیا آپ اس خادم کو بتائیں گی کہ آپ کو کس چیز کا غصہ چڑا ہوا ہے
ساحر نے بہت ہی دل فریب انداز میں پوچھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی حانم مسکرا دیں دی
پھر اپنا غصہ یاد آنے پر پھٹ پڑی
اس سٹوپڈ زاویار اس کی ہمت کیسے ہوئی آپ کو گاؤں کا گوار کہنے کی مجھے کہتا آپ سے دور رہو اس کی ہمت کسیے ہوئی آپ کی برائی کرنے کی حانم نون سٹوپ شروع ہوگئی
ون منٹ ۔۔۔ساحر نے اس کی بات کاٹی
جی۔۔۔ پھاڑ کھانے سے انداز میں جواب دیے جیسے اسے اپنی بات کاٹنا نا گوار گزرا یے
یہ غصہ گاؤں والوں کو گوار کہنے کا ہے یہاں میری برائی کرنے کا ساحر نے آنکھوں میں شرارت لیے بظاہر سنجیدگی ںسے پوچھا
آف کورس آپ کی برائی کرنے حانم بولتی اپنی زبان اپنے دانتوں میں دبا گی
نہیں مطلب ۔۔۔دونوں باتوں پر غصہ ہے بالاخر جھنجھلا کر بولی تو ساحر اپنی مسکراہٹ نہ روک سکا
کیا ہے کیوں مسکرا رہے ہیں حانم نے آنکھیں ترچھی کرکے ساحر کو دیکھا
نہیں میں کب ہنس رہا ہوں ساحر نے مسکراہٹ دبا کر اپنا چہرہ سامنے کیا
آئسکریم کھاؤ گی گاڑی کا رخ آئس کریم پارلر کی طرف موڑ کر ساحر نے حانم کے تپے ہوئے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا
اس کا تپا تپا چہرہ بہت کیوٹ لگ رہا تھا
نہ حانم زور زور سے نفی میں سر ہلایا
پکا نہ میں واپس موڑ لو گاڑی ویسے ڈیزی مجھے کل سے کہ رہی کہ خان سر اتنی بڑی ڈیل ملی ہے آئسکریم ہی کھلا دیں
اسے لے جاؤ
ساحر اپنا چہرہ تھوڑا سا ٹیرا کر کے حانم کے سرخ ہوتے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا
حانم نے گہرا سانس لیا پھر بولی جیسے پھول جھڑ رہی ہو
ساحر سائیں
واہ کیا انداز تخاطب تھا
ساحر ہمہ تن گوش ہوا
جی نورِ ساحر
آپ ڈیزی کو ہی لے جائیں
مگر پھر اس کے بعد اس کی ٹانگیں سلامت بچیں گی اس بات کی گرنٹی نہیں دے سکتی میں
پہلی بات انتہائی نرم لب و لہجے سے کہہ کر دوسری بات دانت پیستے ہوئے کہتی ساحر کے چودہ طبق روشن کر گئی
نہیں میں کیوں لے کر جانے لگا کسی اور کو جب نورِ ساحر ہے میرے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔۔
آئسکریم پارلر میں بیٹھی نور مزے سے اپنی آئسکریم کھانے کے بعد ساحر کی آئسکریم کھانے میں مصروف تھی جب ساحر نے اسے پکارا
نور
ایک لمحے کو نور نے اپنا چہرہ اوپر کیا اس کے دائیں گال پر لگی آئسکریم دیکھ کر ساحر اپنی مسکراہٹ دبا گیا ایک چاکلیٹ اور ایک آئسکریم حانم ان دونوں چیزوں کی دیوانی تھی اور اس کا کھانے کا طریقہ بھی نرالہ تھا
گال پر لگ گئی ہے آئسکریم ساحر نے ٹشو پیپر اس کی طرف بڑھایا
نور نے لاپرواہی سے اپنا گال صاف کرکے اپنا دھیان دوبارہ اپنی پگلتی آئسکریم کی طرف مرکوز کیا
ساحر اس کی آئس کریم ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جب تک آئسکریم ختم نہیں ہو جاتی حانم اس کی بات نہیں سنے گی
آئسکریم ختم ہونے کے بعد حانم نے التجائیہ نظروں سے ساحر کی طرف دیکھا
نو ۔۔۔۔نور دو آئسکریم کھالیں ہیں بس اور نہیں یار گلہ خراب ہو جائے گا ابھی موسم بھی نہیں ہے
نہیں میں نے کھانی ہے تو کھانی اگر آپ کو یاد ہو تو آپ ہی مجھے ادھر لائے تھے میں نے ضد نہیں کی تھی حانم نے ناک منہ چڑایا
نور ،،،،، ساحر نے تنبیہ کی
مگر اثر کسے ہونا تھا حانم نے ویٹر کو بلایا
ون ڈبل چاکلیٹ
ساحر گہرا سانس بھر کر رہ گیا
سچ میں وہ ہی تو لایا تھا اسے یہاں اب تحمل سے بیٹھا اسے اپنے سٹائل میں آئسکریم کھاتا دیکھ رہا تھا جو اپنی حرکتوں سے اس کا ضبط آزما رہی تھی
اہ ۔۔۔ مزا آگیا زبردستی آئسکریم کا تیسرا کپ ختم کرکے ہی حانم نے سانس لیا
کھالیا ساحر نے اپنی تسلی کے لیے پوچھا
تو اور کیا اب کیا میں آئسکریم سے ہی پیٹ بھر لوں آپ نے پاستہ بنا کر بھی کھلانا ہے
اففف یہ نخرہ
بیل ہے کرکے ساحر اور حانم کے گاڑی کے پاس آئے
اور تمہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہے پاستہ بنا کر کھلاؤں گا ساحر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا
ساحر کے لفظوں پر دونوں کو ہی اس دن والا واقع یاد آیا
تب بھی ساحر نے یہ ہی کہا تھا وہ واقع یاد کرکے دونوں ہی کھلکھلا کر ہنسے
حانم نے چھپکے سے ایک نظر ساحر کی مسکراہٹ پر ڈالی اور دل میں ماشاءاللہ کہا
آج سے پہلے اس نے کبھی ساحر سائیں کو اتنا ہنستے نہیں دیکھا تھا
ساحر میں نے تو تب آپ سے پاستہ بنوالیا تھا جب ہمارا کوئی خاص رشتہ نہیں تھا اب تو میرا پورا پورا حق ہے
حانم نے رعب سے کہا تو ساحر نفی میں سر ہلا کر مسکرانے لگا
جب من چاہی محبت مل جائے وہ بھی تب جب اسے پانے کی کوئی امید کوئی سرا پاس نہ ہو تو اس کے ناز نکھرے بھی اٹھائے جاتے ہیں اور لاڈ بھی
پھر مسکرائٹ یو ہی لبوں کا حصہ بن جاتی ہے
جیسے ساحر کی اپنی نور ساحر کو پاکر


مسز زی مسز زی زارون کا موڈ آج کافی خوشگوار تھا تبھی عینی کو پکارتا گھر میں داخل ہوا مگر گھر تو ایسے جیسے سنسان پڑا ہوا تھا
عین !!!عین!!! نور العین!!!!
کہا ہو یار؟؟؟
عینی کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر زارون اب پریشان ہوا
اپنے روم کیچن ٹیوی لاؤنج وہ کہی بھی نہیں تھی زارون کا دل دھڑکا جب اس کی نظر گیسٹ روم کے بند دروازے کے نیچے سے لائٹ کی چمک نظر آئی
زارون دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا گیسٹ روم کی طرف بڑھا اور دھیرے سے ہی گیسٹ روم کا دروازہ کھولا
عینی میڈم صوفے پر ایک جگہ سمٹ کر بیٹھی سامنے لگی ایل آئی ڈی پر کوئی ہارر مووی دیکھ رہیں تھیں لائٹس ساری اوف تھیں صوفے کے آگے پڑی ٹیبل پر پاپ کارن بکھرے پڑے تھے اور عینی میڈم کبھی ایک ہاتھ آنکھ پر رکھ لیتی تو کبھی ہٹا دیتی
عینی کو ادھر دیکھ کر جہاں زارون نے سکون کا سانس لیا وہ ہی اس کا اتنا مگن ہو کر مووی دیکھنے پر اسے تپ چڑی
پھر کچھ سوچ کر زارون دھیرے دھیرے قدم بھرتا صوفے تک گیا
کیونکہ صوفے کی پشت دروازے کی طرف تھی اس لیے عینی بھی زارون کو نہیں دیکھ پائی
اس سے پہلے زارون اسے ڈراتا
عینی زور ،ور سے چیخیں مارتی اس کے ساتھ لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔
عینی جب آفس سے واپس آئی تھی تو زارون کو کسی کام کے لیے جانا پڑھ گیا اس لیے زارون کے لیے کھانا بنا کر وہ کمرے میں آگئی کافی دیر بعد جب زرقون واپس نہ آیا تو عینی نے موی دیکھنے کا پلین بنایا ایک عدد پاپ کارن کا بول اور ہاتھ میں ہارر مووی کی یو ایس بی لیے وہ گیسٹ روم کی طرف بھری کیونکہ وہ جانتی تھی جتنے تہزیب کے دائرے میں رہ کر وہ پاپ کارن کھاتی ہے زارون سے اسے ضرور ڈانٹ پٹ جانی ہے کیونکہ اس معاملے میں زارون بہت سٹرکٹ تھا اسے اپنا کمرہ صاف ستھرا پسند تھا
پہلے پہل مووی انجوائے کرنے کے بعد جب مووی زیادہ ہارر ہوئی تو عینی کی سیٹی بھی گم ہوئی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ صوفے سے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلا لیتی
اس لیے اس نے صوفے پر ہی سمٹ کر زارون کے آنے کی دعا کرنا غنیمت جانا
جب کوئی ہارر سین آتا آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی جب ختم ہوتا تو ہاتھ اٹھا لیتی ایک دم سے اس کی نظر ایل سی ڈی کے پاس لگے کانچ کے ڈیکوریشن پیس پر اپنے پیچھے کھڑے بھوت( بقول اس کے ) کا عکس نظر آیا عینی کا رنگ پھیکا پڑا پھر ایک دم سے ایل سی ڈی میں ایک خوفناک چڑیل خوفناک آوازوں کے ساتھ نمودار ہوئی
ادھر ہی عینی کی بس ہوئی وہ زی زی چیختی زارون کے ساتھ لگی
اہ ۔اہ ۔۔۔ زارون بچارا خود عینی کی چیخ سے ڈر چکا تھا ۔۔۔۔۔
تین منٹ تک عینی کی چیخیں کمال ضبط کے ساتھ برداشت کرنے کے بعد زارون نے کمرے کی لائٹ اون کی
عین ابھی بھی بھوت بھوت چیخ رہی تھی
چپ ایک دم چپ زارون کی آواز پر عینی کو ہوش آیا زر
آرون نے دیکھا عینی کا رنگ زرد پڑھ چکا تھا
زارون نے اسے تھام کر صوفے پر بٹھایا اور خود اس کے لیے پانی لانے کے لیے کمرے سے جانے لگا جب عینی زور زور سے نفی میں سر ہلاتی اس کو وہاں سے جانے سے روک گئی زارون گہرا سانس لیتا اس کے پاس ہی بیٹھ گیا اور ٹیبل پر پڑا بوتل کا گلاس عینی کی طرف بڑھایا جسے کانپتے ہاتھوں سے عینی تھام کر گھونٹ گھونٹ پینے لگی


واؤ مزہ آگیا
بہت ٹیسٹی آپ کے ہاتھ میں جادو ہے ساحر سائیں
پاستہ فنش کرکے حانم نے ساحر کی تعریف کی
جسے ساحر نے سر خم کرکے وصول کی
تو تم مانتی ہو نہ کہ تم خوش نصیب ہو
مطلب؟؟ حانم نے نا سمجھی سے ساحر کی طرف دیکھا
اس دن تم ہی تو کہہ رہی تھی کہ ساحر سائیں آپ کی بیوی بہت خوش نصیب ہوگی جب مجھ سے پاستہ بنوایا تھا
حانم کو کھانسی لگی آہو اہو ساحر نے پانی اس کی طرف بڑھایا نور تم ٹھیک ہو
آہو ۔۔جی آہو میں ٹھیک ہو
ہاں تو اس دن مجھے نہیں پتا تھا نہ کہ وہ خوش نصیب عزیم ہستی میں ہی ہوں آہو
کھانسی میں اٹک اٹک کر بولتی ساحر کو مسکرانے پر مجبور کرگئی ۔۔۔۔
اچھا نور مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی
ساحر نے اپنی چئیر حانم کے قریب کھینچی
جی ؟؟؟
نور مجھے مورے کا فون آیا تھا وہ کہہ رہی تھیں کہ اب وہ اور تاخیر نہیں کرنا چاہتی
تاخیر کس لیے حانم شاہد واقع بھول گئی تھی یہاں انجان بن رہی تھی
ہمارے فنکشن کے لیے
اوو اچھا ہمم ٹھیک ہے ساحر سائیں پھر ہم چلیں گے میں اپنی لیو ایپرو کروا لوں
حانم مورے چاہتی ہیں کہ اسی فنکشن میں رخصتی بھی ہوجائے اور ممانی سائیں بھی کیونکہ فنکشن کے بعد ویسے ہی ہم دونوں نے پیرس واپس آجانا ہے تو وہ دونوں چاہتی ہیں کسی کو بات کرنے کا موقع نہ ملے کے بغیر رخصتی ۔۔۔۔۔ ساحر خاموش ہوا
حانم خاموش تھی ۔۔۔۔
نور تمہارے خواب مجھے بہت عزیز ہیں تم فکر مت کرو اگر تم نہیں چاہو گی تو میں مورے سے بھی بات۔۔۔۔
مجھے منظور ہے ساحر سائیں
مجھے آپ پر خود سے زیادہ یقین ہے اور ویسے بھی آپ ہی کہتے ہیں کہ محبت میں پہلی شرط اعتبار اور یقین ہوتی ہے اور مجھے بھی آپ پر آپ ہی کی طرح یقین کرنا ہے بنا کسی” پر” یا ‘مگر ” کہ
آج نور ِساحر نے بھی اپنے لفظوں سے اپنے ساحر سائیں کو معتبر کردیا تھا


خود کو کمپوز کرنے کے بعد عینی نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں زارون اسے خشمگین نظروں سے دیکھ رہا تھا بلکہ گھور رہا تھا
یہ کیا حرکت تھی عین؟؟؟
جب اتنا ہی ڈر لگتا ہے ہارر مویز دیکھنے سے تو پھر الٹے کام کرتی ہی کیوں ہو اور اپنے کمرے کا ٹی وی خراب ہو گیا تھا جو گیسٹ روم میں آ گئی ہو
نہیں آپ کو کچرا بالکل نہ پسند ہے اور وہاں پر کھلاڑا ڈلتا نہ اس لیے ادھر آگئی عینی نے ایسے بتایا جیسے کوئی معارکہ مارا ہو
یو آر امپوسیبل عین تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا ہے
زارون نے تاسف سے کہا تو عینی کی گول مٹول نیلی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی اور ہونٹ باہر کو لٹک گئے
آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں زی ایک تو میں اتنا ڈری ہوئی ہوں اور اوپر سے آپ مجھے ڈانٹ رہیں ہیں
عینی کے رونے پر زی تھوڑا نرم پرا یار میں کب ڈانٹ رہا ہوں ۔۔
ڈانٹ رہیں ہیں میں ۔میں نہ خان سر کو بتاؤں گی آپ بالکل نہیں اچھے
خان۔۔۔ خان کو کیوں زارون نے اس وقت کو کوسا جب ساحر نے نور العین کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ زی اگر اسے تنگ کرے تو وہ اپنے بھائی کو بتائے
میں تو بتاؤں گی
میں جارہی ہوں مجھے مت بلائیے گا اب
عینی سو سو کرتی گیسٹ روم سے باہر نکل گئی
یہ کمرہ کون صاف کرے گا عین
عین یار!!!!
زارون تاسف سے صوفے اور ٹیبل پر بکھرے سامان (پاپ کارن) کو دیکھتا انہیں سمیٹنے لگا

شادی کرکے پھنس گیا یار اچھا خاصا تھا کنوارا
ہاہاہا


حانم ابھی فریش ہوکر لیٹنے ہی لگی تھی جب اس کے موبائل پر بل ہوئی
آئی ایم سوری نور
میں شرمندہ ہوں مجھے ایسے نہیں کہنا چائیے تھا
پلیز ناراض مت ہو ۔۔۔۔
تمہارا زاوی
اس کے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا
حانم کے ماتھے پر بل پڑے
پھر اس کے میسج سین کرکے اگنور کرتی بستر پر دراز ہوگئی کیونکہ اس کا موڈ بہت اچھا تھا وہ یہ بات سوچ کر اپنا موڈ اور دماغ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔