Rate this Novel
Episode 29
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 29
ثمرین شیخ
تم روم میں جاؤ میں دیکھتا ہوں مورے یا ممانی سائیں آگئی ہیں تو میں ان کو روم میں بھیجتا ہوں ساحر نے حانم کا ہاتھ چھوڑ کر اسے برائڈل روم میں جانے کو کہا
ہمم۔۔۔حانم مسکرا کر اسبات میں سر ہلاتی اپنا لہنگا تھامے روم کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
ساحر ک سرخ واپس اسی جگہ پر تھا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے زاویار موجود تھا
زاویار شدید غصے میں کیب کروا کر حویلی پہنچا
یہاں کے راستوں سے اسے کوئی واقفیت نہیں تھی نہیں تو جتنے طیش اور غصے میں وہ تھا اگر خود گاڑی ڈرائیو کرکے حویلی جاتا تو راستے میں اپنا خطرناک قسم کا ایکسیڈنٹ ضرور کروا لیتا۔۔
اپنی جیب میں موجود پیسے بغیر گنے پھینکنے والے انداز میں ڈرائیور کے منہ پر ماڑا کر لمبے لمبے ڈھاگ بھرتا اندر کی طرف بڑھا
میر حویلی کو بھی پھولوں اور لائٹوں سے سجایا گیا تھا
اتنی سجاوٹ دیکھ کر زاویار کو اپنے اندیشے سچ ہوتے ثابت ہوئے
زاویار سیدھا آغا سائیں کے کمرے میں گیا
وہاں لگی بڑی بڑی حانم کی تصویریں دیکھ کر اس کے قدم لڑکھڑائے
ایک دم دل میں ٹیس سی اٹھی
اس کی آنکھوں کی سرخی اس بات کی گواہ تھی
صنم سونیا اس کے اعتاب کی شکار ہونے والی تھیں
زاویار شدید اشتعال میں حویلی کے بیٹھک میں آ کر چیزیں توڑنے لگا
صنم ،،،،
سونیا ،،،،،
صنم سونیا زور زور سے آوازیں لگاتا ہاتھ میں آئی ہر چیز زمین بوس کر رہا تھا
شور کی آواز سن کر تیار شیار سی خواتین بیٹھک میں آئیں
سد شکر تھا کہ مرد حضرات فارم ہاؤس کے لیے نکل چکے تھے اب بس خواتین تھیں جنہیں لے جانے کی زمہ داری اخضر سائیں نے خود لی تھی
صنم جو پہلے ہی ساحر اور حانم کی شادی پر دکھی تھی زاویار کی دھاڑ سن کر اس کی روح لرزی
تو کیا اس بات سے بھی پردہ اٹھنے والا ہے کیا زاویار ادا سائیں کو سب پتا لگ گیا ہے
صنم کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی
۔۔۔۔۔
زاویار سائیں ثمینہ جواد زاویار کو دیکھ کر بیک وقت خوش اور پریشان ہوگئی
اگر کوئی واپس آگیا تو
زاویار سائیں ہما جاوید میر بھی اسے دیکھ کر حیران ہوئیں
صنم صنم کہاں ہے مما اور وہ سونیا آج میں ان دونوں کو جان سے مار دوں گا مجھے بتائیں کہاں ہیں وہ دونوں
زاویار بیٹا کیوں کیا کیا ہے صنم نے تم کیوں اسے مارو گے
ثمینہ بیگم پریشان ہوئیں۔
تبھی ڈرتے ڈرتے صنم وہاں آئی
زاویار چیل کی طرح صنم کی طرف لپکا ۔۔۔
حانم برائڈل روم میں آکر تھوڑی دیر پہلے کا واقع سوچنے لگی
زاویار اور ساحر دونوں کا میسج دیکھ کر حانم کچھ سوچ کر اینٹرس کی طرف بڑھی
برائیڈل روم سے باہر نکل کر حانم کے قدم خود بہ خود فارم ہاؤس کی بیک سائیڈ کی طرف مڑے جہاں ساحر کھانے اور سجاوٹ کا انتظام کروا رہا تھا
اپنی بے اختیاری پر حانم کو یقین ہو چلا تھا کہ دوسرے تمام کاموں سے زیادہ اہم اس کے لیے اس کے ساحر سائیں کا حکم تھا
وہاں ساحر کو اکیلا بیٹھے دیکھ کر حانم کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ آئی
وہ اپنا لہنگا تھامے دھیرے دھیرے قدم چلتی اس کے پیچھے آئی اور اس کی آنکھیں ڈھک گئی
آج کا دن خاصا تھکاوٹ والا تھا سارے انتظامات بھی ساحر کو خود ہی دیکھنے پڑے وہ بڑی بڑی سجاوٹ سے لے کر چھوٹی موٹی سجاوٹ بھی حانم کی پسند کے مطابق کروانا چاہتا تھا غرض یہ کہ وہ ہر چیز اپنی نگرانی میں نور حانم کی پسند کے مطابق کروانا چاہتا تھا
سارے انتظامات کروانے کے بعد وہ ادھر ہی بیٹھ گیا ابھی اس نے اپنے گھر جاکر فریش ہوکر تیار بھی ہونا تھا
جب ایک دم سے کسی نے اس کی آنکھوں پر اپنے مومی ہاتھ رکھ دئیے
ہاتھوں سے آتی مہندی اور پھولوں کی خوشبو محسوس کیے ساحر کے مونچھوں تلے سرخ لبوں پر گہری مسکراہٹ دوڑ گئی
چوریوں کی چھنکار اس کے دل میں بھی ارتعاش پیدا کر گئیں
ساحر نے دھیرے سے ان ہاتھوں کو ہٹا کر حانم کو پکارا
جو اس کے پیچھے کھڑی تھی
سوچ لیں ساحر سائیں یہ نہ ہو مجھے دیکھ کر ہوش ہی کھو بیٹھے حانم نے شرارت بھرے لہجے میں کہا
تو ساحر بھی اس کی بات کا جواب دئے بغیر نہ رہ سکا
سوچ لیا نور ساحر آپ کو دیکھ کر ہوش بھی کھو بیٹھے تو کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔
حانم ایک دم سے اس کے سامنے آئی اور ساحر واقع ساکت رہ گیا
خوبصورت نہیں وہ حسین ترین لگ رہی تھی
کیا ہوا ساحر سائیں آج سے پہلے کبھی اتنی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی حانم نے مسکراہٹ دبا اس کے آگے چٹکی بجائی جو مہبوت ہوکر حانم کو دیکھ رہا تھا
کبھی کسی اور کو دیکھنے کی چاہ ہی نہیں کی ہمیشہ ایک ہی لڑکی کو دل سے چاہا ہے اور میری محبت کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ لڑکی میری بیوی کے روپ میں میرے سامنے کھڑی ہے
یہ اتنا خوبصورت لب و لہجہ حانم کو خود پر رشک کرنے پر مجبور کرتا تھا
بے ساختہ اس کے گال سرخیاں جھلکانے لگے
حانم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی
شکریہ ساحر نے اس کے خوبصورت روپ کو دیکھ کر دل میں ماشاءاللہ کہا
شکریہ ؟؟؟ کس لیے ؟؟
حانم نے اپنی جھلی پلکیں اٹھا کر پوچھا
میرا مان رکھنے کے لیے
آپ کا حکم ماننا میرا فرض ہے حانم نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ سر خم کیا ۔۔
پھر کچھ یاد آنے پر سنجیدہ ہوئی ہوئی
ساحر سائیں
میرے بدلے کا وقت آگیا ہے جب قسمت اس شخص کو منہ کے بل گرائے گی
میں۔ نے بہت انتظار کیا ہے اس وقت کا اس شخص کو آج پتا لگے گا کسی کے کردار کو مشکوک بنانا کیا ہوتا ہے
غرور کا انجام کیا ہے
حانم کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی
نورِ،،،، ساحر نے بہت دھیمے لہجے میں اسے پکارا تھا
جانے کیا تھا اس کے لہجے میں حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا
جی ساحر سائیں
ساحر کی نظریں سامنے درخت پر لگیں فینسی لائٹس پر تھیں جو بار بار جل بھج رہیں تھیں
میں تمہارا سکون چاہتا ہوں ؟؟
سکون؟؟؟؟ حانم خاموش تھی یاں پھر ساحر کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ساحر سائیں حانم نے نا سمجھی سے پوچھا اسے واقع اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی
حانم ساحر نے اپنا رخ حانم کہ طرف کیا اور اس کا بھاری چوریوں سے بھرے ہاتھ تھامے
نور ساحر مجھے تمہارا سکون بہت عزیز ہے اور خدا کی قسم اگر اس شخص کی تذلیل سے تمہے سکون ملتا ہوتا تو اس شخص کو بہت پہلے ہی میں اس کی اوقات بتا دیتا
مگر میں جانتا ہوں میری حانم ایسی نہیں ہے وہ سب سے جدا ہے جس کا دل بہت نرم اور خوبصورت ہے
بالکل اپنے نام کی طرح
لائٹ اوف ڈیوائن
اسے دوسروں کو رسوا کرکے کہاں سکون ملے گا وہ تو۔۔۔۔
نور سرمئی آنکھوں سے ہوتے سرمئی دھوئے میں کہیں
کھو گئی ہر شہ کہیں پیچھے چلی گئیں
حانم میری جان میری لاڈو کیوں رو رہی ہے
اسعد حاکم نے روتی ہوئی حانم کو گود میں اٹھایا
بابا سائیں زاویار سائیں بالکل نہیں اچھے وہ مجھے سب دوستوں کے سامنے موٹی موٹی کہ کر میرا مزاق اڑا رہے ہیں
حانم نے روہانسے لہجے میں کہا
ارے میرا بچہ اس میں رونے کی کیا بات ہے آپ اسے آنے دو اسے میں دیکھ لوں گا
نہیں بابا سائیں آپ دیکھنا کل میں بھی ان کے دوستو کے سامنے انہیں کالا کالا کہوں گی پھر انہیں پتا لگے گا حانم نے اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنے آنسو انصاف کیے
نہ میری جان ایسے کسی کا مزاق نہیں اڑاتے اللّٰہ سائیں ناراض ہوتے ہیں
اسعد حاکم نے اسے ٹوکا
مگر بابا سائیں وہ بھی تو میرا مزاق اڑا رہے تھے
تو کوئی بات نہیں اللّٰہ سائیں اس سے ناراض ہوں گے آپ نے تو نہیں کرنا نہ اللہ کو ناراض
اور اگر ویسے بھی آپ اس کا مزاق اڑاؤ گی تو کیا فرق رہ جائے گا اس میں اور میری نور حانم میں
آپ تو سب سے مختلف ہو اپنے بابا سائیں کی چندا
سوری بابا سائیں
سوری اللّٰہ سائیں مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا میں کسی کا مزاق نہیں اڑاؤں گی ۔۔۔۔
حانم ابھی بھی اسی منظر میں کھوئی ہوئی تھی
جب وہ ساحر کی اگلی بات پر ہوش میں۔ آئی
مگر پھر بھی تمہارا فیصلہ کچھ اور ہے تو تم اپنے ہر راستے میں اپنے ہر فیصلے میں ساحر حماد خان کو اپنے ساتھ پاؤ گی
حانم نے نم دیدہ آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا جو نہ صرف اسے اس سے زیادہ جاننے کا دعویدار تھا بلکہ اسے بے حد عزیز بھی تھا اپنے بدلے سے زیادہ اپنے ہر کام سے زیادہ
حانم نے گہرا سانس ہوا میں سپرد کیا اور کھڑی ہوئی
ہاتھ ابھی بھی ساحر نے تھاما ہوا تھا
تو کیا فیصلہ ہے نور ؟؟؟
وہ ہی جو نورِ ساحر کا ہونا چائیے
حانم نے اپنا ہاتھ آزاد کروایا
ہاتھ چھوڑئیے ساحر سائیں مہمان نوازی کا وقت ہے ہم گاؤں والے بہت مہمان نواز ہوتے ہیں اب باہر مہمان آئیں ہیں تو انہیں یہ بھی نہ کہیں کہ کھانا کھا کر جائیے گا۔۔۔۔
نور حانم واقع سب سے جدا تھی
کیا اس کا کردار اتنا بے مول تھا کہ اس کی وضاحت کے لیے وہ اپنے اصول توڑتی
اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کا شوہر اس پر یقین کرتا ہے اس کے گھر والوں کو یقین تھا اس پر
“پھر لوگ کیا کہیں گے ” اس کی کوئی گنجائش بچتی کہاں ہے ۔۔۔۔
ساحر نے محبت بھری نظر اس پر ڈالی جو اس کو جان رہی تھی اس کا مان رکھتی تھی اور اس کے ایک بار کہنے پر مان جایا کرتی تھی ۔۔۔۔
زاویار چیل کی طرح صنم پر لپکا
اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کر گیا
ثمینہ اور ہما بیگم کا ہاتھ بے ساختہ منہ پر گیا
یہ کیا کر رہے ہو زاویار ثمینہ بیگم نے صنم کو پانے پیچھے کیا
ہٹ جائیں سارے آج میں اسے چھوڑوں گا نہیں اس کی وجہ سے میں آج برباد ہوگیا ہوں میری نور کی شادی ہورہی ہے اس ساحر سے اس کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کھوئی ہے
اس نے اور سونیا نے ورغلایا تھا مجھے جھوٹی باتیں بتائی نور کے خلاف
کیا کہی جارہے ہو زاویار ثمینہ چیخیں
نہیں چھوڑوں گا میں دونوں کو
میرا گھر برباد کیا آپ کی بیٹی نے
اسے تو میں ابھی زاویار ایک اور تھپڑ مارتا کہ اخضر نے ہوا میں ہی اس کا ہاتھ روک لیا
صنم تو زاویار کے ایک ہی تھپڑ سے بے ہوش ہونے کو تھی دوسری دفعہ اسے ہاتھ ہوا میں بلند دیکھ کر زور سے آنکھیں اور مٹھیاں بھینج گئی
زاویار نے اپنے ہاتھ کو سختی سے تھامے اخضر کو دیکھ کر اپنا ہاتھ جھٹکا
اسے ہاتھ بھی مت لگانا میر زاویار
اخضر کی دھاڑ پر زاویار کے ماتھے پر بل آئے
تمیز سے بار کرو مجھ سے اور کیوں نہ لگاؤں اسے ہاتھ تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے
اس گاؤں کا سردار ہوں میں اور اپنے خاندان کی عزت پر ہاتھ اٹھانے والے کے ہاتھ کاٹ سکتا ہوں
اور تمہے تو اس حویلی سے نکال دیا گیا ہے تو پھر کس منہ سے واپس آئے ہو کس منہ سے نام لے رہے ہو میری ادی سائیں کا جس کو نکاح کے روز طلاق دے کر بھاگ گئے تھے
اخضر نے اسے دھکا دیا
تمیز سے رہو اخضر نہیں تو میں بھول جاؤں گا کہ تم چھوٹے ہو
تمیز کی بات تو تم مت ہی کرو تمہارے منہ پر جچ نہیں رہا اور نکلو اس حویلی سے تم جیسا کچے کانوں کے انسان سے وقت رہے ہی جان چھوٹ گئی میری ادی سائیں کی اگلی بار ان کا نام لیا تو زبان نکال دوں گا
وہ کہیں سے بھی اٹھارہ سالہ اخضر نہیں لگ رہا تھا
زاویار اخضر کے پاس کھڑے تین بارودی گارڈز کو دیکھ کر ہاتھ ملتا رہ گیا
مگر اب اسے پتا کرنا تھا کہ سونیا کہاں ہے کیونکہ ان سب میں وہ بھی شریک تھی صنم ہر تو اس کا بس نہیں چلا مگر سونیا کو اس نے چھوڑنا نہیں تھا ۔۔۔۔
اپنا حلیہ ٹھیک کرو آغا سائیں کا فون آیا ہے
اخضر واپس اندر آکر کانپتی صنم کو کہہ کر واپس مڑ گیا ہما اور ثمینہ بیگم گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں صنم بھی جلدی سے اپنا حلیہ درست کرتی گاڑی میں آکر بیٹھی دل ابھی بھی اندر سے ڈر کے مارے سُکھڑ پھیل رہا تھا ۔۔۔۔
علینہ عینی اور حالہ بیگم حانم کے ساتھ برائڈل روم میں بیٹھی ہوئیں تھیں جب آغا سائیں اور اخضر حانم کو لینے اندر آئے
پھولوں کی چادر کے سائے میں ایک طرف سے اخضر نے اور دوسری طرف سے آغا سائیں نے حانم کے بازو سے تھاما ہوا تھا دونوں کے درمیان میں حانم قدم قدم اٹھاتی سٹیج میں اس کے انتظار میں کھڑے آف وائٹ شیروانی کے ساتھ سرخ رنگ کے کلّے میں شہزادہ لگ رہا تھا اپنی شہزادی کے انتظار میں اس کی عزت میں کھڑا
ساحر کے ساتھ زارون اس کے بھائی کی حیثیت سے ادھر موجود تھا تو عینی دونوں کی ہی سائیڈ پر تھی ایک طرف ساحر کی بہن تو دوسری طرف حانم کی دوست
عینی بھی مہرون اور سیاہ رنگ کے امتیاز کا بھاری ڈریس پہن کر سنبھلتی بہت خوبصورت لگ رہی تھی مشرقی طرز کے کپڑے اس پر واقع بہت سوٹ کیے تھے جس کی تعریف زارون سب کے سامنے ہی کر چکا تھا بنا عینی کی
گھوریوں کا اثر لیے ۔۔۔
حانم نے جیسے ہی ساحر کے آگے بڑھائے ہوئے ہاتھ اپنا ہنائی ہاتھ رکھا ہر طرف تالیاں ہوٹنگ کا شور گونجا اور ایک دم سے دونوں کے اوپر گلاب کی برسات ہونے لگی
حانم کو لگا جیسے کسی نہ اس کا دل پڑھ کر سجاوٹ کروائی ہو ۔۔۔۔
پھر رسموں کا دور چلا دوں پلائی کی رسم میں علینہ عینی اور صنم پیش پیش تھیں
بالآخر وہ وقت آہی گیا جس کے لیے بیٹی کے ماں بات خوش بھی ہوتے ہیں اور دکھی بھی
حانم کو قرآن پاک کے سائے تلے ساحر کے ساتھ رخصت کرنے کا وقت آچکا تھا حانم سب سے پہلے آغا سائیں کے ساتھ لگی آنکھوں سے بے شمار آنسوؤں نکل کر بہہ گئے آغ سائیں نے ڈھیروں دعائیں اس کے سپرد کی پھر آہستہ آہستہ سب کے گلے لگی جواد اور جاوید سائیں نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھیروں دعائیں دی سب سے آخر میں حالہ بیگم کے گلے لگ کر بہت روئی دونوں کو ہی اسعد حاکم کی کمی شدت سے محسوس ہوئی
اس کمی کو محسوس کرکے حماد خان آگے بھرے اور انہوں نے حانم کے سر پر دست شفقت رکھا
یو نورِ حانم اپنے ساحر سائیں کے سنگ خان ولا رخصت ہوئی
آسان نہیں تھا ساحر سائیں اور حانم کو دیکھنا مگر یہ آگ بھی تو میری ہی جلائی ہوئی ہے سونیا نے تو بس تیل کا کام کیا تھا
کاش مجھے پہلے ہی پتہ ہوتا کہ کم عقلی کی ایک طرفہ محبت صرف زخم دیتی ہے جو ناسور بن کر ساری زندگی رستا ہے
تو شاید میں اپنے قدم روک لیتی مگر پھر سوچتی ہوں کہ یہ میری سزا ہے کسی پاک دامن پر الزام لگانے کی سزا کسی کا دل دکھانے کی سزا
میں صنم جواد میر بس اتنا ہی کہوں گی بے شک محبت ایک فطری عمل ہے یہ بتاتی نہیں ہے کہ کب کہاں اور کیسے یہ دل میں اترے گی مگر جب لگے کہ یہ یک طرفہ ہے تو خود پر پہرے بٹھا لو کیونکہ جب یہ ہی محبت ناسور بنتی ہے تو ساری زندگی صرف تکلیف کا ہی باعث بنتی ہے
صنم نے ڈائری بند کی یہ ہی تھی وہ ڈائری جس کی وجہ سے سونیا نے اسے استعمال کیا تھا جس نے اس کے دل کے تہہ خانوں۔ میں چھپے راز کو فاش کیا تھا
صنم نے اپنے ہاتھ میں پکڑے لائٹر سے آگ جلائی اور اسے ڈائری کے قریب لے گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پوری ڈائری پر اپنا قبضہ جمالیا
کمرہ دھواں دھواں ہوگیا تھا
صنم ہنوز ڈائری کو ہاتھ میں ہی پکڑے بیٹھی تھی اسے اپنے ہاتھ میں جلن بھی محسوس نہیں ہورہی تھی
جب کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا
جاری ہے۔۔۔۔۔
