Rate this Novel
Episode 22
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 22
ثمرین شیخ
ابھی حانم کچھ کہتی اس کے فلیٹ کا دروازہ زور زور سے کھٹکا ۔۔۔۔
حانم اور ساحر دونوں ہی بری طرح چونک گئے
میں دیکھتا ہوں
ساحر دروازہ کھولنے کے لیے بڑھا ساحر نے جیسے ہی دروازہ کھولا
تو اس کی محبوبہ مطلب جیمز تیزی سے اندر داخل ہوا اس کی پھرتی پر ساحر اور حانم دونوں ہی ہڑبڑا گئے
جیک کو دیکھ کا ساحر کے منہ کے زاویے بگڑے اس بلا کو تو وہ بھول ہی گئے تھے۔۔۔
وہی دوسری طرف حانم نے ہنسی دبائی یہ بندہ ساحر کو خوب تپاتا تھا
تم واپس آگئے مجھے یقین تھا تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے
ساحر پہلے ہی تھکا ہوا تھا
دیکھو مسٹر جیک تم چپ کرکے یہاں سے نکل جاؤ نہیں تو میں تمہے چھوڑو گا نہیں ساحر نے دانت پیس کر کہا
چھوڑنا کون چاہتا ہے
وہ تقریباً اس کے گلے ہی لگ گیا
اب کہ حانم کو بھی عجیب لگا یہ بندہ تو حد سے بڑھ رہا ہے
او مسٹر یا مس واٹ ایور نکلو میرے گھر سے تم تو شوکھے ہی ہوگئے ہو
حانم نے ساحر کا بازو پکڑ کر جیک کو اس سے دور کیا
کیوں کیوں نکلو یہ ساحر ڈئیر کا گھر ہے اس حساب سے میرا بھی ہے جیک نے پھر ساحر کا ہاتھ پکڑا
تم۔۔۔۔۔ ساحر نے ہاتھ جھٹکا اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی اس چپکو مخلوق کو خود سے دور کیسے کرے
اوو اووو کہا چھوڑو ساحر سائیں کا ہات
Stay away from my husband
دور رہو میرے ہسبنڈ سے
اور نکلو میرے گھر سے یہ گھر بھی میرا ہے اور ساحر سائیں بھی میرے ہیں دفعہ ہوجاؤ اس سے پہلے میں تمہاری ہڈیاں توڑو
واٹ!!!!
ہسبنڈ!!!!! جیک کی صدمے سے بھر پور آواز نکلی
آج نور کے بازو سے پلاسٹر اترنا تھا
تو زارون کا ہاسپٹل سے ہوکر زارون نے گاڑی کا رخ ساحر اور حانم کے فلیٹ کی طرف کیا
زی ہم کدھر جارہے ہیں عینی نے زارون سے پوچھا
ہمم ساحر اور نور کے فلیٹ جارہے ہیں
اوو واؤ وہ دونوں کب واپس آئے
آج ہی آئے ہیں ساحر کا نمبر فرانس میں ایکٹیو شو ہورہا ہے ہممم۔۔۔۔ ایک دو منٹ خاموش رہنے کے بعد عینی بول پڑی
بندہ کوئی سونگ ہی لگا لیتا ہے یہ کہہ کر خود ہی اس نے اوڈیو پلیر اون کیا مگر وہاں کسی انگلش سونگ کی بے باک لائینز سن کر کھسیاتے ہوئے دوبارہ اوڈیو پلیر بند کر گئی
جبکہ زارون لب بھینج کر مسکراہٹ دبا گیا ۔۔۔
how could you cheat me
تم مجھے کیسے دھوکہ دے سکتے ہو
یو لائیر ایےےےے تم نے شادی کرلی تم کسیے کر سکتے ہو
ایےےےے
ساحر جیک کو دیکھ ہی کہا رہا تھا وہ تو حانم کا تپا تپا سا روپ دیکھ رہا تھا
صوفے پر بیٹھا جیک ٹیشو باکس میں سے آخری ٹشو نکالتا آنکھیں اور ناک پہنچتا اس ٹشو کو بھی باقیوں کے پاس زمین پر پھینک چکا تھا
حانم نے گہرا سانس لیا اس سکھی کانگڑی کو بازو سے پکڑ کر آپنے فلیٹ کے دروازے کے باہر پٹکھنے والے انداز میں نکالا
تم نے مجھ سے میرا ساحی چھین لیا دیکھنا تمہے پیرس کے کسی سلون میں آنے کی اینٹری نہیں ملے گی جیک نے دھایا دی
نکلو
تم جارہے ہو کہ میں پکڑو جوتی حانم نے ہاتھ اپنی سینڈل کی طرف بڑھائے یہ دیکھ کر جیک وہاں سے رفوچکر ہوگیا۔۔۔۔۔
ساحر کے فلیٹ کی طرف جاتے زارون اور نور دونوں ہی یہ منظر دیکھ کر رکے
نور !!!!
نور العین دوڑ کر حانم کے گلے لگی عینی حانم بھی عینی کو دیکھ کر خوشی سے چیخی
حانم کی چیخ سن کر ساحر بھی دروازے پر آیا
خان زارون بھی آگے بڑھ کر اس کے گلے لگا میں ابھی تیری طرف ہی آنے والا
وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ بندہ کون تھا جسے نور نے نکالا کیا کوئی تنگ کر رہا تھا
وہ چاروں اندر ٹیوی لاؤنج میں آئے
ارے نہیں زی سر کسی کی ہمت وہ چھڑ کر دیکھائے وہ تو ساحر سائیں کی گرل فرینڈ تھا
مطلب۔۔۔۔ نور اور زارون نے نا سمجھی سے پوچھا
یہ کہ وہ ساحر سائیں کے پیچھے پڑا ہوا تھا آج تو اس نے حد ہی کردی
ہاہاہاہا نور اور زارون کتنی دیر ہنستے رہے
خان تو نے مجھے تو کبھی نہیں بتایا کہ تیری گرل فرینڈ بھی ہے ہاہاہا
اچھا اب بس بھی کر جاؤ ساحر ان کی مسلسل ٹانگ کھینچنے ہر جھنجھلایا
اچھا۔۔۔ ہاہاہا ایک بار پھر وہ تینوں قہقہ لگا گئے
تم لوگ ادھر خیریت اور زی تجھے کیسے بتا لگا کہ ہم آگئے ہیں
ساحر نے تشویش سے پوچھا کیونکہ اس نے تو ابھی کسی کو بھی اپنے پیرس آنے کا بتایا تھاہاں تیرا فرانس والا نمبر ادھر پیرس میں ایکٹو شو رہا تھا اس لیے مجھے پتا لگ گیا
اچھا ۔۔۔۔ساحر نے سر اسبات میں ہلایا
اچھا خان مجھے تجھ سے ایک ضروری بات کرنی ہے
کون سی ضروری بات
ایک امپورٹنٹ فائل پر سائن کروانے ہیں اور فائنل گاڑی میں ہے میں لے کر آیا۔
اچھا چل تو لے کر میرے والے فلیٹ میں ہی آجائیں
حانم دروازہ لاک کرلو میں اور زی اوپر جارہی ہیں
جی اچھا ۔۔۔
اب کیسی طبعیت ہے تمہاری عینی وہ دونوں بیڈ پر آمنے سامنے بیٹھی ہوئیں تھیں
حانم نے اس کے ہاتھ تھام کر پوچھا میری طبیعت ٹھیک ہے مگر میں تم سے ناراض ہوں عینی نے ناراضگی سے اپنا رخ بدلہ
کیوں ؟؟؟؟ عینی
تمہارا نکاح ہوگیا خان سر کے ساتھ اور تم نے مجھے بلایا ہی نہیں
یار عینی نکاح بہت ایمرجنسی میں ہوا تھا میں تمہے پیرس سے کیسے بلاتی
ناراض تو نہ ہو اب میرے نکاح کا فنکشن ہے پاکستان میں اور میں تمہارے بغیر دلہن ہی نہیں بنوں گی پکا
حانم نے اسے منانے کی کوشش کی
اچھا اتنا کہہ رہی ہو تو مان ہی جاتی ہوں عینی نے احسان کرنے والے انداز میں کہا
شکریہ جنابِ عالیہ
اچھا نور وہ میں نے بھی تمہے ایک بات بتانی تھی
عینی نے جھجھک کر کہا
کون سی بات
وہ ۔۔۔عینی اٹکی
کیا وہ حانم نے اپنی دونوں آئی برو اُچکائی
وہ میرا بھی زی سر سے نکاح ہوچکا ہے
عینی تیزی سے بولتی آنکھیں میچ گئی
کیا عینی حانم نے بیڈ سے تکیہ پکڑ کر اس پر حملہ کیا
اہ نور لگ رہی ہے مجھے عینی نے اپنا بازو تھاما
حانم بھی فوراً سٹل ہوئی اوو سوری سوری عینی مگر کچھ یاد آنے پر حانم نے پھر تکیہ زور سے اس کی تھامی ہوئی بازو پر ماڑا جھوٹی فریکچر تو تمہارا دائیاں بازو تھا
عینی کھسیا کر رہ گئی
اچھا بتاؤ کیسے یہ کارنامہ پیش آیا
وہ میں جب ایڈمٹ تھی نہ ہاسپٹل میں تب ہی زی نے مجھے پرپوز کردیا
اووو واؤ یعنی زی سر نے ہاسپٹل میں ہی تمہے پرپوز کردیا اور ابھی تم کہتی تھی
ایسا ویسا کچھ نہیں ہے
ہی ہی عینی نے بتیسی دیکھائی
اچھا تو کہا پر کیا نکاح تم لوگوں نے حانم نے اپنا تھوڑی کے نیچے رکھ کر پوچھا
اسلامک سینٹر میں ہوا تھا ہمارا نکاح
یار میری تو خواہش تھی کہ میری شادی بہت گرینڈ ہو جسٹ لائک ایشین میرج یو نو میں نے ایشن شادی کے فنکشن دیکھے ہیں مجھے اتنا فیسینیٹ کیا ہے
بٹ نہ میرا کوئی ہے نہ ہی زی کا عینی اداس ہوئی
اوئے میں ہوں نہ تمہاری بہن پھر فکر کس بات کی ایشین ٹائپ ہی فنکشن ہوں گے تمہاری شادی کے فکر مت کرو ۔۔۔
اوو تھینک یو سو مچ نور عینی اس کے گلے لگی
مینشن ناٹ …
ارے مبارک ہو فائنلی زی تو نے بھی ہمت کی نہیں تو مجھے لگا ہی تھا کہ تو بڈھا ہو کر ہی شادی کرے گا
ساحر نے اسے مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ طنز بھی کیا
چل ہٹ بڈھا ہوگا تو
اچھا چھوڑ تو نے کونسا یقین کرلینا ہے تو یہ بتا یہ فائنل کس چیز کی ہے
تو کھول کر دیکھ لے زارون سنجیدہ ہوا
ساحر نے فائنل کھولی
زی کیا یہ ضروری ہے ساحر نے سنجیدگی سے پوچھا
بہت ضروری ہے یہ خان کسی کو اس کی اوقات دیکھانے کے لیے اور دوسرا میں نے اب اپنی رئیل جوب کو بھی صحیح ٹائم دینا
جوب کو یا گھر کو ساحر نے مسکراہٹ دبا کر کہا
ایک ہی بات ہے زارون نے بھی ڈھیٹوں کی طرح کہا
حانم ساحر کے ساتھ آفس میں آئی لیفٹ سے باہر نکلتے وہ اپنے کیبن کی طرف بڑھی جہاں عینی اس کا انتظار کر رہی تھی اور ساحر اپنے کیبن کی طرف جہاں زارون اس کا
ابھی ساحر اپنی چئیر میں جاکر بیٹھا ہی تھا کہ زاویار دندناتذ ہوا وہاں آیا
کیسی ہو عینی میں ٹھیک اے ون آج لیٹ ہوگئی
ہاں یار وہ کل کی اتنی تھکاوٹ تھی ٹائم کا پتا ہی نہیں لگا حانم نے اپنے پرس سے اپنا فون تلاش کرتے ہوئے کہا
اوو یار شٹ میرا فون لگتا ہے ساحر سائیں کی گاڑی میں رہ گیا ہے
اچھا میں لے کر آتی ہوں
ہممم ۔۔۔اچھا جاؤ لے آؤ پھر خان سر کی ایس ٹی انڈسٹریل والوں کے ساتھ لنچ اور میٹنگ ہے
اچھا حانم ساحر کے کیبن کی طرف بڑھی جب اندر سے نظر آتے زاویار کو دیکھ کر اس کے قدم تھمے
ہاں زی تم نے مجھے بلایا
زاویار زی کے بلانے پر اس کے آفس آیا وہاں ساحر کو دیکھ کر چونک گیا
تم یہاں پر کیا کر رہے ہو
زاویار نے ساحر کو عجیب سی نظروں کے ساتھ دیکھ کر کہا۔۔
اوو اچھا جوب لینے آئے ہو گے
میرا ریفرینس چاہیے
بی ہیو زاویار یہ خان ہے اس کمپنی کہ سیونٹی فائیو پرسنٹ کا مالک اور میں نے تمہیں یہ پتا نہیں بلایا تھا کہ میں نے اپنی ٹوئنٹی فائیو پرسنٹ شیئرز خان کو بیچ دئے ہیں
سو اب سے تمہارا باس ہے خان ۔۔۔۔۔
زاویار کو لگا کسی نے اس کے منہ پر کَس کے تماچہ ماڑا ہو
مجھے تو نہیں البتہ اگر تمہے میرا ریفرینس چاہیے تو بتا دینا کیونکہ جتنا گندا تمہارا رسپونس ہے مجھے ہیڈ اوف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ کرنے میں دیر نہیں لگے گی پھر اس کے بعد تو تمہے یہاں سوئیپر کی جوب نہیں ملے گی ۔۔۔
ساحر اپنا ڈارک گرے کوٹ جھٹک کر کھڑا ہوا جس میں اس کی پرسنیلٹی اس کے نام کی طرح ساحرانہ لگ رہی تھی
حانم یہ سب دیکھ کر وہاں سے ہٹ گئی زاویار کے لیے اس کے دل میں نفرت اور بھی بڑھ گئی
زی تم ایسا کیسے کر سکتے ہو
ساحر کے آفس سے باہر جانے پر زاویار نے غصے سے پوچھا
جو مجھے ٹھیک لگا میں نے وہی کیا جو مجھے ٹھیک لگا
یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے تم بس اپنے کام پر دھیان دو یہ نہ ہو کہ خان تمہے واقعی اس آفس سے نکال دے
زی بھی سر جھٹک کر آفس سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
ہائے خان سر ڈیزی ساحر کو دیکھ کر اس کی طرف لپکی
اپنے کیبن سے جھانکتی حانم نے شولے بار نظروں سے اس منظر کو دیکھا تھا
چپکو !!!! ساتھ ساتھ بڑبڑایا بھی تھا
ہائے میں مر جاواں کڑیے جیلسی عینی نے انگلش پنچابی میں مکس کرکے کہا
ہاں تو ….
He is mine
اسے تو میں بتاتی ہوں
حسن نے ڈیزی کے راستے میں ٹانگ اڑائی (اصلی والی ہاہاہا)
ڈیزی جو ساحر کی پشت کو دیکھتی بے دھیانی میں آرہی تھی ٹکر لگنے پر دھرم سے گڑی۔۔۔
اوو مس ڈیزی اگر آپ سے نہیں چلا جاتا تو اتنی ہائی ہیل مت پہنا کریں نہیں تو یو ہی گرتی پھیڑیں گی
سٹاف کا باقی لوگ ڈیزی کو۔ گڑا دیکھ کر ہنسنے لگ گئے
شٹ اپ ڈیزی شرمندہ ہوتی وہاں سے غائب ہوئی
آئی بڑی خان سر
پتا نہیں اسے اتنی زیادہ جیلیسی کیوں ہورہی تھی
جبکہ عینی اپنا قہقہ دبانے میں مصروف تھی
زاویار غصے سے اپنے آفس سے باہر نکلا مگر اپنے کیبن کے باہر کھڑی نور کو دیکھ کر اسے اپنا سارا غصہ ہوا ہوتا محسوس ہوا
مس نور حاکم ویلکم بیک
زاویار نے پر جوش ہوکر اسے پکارا
جی زی سر آپ نے مجھے بلایا تھا ڈیزی نے بتایا حانم نے جان کر ڈیزی کا نام لیا
حانم کا لہجہ میٹھا تھا جسے محسوس کرکے زاویار خوش ہوا۔۔
مس نور مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے
جی جی زاوی سر لہجہ ہنوز میٹھا تھا۔۔۔
کیا تم آج میرے ساتھ لنچ پر چلو گی
واٹ !!!!
(کمینے مجھ پر لائن مار رہا ہے تیری تو )دل کی آواز
واٹ دو یو مین سر
نہیں نہیں نور پلیز مجھے غلط مت سمجھنا مجھے تم سے بہت ہی زیادہ ضروری بات کرنی ہے
اور وہ بات یہاں پر بھی ہوسکتی ہے پلیز مائی ریکوئسٹ
اوکے حانم نے کچھ سوچ ہاں کردی
ساحر سائیں میں آج نور العین کے ساتھ جارہی ہوں لنچ کرنے وہاں سے گھر چلی جاؤں گی آپ فکر
ت کیجئے گا ۔۔۔۔۔
ساحر ریسٹورنٹ میں بیٹھا حانم کا وائس میسج سن رہا تھا وہ یہاں ایس ٹی انڈسٹریل کے مینیجر کے ساتھ لنچ کے لیے آیا تھا پھر ان کی میٹنگ تھی
حانم نے جھوٹ کیوں بولا زارون تو بتا رہا تھا آج اس نے اور نور العین نے لنچ کرنے جانا ہے پھر حانم ۔۔۔۔
کیا حانم کچھ چھپا رہی ہے مجھ سے
مگر وہ فون واپس ٹیبل پر رکھ گیا۔
یقین کے ساتھ
اعتبار کرتے ہوئے۔۔۔۔
زاویار نے حانم کو آئفل ٹاور کے قریب ترین ریسٹورنٹ میں بلایا تھا لنچ وہ لوگ کر چکے تھے
اور زاویار کے ترلے منتوں کے بعد واک پر آئے تھے
حانم کب سے اس کی بات کا انتظار کر رہے تھی
سر میرے خیال سے آپ نے میرا ٹائم ویسٹ کرنا تھا
حانم نے غصے سے کہا
نو نو پلیز
وہ دونوں آئفل ٹاور کے فینسی ایریا پر آئے
ایسا لگ رہا تھا وہ جگہ کسی کے لیے سپیشل سجائی گئی ہو
زاویار آج کر ہی لے بات
نور حاکم
میں میر زاویار تم سے اپنے پورے ہوش ہو حواس میں ان پیرس کی گلیوں کو گواہ بنا کر اپنی محبت کا اعتراف کرتا ہوں
نور کیا تم مجھ سے شادی کرو گی میں تم سے بہت محبت کرتا اتنا۔ کہ میں لفظوں میں نہیں بتا سکتا
پہلے پہل مجھے یہ صرف ایٹریکشن لگی تھی مگر ان پچھلی دو ہفتوں میں تمہاری غیر موجودگی نے مجھے پاگل کردیا تھا تب مجھے ادارک ہوا کہ واقع مجھے تم سے بے انتہا محبت ہوگئی ہے
تم ہو وہ لڑکی جس کے آگے زاویار جھک گیا
اپنا ایک گھنٹہ زمین پر ٹکائے زاویار آج حانم سے اپنی محبت کا اعتراف کر رہا تھا ۔۔
حانم میں جتنی ہمت تھی اس نے اپنے دائیں ہاتھ کا تھپڑ زاویار کے منہ پر جڑا
جاری ہے ۔۔۔۔
