58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ساحر سائیں،،،
ساحر سائیں آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی اپنے فلیٹ کے دروازے کے پاس آکر حانم نے سنجیدگی کے ساتھ کہا
کون سی بات ؟؟؟ساحر نے حیرانگی سے کہا
زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے
پھر بھی کون سی بات
آفس کے باس کی حانم کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی
باس ،،،،، ساحر لب بھینج گیا
دل میں یہ ڈر بھی تھا کہ اگر اسے زاویار کا پتا لگ گیا تو کہی حانم اسے غلط نہ سمجھ بیٹھے
دیکھو حانم مجھے بھی نہیں پتا ۔۔۔۔۔۔
آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات آخر کیسے چھپائی ساحر سائیں آپ کمپنی کے باس ہیں
اس میں چھپانے والی کون سی بات ہے تم۔کبھی
پوچھا ہی نہیں

یعنی میرا کزن اس کمپنی کا بوس ہے جہاں میں جوب کرتی ہوں اور میں فضول میں ہی اس سٹوپڈ زاوی سر کے رعب میں آرہی تھی
اگر آپ نے مجھے پہلے خود ہی بتایا ہوتا تو اس مغرور انسان کی ٹون تو میں سیدھی کرتی اس کی ہمت کیسے ہوئی بدتمیزی کرنے کی حانم اپنے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر آتے ہوئے بولی
اووو آفس کا باس ساحر کی سکھ کا سانس لیا
مطلب واقع حانم نے بھی زاویار کو نہیں دیکھا ہوا تھا
مگر حانم کی بد تمیزی والی بات پر غور کرنے پر وہ ٹھٹھکا
کیا مطلب اس نے تمہارے ساتھ کوئی بدتمیزی کی ہے ؟؟
ساحر کو پل میں ہی غصہ چڑا
مجھ سے نہیں نور العین سے اس بچاری کو اتنا ڈانٹا مجھے کچھ بول کر تو دیکھائے اس کی ایسی کی تیسی میں بھی نورِ حانم اسعد حاکم ہوں
اففففف میں نے اپنی لائن کو کتنا مس کیا بیڑا غرق ہو ان اون لائن فارم والوں کا میرا آدھا ادھورا نام چھپوا دیا
حانم کے ہاتھ نچا نچا کر کہنے پر ساحر دھیرے ڈال مسکرا دیا
حانم نے کیچن ریک سے دو گلاس پکڑے
ساحر صوفے پر بیٹھا اسی کی کاروائی دیکھ رہا تھا

مگر پھر کچھ یاد آنے پر اٹھا
تمہے کل سے آفس جانے کی ضرورت نہیں ہے ساحر اس سے فاصلے پر کھڑا تھا
شکر ہے حانم کا زاویار کا نہیں پتا مگر اب وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا جس سے بعد میں حانم کا دل دکھے
دونوں کی جب بھی ملاقات ہوئی تھی دونوں نے ہی ہمیشہ فاصلہ رکھنے کی پوری کوشش کی تھی
اچھا اور وہ کیوں حانم نے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی دونوں گلاسوں میں انڈیلا
ایک گلاس ساحر کے آگے ٹیبل پر رکھا اور دوسرے سے پانی پینے لگی
کیونکہ۔ابھی تمہے صرف اپنی پڑھائی پر فوکس کرنا چائیے اور تمہاری ڈگری بھی کمپلیٹ نہیں ہے اس لیے ابھی تم اس جوب کی اہل نہیں ہو
ساحر نے اسے مناسب الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی ۔۔
میں کر لیتی ہوں مینیج سٹڈی بھی ساتھ ہی اور جہاں رہی بات جوب کی تو وہ تو مجھے مل چکی ہے اور آپ کو یاد ہو تو میں دو ہفتوں سے آفس جا بھی رہی ہوں اور سر زی کو میرے کام سے کوئی برابلم بھی نہیں ہے
دیکھو حانم،،،،،
ابھی ۔۔۔۔ ابھی ساحر اس سے کوئی بات کرتا اس کا فون بجا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں کرتا ہوں کچھ ساحر نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا
اوکے پھر کل ملاقات ہوتی ہے
کیا ہوا ساحر سائیں آپ پریشان لگ رہے ہیں ؟؟؟
ہاں نہیں پریشانی کوئی نہیں ہے بس ہم کافی عرصے کے ساتھ جس کمپنی کے ساتھ ڈیلینگ کرنا چاہ رہے تھے کل ان کے ساتھ میٹنگ فکس ہوگئی ہے اور یہ میٹنگ ہماری کمپنی کے لیے بہت ضروری ہے اگر کلائینٹس کو کنوینس کر لیا تو کروڑوں کا فائدہ ساتھ پبلیسٹی بھی
ہمممم ۔۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے ساحر سائیں پھر ٹینشن کیسی ؟؟؟
نہیں مجھے کل لنچ ٹائم بہت ضروری کام ہے ٹائم مینیج کا پروبلم ہوسکتا ہے
اس میں ٹینشن والی کونسی بات ہے آپ کے علاوہ بھی ایس کے کمپنی کے دو اور پارٹنر بھی ہیں آپ بس کل آفس جلدی پہنچنے کی کوشش کرئیے گا باقی تب تک ہم ہینڈل کرلیں گے ویسے بھی کل میری پی۔ ایس ۔بی سے چھٹی ہے
ہمم گڈ اچھا میں چلتا ہوں تم لوک کر لو
اوکے آپ جائیں ہو جائے گا کل سب ہینڈل ۔۔۔


ہیلو زارون ہوگئی تمہاری بات زاویار کے ساتھ تمہاری
کل کی میٹنگ کا اسے بتا دیا ہے ساحر نے اپنی گود پر رکھے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے اپنے کندھے اور کان کے درمیان پھنسے فون میں کہا
ہاں ہوگئی ہے میری بات زاویار سے وہ کہہ رہا تھا کہ کل جلدی آ جائے گا
اچھا خان تو کل مینیج کرلے گا
ہممم ہاں ہاں تو فکر نہ کر ۔۔۔
چل اوکے بائے
کل کا دن واقع مشکل ہونے والا ہے۔۔۔۔۔


اگلا دن ۔۔۔۔
حانم ٹیکسی میں آفس آئی تھی ساحر تو صبح جلدی ہی اپنے کام کے کی وجہ سے چلا گیا تھا
افف یار عینی بھی نہیں آئی ابھی تک نہ سر زی اور نہ ہی سر زاوی
یار کیا ہورہا ہے اتنی امپورٹنٹ میٹینگ ہے اور کوئی بوس ادھر موجود نہیں ہے حانم اضطرابی میں اپنے کیبن سے لے کر زارون۔کے کیبن تک چکر کاٹ رہی تھی جب اس کی کالیگ پوجا نے اس کے پاس آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا نور مس نور
ا ہاں حانم ڈر کر اچھلی
واٹ واٹ ہیپینڈ کیا ہوا پوجا
نور آئی تھنک وہ لوگ میٹنگ کے لیے آگئے ہیں مجھے جیس نے بتایا ہے وہ انہیں پک کرنے گئی ہے
اففف افف میں کیا کروں
ساحر سائیں کو کال کرتی ہوں حانم نے اپنے ہینڈ پرس سے فون نکالا
اچھا اچھا پوجا ریلیکس میں نے بوس کو کال کی ہے ہمیں تب تک انہیں ہینڈل کرنا ہے
اوکے
ہمم آئی ایم ویری نروس پوجا سہی میں بوکھلائی ہوئی لگ رہی تھی
ریلیکس حانم ریلیکس وقت آگیا ہے خود کو ثابت کرنے کا
یو کین ڈو اٹ حانم
خود کو حوصلہ دیتی ساتھ ساتھ ساحر کو کال ملا رہی تھی
میں نے انہیں میٹینگ روم میں بھیج دیا ہے
جیس نے نور کے پاس آ کر اٹھلا کر اسے بتایا
جیس وہ واحد بندھی تھی جس کی حانم کے ساتھ اب تک نہیں بن پائی تھی
واٹ!!! تم نے انہیں ڈائریکٹ آفس روم بھیج دیا جیس
حانم چیخ اٹھی
اللّٰہ میری مدد کر اور تم سے تو میں بعد میں پوچھتی ہوں
پہلے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے پھر غصے سے میٹینگ روم کی طرف بڑھی
مگر جانے سے پہلے ساحر کے نمبر پر وائس میسج چھوڑ گئی ۔۔۔۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کلائنٹس کے چہروں پر واضح بے زاری کے آثار نظر آنے لگے
اففف اللّٰہ سائیں پلیز بچا لیں ساحر سائیں کے لیے یہ میٹنگ بہت ضروری ہے میرے خوابوں کو ہموار کرنے کا راستہ ہے پلیز اللّٰہ سائیں
حانم آنکھیں میچیں دعائیں مانگنے میں مشغول تھی جب میٹنگ روم کا دروازہ کھلا اور ساحر اپنی ساحرانہ پرسنیلٹی کے ساتھ اندر داخل ہوا
آئی ایم سو سوری لیڈیس اینڈ جینٹل مین ایکچولی اس کمپنی کے پارٹنر زارون کی فیانسی جو یہاں کولیگ بھی ہیں ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا سو اس وجہ سے ہمیں لیٹ ہوگی
اوو سو سیڈ
اینی ہو کین وی سٹارٹ اور میٹنگ
یس یس شور
میٹنگ سٹارٹ ہوئی
حانم مسلسل ساحر کو نوٹ کر رہی تھی وہ کچھ پریشان سا تھا
اففف ساحر سائیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں حانم نے اس کے اٹکنے پر دل میں سوچا
کیونکہ کلائنٹس کے چہروں پر مطمئن اثرات نہیں نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔ بات تو ٹھیک ہے آپ کی مگر کیا گرینٹی ہے کہ ہمیں آپ کے ساتھ ڈیلینگ کرنے پر زیادہ پروفٹ ملے گا دوسری کمپنیوں کی نسبت؟؟؟؟
کیا میں کچھ کہوں ؟؟؟
ان کے سوال پر حانم نے ہاتھ کھڑا کیا
یس آفکورس ہیڈ کی طرف سے اشارہ ملتے ہی حانم نے ایکسپلینشن دینی شروع کردی ۔۔۔۔۔۔
سو ڈیٹس وائے ہماری کمپنی کے ساتھ ڈیلینگ آپ کے لیے زیادہ فائدے مند ہے
ہیڈ اوف میٹنگ نے پہلے سنجیدگی کے ساتھ حانم کو دیکھا پھر مسکرا دیے
گریٹ !!!
تالیوں کے ساتھ حانم کی ایکسپلینشن کو ایپریشیاٹ کیا گیا ساحر نے بھی مسکراہٹ کے ساتھ تالی بجا کر اسے داد دی ۔۔۔۔
ایکیوزمی ہاسپٹل سے کال ہے ساحر کال اٹینڈ کرنے کے لیے سائڈ میں ہوا تبھی میٹینگ روم میں زاویار آیا جہاں دوسری کمپنی سے آئی فی میل مینیجر حانم سے ہاتھ ملا رہی تھی
نو ڈاؤٹ ینگ لیڈی تم بہت آگے جاؤ گی
آج جس طرح تم نے کلیریفیکیشن کی
امیزنگ!!! فینٹیسٹک!!!!
تھینک یو سو مچ حانم نے بھی مسکرا کر داد وصول کی
اوکے مسٹر خان ہم اپنی طرف سے یہ ڈیل فائنل کرتے ہیں
ہیڈ نے ساحر کے ساتھ ہاتھ ملا
زاویار ابھی بھی سب کچھ فراموش کیے حانم کو دیکھ رہا تھا جو فیل ریڈ کلر کی فراک کے ساتھ بلیک اور ریڈ لائنز حجاب اور ریڈ ہیل میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
ساحر زاویار کی پیٹھ سے ہوتا ان سب ممبرز کو چھوڑنے باہر چلاگیا
زاویار بس ساحر خان کی پیٹھ ہی دیکھ سکا
اب سب کولیگز اور سٹاف ممبرز کھڑے ہوکر حانم کے لیے تالیاں بجا رہے تھے واقع نور آپ نے ہمیں بچا لیا روہت نے مسکر کر اسے داد دی روہت کے حانم کو داد دینے پر زاویار کے مسکراتے لب سکھڑے
نو ڈاؤٹ مس نور حاکم آج یہ ڈیل ہمیں آپ ہی کی وجہ سے ملی ہے
جب بوس لاپروا ہوں تو سٹاف ممبرز کو ہی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے
حانم نے زاویار کو دیکھ کر کہا
جو اسے دیکھ کر ابھی بھی ڈھیٹائی سے مسکرا رہا تھا۔۔۔


تھینک یو سو مچ آج تمہاری وجہ سے یہ میٹنگ
سسیکس فل ہوئی ہے
ویلکم ویلکم اب میری سیٹ پکی ہوگئی اس کے کمپنی میں خان سر
حانم نے مودبانہ انداز میں ساحر سے پوچھا
ہممم۔۔۔
ویسے ساحر سائیں یہ تو بیلڈنگ کا راستہ نہیں ہے ہمم کہاں جارہے ہیں
ہمم ہاسپٹل جارہے ہیں
ہاسپٹل زارون سر کی فیانسی کی عیادت کرنے؟؟؟؟ میں تو اسے جانتی بھی نہیں ہوں حانم نے اپنی پریشانی بتائی
ملو گی تو جان جاؤ گی ساحر نے فلاور شوپ سے ایک بوکے لے کر حانم کو پکڑایا
بائے دا وئے آپ آج اتنے پریشان کیوں تھے میٹنگ بھی صحیح سے اٹینڈ نہیں کر پارہے تھے
پریشانی ،،،،،
ساحر کو آنسہ بیگم کی کال یاد آئی جب انہوں نے ساحر کو فون کرکے بتایا تھا کہ حالہ بیگم کی طبیعت خراب ہے
اسے تب سے ہی حانم کی ٹینشن لگی ہوئی تھی کہ وہ کیسے ری ایکٹ کرے گی اوپر سے نور العین کا ایکسیڈنٹ
نور العین اسے بہنوں کی طرح عزیز تھی اور زارون کے رشتے کی وجہ سے اور بھی اہم ہوگئی تھی


عینی حانم عینی کو ہاسپٹل کے بیڈ پر دیکھ کر پریشان ہوگئی
آئی ایم فائن حانم رو تو نہیں معمولی سا ایکسیڈنٹ تھا یار عینی نے حانم کے آنسو صاف کیے سچ تو یہ تھا کہ حانم کو روتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بھی آنسو آرہے تھے کوئی تو تھا اس کے لیے بھی رونے والا
تم۔مجھے بتاؤ یہ ہوا کیسے ؟؟؟
کچھ نہیں صبح واک کے لیے گئی تھی راستے میں ایک کار والے سے ٹکر ہوگئی جب ہوش آیا تو ہاسپٹل کے بیڈ پر تھی زی سر ڈاکٹر سے بات کر رہے تھے
اففف ڈیش کار والا اندھا کہی کا میری پیاری دوست کو ٹھوک گیا اللّٰہ کرے وہ گنجا ہوجائے اللّٰہ کرے اسے کالی بیوی ملے
عینی حانم کی الٹی سیدھی بد دعائیں سن کر ہنسی
ہاہاہہاا بس کر جاؤ نور ہنس ہنس کر میرے سٹیچیس میں پین ہوگئی عینی نے اپنے سر پر لگی بینڈیج پر ہلکا ہاتھ رکھا اُپس
ہاہاہاہ
اچھا تو یہ سب چھوڑو مجھے بتاؤ آج کی میٹنگ کا کیا بنا
میٹنگ وہ تو اے ون فرسٹ کلاس رہی
ہاہاہاہ مبارک ہو نور جان
ویسے تم تو کمال ہو تم نے زاوی سر کے منہ پر ہی بول دیا
ہاں تو اتنے غیر زمہ دار ہیں وہ بس رعب جھڑ والو ان سے
ہاہاہاہا یار تم مجھے ہنسا ہنسا کر آج ہی میرے سٹیچیس کھوا دینا
آؤچ میرا بازو عینی نے اپنا بازو سہلایا جو کھینچ پرنے پر دکھ رہا تھا
دھیان سے یار حانم نے اس کا تکیہ سیٹ کیا
ویسے تمہے پتا ہے عینی آفس میں سب کو یہ ہی پتا ہے زارون سر کی فیانسی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے تبھی وہ آج نہیں آسکے
فیانسے!!!
مگر مجھے تو ان کی کسی کمٹمنٹ کا نہیں پتا نہ ہی منگنی کا پل میں ہی عینی کی آنکھوں میں پانی اترا
اففف سٹوپڈ تمہارا ہی تو ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو مطلب تم ہی ان کی فیانسی ہوئی
حانم نے کھلکھلاتے ہوئے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اب عینی بے چاری کو تو مارنے سے رہی
جبکہ عینی اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ گئی


خان تم نے بتا دیا ہے آنٹی کا نور کو ؟؟؟
زارون نے ساحر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
یار مجھے سمجھ نہیں آرہی میں حانم کو کیسے بتاؤں
اس کا ری ایکشن کیا ہوگا کیا وہ برداشت کر پائے گی
تم ایسا کرو ارجنٹ فلائٹ بک کراو اپنی اور اس کی اور
اسے پاکستان لے جاؤ او وہاں جا کر ہی بتانا سب

ہم فلائٹ تو میں نے بک کروا لی ہے
مگر اسے ابھی کیا کہوں گا ۔۔۔۔
مسٹر زارون ڈاکٹر کی آواز پر زارون ساحر کا بندہ تھپتھپا کر وہاں سے چلا گیا


حانم اپنا ضروری سامان پیک کرو
ہماری صبح فجر ٹائم کی فلائٹ ہے
ساحر نے فلیٹ میں داخل ہوتے ساتھ ہی عجلت سے کہا
صبح فجر ٹائم کی فلائٹ کہاں کی؟؟؟
پاکستان!!!!
پاکستان حانم کے ماتھے پر بل پڑے
کیوں پلیز مجھے بتائیں ساحر سائیں میرا دل بیٹھا جا رہا ہے مجھے بتائیں
وہاں سب ٹھیک تو ہے نہ


نورِ حانم اسعد ولد اسعد حاکم آپ کا نکاح ساحر خان ولد حماد خان سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟
بے شمار آنسوؤں حانم کی آنکھوں سے بہہ نکلے پھر وہی کلمات جس نے پہلے اس کی زندگی برباد کی تھی
حانم!!!!
اسے اپنے اعتراف سے بھیگی ہوئی سرگوشی سنائی دی
قبول ہے ،،،،
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟
قبول ہے ،،،،
قبول ہے !!!!
ایک بار پھر اس کی زندگی کا مالک کوئی اور بننے جا رہا تھا
بغیر اس کی مرضی کے