58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 18
ثمرین شیخ

تم یہاں پر کیا کر رہے ہو میں نے منع کیا تھا نہ کہ اب مجھ سے رابطہ مت کرنا حویلی کا ایڈریس تمہے کس نے دیا ایک نسوانی سرگوشی چھت پہ گونجی جو مقابل کو ڈانٹ رہی تھی
تم کیسے مجھ سے رابطہ ختم کر سکتی ہو
دیکھو یہاں سے نکل جاؤ اس سے پہلے کوئی اوپر آجائے
میں کیسے چل جاؤ پہلے تم وعدہ کرو اپنے گھر والوں سے ہمارے رشتے کی بات کرو گی
میں کیسے بات کروں میرا رشتہ تہہ ہوگیا ہے
کیا مطلب رشتہ تہہ ہوگیا ہے اور میں میں کہاں گیا
دیکھو یہ میرے گھر والوں کا فیصلہ ہے
اچھا اور جب مجھ سے ڈھیروں گفٹ لیتی تھی تب کہاں گئے گھر والے مقابل نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھورا
کب دونو کو اپنے پیچھے سے کسی کی آہٹ کی آواز آئی
دونوں چونک کر مڑے
صنم !!!!!
سونیا ادی سائیں !!!!
صنم نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ سونیا اس طرح حویلی میں کسی لڑکے سے مل سکتی ہے
یہ۔یہ آپ ۔۔۔
دیکھو صنم چپ کر جاؤ یہ بات ادھر ہی ختم کردو
م۔م آپ ۔۔۔۔
اور تم جاؤ یہاں سے سونیا نے عزیم کو دھکیلا
صنم میری بہن دیکھو یہ بات کسی کو مت بتانا میں نے بھی تو تمہاری ساحر سائیں والی بات چھپائی ہے سب سے
سونیا کسی طریقے صنم کو قابو کرنا چا رہی تھی
مگر سونیا ادی سائیں یہ لڑکا
یہ میں اسے نہیں جانتی صنم یہ ہی میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اب حویلی آگیا۔۔۔
صنم میں سچ۔۔۔۔۔
واہ واہ کیا کہنے ہیں تمہارے سونیا سائیں اتنے میں حانم زور زور سے تالیاں بجاتی وہاں پر آئی
تم نے تو گھر پر ہی بلا لیا اپنے شہر جانے کا انتظار تو کرلیتی
عزیم اپنے سامنے حویلی کی لڑکیوں کو دیکھ کر بوکھلا گیا اسی بوکھلاہٹ میں اس کا ہاتھ چھت کی دیوار پر لگا جہاں ٹانگے گئے تین سے چار گملے بیک وقت شور کے ساتھ حویلی کے برآمدے میں گرے
اسی شور کی عوض گھر والے برآمدے میں جمع ہونے لگے
دیکھتے ہی دیکھتے پوری حویلی لائٹوں سے روشن ہوگئی
کون ہے اوپر میں بولتا ہوں کون ہے ؟؟ میر اخضر فوراً سیڑھیوں کی جانب دوڑا
اس کے پیچھے سب گھر والے بھی چھٹ پر آئے
عزیم جو تقریباً چھت سے لٹک چکا تھا اس سے پہلے چھلانگ لگاتا اخضر نے ہاتھ میں پکڑا پتھر اس کے سر پر مارا اور وہ وہی گر کر بے حوش ہوگیا
سب ہی حویلی کی چھت پر موجود تھے آنسہ بیگم بھی اس منظر کو دیکھ کر ششدر رہ گئیں انہیں ایسا لگا کہ وقت خود کو دہرا رہا ہے مگر دیکھنا یہ تھا کہ اس بار سزا کس کے مقدر میں لکھی جائے گی ۔۔۔
واہ کیا رکھوالی کی جاتی ہے حویلی کی آج سے پچیس سال پہلے بھی کوئی ہماری عزت پر گندی نگاہ رکھے حویلی میں گھس آیا تھا آور آج پھر دوسری دفعہ حویلی میں کوئی گھس آیا ہے ثمینہ جواد میر نے طنزیہ انداز میں کہا

کون ہے یہ تم لوگ اس وقت چھت پر کیا کر رہی ہو۔۔۔۔ ستارا سالہ اخضر میر ان پر دھاڑا تھا
کیا کر رہی تھی تم لوگ اوپر نورے میں کچھ پوچھ رہا ہوں اب کہ آغا سائیں نے سختی سے پوچھا
اس سے پہلے حانم کچھ کہتی سونیا بول اٹھی آغا سائیں حانم اوپر چھت پر اس لڑکے کے ساتھ تھی میں اور صنم
تو صرف ٹہلنے کے لیے آئے تھے
کیوں صنم سونیا سچ کہہ رہی ہے
میر جواد سائیں نے صنم کا بازو پکڑ کر پوچھا
صنم تو سونیا کے الزام پر چپ ہوئی
ہاں صنم بتاؤ سچ سب گھر والوں کو حانم نے پر سکون لہجے میں کہا
ہاں ہاں صنم بتاؤ نہ گھر والوں کو کہ ہم اوپر آئے تھے
اور حانم اس لڑکے کے ساتھ کھڑی ہوکر باتیں کر رہی تھی
حانم ادی سائیں صنم نے دھیمی آواز میں کہا
جب اس کے دماغ میں صبح والا منظر گھوما جب حانم ساحر کے کمرے میں گئی تھی
جی آغا سائیں سونیا ادی سائیں سچ کہہ رہی ہیں
میری طبیعت خراب ہورہی تھی تو سونیا ادی سائیں نے کہا کہ ہم چھت پر چکر لگا لیتے ہیں مگر جب ہم اوپر آئے تو۔۔۔۔۔ صنم نے بات ادھوری چھوڑی
حانم کو صنم سے اتنے بڑے جھوٹ کی توقع نہیں تھی
دادا سائیں یہ جھوٹ۔۔۔۔۔حانم ابھی آغا میر حاکم سائیں سے کچھ کہتی میر جواد سائیں نے اشتعال میں آکر حانم کے منہ پر تھپڑ مارا
بھاری ہاتھ کے تھپڑ پر حانم کا ہونٹ پھٹ کر خون رسانے لگا
آہ ۔۔۔ کیوں بولے گی میری بیٹی جھوٹ تم ہی رہ رہی ہو تن تنہا دوسرے ملک اور پتا نہیں کونسے گل کھلاتی رہی ہوگی
شائستہ بیگم فوراً آگے ہوئیں
وہ ہی شائستہ بیگم جو کل حانم کے صدقے واری جارہی تھیں
آج اپنی بیٹی کو بچانے کی خاطر اس کے خلاف ہوگئیں
حانم نے بے یقینی سے اپنے دادا سائیں کو دیکھا جنہوں نے نظریں پھیر لیں تھیں اس سے
بڑے تایا سائیں کے تھپڑ کو تو فراموش کردیا تھا مگر آغا سائیں کا نظریہ چرانا
حانم لب بھینچ کر آغا سائیں کے سامنے آئی
اب آپ کیا کریں گے آغا سائیں مجھے قتل کردیں گے یاں آنسہ پھوپھو سائیں کی طرح مجھ پر احسان کرتے ہوئے کسی اجنبی سے میرا نکاح کردیں گے حانم کی بھوری آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں جیسے ابھی ہی خون چھلکا دیں گی
اللّٰہ اللّٰہ کیسی تربیت کی ہے تم نے اس کی حالہ بیگم کیسے بے شرموں کی طرح گناہ کرکے بھی منہ پھاڑ کر کھڑی ہے آغا سائیں کے سامنے
شائستہ بیگم نے دونوں ہاتھوں سے اپنے گال پیٹے حالہ بیگم خاموشی سے کھڑی اپنی حانم کو دیکھ رہی تھیں اس لیے نہیں کہ انہیں حانم ہر یقین نہیں تھا
بلکہ اس لیے کہ انہیں حانم پر پورا یقین تھا وہ کبھی بھی خود پر اس جھوٹے بہتان کو ثابت نہیں ہونے دے گی

آج کے بعد ہمیں اپنا چہرہ مت دکھانا مت دکھانا آغا سائیں نے اشتعال انگیز لہجے میں کہا
کیا مطلب آغا سائیں صرف قطع تعلقی اسے تو سنگسار کردینا چاہیے
شائستہ بیگم آگے آئیں
میر جاوید سائیں کی بھی آنکھوں میں حقارت تھی
سنگسار تو آپ ہوں گی شائستہ بیگم حانم کی آنکھوں میں چمک آئی شائستہ بیگم بھی ایک پل کو ڈری
بکواس بند کرو بد زبان لڑکی اس سے پہلے جواد میر دوسری دفعہ حانم پر ہاتھ اٹھاتے کسی نے ان کا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا
حانم کو ہاتھ بھی مت لگائے گا مومو سائیں نہیں تو میں لحاظ نہیں کروں گا۔۔
تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے ساری زندگی ہمارے ٹکروں میں پلنے والے اب ہمیں روکو گے میر جواد سائیں بھڑکے اور زور سے اپنا ہاتھ جھٹکا
ساحر سائیں حانم اس لڑکے کے ساتھ پکڑی۔۔۔۔۔
سونیا نے آگے ہوکر ساحر کو حانم سے بدگمان کرنا چاہا
بکواس بند کرو تم لڑکی
ساحر کی دھاڑ پر اچھل کے پیچھے ہوئی
ساحر حانم کے پاس آیا جس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا
ساحر نے اپنی کمیز کی جیب سے ٹشو نکال کر اسے پکڑایا
اور پھر آغا سائیں کے سامنے کھڑا ہوا آپ کو تو بہت محبت بہت من تھا اپنی نورے پر تو کہاں گیا وہ یقین وہ مان
تم ہمارے گھر کے معاملوں سے دور رہوں ساحر سائیں یہ نہ ہو کہ ہم تمہے بھی اس حویلی سے چلتا کریں
اب ٹھرنے کا کوئی جواز بنتا بھی نہیں ہے آغا سائیں ساحر نے غصے سے کہا
اور لڑکی نکلو تم بھی آغا سائیں نے حانم کی طرف اشارہ کیا
ضرور میر حاکم سائیں ضرور۔

جب وہ ان کی نورے نہیں رہی تو وہ کہاں اس کے دادا سائیں رہے تھے

مگر میں جانے سے پہلے اپنی بے گناہی ضرور ثابت کروں گی
وہ کیا ہے نہ دشمنوں کو ابھی پتا نہیں اس بار ان کا سامنا آنسہ بیگم سے نہیں بلکہ نور حانم سے ہوا ہے
حانم دھیرے چلتی چھت کے دروازے کی طرف بنی کھڑکی میں پڑے اپنے فون کو لے کر آئی
سب سے پہلے تو بڑے تایا سائیں کیا بات ہے آپ کی غیرت کی
حانم جواد سائیں کے پاس آئی
آپ شکر کریں آپ کی بیٹی کو بچا لیا میں نے آج میں یہاں نہ ہوتی تو آج یہ الزام صنم کے اوپر آتا مگر میرا ایک سوال ہے کیا آپ ایسے ہی صنم کے منہ پر بھی تھپڑ مارتے اس کا بھی نکاح اس شخص سے کروا دیتے یا قتل والا اوپشن چنتے
حانم نے طنزیہ لہجے میں کہا جواد میر سے کہا جن کی مٹھیاں بھینجی ہوئی تھی
صنم کی روح ایک پل کو لرز گئی
کیوں لگتا الزام میری بچی پر ثمینہ جواد بھرکی
تائی سائیں خود ہی دیکھ لیں
حانم نے اپنے فون پر ویڈیو چلائی جس میں چھت کا منظر نظر آرہا تھا
اور ویڈیو میں نظر آنے والی اور کوئی نہیں سونیا تھی جس کا ہاتھ اس لڑکے نے پکڑا ہوا تھا ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے جب صنم اوپر آئی سونیا صنم کو منانے کی کوششوں میں لگی تھی تب حانم کا وہاں آنا
صنم کو اپنے چہرے پر پسینے کی بوندیں محسوس ہوئیں
آغا سائیں بھی بے یقینی سے یہ سب دیکھ رہے تھے


کیا ہوا تایا سائیں سانپ کیوں سونگھ گیا
ابھی تو آگاہی کے لمحے شروع ہوئے ہیں ابھی تو بہت کچھ جاننا باقی ہے آپ لوگوں کا
حانم نے پرسو والی ویڈو چلائی جو اس نے شائستہ بیگم اور آنسہ بیگم کی چھپ کر بنائی تھی۔۔۔۔

ہاں میری چھوٹی مجھے اچھے سے یاد ہے وہ دن جب تم رات کے پہر چھت پر آئی تھی اور مجھے حماد کے ساتھ دیکھ کر چیخی تھی مگر کیا ضرورت تھی تمہے چیخ مارنے کی پھس گئی نہ تم خود ہی خیر جتنا میں نے کہا ہے اتنا کرو ساحر اور سونیا کا رشتہ تہ کرنے آئی ہوں میں
حانم کے لیپ ٹاپ میں موجود وہ ویڈیو دیکھ کر سب بے یقین تھے پچیس سال پہلے ہوئے واقع کا سچ آج سب کے سامنے اس گھناؤنی سازش کے پیچھے کا مجرم خود اپنے منہ سے اپنے گناہ کا اعتراف کر رہی تھی
شائستہ بیگم آنکھیں پھاڑے اپنی اور آنسہ کی کل کی گفتگو کی ویڈیو دیکھ رہی تھی
یہ ۔یہ جھوٹ ہے
یہ سب ابھی ان کے الفاظ پورے بھی نہیں۔ ہوئے ان کے منہ پر تھپڑ پرا
اشرف سائیں!!!! آپ
ہاں میں اچھا ہی ہوا تمہارے سچائی میرے سامنے اگئی
کتنی مکار عورت نکلی تم شائستہ
مجھے لگا تمہے صرف دولت کی لالچ رہی ہے مگر پھر بھی ساری زندگی تمہارے ساتھ صرف اپنے بچوں کی خاطر گزار دی
مگر تم اس حد تک گزر جاؤ گی ابرار نے بھی بے یقینی سے اپنی ماں کا یہ روپ دیکھا
آنسہ آغا سائیں کی تکلیف سے بھر پور آواز نکلی
آنسہ بیگم نے اپنے آنسو صاف کیے آج وہ سرخ رو ہوگئیں تھیں تو آج کیسے آنسو
میں خوش ہوں آغا سائیں میں بہت خوش ہوں میں آج سرخ رو ہوگئی
آپ لوگوں نے تو مجھے دربدر کردیا مگر میرے اللہ نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا جب میرے آگے مجھ پر یقین نہیں کر پائے تو میری مورے میرے خان بابا نے مجھ پر یقین کیا حماد خان نے مجھے عزت دی میں نے اپنی زندگی کے حسین
چار سال ان کی سنگت میں گزارے
اور وہ چار سال اور میرا بیٹا ہی میری زندگی کے کل اثاثے ہیں اور آج میری حانم نے مجھ پر سے سارے الزامات ہٹا کر مجھے سرخ رو کردیا اب بس ایک ہی دعا ہے کبھی زندگی آپ لوگوں کا چہرہ نہ دیکھو مجھے موت آجائے اور میں اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤں
مورے ساحر نے تڑپ کر انہیں پکارا
شائستہ بیگم نے غصے سے پاگل ہوتے آنسہ بیگم کو دھکا دیا اس سے پہلے وہ سیڑھیوں کی جانب گڑتیں کسی نے انہیں تھامہ