58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 05
ثمرین شیخ


تقریباً گھنٹہ ہی لگ گیا تھا ساحر کو سب دوبارہ ٹھیک کرتے ہوئے حانم مزے سے کیچن میں پڑی کرسی پر چونکری مار کر بیٹھی آئسکریم کھانے کا شگل فرما رہی تھی
یہ کب ٹھیک ہوگا آئسکریم کھانے کے بعد وہ پھر ساحر کر سر ہوئی
یہ بالکل خراب ہوچکا ہے ویلڈر کو ہی بلانا پڑے گا
اووو حانم نے ایسا منہ بنایا جیسے اسے واقع ہی افسوس ہوا ہو
مگر مجھے بھوک لگ رہی ہے
حانم نے اب کہ آہستہ آواز میں کہا
ساحر کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ حانم بھوک کی کتنی کچی ہے
اچھا تم چینج کر آؤ لنچ باہر کرتے ہیں
ساحر سائیں ٹشو سے اپنے سیاہی مائل ہوئے ہاتھوں کو صاف کرتا بولا
ہمم میں پانچ منٹ میں آئی ۔۔۔
ساحر صوفے میں جا کر بیٹھ گیا
اپنی ایک ٹانگ کے گھٹنے پر دوسری ٹانگ رکھ کر وہ مسلسل اپنا پاؤں ہلا رہا تھا
اسے وہ دن یاد آیا جب وہ آغا سائیں کے کمرے میں گیا
جب سے اسے مورے نے اپنی زندگی اور گھر والوں کے بڑوں کے سرد رویے کی حقیقت بتائی تھی اس کا دل سب سے ہی اُچاٹ ہوگیا تھا
مگر اسے حانم کے لیے جانا پڑا تھا
اسلام علیکم آغا سائیں !!!!
میر حاکم سائیں اپنے سامنے ساحر کو دیکھ کر چونک گئے
کیسے آنا ہوا ساحر سائیں
اپنی حیرانی چھپاتے ہوئے بولے
آغا سائیں آپ ن۔نورِ حانم کو فرانس بھیج رہے ہیں اکیلے؟؟؟
اس معاملے سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے ساحر سائیں اس لیے اچھا ہے کہ تم اس معاملے سے دور رہو
آغا سائیں نے ماتھے پر بل ڈالے اسے جتلایا
بے شک آپ مجھے اپنا خون نہیں ۔انتے مگر وہ ہمارے خاندان کی عزت ہے اسے اکیلے بھیجنا صحیح ۔۔۔۔
ہمیں اپنی نورے کا خیال رکھنا آتا ساحر سائیں تمہے ہمیں سیکھانے کی ضرورت نہیں ہے
کتنا خیال رکھ لیا ہے آپ نے اپنی نورے کا میں نے دیکھ لیا ہے
وہ دل میں ہی سوچ سکا ابھی معاملہ گھمبیر تھا اور ویسے بھی وہ یہاں صرف حانم کے لیے ہی آیا تھا اس لیے ان کے طنز کو خاموشی سے برداشت کرگیا
میں جس کمپنی میں جوب کرتا ہوں وہ لوگ مجھے پیرس بھیج رہے ہیں وہاں پر رہائش کے لیے فلیٹ بھی دے رہے ہیں
یہ اس بلڈنگ کے فلیٹ کا پتا
آپ مجھ پر نہیں تو آنسہ میر کے بیٹے پر تو یقین کر ہی سکتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دے گا ۔۔۔۔

سیکھ نہ پایا میں میٹھے جھوٹ کا ہنر ……!
کڑوے سچ نے کئی لوگ چھین لیے مجھ سے …..!!


ساحر سائیں کہا کھو گئے چلیں
مونگیاں رنگ کی فل فراک جس پر کریم رنگ کا دھاگے کا کام ہوا ہوا تھا ساتھ کریم رنگ کا حجاب لیے وہ اس کے سامنے کھڑی تھی
اور بلاشبہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
ہممم چلو ….
ساحر نے جیسے ہی حانم کے دروازے کو لوک لگایا اسے یاد آیا کہ ہڑبڑی میں اپنا دروازہ تو وہ کھلا ہی چھوڑ آیا ہے
ایک منٹ میں زرا اپنے فلیٹ کا دروازہ چیک کرکے آیا
اپنے فلیٹ کو لاک لگا کر جب وہ نیچے اترا تو اسے حانم کے ساتھ ایک لڑکا کھڑا نظر آیا
یکالک ساحر کے ماتھے پر بل پڑے اور مٹھیاں بھینج گئیں
ساحر بڑے بڑے قدم لیتا نیچے اترا
اوو حانم کی نظر ساحر پر پڑی
ساحر سائیں اس سے ملیں یہ جیک ہے یہ دھماکے کی آواز سن کر آیا ہے
ساحر نے سرخ و سفید رنگت والے دبلے پتلے لڑکے کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
یس آئی ایم ویری سکئیرڈ
Yes I was very scared
Were you both ok??? Na

جیک نزاکت سے کہتا حانم کو مسکراہٹ دبانے میں مجبور کرگیا
شکریہ مسٹر جیک تم آئے مگر ہم ٹھیک ہیں تم سے مل کر اچھا لگا
ساحر کے شائستگی سے انگریزی میں جیک کو جواب دینے پر حانم نے آنکھیں گھمائیں
اوو بے بی تھینکس کی کیا بات ہے اب تو آنا جانا لگا رہے گا
جیک ساحر کو آنکھ مار کر وہاں سے چلاگیا
جبکہ ساحر اور حانم دونوں ہونک بنے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے
پھر بات سمجھ آنے پر حانم کا بلند قہقہ گونجا ہنس ہنس کر اس کے پیٹ میں درد ہونے لگ پڑی
اللّٰہ ساحر سائیں
میرے پیٹ میں درد ہورہی ہے
ہاہاہا اب تو آنا جانا لگا رہے گا
حانم پھر سے ہنسنے لگی
ساحر نے کھجالت اور بے بسی سے حانم کو دیکھا
حانم!!!!
ایک دم سے حانم چپ ہوئی
ساحر بھی اس کے چپ ہونے پر سیریس ہوا
ابھی آپ نے مجھے کیا کہا ؟؟
حانم نے آنکھیں چھوٹی کی
ک۔کیا کہا
ابھی آپ نے
میں نے حانم کہا تھا
ساحر کو اس کے اس طرح دیکھنے کی سمجھ نہ آئی
او مائی گاڈ آپ نے مجھے میرے نام سے بلایا
یہ تم تم والا دم چھلا نہیں لگایا
شکر اللّٰہ تیرا
لگتا ہے پیرس کی ہوا آپ کو راس آرہی ہے
ساحر اس کی بات پر نفی پر سر ہلاتے ہوئے لفٹ کی طرف بڑھ گیا
مگر اندر گرد کی ہواؤں نے اس کی مونچھوں تلے آئی ہلکی سی مسکراہٹ دیکھ لی تھی


ساحر حانم کو پیرس کے سب سے خوبصورت حلال فوڈ ریسٹورنٹ میں لے آیا
واؤ یہ کتنا خوبصورت ہے اور ایکپینسوز بھی
حانم نے ریسٹورنٹ کی خوبصورتی کو سہرایا جہاں تقریباً ہر چیز گلاس کی تھی
ساحر سائیں آپ تو بہت چھپے رستم نکلے اتنے امیر ہیں کبھی ایک اپنے پیسوں سے ایک آئسکریم کھلانے کی تکلف نہیں کیا
سٹیک کو نائف سے کٹ کرتے ہوئے حانم نے کہا
کھاتے ہوئے بولتے نہیں ہیں
کولڈرنک کا سپ لیتے ہوئے ساحر نے سنجیدگی سے کہا
حانم کے ہاتھ تھمے
حانم کے روکے ہوئے ہاتھ دیکھ کر ساحر نے بھی کھانے سے ہاتھ پیچھے کیے شاہد اسے حانم کو نہیں ٹوکنا چاہیے تھا
ایم۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ بولتا حانم اس سے مخاطب ہوئی

آپ نے کبھی بتایا نہیں…
کیا ؟؟؟؟
آپ کی ادھر ایک گرل فرینڈ سوری بوائے فرینڈ بھی ہے
ساحر نے دیکھا حانم کی آنکھوں میں واضح شرارت ناچ رہی تھی
ساحر کا ہاتھ بے ساختہ اپنے سیٹ بالوں میں گیا
ہاہاہاہا
اس بار حانم کی کھکھلاہٹ کے ساتھ ساحر کی ہلکی سے مسکراہٹ بھی شامل تھی
جاری ہے ۔۔۔۔