58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

کیسی ہو اب تم نور العین
زارون نے نور العین کے پاس آکر پوچھا
عینی نے اپنے دائیں بازو کو سہلاتے ہوئے کہا
میں ۔میں ٹھیک ہوں زی سر
کیا تمہے اس گاڑی کا نمبر یاد ہے جس نے تمہے ہٹ کیا تھا ؟؟؟
،زارون نے تشویش سے پوچھا
مگر نور العین تو حانم کی فیانسی والی بات کر ہی کھوئی ہوئی تھی
مس نور العین!!!
زارون نے اب کہ تھوڑا انچا کہا
ج۔جی سر جی آپ کیا کہ رہے تھے ؟؟
نور العین کے چونک جانے پر زارون اسے دیکھ کر رہ گیا
تم ٹھیک ہو عینی ؟؟؟
زارون کے عینی کہنے پر نور العین نے بھی چونک کر اسے دیکھا
(کیا واقعی زی سر مجھ میں انٹرسٹڈ ہیں ؟؟
ہو سکتا ہے نورِ حانم کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں عام سی یتیم لڑکی ان کے آفس کی سٹاف ورکر)
جی سر میں ٹھیک ہو
تم نے اس گاڑی کا نمبر دیکھا تھا
نو سر میں نے دھیان نہیں دیا تھا
زارون کو نور العین کچھ کھوئی کھوئی سی لگ رہی تھی خیر جو بات اس نے نور العین سے کرنی تھی اس کے لیے ہمت جھٹانے لگا
نور العین مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے
جی سر کہیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ نور العین بھی سیدھی ہوئی۔۔۔
میں ابھی زارون اس سے کچھ کہتا نرس نور العین کے بیٹے کے قریب آئی
ایکسکیوز می سر سائیڈ ہوگے میں نے پیشنٹ کی بینڈیج چینج کرنی ہے
یس زارون تھوڑے فاصلے پر جا کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔
سس ۔۔۔۔
نرس شاہد زیادہ ہی دبا کر اس کے سٹیچیس صاف کر رہی تھی جس کی وجہ سے نور العین سسکی دباتے ہوئے بیڈ شیٹ کی چادر کو مٹھی میں بھینج گئی
آرام سے اسے پین ہورہی ہے
زارون نے نور العین کا برینلا لگے سرخ ہاتھ کو تھام کر حوصلہ دیا۔۔
نور العین زارون کو ہی دیکھ رہی تھی جبکہ زارون کی نظریں نور العین کے زخم پر تھی ۔۔۔
نرس نور العین کو پین کیلر دے کر کمرے سے باہر چلی گئی
دیکھو نور العین،،،، میں جانتا ہوں اس وقت یہ بات کرنے کا نہ تو مناسب موقع ہے نا محل مگر یہ ہم دونوں سے لیے ضروری ہے
سر کیا بات ہے آپ کلیرلی بات کریں نور العین نے سنجیدگی سے کہا
مس نور العین ایسے معاملے تو اصولً لڑکا لڑکی کے گھر والے ہی آپس میں تہ کرتے ہیں مگر تم بھی جانتی ہو اور میں بھی کہ ہمارے آگے پیچھے کوئی بھی نہیں ہے
لڑکا لڑکی ایسے معاملے ۔۔۔۔ نور العین کا دل زور سے دھڑکا کیا جو وہ سوچ رہی ہے اس بات کا وہ ہی مطلب ہے
کون سے معاملے سر ؟؟؟
نور العین نے دھڑکتے دل کے ساتھ سوال کیا
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی نور العین
دیکھو پلیز جلد بازی میں فیصلہ مت لینا میں تمہے پورا ٹائم دونگا سوچنے کے لیے
تم سوچو میں تب تک یہ چند دوائیاں لے کر آیا زارون
نور العین کا ہاتھ ہلکا سا دبا کر کمرے سے باہر نکل گیا
پیچھے نور العین اپنے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ آنکھیں موند گئی۔۔۔۔۔


ساحر سائیں مجھے بتائیں سب خیریت ہے نہ حویلی میں جہاز پر اپنی سیٹ بیلٹ باندھتی حانم نے یہ بات چھتیس مرتبہ پوچھی تھی ساحر سے
سب ٹھیک ہے حانم حالہ ممانی سائیں کی طبیعت تھوڑی سی خراب تھی وہ اداس تھی تمہارے لیے اور ویسے بھی تمہاری چھٹیاں چل رہی ہیں تو میں نے سوچا تمہے حویلی کے جاؤں تم مل بھی لینا سب سے ساحر نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی
حانم بھی نہ چاہتے ہوئے خاموش ہوگئی۔۔۔
ساحر نے ایک نظر حانم کے ہاتھ پر ڈالی جو وہ مسلسل اضطراب کی کیفیت میں مسل رہی تھی ساحر نے خاموشی کے ساتھ سیٹ سے سر لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔


تقریباً سہ پہر کا وقت تھا جب ساحر اور حانم حویلی پہنچے تھے مگر حویلی میں اس وقت خاموشی چھائی ہوئی تھی نورا جو ماسیوں سے کام کروا رہی تھی حانم کو دیکھ کر سب چھوڑ چھاڑ کر اس کے قریب آئی
حانم بی بی سائیں کیسی ہیں آپ میں آپ کو کتنا یاد کیا
بی بی سائیں اب تو نہیں جائیں گی آپ کہیں
میں ٹھیک ہوں نورا تم سناؤ گھر میں سب کیسے ہیں اور حویلی میں خاموشی کیوں
جی حانم بی بی سائیں ان گاؤں میں کوئی بہت بڑا جرگہ تھا تو آغا سائیں سمیت سارے مرد ادھر ہیں رات کو آئین گے اور بڑی اور چھوٹی بیگم سائیں علینہ اور صنم بی بی سائیں کو لے کر میلاد پر گئیں ہیں اور حالہ بیگم سائیں اپنے کمرے میں اور آنسہ بیگم سائیں ان کے ساتھ ہیں ان کے کمرے میں ۔۔۔
اچھا میں جارہی ہوں تم ابھی فلحال کسی کو میرے آنے کا مت بتانا
جی حانم بی بی سائیں آپ جائیں میں آپ کے لیے کھانا لے کر آتی ہوں


حانم حالہ بیگم کے کمرے میں آئی تو وہاں آنسہ بیگم کے ساتھ ساحر بھی موجود تھا جو حالہ بیگم کے آگے جھکے ان سے پیار کے رہا تھا
ماما سائیں حانم انہیں پکارتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی
میری جان میری حانی کیسی ہے میری بچی کتنی کمزور ہوگئی ہو میری جان
حالہ بیگم نے حانم کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامہ
حانم نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ حالہ بیگم کی زرد رنگت کو دیکھا۔۔۔
ماما سائیں کیا حالت کر لی ہے آپ نے اب میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی حانم دوبارہ ان کے گلے لگی
نہیں میری جان ابھی تم نے اور آگے بڑھنا ہے ابھی تم نے پڑھنا ہے اپنے بابا سائیں کا خواب پورا کرنا ہے اور ان کے سامنے مجھے سرخ روح کرنا ہے
انشاء اللہ ہماری نور حانم ہمارے اسعد سائیں کا۔خواب ضرور پورا کرے گی
آنسہ بیگم نے بھی حانم کی گال پر ہاتھ رکھا
پھوپھو سائیں حانم ان کے گلے لگی
جب سے حانم کو آنسہ بیگم کی حقیقت کے بارے میں پتا لگا تھا اسے ان پر ترس کیا رونا ہی آرہا تھا
اس کے گھر والے کتنے خود غرض تھے ۔۔۔۔
حانم !!!
حالہ بیگم کی پکار پر حانم ان کے قریب آئی اور ان کا ہاتھ تھامہ
ساحر اور آنسہ بیگم ان کے کمرے سے باہر چلے گئے


مورے آپ کو لگتا ہے کہ حانم مانے گی؟؟؟
ساحر آنسہ بیگم کی گود میں سر رکھے آنکھیں موندے بولا
میری جان وہ کیوں نہیں مانے گی تمہاری سچی محبت ہے ہے اس کے لیے انشاء اللہ وہ ضرور مانے گی
انشاء اللہ ساحر بھی دل میں کہتا حالہ بیگم کے بلاوے ک انتظار کرنے لگا


جی ماما سائیں میں ادھر ہی ہوں آپ کے پاس آپ کی حانم
حانم بچے میری جان میں نے تمہاری زندگی کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے
جی ماما سائیں آپ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر
میں نے تمہارے اور ساحر سائیں کے نکاح کا فیصلہ کیا ہے
حانم کی آنکھوں بڑی ہوئی اس کا لگا اس نے غلط سنا ہے
جی ماما سائیں کیا کہا آپ نے
ہاں میری جان میں نے تمہارے اور ساحر سائیں کے نکاح کا فیصلہ کیا ہے
نہیں ماما سائیں مجھے شادی نہیں کرنی
نہیں میری جان انکار مت کرو
تم جانتی نہیں ہو یہ فیصلہ میں نے سوچ سمجھ کر کیا ہے
ایسی بھی کیا جدی ماما سائیں میں نہیں تیار شادی کے لیے
حانم روہانسی ہوئی
حانم تمہارے آغا سائیں تمہاری شادی تمہاری بڑی پھوپھو کے بیٹے ابرار سائیں سے کرنا چاہتے ہیں تمہاری پھوپھو سائیں نے یہ بات تمہارے آغا سائیں کے دل میں ڈال دی ہے
اور میں ایسا مر کر بھی نہیں ہونے دوں گی
ایسی بھی کیا جلدی ہے آپ سب کو مجھے بیاہنے کی ایک دفعہ شوق پورا کرکے آپ لوگ خوش نہیں ہوئے
حانم نے دکھتے سر کے ساتھ ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
حانم تم ابھی اپنی پھوپھو سائیں کی حقیقت کو نہیں جانتی
تم۔۔۔۔ میں سب جانتی ہوں ماما سائیں شائستہ پھوپھو کی حقیقت کو بھی جانتی ہوں مجھے سب بتا دیا ہے ساحر سائیں نے مگر میں پھر بھی شادی کے لیے راضی نہیں ہوں اور دادا سائیں کی آپ فکر مت کریں انہیں میں سمجھا دوں گی
حانم ابھی دروازے کی جانب بڑھی مگر حالہ بیگم کی اگلی بات پر جیسے پوری حویلی کی چھت اس پر آن گڑی ہو
ہاں حانم مجھے بلڈ کینسر ہے
حانم کانپتے قدموں کے ساتھ مڑی
ماما سائیں ہاں حانم میرا علاج چل رہا ہے مگر زندگی کا کیا بھروسہ میں مڑنے سے پہلے تمہے محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر جانا چاہتی ہوں اور تمہارے لیے ساحر سے بھر کر کوئی اور اچھا آپشن نہیں
ساحر سائیں بغیر کسی غرض کے تمہاری حفاظت کرے گا میری جان مان لو میری بات
حانم نے سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیا جب آنسہ بیگم نے اسے پیچھے سے تھامہ
پھوپھو سائیں یہ ماما سائیں کو بھوری آنکھیں چھلک پڑی میری جان کچھ نہیں ہوتا حالہ کو ابھی فرسٹ سٹیج ہے علاج ہورہا ہے حالہ کا تمہے یقین ہے نہ مجھ پر
جی جی پھوپھو سائیں
ساحر نے لب بھینجے کچھ نہیں ہوتا چھوٹی ممانی سائیں کو حانم سنبھالو خود کو ۔۔۔۔۔


نورا حالہ کی طبیعت نہیں سہی ہم۔اسے ہاسپٹل لے کر جارہے ہیں تم۔پیچھے سے دھیان رکھنا
جی آنسہ بیگم سائیں آپ دھیان سے لے کر جائے ۔۔۔۔


ساحر نے اپنے چند دوستوں کو مولوی صاحب کو ساتھ لانے کا کہہ دیا
نورِ حانم اسعد ولد اسعد حاکم آپ کا نکاح ساحر خان ولد حماد خان سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟
بے شمار آنسوؤں حانم کی آنکھوں سے بہہ نکلے پھر وہی کلمات جس نے پہلے اس کی زندگی برباد کی تھی
حانم!!!!
اسے اپنے اعتراف سے بھیگی ہوئی سرگوشی سنائی دی
قبول ہے ،،،،
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟
قبول ہے ،،،،
قبول ہے !!!!
ایک بار پھر اس کی زندگی کا مالک کوئی اور بننے جا رہا تھا
بغیر اس کی مرضی کے
مگر اس بار مقابل سحر حماد خان تھا


نکاح کے بعد وہ لوگ حویلی واپس آگئے تھے
حانم بالکل خاموش سی تھی
خواتین وغیرہ بھی گھر آ چکی تھیں سب حانم سے ملیں
علینہ تو کتنی ہی دیر حانم کے گلے لگی رہی مگر صنم کا رویہ لیا دیا ہی تھا حانم اس وقت پریشان تھی تو صنم کے رویے پر اس نے بھی کوئی ردعمل نہ دیا


حانم اپنے کمرے کے ٹیرس پر کھڑی تھی جب اسے اپنی پیچھے سے ساحر کی آواز آئی
نور حانم میں جانتا ہوں کہ تم ابھی نکاح کے لیے راضی نہیں تھی
تمہارے ساتھ جو ہوا اس وجہ سے تم اتنی جلدی کسی پر بھی اعتبار نہیں کر پاؤ گی مگر ۔۔۔۔۔
آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس واقعے کے بعد میں پھر کبھی کسی پر بھی اعتبار نہیں کر پاؤں گی
حانم نے دونوں ہاتھ آگے باندھ کر سنجیدگی سے ساحر کی دیکھا ۔۔۔۔
میں نورِ حانم ہوں ساحر سائیں میں جس کی غلطی ہوتی ہے اسی کو سزا دینے کی قائل ہوں
ہاں میں ابھی نکاح کے لیے دماغی طور پر تیار نہیں تھی مگر اب تو ہوگیا نکاح
بلا وجہ کے چونچلے کرنا مجھے پسند نہیں حانم اتنا کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی
پیچھے ساحر اس کی پشت کو دیکھتا رہ گیا
ہو کیوں بھول جاتا تھا کہ سامنے میروں کی نورِ حانم تھی کوئی عام لڑکی نہیں۔۔۔۔


آغا سائیں کو جب علم ہوا تھا کہ ان کی نورے واپس آئی ہے ان کے چہرے کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی
انہوں نے حانم کو فوراً اپنے کمرے میں بلوایا
میری نورے کیسی ہے آغا سائیں نے نور حانم کا بالوں پر ہاتھ پھیرا حانم آنکھیں میچ گئی
اب کیسے نظریں ملائے گی وہ اب دادا سائیں سے۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔