Rate this Novel
Episode 13
آغا سائیں کو جب علم ہوا تھا کہ ان کی نورے واپس آئی ہے ان کے چہرے کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی
انہوں نے حانم کو فوراً اپنے کمرے میں بلوایا
میری نورے کیسی ہے آغا سائیں نے نور حانم کا بالوں پر ہاتھ پھیرا حانم آنکھیں میچ گئی
اب کیسے نظریں ملائے گی وہ اب دادا سائیں سے۔۔۔۔
کیا بات ہے نورے ادھر کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا یا ابھی بھی ناراض ہو اپنے دادا سائیں سے
نہیں دادا سائیں ادھر کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور نہ ہی میں آپ سے ناراض ہوں بس تھوڑا تھک گئی ہوں سفر لمبا تھا نہ
ہاں ہاں میرا بچہ تم ایسا کرو تم آرام کرو
حانم وہاں سے اٹھی
پھر کچھ سوچ کر مڑی
ایک بات پوچھوں دادا سائیں ؟؟؟
ایک چھوڑو جتنی مرضی پوچھو میرے بچے آغا سائیں نے شفیق مسکراہٹ کے ساتھ کہا
آپ نے ساحر سائیں کو ہی میرے ساتھ کیوں بھیجا ،،،،
مطلب ؟؟؟ میں سمجھا نہیں آغا سائیں نے نا سمجھی کے ساتھ کہا
مطلب یہ کہ آپ لوگ ساحر سائیں کو پسند نہیں کرتے تو پھر اپنی عزت کی رکھوالی کے لیے انہیں بھیج دیا ان پر یقین کرلیا کیسے
حانم کا لہجہ عجیب سا تھا یا انہیں ایسا لگا
کیا اس نے کچھ کیا ہے ؟؟؟ آغا سائیں کے ماتھے پر ان گنت بل پڑے
نہیں دادا سائیں انہوں نے تو کچھ نہیں کیا البتہ یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے کہ آخر آپ نے کیسے یقین کیا بڑے تایا سائیں چھوٹے تایا سائیں آپ تو ان کو بلانا پسند نہیں کرتے تو اتنی بڑی زمہ داری
حانم کی نظریں ان کے کمرے میں موجود کھلی کھڑکی پر پڑی جہاں سے لان میں کھڑا ساحر نظر آرہا تھا جو کسی سے فون پر بات رہا تھا
وہ ہمارے سامنے پلا بڑا ہوا ہے اتنا تو یقین ہمیں تھا کہ وہ کبھی خاندان کی عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا
اچھا اور آنسہ پھوپھو سائیں کیا وہ آپ کے سامنے نہیں پلی بڑی ہوئی تھیں
نور کا لہجہ تھوڑا تیز ہوا
نورے تم اس بارے میں کچھ نہیں جانتی
جی نہیں جانتی میں دادا سائیں مگر ہم بڑے ہوگئے ہیں ہمارے پاس بھی کان آنکھیں ہیں
ہم بھی سنتے دیکھتے ہیں
یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ آپ اپنی بیٹیوں کی نسبت اپنے بیٹوں سے زیادہ محبت کرتا ہیں
کیونکہ شائستہ پھوپھو سائیں جب حویلی آتی ہیں ان کا استقبال شان سے کیا جاتا ہے تو آنسہ پھوپھو سائیں سے
لا تعلقی کیوں ان کی بیماری بیماری نہیں ہے ۔۔۔
جنازہ نکالا تھا اس نے ہماری عزت کا اور کچھ سننا چاہتی ہو تم
جواد سائیں اندر آکر سختی سے بولے
نور بھی ایک پل کے لیے ڈر کر اچھلی تھی
نور حانم تم سے سب پیار کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم سر پر چڑ جاؤ اس معاملے سے جتنا دور رہو گی اتنا ہی اچھا ہوگا اب تم یہاں سے جا سکتی ہو۔۔۔۔
ہیلو اسلام علیکم
ہاں زارون وہاں سب ٹھیک ہے ؟؟
ہاں ٹھیک ہے ادھر بھی سب
نور العین کیسی ہے اب ؟؟
چلو یہ تو اچھی بات ہے تم نے اسے آخر کار کہہ ہی دیا
فکر نہ کر نہیں کرتی وہ انکار
تجھے ایک میسج سینڈ کیا ہے دیکھ لے میں رکھتا ہوں فون
اوکے بائے۔۔۔۔
ساحر سائیں کافی ؟؟؟
ساحر ابھی لان سے اندر ہی جانے والا تھا جب صنم ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے نمودار ہوئی
اس کا اس وقت کافی پینے کو دل تو نہیں کر رہا تھا مگر شاہد صنم بہت دل سے بنا کر لائی تھی اس لیے ساحر نے کافی کا کپ پکڑ لیا
شکریہ صنم بچے مگر آئیندہ دھیان رکھنا یہ تمہارا کام نہیں۔ ہے
ساحر وہاں سے چلا گیا کیونکہ میر جواد سائیں گھر پر ہی موجود تھے ۔۔
صنم جب میلاد سے گھر آئی تھی تو اسے خبر ملی ساحر حویلی آیا ہوا ہے جہاں وہ خوش ہوئی حانم کی موجودگی کا سن کر وہی بد مزہ بھی ہوئی
مگر پھر بھی کیچن میں ساحر کے لیے کافی بنا کر اسے ڈھونڈنے لگی اسے زیادہ محنت بھی نہ کرنی پڑی کیونکہ ساحر اسے حویلی کے لان میں ہی فون پر بات کرتا مل گیا
ساحر کے کافی تھامنے پر جہاں اس کا دل خوشی سے ناچا وہی اس کا بچے کہہ ے پر صنم منہ بسور گئی
اففف ساحر سائیں یہ اب میرے ہی کام ہونے والے ہیں دل ہی دل میں بڑبڑاتی لان میں لگے جھولے میں بیٹھ گئی
شائستہ بیگم کو جب سے پتا لگا تھا کہ حانم آئی ہے وہ سونیا اور ابرار کو لیے میر حویلی آگئی
حانم کو پاس بٹھا کر اس کی بلائیں لینے لگی
میری بچی کے ی کمزور ہوگئی ہے حانم سائیں اپنا دھیان نہیں رکھتی تم
آج سونیا کا رویہ بھی حانم کے ساتھ قدرے بہتر تھا اور ان سب کے پیچھے کی وجہ سے حانم با خوبی واقف تھی
کشن سائیں کیسی ہو ابرار نے بھی حانم کا حال چال پوچھا
اللّٰہ سائیں کا کرم۔ہے ابرار ادا سائیں
حانم کے جہاں ادا سائیں چبا کر کہنے پر شائستہ بیگم کا منہ بنا وہی ٹی وی لاؤنج سے گزرتا ساحر دھیرے سے مسکرا کر وہاں سے گزر گیا
جبکہ ابرار کندھے اُچکا گیا
چھوٹی بھابھی سائیں کہاں ہے ؟؟ حانم بچے شائستہ بیگم نے حالہ بیگم کی غیر موجودگی محسوس کرکے کہا
آج موقع ملا ہے انہوں نے سوچا آج ہی سب کے سامنے حانم کا ہاتھ مانگا لیں ۔۔۔
وہ ماما سائیں کی طبیعت نہیں صحیح وہ پانے کمرے میں ہیں
یہں کیا ہوا حالہ کو میں دیکھتی ہوں
شائستہ بیگم مصنوعی فکرمندی کے ساتھ اندر کی جانب بڑھی ۔۔۔۔
اوہو کیا بات ہے صنم سائیں بہت مسکرایا جارہا ہے
سونیا جھولے پہ بیٹھی صنم کے قریب آئی تو صنم دھیما سا مسکرا دی سونیا ادی سائیں ساحر سائیں آئے ہوئے ہیں حویلی
اووو تو یہ بات ہے صنم کے صنم آئے ہوئے ہیں
ادی سائیں نہ تنگ کریں
اچھا بابا میں زرا بھائی کو دیکھ کر آئی
سونیا لان کی راہ داری سے حویلی کے پچھلے حصے کی طرف بڑھی جہاں اس نے ابرار کو جاتے دیکھا تھا
شائستہ بیگم حالہ بیگم کے کمرے میں آئیں تو وہاں آنسہ کو دیکھ کر آئی برو چکا گئی
اوو یہاں تو نندھ بھابھی کی باتیں ہورہی ہیں میں غلط وقت پر تو نہیں آگئی
نہیں نہیں ادی سائیں آپ آئیں حالہ بیگم نے انہیں بلایا
چھوٹی بھابھی سائیں ہمیں تو جیسے ہی پتا لگا کہ آپ بیمار ہیں ہم سے رہا نہیں گیا ہم دورے چلے آئے
شائستہ بیگم نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
یہ تو آپ کا پیار ہے ادی سائیں
آنسہ تم زرا باہر جاتے ہوئے نورا کو فریش جوس کا کہہ دینا ہم اپنی چھوٹی بھابھی کو خود اپنے ہاتھوں سے جوس پلائیں گے دیکھو تو زرا رنگ زرد پڑا ہوا ہے
جی اچھا آنسہ کمرے سے باہر نکل گئی
حالہ بیگم آنسہ بیگم کی چالاکی دیکھ کر رہ گئیں
انہیں وہ وقت یاد آیا جب کچھ ہفتوں پہلے ساحر حویلی آیا تھا
چند ہفتے پہلے!!!!
حالہ بیگم کو جب ساحر کی واپسی کا پتا لگا تو وہ حانم کی خیر خبر کا پوچھنا آنسہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھیں وہاں جا کر انہیں آنسہ بیگم کی سخت بیماری کا پتا لگا تو وہ شرمندہ ہوگئیں کہ کیسے وہ ایک ہی چھت میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے اتنا کا تعلق تھے اس لیے وہ کیچن میں ان کے لیے سوپ بنانے چکی گئیں
جیسے کی سوپ لے کر ان کے کمرے کے اندر جانے لگی اندر سے آتی آنسہ بیگم کی نقاہت سے بھرپور آواز میں شائستہ بیگم کا زکر سن کر چونکی
ساحر ان سے کسی بات پر خفا ہورہا تھا
شاہد پہلی بار ہی ساحر آنسہ بیگم سے ناراض ہورہا تھا
مگر ان کی باتیں سن کر حالہ کے ہاتھ لرزے کوئی بہن اس قدر سفاک بھی ہوسکتی ہے
اور تمام گھر والے حالہ بیگم کی آنکھوں میں بے ساختہ ہی آنسو آگئے سوپ لیے واپس مڑنے لگی تھی مگر جب آنسہ بیگم کے منہ سے حانم کا زکر سنا تھا تو ان کے قدم تھمے گئے۔۔۔۔۔
حالہ بیگم نے دھیرے سے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ دونوں کی چونک گئے
حالہ بیگم نے سوپ کا باؤل سئڈ ٹیبل پر رکھا اور آنسہ بیگم کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
مجھے معاف کردیں ادی سائیں میں بہت بری ہوں آدی سائیں مجھے معاف کردیں
کیا ہوا ہے حالہ تم کیوں معافی مانگ رہی ہو
میں گناہ گار ہوں آپ کی آدی سائیں آپ کی گناہ گار اسعد سائیں کی گناہ گار
میں نے جب جب ان سے پوچھا تھا کہ گھر والے آپ سے لاتعلق کیوں ہیں اسعد سائیں نے ہمیشہ مجھے یہ ہی کہا کہ انہیں اپنی ادی سائیں پر یقین ہے میں بھی کبھی آپ کو غلط نظر سے نہ دیکھوں انہیں ساحر کتنا عزیز تھا مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا مگر میں بھول گئی ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد میں بھول گئی آپ کا خیال رکھنا ساحر کا خیال رکھنا
ساحر بیٹا سائیں تم بھی مجھے معاف کر دو
حالہ بیگم نے اس کے آگے اپنے ہاتھ کیے
نہیں نہیں چھوڑی ممانی سائیں آپ کیوں مجھے گناہ گار کر رہی ہیں ہمیں آپ سے کوئی غلہ نہیں جب اپنے ہی نہیں اعتبار کر پائے تو آپ کو کیا کہنا
میں سوچ بھی نہیں سکتی شائستہ ادی سائیں یہ کام کر سکتی ہیں وہ بھی اپنی سگی بہن کے ساتھ
اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا حالہ جب گھر والوں کو یقین کرنا چائیے تھا تب انہوں نے یقین نہیں کیا اب کوئی فائدہ ہے بھی نہیں
ساحر بیٹا سائیں میری حانم کیسی ہے وہ پڑھ رہی ہے نہ ٹھیک سے
جی ممانی سائیں الحمدللہ وہ ٹھیک ہے ابھی وہاں رات ہوگی میں آپ کی بات کرواؤ گا
تم تم اس کا دھیان رکھو گے نہ وعدہ کرو تم رکھو گے دھیان اپنے ماموں سائیں کی حانم کا
جی جی آپ فکر مت کریں ممانی سائیں
………..
اس کے بعد شائستہ بیگم اور سونیا کی باتیں انہیں ان کی لالچی فطرت کا بھی اندازہ ہوگیا تھا اور اب یہاں جس مقصد کے لیے موجود تھیں اس سے بھی با خوبی واقف تھیں
مگر مطمئن تھیں حانم کی زندگی اب وہ محفوظ ہاتھوں میں تھامہ چکی تھیں ۔۔۔۔
جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ میری بہن شائستہ بیگم نے نورا کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لے کر حالہ بیگم کی طرف بڑھایا
جسے انہوں نے تھام لیا
کیسی ہو علینہ ؟؟؟
علینہ حولی کے پچھلے حصے میں بیٹھی پینٹنگ کر رہی تھی جب ابرار بھی وہی چلا آیا
آہ۔۔۔۔ ڈر کے مارے تصویر رنگتے علینہ کے ہاتھ کانپے
اففف میری تصویر علینہ نے افسوس سے پینٹنگ پر پڑی اضافی ترچی لائن کو دیکھا
میں کوئی جن ہوں مجھے دیکھ کر ہمیشہ ہی ڈر جاتی ہو
حرکتیں تو جن والی ہی ہیں علینہ آہستہ آواز میں بڑبڑائی
آپ نے میری پینٹنگ خراب کردی ۔۔۔
واؤ یہ تم نے بنائی تھی تم تو بہت ٹیلینٹڈ ہو
ابرار اس کی بات کو نظر انداز کیے اس کی پینٹنگ کو چونکنے والے انداز میں تھامے اس کی تعریف کر رہا تھا
جی میں نے ہی بنائی ہے اور کوئی نظر آرہا ہے یہاں پر
علینہ نے ابرار کے ہاتھ سے اپنی پینٹنگ جھپٹنے والے انداز میں لی ۔۔۔
واؤ واقع بہت خوب صورت تصویر بنائی ہے میری بھی بنا دو گی
علینہ نے اس کے چہرے پر مزاق کے تاثرات جانچنے چائے مگر وہاں سنجیدگی تھی
اہم اہم اتنے میں اسے اپنے پیچھے سے سونیا کے کھانسنے کی آواز آئی
جو دونوں کو زو معنی نظروں سے گھور رہی تھی
جاری ہے ۔۔۔۔
