58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 27
ثمرین شیخ

آپ کہاں سے واپس آرہے ہیں اتنی رات کو گھر میں داخل ہوتے ساتھ ہی زارون عینی کے ہتھے چڑھا
تم سوئی نہیں ابھی تک صوفے پر بیٹھ کر اپنے شوز اتارتا ریلیکس سے انداز میں بولا
میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے زی عینی نے اس کا اپنی بات کو نظر انداز کرنا برا لگا
ہاں میں ضروری کام سے گیا تھا انداز ابھی بھی لاپروا تھا۔۔
زی۔۔۔بس ایک لمحہ لگا تھا عینی کو اپنی نیلی آنکھوں میں آنسوؤں لانے میں اور صوفے پر ریلیکس سے بیٹھے زارون کو ایک دم سیدھا ہونے میں
زارون کا موڈ عینی کو تھوڑا تنگ کرنے کا تھا
پرسو رات کمرے کی خود صفائی کرنے کے باوجود بھی وہ اسے منا رہا تھا مگر میڈم کے نکھرے ختم ہونے کو ہی نہیں دے رہے تھے اب اس نے سوچا تھوڑا ایٹیٹیوڈ وہ بھی دکھا لے مگر یہ اس کی خام خیالی تھی کیونکہ عینی نے پہلے موقع پر ہی اپنا ہتھیار آنسو نکال لیے تھے
یار رو کیوں رہی ہو عین ،،،،۔زی فورا اس کے پاس آیا آپ مجھے اگنور کر رہے ہیں پتہ ہے میں نے آپ کے لیے اپنے ہاتھوں سے ڈنر بنایا ایک تو آپ لیٹ ہوگئے اوپر سے میری بات کو جواب بھی نہیں دے رہیں ہیں۔۔
سو سو کرتی عینی دکھ سے بولی
اووو میری عین نے میرے لیے ڈنر بنایا ہے تو چلو کرتے ہیں ہم پھر ساتھ ڈنر زارون نے اس کے شانے پر بازو رکھا
جسے جھٹکتے ہوئے عینی نے انکار کیا
نہیں کرنا ڈنر پہلے مجھے بتائیں کہاں تھے آپ کس کے
ساتھ تھے
اور یہ لیڈیس فارفیوم کی خوشبو
زی مجھے سچ سچ بتائیں کہاں سے آرہے ہیں آپ
عینی نے تو اس کا کالر ہی پکڑ لیا
تم مجھ پر شک کر رہی ہو عین زارون متحیر ہوا
تو پھر بتا کیوں نہیں رہے آپ مجھے عینی کی آواز رندھ گئی
اففف میں ساحر کے ساتھ تھا یار
جھوٹ خان سر کیا لیڈیس فارفیوم یوز کرتے ہیں ؟؟؟ عینی نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے گھورا
اففف لڑکی اس نے نور کے لیے سرپرائز ارینج کیا ہے وہ اس کے لیے گفٹ کر رہا تھا تب میرے ہاتھ سے فارفیوم کی باٹل ٹوٹ کر گر گئی تو یہ اس کی سمیل ہے
پکا نہ عینی نے آنکھیں چھوٹی کی
واؤ خان سر نور کے لیے سر پرائز ارینج کر رہیں ہاؤ رومنٹک ایک آپ ہیں کبھی آپ نے کیا میرے لیے سرپرائز ارینج عینی نے منہ بسورا
اچھا ابھی اس دن تمہے لنچ پر لے کر نہیں گیا تھا میں
اوو وہ لنچ تو خان سر کی طرف سے تھا عینی نے منہ بنایا
اچھا اور یہ رنگ زارون نے عین کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی پر پہنی رنگ پر انگوٹھا پھیرا
ہاں تو بیوی ہوں میں آپ کی ۔۔۔۔۔ عینی نے اٹھلا کر کہا
ہاں مگر یہ شک۔۔۔۔
کیا تمہے مجھ پر یقین نہیں ہے عین؟؟؟؟ زارون نے خفا لہجے میں سنجیدگی سے پوچھا عینی نے اس کے چہرے پر واضح خفگی
وہ۔۔۔۔۔مطلب تمہے واقعی مجھ پر یقین نہیں ہے نور العین
زارون دکھی لہجے میں کہتا وہاں سے جانے لگا جب عینی نے اسے بازو سے روکا
زی۔۔۔
زی مجھے یقین ہے آپ پر مگر مجھے اپنی قسمت
سے ڈر لگتا ہے کہ کوئی آپ کو مجھے چھین نہ لے مجھے
یہ سوچ کر خوف آتا ہے کہ اگر آپ کی زندگی میں کوئی
اور آگئی تو میں جی نہیں پاؤں گی نیلی۔آنکھیں
یک دم گیلی ہوئی
اور تمہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہے چھوڑ دوں گا
یاں میری زندگی میں تمہارے علاوہ کسی اور کے لیے جگہ ہے کیا کبھی تمہے میری محبت میں کھوٹ دیکھا عین مجھے بتاؤ کیا اتنے ٹائم میرے ساتھ رہنے کے باوجود بھی میں تمہارے دل میں اپنے لیے بھروسہ قائم نہیں کرسکا
زارون کا لہجہ دکھ سے بھر گیا
نہیں زی بالکل بھی نہیں آگر آپ پر یقین نہ ہوتا تو کبھی آپ کے ساتھ میں اپنی زندگی شروع نہیں کرتی
میرا اس وقت آپ کی بیوی کے روپ میں یہاں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مجے آپ پر یقین ہے میں بس ڈر گئی تھی
آئی ایم سوری اگر آپ کو میری کوئی بھی بات بری لگی ہو
عینی نے اپنے کان پکڑے
اچھا اب یہ کیوٹ فیس نہ بناؤ میں نہیں آنے والا تمہاری باتوں میں زی نے اس کے ہاتھ کانوں سے ہٹائے
زی میرے پیارے زی نہیں عین کے زی نہیں عینی نے آنکھیں پٹپٹائی نہ چاہتے ہوئے بھی زارون کے ہونٹوں پر مسکراہٹ
آ گئی۔۔۔


نور ۔۔
نور ساحر نے نور کو ہلایا
نور اٹھو
اہ ایک دم سے حانم اُٹھ کر بیٹھی
ساحر سائیں آپ اس وقت یہاں فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے کیا؟؟
نہیں چلو میرے ساتھ ساحر نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا
کہاں ؟؟؟ حانم نے ہاتھ سے جمائی روکتے ہوئے کہا
چلو تو پھر بتاتا ہوں۔۔۔۔
ساحر سائیں رات کے تین بج رہیں ہیں آپ کو پتا بھی ہے صبح ہماری فلائٹ ہے اس وقت کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ مجھے
حانم نے بند ہوتی آنکھوں سے کہا تو ساحر اسے ایسے ہی تھامے باہر کی طرف بڑھا
گاڑی میں بھی حانم سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے سوتی رہی
مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر ساحر نے حانم کو ہاتھ سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالا
ساحر سائیں گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے وہ انگھتی ہوئی ساحر کو مخاطب کر رہی تھی
نورِ ساحر اوپن یور آئیز
ساحر نے سرگوشی کی
حانم نے اپنی نیم واہ آنکھیں کھولیں تو اپنے زمانے کا منظر دیکھ کر مہبوت رہ گئی
وہی آئفل ٹاور کی جگمگاتی روشنیوں سے نہایا پیرس رات کے اس وقت اکا دکا ہی لوگ تھے جہاں پہ حانم اور ساحر کھڑے تھے وہاں کوئی بھی نہیں تھا یہ سب ایک خواب سا منظر لگ رہا تھا
حانم کو بے ساختہ اپنے پیرس میں پہلی رات یاد آئی تب اس نے اپنے فلیٹ کے ٹیرس سے یہ منظر دیکھا تب وہ اکیلی تھی اداس سی مگر آج اس کے ساتھ اس کا ہم سفر تھا آج اداسیاں کہیں دور جا سوئیں تھیں
ایک دم نورِ ساحر کی کھلکھلاہٹ ہوا میں ہر سو جلترنگ بجا گئی
مثبوت سا ہوکر ساحر نے اس منظر کو پورے حق کے ساتھ اپنے موبائل میں قید کیا
نورِ ساحر ساحر نے ایک دفعہ پھر سرگوشیانہ انداز میں اسے پکارا
جو اس وقت سیاہ ڈھیلے ٹراؤزر کے ساتھ سیاہ لونگ کرتا اور اوپر سیاہ شال جو کہ جلدی میں ساحر نے اسے پہنائی تھی وہ اس خوبصورت سیاہ سرمئی رات کا حصہ لگ رہی تھی
ساحر سائیں یہ سب کچھ بہت خوبصورت ہے مانوں خواب سا جیسے ابھی میری آنکھ کھلے گی اور سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جائے گا
حانم خواب ناک لہجے میں بولی
مگر یہ خواب نہیں ہے یہ حقیقت ہے ایک خوش کن حقیقت حانم نے آنکھیں بند کرکے اس خوشبو میں بسی ہواؤں کو خود میں انڈیلا
جب ساحر نے اس کا ہاتھ تھاما
چلو ۔۔۔
کہاں ابھی تو ٹھیک سے دیکھا۔۔۔۔۔۔حانم کچھ کہتی جب ساحر اسے کونے میں لے گیا جہاں اندھیرا تھا
ساحر سائیں حانم نے دائیں بائیں مڑ کر دیکھا وہاں کوئی بھی نہیں تھا
ساحر سائیں
حانم نے پھر آواز لگائی
سا۔۔۔۔۔
ایک دم لائٹس آون ہوئیں اور حانم ساکت رہ گئی
ایک خوبصورت سی ٹیبل جس کے گرد دو کرسیاں پڑی تھیں ان کے ارد گرد آف وائٹ کلر کے نیٹ کے پردے لگے ہوئے تھے اور ان پر سجی فیری لائٹس منظر کو اور خواب ناک بنا رہے تھے
ہیپی برتھڈے مسز نور ساحر وہ ابھی اسی میں کھوئی ہوئی تھی جس اسے اپنے کان کے پاس سرگوشی سنائی دی
چلیں کاٹ لیں کیک
ساحر نے حانم کے آگے ہاتھ پھیلایا
حانم نے جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس کے ہاتھ پر اپنا کومل مومی ہاتھ رکھ دیا
ٹیبل پر حانم کا فیورٹ چاکلیٹ لاوا کیک پڑا تھا جس کے اوپر وائٹ کریم کے ساتھ ہیپی برتھڈے مسز نور ساحر لکھا ہوا تھا
ساحر سائیں یہ سب بہت خوبصورت ہے تھینک یو سو مچ
پہلے کیک کاٹ لیں ساحر نے کیک پر لگی کریم اس کے ناک پر لگائی
پھر دونوں نے مل کر کیک کاٹا
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے مسز نور ساحر
حانم نے کیک کاٹ کر ساحر کو کھلایا پھر ساحر نے حانم کو
چلیں میرا گفٹ دین
گفٹ وہ دے تو دیا یہ سب کچھ میں نے ہی ارینج کیا ہے
ساحر نے اس سب ڈیکوریشن کی طرف اشارہ کرکے کہا
مگر یہ تو سرپرائز ہے میرا گفٹ
حانم نے پھر اپنا ہاتھ آگے کیا
گفٹٹٹٹ۔۔۔۔۔
ایک منٹ ساحر نے اپنے شرٹ پینٹ پر ہاتھ مارا
کہاں گیا ؟؟؟
کہاں گیا یار
ہمم یہ رہا ساحر نے گلاب کا خوبصورت سا پھول نکال کر حانم کے سامنے کیا اور ایک گھٹنے پر بیٹھا
بے ساختہ ہی حانم کا دل زور سے دھڑکا
G
So Mrs Noor e Sahir will you be mine ?
ایک اور گلاب کا پھول نکالا
Will you be mine for ever ?
اب دو پھول
With the deep corner of my heart
اب ایک ساتھ چار پھول نکالے
Will you be mine till the last breath?
حانم کا رواں رواں اسے ہاں کہنے کو بے تاب تھا
حانم نے ہاتھ آگے بڑھا کر پھول تھامے پھر اپنے مخصوص انداز میں اپنا ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھ کر سوچنے والے انداز میں کہا
سوچوں گی پھر مسکراہٹ دبا کر ساحر کا گال کھینچ کر وہاں سے بھاگی
اس کی کھلکھلاہٹیں ہوائوں کے ساتھ ساتھ ساحر کو بھی اپنا اسیر بنا رہیں تھیں
ایک دم سے نور کا پاؤں اٹکا اس سے پہلے وہ سامنے آتی سیڑھیوں سے گرتی ساحر نے اسے تھاما دونوں کی ہی دھڑکن تیز اور سانسیں پھولی ہوئیں تھیں
دھیان سے نور
آپ ہیں نہ دھیان رکھنے کے لیے
تم نے جواب نہیں دیا ساحر نے بھاگنے کی وجہ سے اس کے منہ پر آئی لٹوں کو پیچھے کیا
ہمممم۔۔۔۔
نورِ
اچھا میری کچھ شرطیں ہیں وہ دونوں ہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے
اچھا تو کیا ہیں محترمہ نور حانم صاحبہ کی شرطیں
ہممم شرط نمبر ون میں اپنی سٹڈیز آگے کمپلیٹ کروں گی
منظور ہے
شرط نمبر ٹو میں جوب بھی کنٹینیو رکھوں گی
اوکے ۔۔۔۔۔
شرط نمبر تھری میں جیسا بھی کھانا بناؤ گی کھانا پڑے گا
اوووکے ساحر نے اوو کو کھینچا تو حانم نے اسے گھورا
اوکے اوکے
شرط نمبر تھری آپ روز میرے لیے چاکلیٹس لائیں گے
موٹی ہوجاؤ گی ساحر نے زبان پہ لانے کی غلطی نہیں کی
اوکے
شرط نمبر فور جب میں کہوں گی مجھے پاستہ بنا کر کھلائیں گے
اور تمہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ تمہے پاستہ بناکر کھلاؤں گا یہ بات تو ہر گز نہیں کریں گے
ساحر کے کچھ بولنے سے پہلے ہی حانم بول پڑی تو ساحر نفی میں سر ہلاتا اوکے کہ گیا
اور لاسٹ بٹ نوٹ لیسٹ۔۔
اچھا ابھی ایک اور رہتی ہے
فلحال آگے کا پتا نہیں حانم نے آنکھیں مٹکا کر کہا
زیادہ نہیں ہوگی
تو میں نے ابھی جواب نہیں دیا
حانم نے گردن اکڑائی
آپ بھول رہیں کہ آپ مسز نور ساحر ہیں گوٹ اٹ نور حانم ساحر خان
آپ بھی شاہد بھول رہیں کہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی
اچھا بتاؤ پانچویں شرط ۔۔۔۔
آپ کو کبھی میری بات بری لگے یاں کبھی کوئی مس انڈر سٹینڈنگ ہوجائے تو پلیز سب سے پہلے وہ بات مجھ سے پوچھئے گا کیونکہ بدگمانیاں رشتے چاٹ جاتی ہیں
نور ساحر نے اس کا ہاتھ تھاما اول تو ایسا کچھ ہونے نہیں دوگا
مگر ہم انسان ہیں فرشتے تو نہیں ہیں پھر بھی میری پوری کوشش ہوگی حانم کہ میں اپنے رشتے میں کوئی بدگمانی نہ آنے دوں اگر ہمیں آپس میں کوئی مسئلہ ہوا تو اسے سلجھانے کی واحد جگہ ہمارا کمرہ ہوگا اور یہ میرا وعدہ ہے اب بتاؤ کوئی اور شرط نہیں تو پھر گھر چلیں صبح فلائٹ ہے
ساحر سائیں حانم نے شانے پر سر رکھا
پہلے جب میں نے قبول کیا تھا تو مجھ سے زیادہ تب مما سائیں کی خواہش تھی مگر اب مجھے دل و جان سے
قبول ہے
مجھے قبول ہے آپ کا ساتھ بھی اور ہم سفری بھی
ساحر نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے ایک بریسلٹ نکال کر حانم کو پہنایا جس پر چھوٹا چھوٹا نورِ ساحر
ملا کر کندھا ہوا تھا


اپنے دوستوں کے ساتھ شہر میں رات کے اس پہر آوارہ گردی کرتے زاویار کی نظر دونوں پر پڑی نشے سے بند ہوتی آپنی آنکھیں کھول کر اس نے لڑکی کو دیکھنے کی کوشش کی جس پر اسے نور حانم کا گمان ہورہا تھا
نور تم میرے حواسوں پر بری طرح چھائی ہوئی ہو کہ اب ہر جگہ تم ہی نظر آتی ہو
مگر بہت جلد میں آؤں گا اپنے گھر والوں کو لے کر
تمہے لینے
جاری ہے ۔۔۔۔